جامعات کا مالی بحران اور داخلی خود مختاری
ریاستی و حکومتی نظام کی بنیادی ترجیحات میں ایک مسئلہ تعلیمی ترجیحات کا بھی ہوتا ہے ۔پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک حکومت کی مضبوط سیاسی سطح پر موجود کمٹمنٹ ہی تعلیم سے جڑے اعلیٰ معیارات کو یقینی بناتی ہے ۔لیکن ہمارے ریاستی و حکومتی نظام میں تعلیم جیسے حساس معاملے پر عدم توجہ کی پالیسی نے ہمیں تعلیمی معاملات میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔جامعات کی سطح پر دیکھیں تو ان اداروں میں سیاسی مداخلت، گورننس پر مبنی بگاڑ ، مالی وسائل کی کمی یا بجٹ میں مسلسل کمی ، تحقیق کا فقدان ، نگرانی و جوابدہی کا غیر موثر نظام ، مسلسل ایڈہاک پالیسی ،مستقل وائس چانسلرز کی جگہ قائم مقام وائس چانسلرز سے نظام کو چلانے کی کوشش، بیوروکریسی کی بیجا مداخلت ،جدید تعلیمی نظام سے جامعات کو ہم آہنگ نہ کرنا ، عملی طور پر شفافیت کا فقدان ،تعلیمی معیار پر سمجھوتہ ، نصاب میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی نہ کرنا ،تحقیق کے معاملات میں فکری سطح پر آزادیوں کا نہ ہونا ،میرٹ کی بجائے اقربا پروری جیسے مسائل سرفہرست ہیں ۔
بنیادی طور پر ہماری جامعات کو داخلی خودمختاری کے تناظر میں بیجا سیاسی مداخلتوں اور حکومتی عدم ترجیحات کا سامنا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ابھی بھی چاروں صوبوں میں مختلف جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل مکمل نہیں ہوسکا ۔حکومتی سطح پر وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے جو سرچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ان میں بھی اعلیٰ تعلیم کے ماہرین کے مقابلے میں بیوروکریسی کی بالادستی دیکھنے کو ملتی ہے ۔جہاں تک جامعات کے مالی بحران کا معاملہ ہے تو اس تناظر میں وفاق نے جامعات کو گرانٹ دینے سے انکار کردیا ہے اور 18ویں ترمیم یا NFC رپورٹ کو بنیاد بنا کر یہ معاملہ صوبائی حکومتوں پر چھوڑ دیا ہے ۔گذشتہ مالی سال کے دوران کل جی ڈی پی کا محض 1.5فیصد تعلیم پر خرچ کیا گیا تھا حالانکہ سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ رقم 4فیصد تک مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہماری ترجیحات میں اعلی سطح کی تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ،کیونکہ جب مالی سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے دعووں کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہو گی ۔
حالیہ بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کے تناظر میں اساتذہ اور محققین کو پہلے سے موجود ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔جامعات کی سطح پر پہلے سے اساتذہ اور محققین کے لیے 75فیصد ٹیکس چھوٹ 2013 تک نافذ العمل تھی ۔لیکن پہلے اسے کم کر کے 40فیصد کیا گیا اور بعد میں مزید کمی کر کے 25فیصد اور اب اسے یکسر ہی ختم کردیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جامعات ملک کی تعلیمی اور تحقیقی ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہوجائیں گی ۔ اساتذہ پہلے ہی کم تنخواہوں کی وجہ سے مالی بحران سے گزر رہے ہیں اور ٹیکس استثنیٰ کے خاتمہ کے بعد ان کی مالی سطح پر معاملات میں اور خرابی ہو گی ۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایوسی ایشن (فپواسا) کے مرکزی صدر ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور ڈاکٹر امجد مگسی نے وزیر اعظم سمیت اہم عہدے داروں کی توجہ ایک خط کے ذریعے اس مسئلہ کی طرف دلائی اور مختلف پارلیمانی جماعتوں سے براہ راست بات چیت کی اور ان کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کو 14مئی 2024 کو لکھے گئے خط کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں اساتذہ اور محققین کی 75فیصدٹیکس چھوٹ کو بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔اب جو بجٹ کی ترامیم سامنے آئی ہیں اس میں اس فیصلہ کو واپس لے لیا گیا ہے ، جو خوش آئند فیصلہ ہے۔ڈاکٹر امجد مگسی کے بقول ملک بھر کی جامعات کی ریکرنگ گرانٹ میں کماحقہ ہو اضافہ کیا جائے تاکہ شدید مالی بحران سے دو چار جامعات ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔اسی طرح ان کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومتیں سندھ کی طرز پر صوبائی جامعات کے لیے کم ازکم پچاس ارب کی خصوصی گرانٹ جاری کریں وگرنہ ان جامعات کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی سبجیکٹ ہے ۔ یہاں جامعات وفاق سے مالی گرانٹ پر تو ماتم کرتی ہیں مگر صوبوں نے جو مالی اختیارات کی تقسیم کے ماڈل کو خراب کیا ہوا ہے اس پر بھی غور ہونا چاہیے ۔ممتاز ماہر تعلیم اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اسلام آباد کے سربراہ ڈاکٹر شاہد سرویا جو اعلی تعلیم سے جڑے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور معاملات کو ایک مختلف زوایئے سے بھی دیکھتے ہیں ۔ ان کے بقول جب تعلیم کو صوبوں میں منتقل کیا گیا ہے تو پھر اصل ذمہ داری صوبائی حکومتوں اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کریں ۔ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبوں میں ہائر ایجوکشن کمیشن کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دیں اور ان کو یہ اختیار دیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کرسکیں ۔جو مالی وسائل ہیں وہ براہ راست ہائر ایجوکیشن کی نگرانی میں جامعات کو دیے جائیں ۔سندھ نے ایچ ای سی کی مدد سے وسائل جامعات کو بہتر طریقے سے تقسیم کیے ہیں جبکہ باقی صوبے ان معاملات پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ۔اس لیے وفاق پر زیادہ انحصار کرنے کی بجائے صوبے خود یہ ذمہ داری لیں ۔ صوبے کی سطح پر جو جامعات خود مختار ہیں تو پھر ان کو اپنی خودمختاری کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے ۔لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے وفاق میں موجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کس حد تک صوبوں میں موجود کمیشنوں کو مضبوط بنانا چاہتا ہے یا وہ بھی معاملات کو مرکزیت کی بنیاد پر چلانا چاہتا ہے ۔
بنیادی طور پر ہم اعلی تعلیم اور جامعات کی خود مختاری کے بحران سے دوچار ہیں۔ وفاقی ، صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ، وفاقی و صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں ، تعلیمی سے جڑی بیوروکریسی اور جامعات کی سطح پر وائس چانسلرز سب ہی ایک دوسرے مقابلے میں موجود ہیں ۔ مقابلہ بازی اور ایک دوسرے کی حیثیت کو قبول نہ کرنے کی روش نے پورے اعلی تعلیم کے نظام کو مشکل صورتحال سے دوچار کیا ہوا ہے اور ہمارے پاس سوائے بے بسی کے اور کچھ بھی نہیں ۔مثال کے طور پر وائس چانسلرز کی تقرری کے معاملے کو ہی دیکھ لیں ۔ان تقرریوں میں عملی طور پر ایک اہم کردار حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی سرچ کمیٹیوں کا ہوتا ہے ۔ان کمیٹیوں میں مجموعی طور پر ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں اور کئی دہائیوں کا بیوروکریسی کا تجربہ رکھتے ہیں ،لیکن تعلیمی معاملات ، جامعات کے معاملات پر ان کو کوئی دسترس حاصل نہیں ہے یہاں تک کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اور بیوروکریسی میں شمولیت کے بعد ان کا کوئی تعلق جامعات سے رہا ہے اور نہ ہی ان کی حیثیت ماہر تعلیم یا ایسے فرد کی ہے جو وائس چانسلرز کی تقرری کے معیارات کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان کی کوئی دسترس دنیا میں ہونے والے جدید تعلیمی رجحانات پر ہے کہ وہ اس کو بنیاد بنا کر میرٹ پر وائس چانسلرز کو منتخب کرسکیں ۔کچھ ایسے افراد ہیں جو تسلسل کے ساتھ سرچ کمیٹیوں میں شامل ہوتے ہیں مگر ان کمیٹیوں میں آپ کو سابق وائس چانسلرز یا معروف ماہر تعلیم جن کی ساری زندگیاں جامعات میں گزری ہیں وہ نظر نہیں آئیں گے۔
عملاً پورے اعلیٰ تعلیم کے نظام کو بیوروکریسی تک محدود کردیا گیا ہے ۔اسی طرح جامعات میں سنڈیکیٹ کے محاذ پر حکومتی صوبائی ارکان اسمبلی کی تقرری کے عمل سے براہ راست سیاسی مداخلتوں کا دروازہ کھول دیا گیا ہے ۔اصولی طور پر وائس چانسلرز کی تقرری میں بنیادی بات کو ہی اہمیت دی جانی چاہیے جن میں لیڈر شپ، بولنے کی صلاحیت ، طلبہ و اساتذہ کے ساتھ سماجی روابط، جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگی ، غیر نصابی سرگرمیوں کو بنیاد بنانا ، فکری آزادیوں پر یقین رکھنا اور عمل کرنا ، میرٹ کی بالادستی ، تحقیق کے شعبوں کی جہتوں کو سمجھنا ، مالی طور پر ان اداروں کو خود مختاری میں تبدیل کرنا ، سیاسی وابستگیوں سے بالاتر، سیاسی مداخلتوں کے خلاف کھڑا ہونا شامل ہےلیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم وائس چانسلرز کی تقرری کو بھی میرٹ کی بنیاد پر ترجیح دیں گے اور سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر ان تقرریوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی ۔
دنیا بھر میں جامعات ریاستی ، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کو چلانے میں ایک واچ گروپ یا متبادل سوچ، فکر اور پالیسی دیتی ہے ۔ وہ ان تمام ریاستی معاملات کا گہرائی سے تجزیہ کرتی ہے ، تحقیق کو بنیاد بنا کر ایک درست تصویر فیصلہ کرنے والوں کے سامنے رکھتی ہے ، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں جامعات اور ریاست کے نظام کے درمیان ایک بڑی خلیج ہے ، ریاست یا حکومت جامعات کو نظر انداز کر کے نظام کو چلانے کی جو کوشش کر رہی ہے وہ مثبت نتائج کی بجائے مزید حالات کو بگاڑ رہی ہے ۔


