امریکہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں
میں پہلی مرتبہ ستمبر 1985 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ آیا۔ میری آمد کولمبیا کالج کے شعبہ فلم اور ویڈیو میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تھی۔ مذکورہ کالج کے دو کیمپس تھے۔ ایک ریاست ایلی نوائے کے شہر شکاگو کے ڈاؤن ٹاؤن میں دوسرا ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس انجیلس میں مشہورِ زمانہ ہالی ووڈ کے قریب فلم /ٹی وی سِٹی میں۔ دونوں شہروں کے درمیان 1744 میل ( 2790کلو میٹر) کا فاصلہ ہے۔ میں نے پہلے شکاگو کیمپس اور پھر ہالی ووڈ میں کولمبیا پکچرز اور سی بی ایس اسٹوڈیوز، ٹی وی سٹی میں تعلیم حاصل کی۔
میں شروع میں اپنی ہمشیرہ کے ہاں شکاگو میں رہا۔ اچھے موسموں میں گھر سے میرے کالج کا فاصلہ پیدل کا تھا۔ میرےایڈوائزر چَیپ فری مین اور پہلےانسٹرکٹر مارک پرو تھے۔
وہاں کے اسکول:
میرا بڑا بھانجا سہیل، جو آج کل آگسٹا ، جارجیا میں ماہرِ چشم ہے، اُس وقت اسکول کے ابتدائی درجے میں تھا۔ اس کے اسکول جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ وہاں دو طرح کے اسکول تھے۔ ایک سرکاری دوسرے چرچ کے۔ ان میں اسلامی اسکول بھی آتے تھے۔ سرکاری اسکول میں پری اسکول سے گیارہویں تک مفت تعلیم تھی۔ گھر سے اسکول بس بھی مفت۔ دوپہر کا کھانا اور دودھ ، کتابیں کاپیاں مفت۔ پھول سے بچوں کے کاندھوں پر ہمارے بچوں کی طرح کوئی بھاری بستے نہیں دیکھے۔ تمام کتابیں اسکول میں ہی ہوتیں۔ خوفناک قسم کا ہوم ورک بھی ندارد۔ ہاں ! چرچ یا اسلامی اسکول فیس لیتے تھے۔ لیکن ان کا نصاب بھی ریاست کے محکمہ تعلیم سے منظور شدہ تھا۔ پھر یہ نہیں کہ آپ پیسے والے ہیں تو آپ کا بچہ فلاں سرکاری اسکول میں جائے گا جس کا معیار اچھا ہے۔ نہیں !! بلکہ آپ جہاں رہتے ہیں وہیں کے اسکول ڈسٹرکٹ میں ہی آپ کا بچہ جائے گا۔ جہاں اسکول ہوتا ہے وہ اسکول ڈسٹرکٹ کہلاتا ہے۔ اس ڈسٹرکٹ میں ایک خاص فاصلے تک کوئی شراب خانہ، نائٹ کلب، بازار اور رش والی جگہیں نہیں بن سکتیں۔ گلی محلے میں جس کا دل چاہے وہ تجارتی بنیاد پر اسکول نہیں کھول سکتا۔ کھیل کے میدان کے بغیر کوئی اسکول نہیں ہوتا۔ ہر ایک بچے کے لئے کھیل میں حصہ لینا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے بچے بھی وہاں کے مقامی بچوں کی طرح لانبے قد کے نظر آئے۔ موسیقی بھی ان کی ثقافت کا حصہ ہے لہٰذا یہ بھی لازمی ہے۔
امتحانات:
امتحانات میں رٹافکیشن کوئی نہیں جانتا۔ کہیں بھی اسکول کالج کے طلباء کے لئے گلی محلہ میں کوچنگ سینٹر یا اکیڈمیاں نظر نہیں آئیں۔ خود میرے کالج کے امتحانات بھی عجب تھے! میرے انسٹرکٹر مارک پرو نے سمسٹر کے امتحان میں سب طلباء کو امتحانی سوالنامہ اور خالی شیٹس دیں کہ ویک اینڈ پر گھر سے کر کے آؤ !! ان میں کچھ خالی جگہ پُر کرو، کچھ صحیح غلط، کچھ مختصر لکھنے والے سوالات شامل تھے۔ دو بلاک کے فاصلے پر ہمارے کالج کا ، لائٹنگ اسٹیج/ اسٹوڈیو تھا۔ وہاں لائٹنگ وغیرہ کی عملی کلاسیں اور امتحانات ہوتے۔
کالج کی فیسیں اور دیگر اخراجات:
گیارہویں کے بعد مقامی طلباء یا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں قانونی طور پر رہنے والے طلباء کالج کا داخلہ فارم لے کر اپنے بینک جاتے ہیں۔ یہاں انہیں تعلیم کے لئے ریاست کی ضمانت پر قرضہ ملتا ہے۔ یہ نقد رقم نہیں بلکہ بینک کی جانب سے طالبِ علم/طالبہ کی فیس کی پیشگی ادائیگی ہوتی ہے۔ اُس سمسٹر کا اصل نتیجہ براہِ راست قرضہ دینے والے بینک کے پاس آتا ہے۔ طالبِ علم کو اس کی نقل ملتی ہے۔ اگر مذکورہ طالبِ علم نے ( کم از کم) مطلوبہ نمبر یا گریڈ حاصل کر لیا تو اگلے سمسٹر میں اس کی فیس پھر سے بینک ادا کرے گا وگرنہ نہیں۔ اور ہاں ! یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ طالبِ علم یا طالبہ کسی ہاسٹل یا اپارٹمنٹ میں رہتی ہو گی۔ اسی لئے ریاست کی جانب سے گزرنے والے سمسٹر میں ہر ماہ کمرے کا کرایہ ، کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کے لئے خرچ کی گئی رقم کی مد میں ایک معقول رقم بھی دی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک طالبِ علم اپنی تعلیم مکمل نہ کر لے۔ اس کے بعد طلباء عملی زندگی میں داخل ہو کر ایمان داری سے اپنے اوپر خرچ کردہ رقم اتارتے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی اس نظام سے مخول کرے۔
پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی:
دیکھتے ہی دیکھتے برفباری کا زمانہ شروع ہو گیا۔ میں روز صبح اُٹھ کر ریڈیو پر موسم کا حال سنتا تھا۔ اُس روز ریڈیو پر بتایا گیا کہ موسم کے تیور ٹھیک نہیں ہیں شدید برفباری ہو گی لہٰذا انتہائی ضرورت کے بغیر گھر سے باہر مت نکلیں !!میں گھر سے کالج پیدل آتا جاتا تھا۔ اُس روز بھی صبح کان لپیٹے، گرم کپڑوں کے حصار میں پیدل کالج کی جانب نکل گیا۔ سروس روڈ اور انٹر اسٹیٹ پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔ تمام اطراف برف ہی برف ! میں گھر اور کالج کے درمیان میں تھا کہ سر چکرایا پھر اس کے بعد کچھ یاد نہیں !! اگلا منظر یہ تھا کہ میں اسٹیٹ ٹروپر کی کار میں لیٹا ہوا تھا۔ میرے آس پاس اسٹیٹ پولیس والے بیٹھے تھے۔ لیجئے سنئیے انہوں نے کیا کہا:
” ہم معمول کی گشت پر تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ سروس سڑک اور انٹر اسٹیٹ کے پُل کے درمیان خالی میدان میں ایک مشتبہ شخص ہمیں دیکھ کر برف میں ایک دم جھُکا۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ اس قدر خراب موسم بھی منشیات کے کام میں رکاوٹ نہیں بنا۔ برف میں جہاں تک ہماری کار جا سکی ہم تیزی سے وہاں تک آئے۔ پھر برف میں دوڑ کر اس شخص کے پاس پہنچے۔ یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا۔ دیکھا کہ تم برف میں نے ہوش پڑے ہو۔ تلاشی پر علم ہوا کہ کولمبیا کالج کے غیر ملکی طالبِ علم ہو۔ ڈرائیونگ لائسنس سے اندازہ ہوا کہ پولیس کو مطلوب بھی نہیں ! پھر ہم نے تمہیں برانڈی پلائی تب کہیں جا کر تم اپنے حواس میں آئے۔ اب بتاؤ تمہارا مسئلہ کیا ہے ؟ "
اس بات کا میرے پاس کیا جواب ہونا تھا۔ انہوں نے پولیس کار میں مجھے کالج چھوڑا البتہ اُس روز میں گھر واپس پیدل نہیں گیا۔
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا:
میرا کراچی کا ایک دوست زاہد ریاض ، لاس انجیلس میں رہتا تھا۔ میں نے اس کے قریبی عزیز صفدر حسین کے فاسٹ فوڈ مرکز ’ سب مرین کاسل ‘ میں شام چھ سے صبح چھ بجے تک کام شروع کر دیا۔ یہ ٹیوب ٹرین کے اسٹیشن ’ انڈیانا ‘ کے قریب واقع تھا۔ پیر سے جمعہ صبح سے دوپہر تک کالج جاتا پھر چونکہ شعبہ فلم تھا لہٰذا ہفتہ میں ایک آدھ دن ڈاؤن ٹاون کے کسی سنیما میں فلم دیکھ کر اس پر رپورٹ لکھنا ہوتی پھر تھوڑا سا وقت بچتا تھا اس کے بعد پھر شام چھ بجے کام!! اسی دوران مجھے 250 ڈالر میں 1973 ماڈل کی آٹو میٹک آٹھ سلنڈر شیورلیٹ کار مل گئی۔ میں ہی اس کا دوسرا مالک تھا۔ اس کار کی بھی دلچسپ تاریخ ہے۔ ایک مقامی عمر رسیدہ خاتون کو ان کے آنجہانی شوہر نے کسی موقع پر تحفتاً دی تھی۔ اب میرا اوڑھنا بچھونا اس کار میں ہونے لگا۔ جب چند گھنٹے ملتے میں اسی میں سو جاتا۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک راوی چڑھ گیا !!
وہ شدید برفباری کا دن تھا۔ میں اپنی کار میں ہمشیرہ کے گھر جا رہا تھا۔ راستے میں ایک پُل تھا۔ پُلوں میں اکثر کناروں کی طرف برف پڑی رہتی ہے۔ بس ایک نیند کا جھونکا آیا اور مجھے کچھ خبر نہ رہی !! اُس وقت تک کار پُل کی ریلنگ کے پاس آ گئی تھی۔ وہ تو ﷲ کا کرم ہو کہ میرا پیر ایکسیلیریٹر سے پہلے ہی اُٹھ چکا تھا۔ یہ فرنٹ ویل ڈرائیو کار تھی۔ آنکھ کھلی تو میں ایک مرتبہ پھر اسٹیٹ ٹروپر کی کار میں اُن ہی اسٹیٹ پولیس والوں کے درمیان تھاؒ:
’’ لگتا ہے تمہارا اب کوئی پکا علاج کرنا پڑے گا ! ‘‘۔ ایک پولیس والے نے کہا۔
میں نے بے بسی سے اسے تکنا شروع کر دیا۔
’’ وہ تو اچھا ہوا کہ تمہاری کار کے اگلے ٹائر برف میں بس ویسے ہی گھومتے رہے۔ ورنہ کسی اور گاڑی سے ٹکرا جاتے۔ یہ دوسری وارننگ ہے اب اگر ہم نے تمہیں برف میں اس طرح دیکھا تو بھاری جرمانہ لگا دیں گے۔ ‘‘
سٹی پولیس کی سچائی:
وہاں کی پولیس بھی کئی ایک طرح کی تھی۔ ایک شیرف پولیس، دوسری سٹی پولیس تیسری اسٹیٹ پولیس۔ اِن کے کیا کام اور کیا حد بندیاں تھیں اس پر کسی اور وقت گفتگو ہو گی۔ مجھے ریاست الاباما کے شہر ڈوتھن میں شیرف پولیس کے ساتھ بھی دلچسپ واقعات پیش آئے۔
شیرف ڈپارٹمنٹ کی پولیس والی:
میں ایک نسبتاً بڑے اسٹور میں دوپہر کی شفٹ میں کام کرتا تھا۔ اکثر شیرف ڈپارٹمنٹ کی ایک گوری پولیس والی پولیس کار میں آتی، مخصوص بئیر خریدتی اور گپ شپ مار کر چلی جاتی۔ واضح رہے کہ کاروباری جگہوں، دُکانوں وغیرہ کا روز مرہ گشت شیرف پولیس کی ذمہ داری ہے۔ خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو انہیں ہی بلایا جاتا ہے۔ ایک دن اس خاتون نے مجھے اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ تمہارے اسٹور میں منشیات کا لین دین ہو رہا ہے۔ نظر رکھنا اور اگر کوئی مشکوک کارروائی ہوتے دیکھو تو انہیں کچھ مت کہنا مجھے اس نمبر پر کال کرنا۔
اسٹور کے ساتھ اس کے پبلک واش روم کو صاف ستھرا رکھنا بھی میری ذمہ داری تھی۔ ایک دن میں نے کموڈ کے فلشنگ ٹینک کے ڈھکنے کو کھول کر دیکھا تو اس میں پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں سفید سفوف نظر آیا۔ میں نے اسے چھیڑے بغیر ڈھکن بند کیا اور فوراً شیرف ڈپارٹمنٹ کی اس پولیس والی کو فون کردیا۔ وہ آناً فاناً آ موجود ہوئی اور سیدھی واش روم میں گئی گویا اسے استعمال کرنے جا رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ چہرے پر کسی قسم کے تاثرات لئے بغیر میرے پاس آئی اور آہستہ سے کہا کہ واش روم پر نظر رکھنا کیونکہ کسی نے کسی کو دینے کے لئے یہ منشیات کے پیکٹ کموڈ کے فلشنگ ٹینک میں رکھے ہیں جو بھی ہو مجھے بتانا۔ زیادہ دیر نہیں گزری ہو گی کہ واش روم سے چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ اور خریداروں کے ساتھ میں بھی گیا تو دیکھا کہ ایک نوجوان عورت فرش پر گری رو رہی ہے۔ میں نے اس پولیس والی کو اس معاملے کا بتایا۔ وہ فوراً آ گئی ( اسٹور کے قریب ہی شیرف ڈپارٹمنٹ والوں کی حوالات اور دفتر تھا)۔ وہ نوجوان عورت مشکل سے اپنے پیروں پر چل رہی تھی۔ پھر اس معاملے کا کیا ہوا؟ وہ موضوع سے ہٹ کر ہے۔
مجھے کسی وجہ سے فوراً پاکستان آنا تھا لیکن میرا پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا تھا۔ میں نے اس پولیس والی سے بات کی کہ میں اپنے سفارت خانے سے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا چاہتا ہوں اور اس کا آسان طریقہ کسی پولیس اسٹیشن سے اپنے پاسپورٹ کی گمشدگی کی رپورٹ ہے۔ کیا تم یہ کام کر سکتی ہو؟ اس نے فوراً کہا کہ تم اسی وقت ہمارے اسٹیشن چلے جاؤ اور کہو کہ اسٹور سے نکلتے ہوئے کہیں پاسپورٹ سمیت دستاویزات گر گئی ہیں۔ مجھے ہاتھ کے ہاتھ یہ تحریر مل گئی اور میرا کام ہو گیا۔
جب کہ ہمارے ہاں کی پولیس کے بارے میں عام آدمی کی سوچ کیا ہے ؟ اس پر کچھ کہنا بیکار ہے۔ لیکن میں نے وہاں کے خاص و عام کو یہی کہتے سنا کہ پولیس ہماری محافظ ہے۔ دیکھیے میرے ساتھ کیا ہوا:
شکاگو سٹی پولیس اور میں:
شکاگو کی پہلی سردیوں کے بعد جو کھُلا موسم آیا تو ایک روز میں اپنی کار میں ایک قدیم قبرستان کی جانب جا رہا تھا ( وہاں کیوں جا رہا تھا ؟ یہ پھر کبھی)۔ ذیلی سڑک سے انٹر اسٹیٹ پر جانے کے راستے کی جانب ابھی چند فٹ ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے سٹی پولیس کی کار کی بتیاں روشن ہو گئیں اور میں وہیں ایک طرف رک گیا۔ پولیس والا نکل کر آیا اور میرا ڈرائیونگ لائسنس دیکھا۔ پھر کہا :
’’ تم انٹر اسٹیٹ سے ذیلی سڑک پر اترنے والے راستے پر اُلٹا جا رہے ہو۔ یہ بہت بڑی ٹریفک کی خلاف ورزی کی ہے ‘‘۔ پھر مجھے 50 ڈالر کا ٹکٹ دے دیا۔ واضح ہو کہ 1985 میں یہ ٹھیک ٹھاک جرمانہ سمجھا جاتا تھا۔
’’ یہ جرمانہ کہاں اور کیسے ادا ہو گا؟ ایسا میرے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا ہے ‘‘۔ میں نے پوچھا۔
’’ چیک لکھ کر ٹکٹ پر لکھے پتہ پر بھیج دو یا کریڈٹ کارڈ سے ادا کرو ‘‘۔
’’ میرا بینک اکاؤنٹ ہے نہ ہی کریڈٹ کارڈ ! ہاں البتہ نقد رقم ہے وہ لے لو ! ‘‘۔
اس پر وہ پولیس افسر چکرا کر رہ گیا۔ پھر ایک اور پولیس کار منگوا لی۔ دونوں نے مشورہ کیا اور کہا کہ کیش کا معاملہ ہے اور ہم کیش نہیں لے سکتے لہٰذا تمہیں ہمارے ساتھ اسٹیشن جا کر رقم جمع کروانا پڑے گی۔ اس طرح ایک کار آگے راستہ دکھانے چلی اور دوسری میرے پیچھے پیچھے پولیس اسٹیشن تک آئی۔ یہاں دو گواہوں کی موجودگی میں مجھ سے 50 ڈالر وصول کر کے رسید دی گئی۔ تمام عملہ نقد ادائیگی کرنے پر حیران و پریشان تھا۔ وہاں کسی پولیس افسر نے اس انوکھے واقعہ کی ان افسروں کو بھی اطلاع دے دی جو گشت پر تھے۔ ابھی میں عملے سے الوداعی مصافحہ کر ہی رہا تھا کہ اسٹیشن کے دروازے پر ایک پولیس کار تیزی سے آ کر رکی۔ اس میں سے ایک افسر سیدھامیری طرف آیا :
’’ جناب آپ کو غلط ٹکٹ جاری ہو گیا۔ انٹر اسٹیٹ کے ’ ریمپ ‘ پر کسی بھاری گاڑی کی ٹکر سے ’ اونلی ‘ ( یک طرفہ)کا خبردار کرنے والا بورڈ گر چکا تھا لہٰذا جب خبردار کا نشان ہی نہیں ہے تو خلاف ورزی کیسی ؟ ‘‘
ٹکٹ جاری کرنے والے افسر نے اپنی ٹکٹ بُک سے وہ ٹکٹ منسوخ کر دیا اور عملے سے کہا کہ ان کو ان کے ڈالر واپس کر دو۔
لیجئے ایک اور معاملہ شروع ہوا۔ پولیس اسٹیشن سے عام حالات میں کیش رقم نکالی ہی نہیں جا سکتی تھی۔ پہلے تو عملے نے مجھ سے معذرت کی، کافی پلائی۔ کافی دیر بعد کوئی بڑا افسر آیا اور اس نے میری ادا شدہ رقم دے کر تین کاغذوں پر دستخط لئے۔
وال مارٹ میں خراب زِپ والی گرم جیکِٹ کا ماجرا:
وہ 1986 کا موسمِ سرما تھا۔ قومی ائیر لائن سے وابستہ میرے بڑے بھائی، فاروق لطیف ، نیو یارک سے میری ہمشیرہ کے پاس شکاگو آئے۔ چونکہ سردیوں کا زمانہ تھا لہٰذا میں انہیں قریبی وال مارٹ اسٹور لے گیا۔ اور چیزوں کے علاوہ انہوں نے بغیر آستین کے ایک گرم جیکِٹ لی۔ وہیں پہن کر دیکھی تو اس کی زِپ خراب نِکلی میں ان کو اسٹور کے کسٹمر سروس کاؤنٹر پر لے گیا اور رسید دکھا کر مسئلہ بیان کیا۔ عملے کی خاتون نے بغیر کسی بحث کے ہمیں ساتھ لیا اور کپڑوں اور جیکٹوں والے علاقے میں لے جا کر ویسی ہی دو مزید جیکٹیں لیں اور چیک آؤٹ پر آ کر خصوصی رسید بنائی۔ جس پر درج تھا کہ ایک جیکٹ خراب زِپ والی جیکٹ کے بدلے اور دوسری خریدار کو پہنچنے والی ’ ذہنی اذیت ‘ کم کرنے کے لئے دی گئی ہے۔
عظیم ترین، محمد علی باکسر سے ملاقات:
میں خزاں سمسٹر میں کو لمبیا کالج، شکاگو آیا تھا۔ پھر اسپرنگ سمسٹر میں ہالی ووڈ ، لاس انجیلس میں واقع کیمپس میں چلا گیا جہاں فلم سٹی اور ٹی وی سٹی میں مختلف منصوبوں کا مشاہدہ کیا۔ کولمبیا براڈکاسٹنگ سسٹم یا سی بی ایس امریکی ریکارڈنگ اور براڈکاسٹنگ کمپنی ہے جو اپنے اسٹوڈیوز میں ٹیلی وژن پروگرام ، کمرشل فلمیں وغیرہ بناتی ہے۔ اس کا آغاز 1950 کی دہائی میں ریڈیو کمپنی کی حیثیت سے ہوا۔ میں کچھ عرصہ ماری پوسا ایوینیو لاس اینجلس میں بھی رہا۔ اس کے قریب ایک نیا تعمیر شدہ اسلامی سینٹر اور مسجد بھی تھی۔ اس کے بارے میں بتلایا گیا کہ یہ عظیم باکسر محمد علی نے بنوائی ہے۔ 1986 کے رمضان میں جمعۃ الوداع کے موقع پر اسلامی سینٹر اور مسجد میں پوسٹر اور بینر لگ گئے کہ عید کی نماز محمد علی صاحب پڑھنے آئیں گے۔ لہٰذا جو ان کے ساتھ تصویریں بنوانا اور آٹوگراف لینا چاہیں وہ نماز کے بعد قطار میں آ جائیں۔ میں نے بھی اس عظیم ترین باکسر محمد علی کے ساتھ تصویر بنوائی اور آٹوگراف لیا۔ یہ میری زندگی کی ایک یادگار تصویر ہے۔ بلا شبہ ہزاروں افراد سے انہوں نے ہاتھ ملایا اور فرداً فرداً ہر ایک سے ایک دو جملے بھی کہے۔ تمام وقت وہ کھڑے رہے۔ مجال ہے جو ان کے ماتھے پر بل آیا ہو!!!
کالج میں 1987 میں پیش آنے والا حادثہ:
سمسٹر کا اختتام تھا۔ شام کو لائٹنگ اسٹیج میں ہماری گریجوایشن پارٹی منعقد ہونا تھی۔ یہ خاصا بڑا فلم اسٹوڈیو تھا۔ پارٹی سے پہلے ہمیں بتا دیا گیا کہ کل صبح 9:00 بجے یہیں اسی اسٹوڈیو میں حقیقی نظر آنے والا حدِ نگاہ صحرا ، وسیع و عریض ساحل اور حدِ نظر تک نظر آنے والا سمندر بنانے کا عملی تجربہ کروایا جائے گا لہٰذا پارٹی کے بعد کل صبح ہر شخص کلاس میں ہوش و حواس کے ساتھ آئے۔ پارٹی میں عوام الناس نے خوب مزے کئے۔ رات گئے تمام لوگ اپنے گھروں کو جانے لگے۔ تب ہمارے انسٹرکٹر نے کہا کہ وہ کار چلانے کے قابل نہیں لہٰذا یہیں اسٹوڈیو میں رات رہے گا لیکن کل صبح ہماری کلاس لازمی ہو گی۔
اگلی صبح سب ہی طلباء موجود تھے۔ البتہ انسٹرکٹر کی طبیعت مضمحل اور بوجھل تھی۔ پہلے انہوں نے ہمیں لیکچر دیا۔ لیکچر کے دوران میز پر رکھے تھرماس سے بلیک کافی بھی پیتے جاتے تھے۔ نیند اور دیگر خمار ابھی ٹوٹا نہیں تھا۔ پھر تین تین طلباء کے گروپ بنا کر اسٹوڈیو کی ایک بڑی دیوار کی جانب لے گئے۔ یہاں کافی بلندی پر ، جہاں اسٹوڈیو لائٹوں کے لئے کیٹ واک بنا ہوتا ہے، ایک مضبوط راڈ سے رول کی صورت سنیما کی اسکرین والا پردا لٹک رہا تھا۔
اوپر سے سنیما اسکرین کے موٹے پردے کے سرے کو نیچے کیا گیا حتیٰ کہ وہ اسٹوڈیو کے فرش پر آ گیا۔ اب کچھ طلباء نے انسٹرکٹر کے کہنے پر اس کو گھسیٹ کر فرش پر کافی دور تک بچھا دیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگر یہ دِکھانا ہو کہ حدِ نظر صحرا ہے تو فرش والے حصے پر سلوٹیں ڈال دیں پھر باقی کا کام لائٹنگ سے ہوتا ہے۔ اسی طرح لائٹنگ سے حدِ نگاہ سمندر بنایا جاتا ہے۔ جب ایک گروپ یہ عملی مظاہرہ کر لیتا تو انسٹرکٹر ایک تیز خنجر نما آلہ سے وہ استعمال شدہ موٹا سنیما کا پردہ پہلے خود کاٹتا پھر اس گروپ کے ہر ایک فرد سے کٹواتا۔ آخری گروپ میرا تھا اور میں گروپ کا پہلا شخص تھا۔ انسٹرکٹر نے دوسروں کی طرح میری دفعہ بھی وہ آلہ پکڑا اور احتیاط سے کاٹنے کا بتانا شروع کیا۔
بس ہونے والی ہو گئی! شاید اسے نیند کا جھٹکا آیا یا کوئی اور بات ہوئی اور بجائے اسکرین کاٹنے کے میرے ماتھے کو کاٹ ڈالا۔ وہ تو بھلا ہو میری عینک کا جس نے میری آنکھیں بچا لیں لیکن ماتھے سے بہت خون بہنے لگا۔ اوپر کیٹ واک پر کچھ لوگ لائٹیں لگا رہے تھے۔ جب نیچے شور اٹھا اور انہوں نے یہ ماجرا ہوتے دیکھا تو ایک بھاری لائٹ میرے کاندھے کو چھوتی نیچے آ گری۔ خدانخواستہ کاندھے پر گرتی تو نہ جانے کیا ہوتا !!! بہت سے طلباء اور کیٹ واک پر کام کرنے والے تو موقع سے غائب ہو گئے کہ نہ جانے میرا کیا حشر ہوا ہو گا !!
انسٹرکٹر نے فوراً ’ ڈرائی آئس ‘ یا کاربن ڈائی اوکسائڈ کی ٹھوس شکل ، میرے ماتھے پر لگائی۔ اس سے خون بہنا رُک گیا اور عارضی طور پر ماتھے کی جلد زخم پر سے سکڑ گئی۔ فوراً پیرا میڈکس آ گئے۔ وہیں میرے ’ وائٹل سائن ‘ اور دیگر چیزیں دیکھی گئیں۔ جسمانی چوٹ تو لگی ہی تھی لیکن ﷲ کا کرم ہوا کہ ذہنی صدمہ نہیں پہنچا۔ میری بات چیت بالکل ٹھیک تھی۔ آنکھوں کی پتلیوں کو بھی دیکھا گیا۔ پیرا میڈکس نے کہا کہ سر کی چوٹ اور ذہنی صدمے کی وجہ سے بہتر ہے کہ چند گھنٹے اسپتال میں گزار لوں۔ میں نے انکار کر دیا۔ اسی دوران انسٹرکٹر کچھ کاغذات لے کر آیا اور کہا کہ اِن گواہوں کی موجودگی میں تم دستخط کر دو۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہ انسٹرکٹر اور کالج پر عدالتی کیس کرنے کے کاغذات ہیں۔ ایک کیس انسٹرکٹر پر کہ وہ اسکرین کاٹنے کے عمل کے دوران ہوش و حواس میں نہیں تھا۔ دوسرا کیس کالج انتظامیہ پر کہ اس نے طلباء کو صنعتی ہیٹ /ہیلمٹ کیوں فراہم نہیں کی تھیں ؟ اگر یہ پہنی ہوتی تو ماتھا نہیں کٹتا ! تیسرا کیس بھی کالج پر کہ اس نے ایک غیر ذمہ دار انسٹرکٹر شعبہ فلم اور ویڈیو میں کیوں رکھا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ فی الحال تو میں گھر جا نا چاہتا ہوں۔ ہمشیرہ کے ہاں گیا تو وہ اور بہنوئی صاحب بہت پریشان ہوئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں نے کراچی میں اپنی والدہ کو فون کیا۔ اس وقت پاکستان میں غالباً رات کے آٹھ کا وقت ہو گا۔ میں نے انہیں اس حادثہ اور کالج پر کیے جانے والے عدالتی کیس کی پیشکش کا بھی بتایا۔ والدہ نے کہا کہ واپس آ جاؤ۔ جان بچ گئی ہے۔ کسی پر کیس کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس وہی لمحہ تھا جب مجھے یہ خیال آیا کہ والدہ کے منع کرنے کے بعد بھی یہ کیس کیا تو ملنے والی ملین ڈالر سے بھی زیادہ رقم سراسر شر کا سبب بنے گی !!
میں اگلی صبح کالج میں پہلے انہی انسٹرکٹر کے پاس گیا۔ اُن کو کیس نہ کرنے کا بتایا۔ وہ حیران و پریشان رہ گئے۔ مجھے لے کر میرے فارن اسٹوڈنٹ ایڈوائزر چیپ فری مین کے پاس آئے۔ انہوں نے ایسا کرنے کی دلیل پوچھی تو میری ’ پَنچ لائن ‘ یہ تھی کہ میری امی نے کہا ہے کہ استاد کا درجہ باپ سے بڑا ہے۔ پھر لالچ بری ہے اور کیس کے نتیجہ میں پیسے ناجائز ہیں جو تمہیں جہنم میں لے جائیں گے ! انہوں نے تحمل سے میری بات سنی اور انسٹرکٹر کو کہا کہ میں مشرق کے مزاج سے واقفیت رکھتا ہوں لہٰذا اِس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ مجھ سے پوچھا کہ ادھوری تعلیم کا کیا بنے گا ! میں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ نہ اپنی تعلیم اور ڈگری ادھوری رہنے کا اور نہ ملین ڈالر نہ ملنے کا افسوس ہو گا !!
یہ دونوں افراد مجھے شعبہ کے چیئرمین کے پاس لے گئے۔ اس نے میرے کیس نہ کرنے کے موقف کو غور سے سنا۔ اور کہا کہ یہاں کی ثقافت میں لوگ کیس کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ میں تو یہی مشورہ دوں گا کہ تم اس موقع کا فائدہ اُٹھاؤ۔ پھر بھی تم واپس جانا چاہتے ہو تو ہم کچھ عرصے تمہارا ارادہ بدلنے کا انتظار کریں گے۔ پھر میرے ایڈوائزر اور انسٹرکٹر کے سامنے کہا کہ ایسے سنہری موقع سے فائدہ نہ اٹھانے کا یہ میرا پہلا مشاہدہ ہے !!
ہمارے ملک میں اٹھتے بیٹھتے خاص و عام ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی خراب ہو جائے تو ڈنکے کی چوٹ کہا جاتا ہے امریکہ نے کرایا ہے۔ ہر ایک چھوٹی بڑی چیز مہنگی ہو جائے تو بھی امریکہ ذمہ دار ہے۔ امریکی حکومت عام امریکی کی بہبود کے لئے کیا کرتی ہے میں نے اس ٹوٹی پھوٹی تحریر میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یوں 1987 کے اوائل میں میری پاکستان واپسی ہو گئی۔ اس کے بعد بھی میرا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں آنا جانا لگا رہا۔
1989 میں ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کا عجیب قصہ:
میرے خالہ زاد بھائی نعمان، ریاست الباما میں رہتے تھے۔ میرا وہاں آنا جانا تھا۔ 1986میں اُن کے ہاں سے واپسی پر کسی چھوٹے قصبے میں تیز رفتاری پر 75 ڈالر کا ٹکٹ ملا۔ میں نے سوچا گھر میں چیک لکھ کر ڈاک سے بھیج دوں گا۔ پھر یہ کام ذہن سے نکل گیا۔ 1989 میں ریاست ویسٹ ورجینیا میں ساؤتھ چارلسٹن سے ڈیپارٹمنٹ آف موٹر وہیکلز (ڈی ایم وی) میں ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کرانے گیا تو مجھے کہا گیا کہ میرے لائسنس پر ریاست الاباما میں ٹریفک کی خلاف ورزی کا ایک ٹکٹ واجب الادا ہے۔ میں نے کہا کہ کیا کروں ؟ بتلایا گیا کہ ان سے رابطہ کروں کیوں کہ اصل جرمانے کے ساتھ تین سال کا سود بھی ادا کرنا پڑے گا !
میں اپنی تمام خط و کتابت ، رسیدیں، ادا شدہ ٹکٹ حتیٰ کہ نو پارکنگ کے ادا شدہ ٹکٹ تک سنبھال کر رکھتا تھا۔ مجھے پنڈتوں نے بتایا تھا کہ امریکی شہریت کے حصول کے انٹرویو میں بعض اوقات یہ چھوٹی چیزیں بہت کام دیتی ہیں۔ تلاش کرنے پر وہ ٹکٹ مل گیا۔ میں نے اس پر لکھے فون نمبر پر رابطہ کیا۔ فون پر خاتون کو تمام کہانی سنائی۔ خاتون نے کہا کہ چونکہ میں نے خود رابطہ کیا ہے لہٰذا 75 ڈالر جرمانہ اور اس پر تین سال کا سود معاف کیا جاتا ہے۔ اب میں اپنا ڈرائیونگ لائسنس تجدید کروا سکتا ہوں۔
نا قابلِ یقین واقعات:
میرے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں عجیب و غریب واقعات بھی پیش آئے۔ ان میں سرِ فہرست 2000 کی دہائی میں ریاست ویسٹ ورجینیا میں قیام کے دوران تسلسل سے پیش آنے والے ناقابلِ یقین واقعات ہیں۔ اِن کی ابتدا 2000 میں میری ایک پراسرار ریڈ انڈین چرکی خاتون نَورا سے ملاقات کے ساتھ ہوئی۔ حیرت انگیز ذرائع سے اُس نے میری رہائش کا مسئلہ حل کیا اور مجھ سے زیادہ وہ میرے مسائل کی وجہ سے پریشان رہی۔ پھر حتی الامکان میرے دیگر مسائل کے حل کے لئے اُس نے اپنے طریقے استعمال کیے۔
چرکی ریڈ انڈین نورا
2000 کے شروع کا ذکر ہے، میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ویسٹ ورجینیا کے ایک قصبے ’ اُوک ہِل ‘ میں رہتا تھا۔ او ر کام کے سلسلے میں یہاں سے 52 میل کے فاصلہ پر بڑے شہر، ساؤتھ چارلسٹن منتقل ہونے کا سوچ رہا تھا۔ میری عادت تھی کہ فرصت کے اوقات کسی ویران اور متروک قبرستان میں اپنی 1989 ماڈل کی ٹویوٹا ٹرسل میں جا کر گھومتا پھرتا۔ میں ایک فارمیسی میں کام کرتا تھا۔ وہاں ایک ریڈ انڈین خاتون، نَورا سے مُلاقات ہوئی جو اپنے آپ کو خالص چرکی کہلواتی تھی ( جِس کو ہم لوگ چیروکی کہتے ہیں) اس کی آنکھیں اور چہرہ مہرہ سب ہی خالص ریڈ انڈین تھا۔ نَورا جز وقتی کارکُن تھی۔ جیسے ہمارے ہاں کچھ لوگ کام کےمعاملے میں شہزادے واقع ہوتے ہیں کہ کبھی آئے کبھی نہ آئے؛ بعینہٖ اسی طرح نَورا بھی شہزادی تھی ! ایک تو پہلے ہی جزوقتی کام پھر اوپر سے اُس کا شہزادی ہونا سونے پہ سہاگہ تھا۔ میں اُس سے چرکی رسومات ، چرکی موسیقی اور ثقافت کے بارے میں معلومات لیتا تو وہ گرم جوشی سے بتاتی۔ ایک دن باتوں باتوں میں پرانے اور متروک قبرستانوں اور مقابر میں جانے اور وہاں پر رکھے تابوتوں اور صاحبِ تابوت دیکھنے کا ذکر ہوا۔ عجیب بات ہے کہ میں نے جب پرانے قبرستانوں، مقابر، سال خوردہ تباہ حال تابوتوں اور اُن میں پائی جانے والی باقیات دیکھنے کے شوق کا ذکر کیا تو یک لخت نَورا سپاٹ تاثرات لئے میرے بائیں کاندھے سے بالکل اوپر ٹکِٹکی باندھے ہلکی آواز میں کسی نامعلوم زبان میں کچھ الفاظ ادا کر نے لگی۔ میں نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی۔ ایسا کئی مرتبہ ہوا۔ کبھی یہ دورانیہ محض چند ثانیہ ہوتا کبھی یہ کافی کافی دیر بھی رہا۔ میرا اس قسم کے خواتین و حضرات سے واسطہ رہا ہے لہٰذا ایسے میں خاموش رہنا اور مقابل سے اُس کیفیت سے متعلق کبھی کوئی سوال نہ کرنا، مجھے وقت نے سکھلا دیا تھا۔
پھر ایک روز میرے شوق کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے ایک خاندانی متروک قبرستان میں لے آئی۔ ٹوٹے اور جھولتے ہوئے صدر دروازے سے داخل ہوتے ہی اندازہ ہو گیا کہ واقعی یہاں تو زمانے سے کوئی زندہ یا مردہ نہیں آیا۔ قبرستان خاصا وسیع تھا۔ وہ مجھے وہاں کے ایک قدیم مقبرے میں لے آئی جس کا آدھا دروازہ کب کا گر چکا تھا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں دستور ہے کہ قبرستان میں کچھ جگہ خرید کر اُسے مقبرہ بنا سکتے ہیں۔ وہاں کے قبرستانوں میں بھی تابوت زمین میں دفن ہوتے ہیں لیکن مقبرے میں تابوت زمین کے اوپر رکھے جاتے ہیں۔ ہم اُس مقبرے میں داخل ہوئے تو باہر سورج کی روشنی تھی لیکن اس میں کم محسوس ہوئی۔ اندر ایک ہی بڑا کمرا تھا جس میں اوپر تلے کئی ایک تابوت رکھے نظر آئے۔ میں نے خواہش کا اظہار کیا کہ تابوت کھول کر دیکھتے ہیں جِس پر اُس نے پوچھا کہ میں یہ تابوت اور صاحبِ ِ تابوت کیوں دیکھتا ہوں؟ میں نے جواب میں کہا کہ ’’ مجھ کو معلوم نہیں بس مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے ‘‘۔ اِس پر نورا نے حیرانی سے مجھے دیکھا۔ پھر ہم نے کئی تابوت کھول کر دیکھے۔ کچھ تابوتوں میں مکمل ڈھانچے تھے جب کہ زیادہ تر میں بکھری ہڈیاں۔ پھر نیچے والے تابوتوں میں کھوپڑی کے ساتھ محض مردے کی ہڈیوں کا سفوف ! بعض مردے بغیر سروں کے بھی تھے گویا ہم سے پہلے بھی کوئی یہاں آ یا ہو گا۔ اِس تمام عرصہ نَورا خاموش رہی۔ کافی دیر بعد شام ڈھلے ہم اُس مقبرے سے واپس ہونے لگے تو اُس وقت اُس نے آہستہ سے کہا کہ اگر مجھے یہاں سے کوئی چیز بطور یادگار لے جانی ہے تو لے جا سکتا ہوں۔ میں نے ایک نظر اُسے دیکھا اور کہا ’’ نَورا !! تمہارا بہت شکریہ جو تم مجھے یہاں لائیں ہم مُردوں کا بہت احترام کرتے ہیں ‘‘۔ وہ خاموشی سے پلٹی اور ہم آگے پیچھے قبرستان سے باہر آ گئے۔
شام کو وہ میری فارمیسی میں آئی۔ میں تھوڑی دیر کے لئے اپنے فارماسسٹ کی اجازت سے اُسے دفتر میں لے آیا۔ نَورا نے کہا : ’’ ہمیشہ کی طرح تم قبرستان میں بہت خوش لگ رہے تھے لیکن تمہارے اندر ایک پریشانی تھی ، بتاؤ وہ پریشانی کیا ہے؟ ‘‘۔ میں بہت حیران ہوا کہ اُسے کیسے علم ہوا۔ میں نے کہا : ’’ میں نے ساؤتھ چارلسٹن منتقل ہونا ہے۔ وہاں مجھے تخفیف شدہ کرایہ پر حکومتی ملکیت کا اپارٹمنٹ درکار ہے۔ یہ ریاستی ادارے Housing and Urban Development کے تحت آتا ہے۔ میں نے بہت کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کوئی بندوبست نہیں ہو سکا ‘‘۔
عجیب معاملہ
نَورا مسکرائی اور کہا کہ فون بُک یعنی ٹیلی فون ڈائریکٹری لاؤ۔ وہ لائی گئی، تب اُس نے اپنے پرس سے کچھ رنگین کپڑوں کے ٹکڑے نکال کر ڈائریکٹری کے دائیں طرف رکھ دئیے پھر آنکھیں بند کر کے تاش کے پتوں کی طرح ڈائریکٹری کے صفحات کو چھیڑا۔ اُس کے بعد دو تین دفعہ کھولا بند کیا۔ پھر بالآخر اُس کو کھول کر بند آنکھوں سے دائیں جانب کے صفحے پر دائیں ہاتھ کی انگلیاں پھیریں ایک جگہ اُنگلی رکھ کر اپنی آنکھیں کھول دیں اور بغیر دیکھے کہا کہ اِس نمبر پر فون کر لو۔ اب جو میں نے وہ صفحہ دیکھا تو دانتوں تلے انگلیاں آ گئیں !! یہ صفحہ اور اس سے ملحق کچھ اور صفحات ’ رئیل اسٹیٹ ‘ کے تھے اور خاص وہ صفحہ جہاں اُس نے انگلی رکھی تھی ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیویلپمنٹ والوں کی پراپرٹی کا تھا۔
میری حالت غیر دیکھتے ہوئے وہ بولی ’’ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ تم اب ہمارے ہو ‘‘۔ یہ کہا اور اُس نمبر پر فون گھما دیا۔ چھوٹتے ہی اُس نے اپنا تعارف کرایا اور اگلے کی بات سنتے ہی وہ مطلب کی بات کرنے لگی۔ دو منٹ میں اس نے بات مکمل کر لی۔ فون بند کر کے مجھے کہنے لگی : ’’ تمہارا کام ہو گیا ہے۔ آؤ! میں تمہیں گھر دلانے کے لئے تمہارے ساتھ 180 میل سے زیادہ کا آنا جانا بخوشی کروں گی ‘‘۔
میں نے اُسی وقت فارمیسی انچارج سے اجازت لی اور ہم دونوں متعلقہ پتہ پر پہنچ گئے۔ یہ جگہ انٹر اسٹیٹ 64 ( جیسے ہماری موٹر وے ایم 2 )سے خاصی قریب تھی۔ ایک وسیع احاطے میں، قدرے نئے بنے ہوئے ایک منزلہ مکانات اور ٹاؤن ہاؤس نظر آئے۔ راہنمائی کے اشاروں کی مدد سے ہم اِس کمپلیکس کے دفتر پہنچ گئے۔ یہاں کا انچارج اور اُس کی بیوی دونوں گورے تھے۔ نَورا نے آنے کا منشاء بتایا اور آناً فاناً وہ سب کاغذی کارروائی ہو گئی جو سرکاری طور پر دِنوں میں ہوتی۔ چونکہ میری بیوی اور تین بچوں کو بھی یہاں رہنا تھا لہٰذا مجھے 3 کمروں والا مکان الاٹ ہوا۔ سامنے کی جانب ایک چھوٹی سی خوبصورت کیاری کے ساتھ مین گیٹ، نیچے کی منزل میں ایک لِونگ روم، ایک بیڈ روم، ایک غسلخانہ اور باورچی خانہ تھا۔ اوپر کی منزل میں دو بیڈ روم اور ایک غسلخانہ۔ گھر کی پچھلی جانب چھوٹا سا باغ اور اسٹور روم۔ میرا گھر قطار کا آخری مکان تھا۔ اِس سے کچھ فاصلہ پر ایک برساتی ندی تھی جہاں درمیان میں پانی تھا۔ ندیا کے پار غیر آباد علاقہ اور اُس سے آگے جنگل۔ میرے گھر اور ندی کے درمیان بلدیہ والوں نے ایک بڑا سا موٹے پلاسٹک کا کوڑے دان رکھا ہوا تھا۔
واپسی کے سفر میں شدید برف باری ہو رہی تھی۔ مجھ سے زیادہ تو نَورا خوش تھی۔ اُس کو اُس کے ٹریلر ہاؤس میں چھوڑا تو نورا نے کافی کی پیشکش کی۔
’’ تم کب شفٹ ہو رہے ہو؟‘‘کافی پیتے ہوئے بغیر تمہید کے اُس نے سوال کیا۔
’ کل دوپہر تک ‘‘میں نے جواب دیا۔
کچھ سوچ کر بولی ’’ کل رات تمہارے گھر مہمان آئیں گے اُن کی خدمت کر نا ‘ اِس پر میں نے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا۔ اور بائی بائی کر کے چلا آیا۔ تھی تو عجیب سی بات لیکن ایسی عجیب و غریب باتیں مجھے افریقہ، ترکی اور پاکستان میں اس سے پہلے بھی پیش آتی رہی تھیں۔
میری کیا تیاری ہونا تھی اُس وقت تو صرف مسافری سامان ہی تھا جو کار میں آسانی سے سما گیا اور یوں میں دوپہر سے قبل ہی اپنے گھر منتقل ہو گیا۔ میں ایک قصبہ سے آیا تھا اور یہ اس ریاست کا سب سے بڑا شہر تھا لہٰذا گھومنے پھرنے اور نئی کھُلنے والی فارمیسی دیکھنے چلا گیا جہاں میں نے کل سے کام کرنا تھا۔ یہاں کی فارمسسٹ لبنانی تھی وہ مجھے شہر کے دو انڈین اسٹوروں میں لے گئی۔ یہ مینا اناڈا ، ہریش بھائی اور ٹھاکر پٹیل، کرن پٹیل کے اسٹور تھے۔ اِن سب کو موسیقی کا شوق تھا۔ بعد میں جب میں نے اپنے اس گھر میں ہفتے وار موسیقی کی محفلیں منعقد کرنا شروع کیں تو مینا اناڈا کی آواز ایک بہت سریلی آواز پائی۔
بہرحال اِن اسٹوروں سے میں ضروری سامان لے کر رات گئے نئے گھر لوٹا۔ گاڑی سے باہر نکلا، اس وقت بھی ہلکی برفباری ہو رہی تھی۔ میں نے دروازے میں چابی گھمائی ہی تھی کہ میاؤں کی آواز کے ساتھ دو عدد بلّی کے بڑے سائز کے بچے نظر آئے۔ دیکھنے میں تو یہ عام سے تھے۔ بے اختیار میں نے اُن کو پچکارا تو وہ دونوں میرے پیروں سے لپٹنے لگے۔ میں حیران تھا کہ یہ دونوں کہاں سے آ گئے۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سب طرف دیکھا لیکن دور دور تک برف پر بلیوں کے چلنے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پھر گرتی برف اُن پر ٹِک بھی نہیں رہی تھی۔ یہ دونوں ہی چیزیں نا ممکن تھیں لہٰذا طے ہو گیا کہ وہ بلیاں نہیں کوئی اور مخلوق تھی۔ لیکن یقین مانیے مجھے قطعاً کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔
میں اِنہیں پچکار کر اندر لے آیا۔ پلیٹ میں کچھ دودھ ڈال کر اُن کے آگے رکھا۔ اور تھوڑی دیر اُن کو پیار کرنے کے بعد فرش پر بستر بنا کر لیٹ گیا۔ دونوں بِلّیاں میرے اوپر اُچھل کود کرنے لگیں۔ رات کو سونے کے اذکار پڑھ کر بلند آواز سے اُنہیں کہا کہ میں سونے لگا ہوں اپنا گھر سمجھ کر رہیں اور برائے مہربانی گندگی سے پرہیز کریں۔ اب وہ اُردو سمجھتے تھے یا نہیں مجھے معلوم نہیں مگر رات آرام سے گُزری۔ صبح اُن میں سے ایک میرے بازو اور دوسرا پیٹ پر استراحت فرما رہا تھا۔ اُن کی پلیٹ دیکھی جو ویسی ہی بھری ہوئی تھی۔ پھر بھی میں نے وہ دودھ گرایا اور پلیٹ کو اچھی طرح سے دھو یا۔ پھر نیا دودھ ڈال کر اُن کے سامنے رکھا لیکن انہوں نے اسے نظر بھر کر بھی نہ دیکھا اور میرے ساتھ ساتھ لگے رہے۔ میں ناشتہ سے فارغ ہو کر فارمیسی جانے لگا۔ دروازے سے باہر نکلا تو یہ بھی باہر نکل آئے۔ گھر کے اندر ان کو چاہتے ہوئے بھی نہیں رکھا جا سکتا تھا کیوں کہ کرایہ نامے کے معاہدے کے تحت میں اپنے گھر میں پالتو جانور نہیں رکھ سکتا تھا۔ ایک مرتبہ اور، دِن کی روشنی میں اِن کے برف پر چلنے کے تازہ نشان دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ دکھائی نہیں دئیے۔ یوں میں نے اِن کو خدا حافظ کہا۔
آج میں نے فارمیسی سے چھٹی کے بعد اسلامک سینٹر جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ وہاں سے فارغ ہوا تو سوچا کہ کل جس انڈین اسٹور سے خریداری کی تھی اُس کے میاں بیوی مالکان سے گپ شپ کی جائے۔ کل وہ بہت محبت سے پیش آئے تھے اور دوبارہ ملاقات کے لئے دعوت دی تھی۔ انہوں نے بہت گرم جوشی سے میرا استقبال کیا۔ کچھ دیر اُن سے گپ شپ کی اور پھر رات گئے گھر واپس آ گیا۔
دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ وہی بلّے دوبارہ نمو دار ہو گئے۔ وہی کل والی کہانی ہوئی فرق صرف اتنا تھا کہ میں نے آج کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کیا اور وہ گھر کا معائنہ کر کے میرے سامنے ہی بیٹھ گئے۔ اِسی طرح دو دِن اور گزر گئے۔ اِنہوں نے اس دوران گھر میں کوئی گندگی نہیں کی نہ کوئی دودھ ہی پیا۔ یوں سنیچر کا دِن ہو گیا۔ اب دو دن میری چھٹی تھی۔ اُس دن وہ دوپہر تک میرے ساتھ رہے جب تک کہ میں نَورا سے ملنے گھر سے نہ نکلا۔ میں اُس کے ٹریلر ہاؤس اوک ہِل آیا تو وہ بڑے تپاک سے مِلی۔
’’ کہو ! پھر مہمان آئے؟ ‘‘۔ اُس نے چھوٹتے ہی سوال کیا۔
’’ آئے تو تھے! لیکن بات چیت نہیں ہو سکی ‘‘۔ میں نے جواب دیا۔
’’ اچھا ! ‘‘۔ اُس نے سر ہلایا۔
’’ میں اُن کی زبان سمجھنے سے قاصر رہا ‘‘۔ میں نے جو اباً کہا۔ ’’ لیکن وہ میرے پاس خوش تھے۔ مگر وہ تھے کون؟ ‘‘۔ لوہا گرم دیکھتے ہوئے میں نے سوال کیا۔
’’ تُم سے اور تمہاری اشیاء سے مانوس ہونے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ تم نے ہمارے پُرکھوں کو پسند کیا اُنہوں نے تُم کو ‘‘۔ اُس کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اُس کو بات کرنے سے منع کر دیا ہو۔
پر اسرار کتے:
ایک روز جب میں رات کو گھر کے دروازے کے آگے کار پارک کر رہا تھا تو میری نگاہ کوڑے دان پر پڑی۔ اس کے بالکل پاس چار عدد موٹے تازے کسی اچھی نسل کے کتے ایسے بیٹھے ہوئے تھے گویا میرا ہی انتظار ہو ! اِدھر میں گاڑی سے باہر نکلا اُدھر وہ چاروں دُم ہلاتے اور چھلانگیں لگاتے میری جانب لپکے۔ میں نے انہیں چُمکارتے ہوئے اپنے دونوں بازو پھیلا دیے ( یہ میں نے وسطی افریقہ میں سیکھا تھا)۔ کچھ میری ٹانگوں سے لپٹنے لگے اور کچھ اونچے ہو ہو کر مجھے چاٹنے لگے۔ شاید ان کتوں نے خوشی کی آوازیں بھی نکالی ہوں گی جس سے سامنے والے دو گھروں کے مکین کھڑکیاں کھول کے چیختے ہوئے بولے کہ ارے ارے یہ کتے حملہ آور ہو گئے۔ میں نے انہیں
چلّا کر جواب دیا کہ یہ تو مجھے پیار کر رہے ہیں۔ وہاں تو گلی محلے کے کتے ڈھونڈے نہیں ملتے۔ لیکن ان موٹے تازے بڑے سائز کے کسی ایک کتے کی گردن میں بھی پٹّہ نہیں تھا۔ آس پاس کے لوگ حیرت سے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ دس پندرہ منٹ تک یہ کھیل جاری رہا پھر جب اوپر کھڑکیوں سے دیکھنے والے زیادہ ہو گئے تو میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے دروازے تک گیا۔ چاروں کتے کوڑے دان کے پاس ہی کھڑے رہے۔ پھر میں نے انہیں ہاتھ ہلا کر الوداع کہا اور گھر میں داخل ہو گیا۔ پانچ منٹ بعد باہر آیا تو کوئی کتا موجود نہیں تھا۔ اگلے روز سنیچر تھا۔ میں گاڑی صاف کرنے باہر آیا تو دو تین افراد خاص طور پر مجھے سے ملے اور رات والے ماجرے کا پوچھا۔ بڑے حجم کے بغیر پٹے کے کتوں کا والہانہ مجھ سے لپٹنا ان کی کیا، خود میری سمجھ سے بھی باہر تھا !! ایک معمر خاتون نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ کتے ، کتے تھے ہی نہیں !! یہ تو کوئی اور ہی شے تھے اور میرے متعلق کچھ عجیب و غریب باتیں مشہور ہو گئیں !! یہ کتے محض ایک ہی مرتبہ نہیں بلکہ چھ دنوں تک مسلسل میرے گھر آنے سے پہلے میرے دروازے پر منتظر ہوتے۔ ایک رات میں نے چاہا کہ کسی کھلے منہ کے برتن میں ان کے لئے دودھ لاؤں۔ میں جب دودھ لایا تو وہاں کتوں کا نام و نشان نہیں تھا۔ یہ کتے جس طرح نمودار ہوئے تھے اسی طرح پراسرار طور پر چلے گئے اور پھر کبھی دکھائی نہیں دیے۔
کالے بھالو کا خاندان:
کتوں کے بعد ایک رات اسی کوڑے دان کے گرد کالے بھالو کا خاندان نظر آیا۔ یہ کالے بھالو اکثر راتوں کو انٹر اسٹیٹ ہائی ویز کے ریسٹ ایریا میں گھومتے پھرتے نظر آ جاتے ہیں۔ لیکن اُس رات میرے گھر کے بالمقابل ایک مادہ بھالو اور اس کے 2 بچے تھے۔ یہ تو خوف زدہ ہونے کی بات تھی۔ میں کار پارک کر کے دھیرے دھیرے اُن پر نظریں جمائے گھر کے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔ ریچھنی نے گردن گھما کر میری جانب دیکھا اور اپنی جگہ کھڑی رہی۔ میں مسلسل گردن موڑے ، اسے دیکھتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچ گیا۔ اور ﷲ کا شکر ادا کرتے ہوئے خیریت سے گھر میں داخل ہو گیا۔ پانی پی کر دروازہ کھولا کہ دیکھوں وہ خاندان کیا ہوا؟ تو جناب وہاں تو ہو کا عالم تھا !!
موس:
ریاست ویسٹ ورجینیا میں کئی طرح کے چھوٹے بڑے ہرن رات کو سڑکوں پر عام دکھائی دیتے ہیں لیکن میں تو ایک خاصے بڑے موس کا ذکر کرنے والا ہوں جو غالباً ریاست ویسٹ ورجینیا میں عام نہیں۔ کتوں اور بھالو کے خاندان کے فوراً بعد ایک دفعہ جب میں رات گئے گھر پہنچا تو دیکھا کہ میرے دروازے سے لگ کر ایک بہت بڑا موس گائے کی ماند بیٹھا ہے۔ میں نے ہیڈ لائٹ بند کی لیکن گاڑی سے اترنے کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ سائز میں ایک چھوٹی گائے جتنا تھا۔ مجھے مسلسل ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہا تھا۔ یہ تو میں افریقہ میں سیکھ چکا تھا کہ بڑے حجم اور وزن کے جانور کے سامنے بالکل ساکت رہنا دانش مندی ہوتی ہے۔ کوئی ایک معمولی سا ایکشن انہیں اشتعال دلا سکتا ہے پھر وہ کم سے کم جو ردِ عمل دیں گے وہ آپ کی گاڑی کو ٹکر مارنا ہے ! ان کے سامنے نہ تو ہارن بجایا جاتا ہے نہ ہی رات کو گاڑی کی ہیڈ لائٹ آن اور آف کی جاتی ہے۔ میں نے گاڑی میں ایک پوری آڈیو سی ڈی سن لی۔ گویا تقریباً 40 منٹ ہو گئے۔ تب ایک ادائے دلبرانہ سے موصوف اُٹھے اور میری گاڑی کے قریب آئے۔ گاڑی کے چاروں طرف ایک چکر لگایا پھر پسنجر سائڈ کی کھڑکی کو اپنی کھردری زبان سے کچھ دیر چاٹا اور شانِ بے نیازی سے برساتی ندی میں اتر گیا۔ میں پسنجر والی طرف کی کھڑکی پر اس کی تھوک کا معائنہ کرنے اترا تو دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ نہ تو شیشے پر تھوک تھا نا ہی برف پر چلنے کے نشان !!!
ایف بی آئی والوں کے سوال جواب
نئے گھر میں منتقل ہونے کے فوراً بعد میں نے اپنا موسیقی کا کام بھی شروع کر دیا۔ گھر، فارمیسی، میوزک اور گھومنا پھرنا۔ یوں 2001 آ گیا اور وقت پر لگا کر اُڑنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ستمبر کا مہینہ آ گیا اور 11 تاریخ کو نیو یارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے واقعات ہو گئے۔ دسمبر میں ابھی کرسمس اور نئے سال کی چھٹیاں شروع نہیں ہوئیں تھیں جب مجھے میوزک پروگرام کے سلسلے میں ہفتہ اتوار کی چھٹی کے ساتھ ایک چھٹی مِلا کر ریاست سے باہر جانا پڑا۔ واپس آیا تو میری لبنانی فارماسسٹ کہنے لگی کہ ایف بی آئی والے تمہارا پوچھتے ہوئے آئے تھے۔ کم و بیش یہی بات میرے محلے والوں نے کہی کہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیویلپمنٹ والے تمہارے بارے میں پوچھ گچھ کرتے پھر رہے تھے۔ میں اسِ پس منظر میں اپنے گھر میں گیا تو ایک نظر میں علم ہو گیا کی گھر کی تلاشی لی گئی ہے۔
اگلے روز دِن کے دس بجے میڈیکل ریپ کی طرح کے لمبے اور چھوٹے قد کے دو افراد فارمیسی میں آئے۔ میں نے اُن سے کہا کہ انتظار فرمائیں فارمسسٹ ابھی آتی ہیں۔
"ہم تم سے ملنے آئے ہیں مسٹر لطیف! ‘‘۔ اور اپنے ایف بی آئی کے بیج دکھائے۔
’’ ادھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ‘‘۔ میں اُن دونوں کو لے کر سامنے رکھی کرسیوں پر بیٹھ گیا۔
اُنہوں نے اپنے تعارف کروایا اور کہا کہ وہ کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا ضرور کیجئے۔
’’ ہمارا پہلا سوال تو یہ ہے کہ آپ ہمیں دیکھ کر ڈرے کیوں نہیں؟ ‘‘۔
مجھے ہنسی آ گئی۔ ’’ جناب یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے۔ آپ دونوں یہاں کی ایف بی آئی سے متعلق ہیں تو ڈرنا کیسا؟ ہاں! اگر یہ پاکستان ہوتا اور آپ پاکستانی پولیس والے ہوتے تو میں آپ لوگوں کو دیکھ کر بیساختہ کھڑکی سے چھلانگ لگا دیتا چاہے ٹانگ ٹوٹ جاتی۔ کیوں کہ ہماری پولیس ہم جیسے عام آدمی کو پہلے مارتی ہے پھر سوال کرتی ہے۔ کم از کم آپ لوگ مجھے مار پیٹ کے بغیر پوچھ رہے ہیں تو کیسا ڈرنا؟‘‘۔
میری اس بات پر لمبے قد والا ایجنٹ کہنے لگا : ’’ یہ صرف تمہارے ملک کا معاملہ نہیں بلکہ تمام تیسری دنیا کا یکساں مسئلہ ہے ‘‘۔
اُن دونوں میں سے پولینڈ سے تعلق رکھنے والا دراز قد شخص ہی سوال کرتا جبکہ دوسرا صرف مشاہدہ کرتا تھا۔ اُس نے بہت سے سوالات کئے۔ ان میں بعض ذاتی اور نجی نوعیت کے بھی تھے۔ پھر جاتے جاتے یہ کہہ گیا : ’’ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تمہارے پاس اسلامک سینٹر کی چابی ہوتی ہے، میوزک تمہاری روزی کا بڑا ذریعہ ہے اور قبرستانوں ویرانوں میں گھومنا پھرنا تمہارا شوق ! ہم دونوں ایک مرتبہ اور آئیں گے ‘‘۔ یہ کہا اور مجھے حیران کر کے دونوں یہ جا وہ جا !!!
ایف بی آئی والوں کا یہاں آنا اور مجھ سے سوال جواب کرنا غالباً لبنانی فارمسسٹ کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔ کہنے لگی کہ اُس کا تجربہ ہے کہ خفیہ والے اتنی آسانی کے ساتھ پیچھا نہیں چھوڑتے لہٰذا اب آئیں تو انہیں کہیں باہر ملنا فارمیسی میں کاروبار متاثر ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا بہتر! اب آئے، تو اُن سے درخواست کروں گا کہ کہیں اور چل کر بات کرتے ہیں۔
ایف بی آئی والوں کا مشورہ
چند روز بعد وہ دونوں پھر صبح صبح وارِد ہو گئے۔ میں نے طریقے سے کہا کہ مجھے تو آپ لوگوں کے یہاں آنے پر کوئی اعتراض نہیںالبتہ میری فارمسسٹ کو الجھن ہوتی ہے لہٰذا کہیں اور چل کر بیٹھتے ہیں۔ وہی لمبے قد والا شخص کہنے لگا کہ ہم زیادہ وقت نہیں لیں گے۔ میرے گرین کارڈ کے حصول سے متعلق کچھ بات چیت کی اور کہا کہ ایسا کم ہوتا ہے کہ جو ہوم ورک ہم کر کے لائیں اور سامنے والے کے جوابات اُس سے سو فیصد میل کھا جائیں۔ تم خوش قسمت ہو کہ تمہارے جوابات ہماری تحقیق کے عین مطابق ہیں۔ اپنی جیب سے ایک مُڑے تڑے کاغذ کا پُرزہ نکالا۔ اِس پر کچی پنسل سے ایک ٹیلیفون نمبر اور اُس لمبے قد والے ایجنٹ کا نام لکھا ہوا تھا۔ نیز سنجیدگی سے کہنے لگا کہ خبردار رہنا ! جب کبھی ’’ کچھ گڑ بڑ ‘‘ ہو تو اِس نمبر پر پیغام چھوڑ دینا۔ میں خود تم سے رابطہ کروں گا۔ اور کہا کہ یہی کاغذ کا پُرزہ ایف بی آئی کی جانب سے تمہاری بریت ہے۔
7 ماہ میں 30,000 ہزار میل
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ مجھے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے نیز میوزک کے پروگرام کرنے کے لئے بھی میں دور و نزدیک ریاستوں میں جاتا تھا اُس پر مستزاد 2001 تا 2002 میں پاکستان سے میرے والد صاحب ، میری ہمشیرہ کے ہاں ریاست جارجیا کے شہر آگسٹا رہنے کے لئے آئے۔ اِن کی طرف بھی آنا جانا لگا رہا۔ پھر وہ میرے خالہ زاد بھائی کے پاس کلینٹن ریاست الباما گئے تو میں وہاں بھی اُن سے ملنے جاتا رہا۔ یہ تقریباً 7 ماہ تھے جس میں میری ٹویوٹا ٹرسل نے 30,000 ہزارمیل کا سفر طے کیا۔ ہر ایک مرتبہ لمبے سفر پر جانے سے قبل میں اپنی وفادار ٹویوٹا ٹرسل ماڈل 1989 کو فارمیسی کے پڑوس میں واقع بریک اور مینٹینس ورک شاپ میں لے جا کر اُس کو سفر کے قابل کرواتا۔ گورے میاں بیوی، آئرا اور باربرا اسٹار یہ کاروبار چلاتے تھے۔ 1500 ڈالر کی خریدی ہوئی اِس کار پر بتدریج اس سے کہیں زیادہ ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔ جیسے ورک شاپ والے کہتے میں ویسے ہی کرتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اُس وقت تک چلتی رہی جب تک کہ اِس بے چاری کی جنگلی کتوں کے غول سے ٹکر نہیں ہوئی !!!
جنگلی کتوں سے گاڑی کی ٹکر
ہوا یوں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد سے ملنے کے بعد ریاست الباما سے واپس آ رہا تھا۔ رات کا ایک بجا تھا۔ میں زیادہ تر رات کا سفر کرتا تھا۔ میرا وہاں کا تجربہ تھا کہ دن کے مقابلے میں رات کو کم وقت میں زیادہ فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے۔ برف باری تھم چکی تھی۔ مگر دھند بہت شدید تھی۔ ہیڈ لائٹ میں بھی حدِ نگاہ بہت کم تھی۔ میں احتیاطاً ایک ٹرک کی آڑ میں جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ موڑ آنے والا تھا جس سے میں نے اُس ریاست سے اپنی ریاست میں داخل ہونا تھا۔ اس کا نشان ’’ Only ‘‘ مجھے دھند میں کچھ فاصلے سے نظر آ گیا۔ اب میں ٹرک کی اوٹ سے نکلا تا کہ اپنی لین پکڑوں تو ناگہاں سڑک پار کرتے جنگلی کتوں کے غول سے سامنا ہو گیا۔ یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ 45 میل فی گھنٹہ کی رفتار کے باوجود بریک لگاتے لگاتے میں اس غول سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکر سے اُس غول کو تو کوئی نقصان نہ ہوا البتہ میری گاڑی پھسل کر دائیں جانب ہو گئی۔ وہاں سیوریج کا نالہ گزر رہا تھا۔ گاڑی پھِسلتی اور اچھلتی ہوئی اس کے درمیان جھٹکے سے رک گئی۔ ایک لمحے کو مجھے لگا کہ گاڑی گئی !! کیوں کہ اس کا انجن بند ہو گیا تھا۔ پھر ﷲ کا نام لے کر گاڑی اسٹارٹ کی تو وہ چل پڑی۔ اوپر جانے کا کوئی راستہ نہ تھا تو میں نالے کے درمیان ہی سامنے کی جانب گاڑی چلانے لگا۔ گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی۔ کچھ دور نالے کے بائیں جانب ایسے نشان دکھائی دیے جیسے کوئی بھاری ٹائروں والی چیز اوپر گئی ہو۔ میں نے اُن ہی نشانات پر چلتے ہوئی اوپر سڑک کی جانب جانے کی کوشش کی تو گاڑی اُسی سڑک پر آ گئی جہاں سے نیچے پھسلی تھی۔
آہستہ آہستہ چلتے کچھ دور ایک گیس اسٹیشن نظر آیا۔ وہاں گیا اور کار سے باہر نکلا تو معلوم ہوا کہ گاڑی بدبو دار کیچڑ سے بھری ہوئی ہے۔ بہرحال وہاں ڈیوٹی پر ایک ہی شخص تھا۔ اُس نے میری حالت دیکھتے ہوئے مجھے مفت کافی اور ڈُونَٹ دیے مگر وہ مکینک نہیں تھا۔ اُس نے مجھے وہیں گاڑی پارک کرنے اور اُس میں سونے کی اجازت دی کہ صبح مکینک آ کر صورتِ حال بتائے گا۔ صبح بھی اُس نے ڈُونَٹ اور مفت کافی بنا کر پلائی۔ مکینک آیا، گاڑی دیکھی اور مجھے تسلی دی : ’’ آہستہ آہستہ لے جاؤ چلی جائے گی ‘‘۔ حالانکہ مجھے ابھی مزید سو میل سفر کرنا تھا۔ بہرحال شام تک میں اپنے شہر پہنچ گیا اور میری پیاری ٹیوٹا ٹرسل ریٹائر ہو گئی !!
باربرا اسٹار اور آئرا نے میری اور میری کار دونوں کی مثال اپنے ریکارڈ میں رکھی ہوئی ہے کہ اگر موٹر ورک شاپ والوں کے مشوروں پر عمل کیا جائے تو پرانی کار میں بھی 7 ماہ میں 30,000 ہزار میل ہو سکتے ہیں۔ پھر جب میری ٹویوٹا ٹر سل جنگلی کتوں سے ٹکرا کر ریٹائر ہو گئی تو باربرا اسٹار نے مجھے اپنی والدہ کی 1992 ماڈل پانٹییک کار 2500 ڈالر میں دِلوا دی۔ نورا اِس کار سے بہت خوش تھی۔ کہا کرتی تھی اِس کی قدر کرو یہ تمہاری خدمت اپنے آخری دم تک کرنے والی ہے (گویا اس کا اور میرا ساتھ بھی جلد چھوٹنے والا ہے۔ اور ہوا بھی ایسے ہی)۔
اس کار کا پہلا ہی دِن تھا۔ سنیچر کی چھٹی تھی۔ میں اپنی ہمشیرہ کے ہاں آگسٹا ، جارجیا جانے کی نیت سے نکلا۔ راستہ میں نورا سے ہیلو ہائے کرنے کے لئے رُکا ہی تھا کہ ایک بنگلہ دیشی طالبِ علم ، شفقت چوہدری کا بَیکلے ( اوک ہِل کے پاس ایک چھوٹا شہر ) سے فون آیا کہ اُس کا چھوٹا بھائی فہیم ، جو ڈھاکہ سے آ رہا تھا وہ چارلسٹن ویسٹ ورجینیا کے بجائے چارلسٹن ساؤتھ کیرولینا جا اُترا ہے۔ ظاہر ہے بچارے طالبِ علم کے اتنے وسائل کہاں کہ ٹیکسی میں تقریباً چار سو میل ایک طرف جا کر بھائی کو لے کر آئے۔ اُس کا فون کرنا ہی کافی تھا۔ میں نے اپنی ہمشیرہ کو نہ آنے کا فون کر دیا اور شفقت کے ساتھ اُس کے بھائی کو لینے چلا گیا۔ ماشاء ﷲ میری اِس کار کی یہ پہلی خدمتِ خلق تھی۔
16 کا عدد اور میں
ماضی میں مجھے پاکستان، کینیا، رَوانڈا، بُرونڈی، تنزانیہ ، ترکی، برطانیہ وغیرہ میں بارہا ایسے واقعات پیش آئے تھے جِن کا ’’ 16 ‘‘ کے عدد سے کوئی خوشگوار تعلق نہیں ہے۔ میں توہم پرست نہیں لیکن ایمان داری کی بات ہے یہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی مجھے اِس چکر کا سامنا ہوا ! چند واقعات پیشِ خدمت ہیں:
میری پہلی نئی کار پر فائرنگ
یہ 2003 میں کسی مہینے کی بات ہے اپنے اسکول کے زمانے کے دوست اور محلہ دار سید سلیم احمد کے گھر واقع جرمن ٹاؤن، ریاست میری لینڈ میں موسیقی کے ایک پروگرام سے واپس آ رہا تھا کہ میری پانٹئیک کار کا ٹرانسمِشن بیٹھ گیا۔ اِس دوران موسیقی میں متحرک ہونے کی وجہ سے ﷲ کے فضل سے میرے حالات کچھ بہتر تھے لہٰذا اپنی زندگی کی پہلی نئی کار ’ ہائی اونڈی الِنٹرا ‘ اُسی روز سلیم احمد کے ساتھ جا کر لے لی۔
میں سنیچر اور اتوار کو دور و نزدیک کی ریاستوں میں میوزک کے سلسلے میں مصروف رہتا تھا لہٰذا نورا سے ملنا جلنا کچھ کم ہو نے لگا۔ نئی گاڑی کو لئے 15 روز ہوئے ہوں گے۔ وہ اتوار کا دن تھا۔ میں اسے اپنی نئی کار دکھانے گیا۔ اُس نے ایک نظر دیکھ کر کہا :
’’ اشارے ٹھیک نظر نہیں آتے ‘‘۔ پھر خاموش ہو گئی۔
’’ آؤ کسی دور ویرانے میں چلتے ہیں ‘‘۔ میں نے دلی خواہش کا اظہار کیا۔
’’ ضرور چلوں گی لیکن اپنی کار میں ‘‘۔ پورے راستے اُس نے کوئی بات نہیں کی۔
میں ایسے لوگوں کے قریب رہا اور اُنہیں سمجھتا تھا لہٰذا میں بھی چپ رہا۔ اُس کی موجودگی میں نہ جانے کیوں ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہم کسی حفاظت میں ہیں اور کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
اب کی دفعہ وہ کسی دریا کی قدیم گزرگاہ میں لے آئی۔ امریکی جِس کو دریا کہتے ہیں وہ ہمارے ہاں کے دریاؤں کے مقابلے میں کم چوڑے ہوتے ہیں۔ بہر حال وہ کبھی کسی پرانے دریا کی گزرگاہ رہی ہو گی لیکن اب تو اُس کی خاک بھی برف آلود ہو چکی تھی۔ چار سو وحشت برس رہی تھی۔ وہ خود وہاں آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئی اور مجھے بھی ایسے کرنے کو کہا۔ اُس نے ایسا کیوں کیا؟ معلوم نہیں البتہ ایسا کرنے سے مجھے بہت سکون ملا۔ ایسا لگا گویا گرمی میں ٹھنڈے پانی سے غسل کیا ہو۔ پھر ہم واپس اُس کے ٹریلر ہاؤس آئے اور کافی پی کر جب میں رخصت ہونے لگا تو وہ کچھ رنگ برنگے سُوتی کپڑوں کے ٹکڑے لائی اور میری نئی کار کے تمام شیشوں پر پھِرا کر بغیر کچھ بولے ، مجھے جانے کا اشارہ دیا۔ وہ رات کے ایک بجے کا وقت ہوگا جب میں اُسے بائی بائی کہہ کر گھر روانہ ہوا۔
تھوڑی دیر بعد میں انٹر اسٹیٹ پر تھا۔ مجھے ابھی چلتے ہوئے آدھ گھنٹہ ہی ہوا ہو گا کہ اپنے پیچھے کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سے پیچ در پیچ سڑک کے موڑ شروع ہو رہے تھے۔ ریاست ویسٹ ورجینیا بالکل مری کی طرح ہے۔ میری کار آٹو ڈرائیو پر 65میل ( 105کلو میٹر ) فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی تھی مجھے یوں لگا گویا کوئی میرے عقب میں بمپر ٹو بمپر چلا آتا ہے۔ اِس کو وہاں ’ ٹیل گیٹنگ ‘ کہا جاتا ہے۔ میں نے پیچھے سے آنے والے ٹریفک کو دیکھتے ہوئے سڑک کے آہستہ رفتار والے حصہ کی جانب آنا چاہا تو پیچھا کرنے والا، جو میں ابھی سوچ ہی رہا تھا، وہ کر بھی گزرا۔ یعنی وہ خود آہستہ رفتار والے حصہ میں آ کر باقاعدہ مجھے کنکریٹ کے میڈ یئن median (جیسے ہماری موٹر وے میں آنے اور جانے والی ٹریفک کے درمیان کنکریٹ کی رُکاوٹ ہوتی ہے) کی جانب دبانے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایک طرف کنکریٹ کی ٹھوس رُکاوٹ اور دوسری طرف ایک کار جِس میں کئی افراد سخت سردی میں بھی کھڑکیاں نیچے کئے قہقہے لگا رہے تھے۔ میں نے حتی الامکان کنکریٹ سے بچنے کو کوشش کی اور گاڑی کو سیدھا رکھنے کی سعی کرنے لگا۔ تب میں نے دیکھا کہ اب تو وہ کار میری کار سے خطرناک حد تک قریب آ چکی ہے اور ڈرائیور کی پچھلی نشست سے میں نےشاٹ گن کی نالی باہر نکلتے دیکھی۔ ٹھائیں ! ایک فائر ہوا۔ میری کار کا ایک ٹائر گیا۔ ٹھا! دوسرا فائر ہوا اور گاڑی یکدم قابو سے باہر ہو گئی۔ میری کار کے دائیں جانب کا اگلا اور پچھلا ٹائر تباہ ہو گیا۔ آٹو ڈرائیو پر 65 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی کار ایک دھماکے سے کنکریٹ سے ٹکرائی۔ بیٹری سیل والی کھلونا کار کی طرح منہ سیدھا کر کے پھر اُسی رفتار سے 2 پھٹے ٹائروں کے ساتھ بے ڈھنگے طریقے سے چل کر ایک دفعہ اور ٹکرائی۔ پھر مجھے ہوش نہیں رہا۔
جب ہوش آیا تو میں ایک اسٹیٹ ٹروپر کی کار میں لیٹا ہوا تھا، کئی ایک اسٹیٹ پولیس والے میرے پاس موجود تھے۔ ﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ میرے جسم میں کوئی بڑی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی تھی۔ ویسے تو ایمبولینس اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی موجود تھا لیکن ﷲ کے فضل سے میں ذہنی صدمے سے محفوظ رہا۔ میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا وہ مجھے اسٹیٹ پولیس والے نے بتایا :
’’ اِس جگہ کچھ لوگوں نے کھیل بنا رکھا ہے کہ سینچر کی رات کوئی نئی کار، سستی، مہنگی، لوکل یا امپورٹِڈ جِس پر عارضی نمبر پلیٹ ہو، چلانے والا یا والی اکیلی ہو اور رات گئے کا وقت ہو تو یہ لوگ اُس اکیلے ڈرائیور کو ڈرا ڈرا کر مجبور کرتے ہیں کہ وہ کنکریٹ سے ٹکرائے۔ یہی اِن کا کھیل ہے۔ اِس کھیل میں اب تک 2 سے زیادہ اموات بھی ہو چکی ہیں۔ اسٹیٹ پولیس کے لئے یہ گروہ دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اب تک تو یہ لوگ محض ڈرا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تھے، لیکن آج پہلی مرتبہ فائرنگ بھی کی گئی کیوں کہ تُم نے اُن کو ـ ’ ٹفٹ ٹائم ‘ دیا۔ ان کا کافی وقت لگ گیا اور تمہاری گاڑی کنکریٹ سے نہیں ٹکرائی۔ تم خوش قسمت ہو کہ اُنہوں نے سیدھے سیدھے تمہیں گولیاں نہیں ماریں !! ‘‘۔
میری گاڑی اتنا کچھ ہونے کے بعد صرف بائیں طرف سے گھائل ہوئی تھی باقی انجن، ٹرانسمِشن ، لائیٹیں، بریک سب کچھ ٹھیک تھا۔ یہ کارروائی ایک پیچھے آنے والے 18 ٹائر والے ٹرک ڈرائیور نے ہوتے دیکھی۔ وہ تو سمجھا کہ کار والا تو گیا۔ جب اُس نے دیکھا کہ کار ٹکرا کر کھڑی ہو گئی تو اُس نے یہ اطلاع اسٹیٹ پولیس کو دی اور فوراً اُس نے روڈ پر ’ محتاط رہیں ‘ کے بہت سےچمکنے والے اشارے جا بجا رکھ دئیے کہ کہیں کوئی پیچھے سے آنے والا مجھ سے دوبارہ نہ ٹکرائے۔ اسٹیٹ پولیس والے نے کہا کہ تمہاری بے ہوشی کے دوران تمام ضروری قانونی کاروائی کر لی گئی ہے۔ انشورنس کمپنی کو اطلاع بمع پولیس رپورٹ بھیج دی گئی۔ استعمال شدہ گولیاں اور کچھ خالی شیل بھی ڈھونڈ نکالے گئے۔ اور پولیس میکینک نے گاڑی کی تسلی کر لی کہ وہ ،میرے ڈرائیونگ لائسنس پر درج ایڈریس، ساؤتھ چارلسٹن تک آرام سے جا سکتی ہے۔
کسی امریکی کی انسان دوستی
ہم لوگ اُٹھتے بیٹھتے امریکہ مردہ باد کہتے رہتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے۔ میں آج بقلم خود ﷲ کے فضل سے زندہ سلامت جو یہ سطور لکھ رہا ہوں وہ کسی انسان دوست امریکی کی بدولت ہی ممکن ہوا !! کسی نا معلوم انسان دوست امریکی کا میں ساری زندگی احسان مند رہوں گا ! دنیا جہاں کی کاروں میں صرف ایک اسپئر ٹائر ہوتا ہے۔ میری کار کے دو ٹائر گولی مار کر پھاڑے گئے تھے۔ اب اُن دونوں ٹائروں کی جگہ میری کا رمیں دو اور ٹائر موجود تھے۔ ایک تو میری کار کا اسپیئر ٹائر ہوا لیکن دوسرا کہاں سے آیا؟ اِس سوال کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا۔ یقیناً یہ کسی ایسے شخص نے لگایا ہو گا جو چھپی نیکی کرنا جانتا تھا!!
یہ کار کی خرید کا سولہواں دن تھا!
چرکی بزرگ کی وارننگ
میں نے وہ کار ٹھیک ہونے کے لئے انشورنس کمپنی کے منظور کردہ موٹر گیراج میں دے کر کمپنی کے کھاتے میں ویسی ہی ایک کار کرایہ پر لے لی جس کا کرایہ انشورنس کمپنی کے ذمہ تھا۔ جب میں نے فون پر نَورا کو کار پر فائرنگ کا بتایا تو اُس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے اسی ویک اینڈ میں اُس کی طرف جانے کا پروگرام بنایا کیوں کہ اُس نے مجھے بتایا تھا کہ میرے ساتھ اوپر تلے ہونے والے واقعات کی وجہ سے وہ مجھے اپنے چرکی بزرگوں کے ہاں لے کر جا نا چاہتی ہے۔ جب میں اُس کے ہاں پہنچا تو کچھ دیر بالکل خاموشی سے مجھے تکتی رہی۔ پھر جب میں نے کار کے حادثے کی تفصیل بتانا چاہی تو اشارے سے منع کر دیا۔ مجھے بٹھا کر تھوڑی دیر میں مکمل چرکی حلیے میں سج کر آ گئی اور ہم دونوں اس رینٹل کار میں تقریباً 35میل کے فاصلے پر واقع پریٹ Pratt روانہ ہوئے۔ یہاں نورا کے والد کے عزیز رہتے تھے۔ یہ بہت ہی چھوٹا قصبہ تھا۔ مکان پر ایک نگاہ پڑتے ہی بخوبی اندازہ ہو گیا کہ یہ کسی چرکی ریڈانڈین کا گھر ہے۔ وہاں زیادہ تر اُنہی کے حلیے والے بچے بچیاں کھیل کود رہے تھے۔ یوں لگا کہ نورا تمام بچوں میں مقبول ہے۔ گھر کے سب چھوٹے بڑے مجھ سے ملنے آئے۔ گھر میں دو بزرگ بھی تھے ایک مرد اور دوسری خاتون۔ دونوں تپاک سے ملے البتہ اُن بزرگ خاتون نے میرے بائیں کاندھے پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر کچھ کہنا شروع کیا جو میرے سر سے گزر گیا۔ میں نے پہلے اُن حضرت پھر نورا کے چہروں کی طرف دیکھا جس پر نورا نے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اُن بزرگ خاتون نے نورا سے کچھ کہا جو میں نہیں سمجھ سکا۔ مجھے نورا نے بتایا:
’’ یہ میرے خاندان کی ایک بڑی روحانی شخصیت ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ یہ پرانے قبرستانوں اور مقابر میں آخر کس طرح زندہ گھوم رہا ہے ؟ اُصولاً تو اب تک اِسے خود اپنے تابوت میں ہونا چاہیے تھا !! اب تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ‘‘۔
پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے عرض کرتا چلوں بعینہٖ یہی بات 1990 کی دہائی کے وسط میں کراچی کی ایک شخصیت کہہ چکی تھیں۔ اور اُن کے کہنے پر کہ کراچی شہر سے فوراََ نکل جاؤ، میں نے عمل بھی کیا تھا۔
ڈاج کاروان وین کا خریدنا
چھ مہینے اور گزر گئے۔ گرمیاں آ گئیں اور میرے اقتصادی حالات مزید بہتر ہو گئے۔ میں نے موسیقی اور اس سے متعلق سامان، جیسے 16 ٹریک کا یاماہا آڈیو مکسر، 12 ہیڈفونوں کے لئے ہیڈ فون ایمپلی فائر ، دو عدد کی بورڈ اور اُن کے اسٹینڈ، بھاری سامان اُٹھانے کے لئے فولڈ ہو جانے والی ٹرالی، ہال میں رکھے جانے والے بڑے 4 اسپیکر، اسٹیج کے 4 مانیٹر اسپیکر، اسٹیج لائٹنگ کا مکمل سامان ، اسپیکر اور مائکروفون کی لیڈ کیبلز وغیرہ حاصل کر لیا۔ اِس سامان کے لانے لے جانے کے لئے کار فنانسنگ کمپنی سے اپنی کار کے بدلے میں بالکل نئی ڈاج کاروان وین لے لی۔ اِس کی پچھلی سیٹیں نکال کر سامان برداری کی گاڑی بنا لیا۔ نَورا نے اپنے اعتقاد کے لحاظ سے گاڑی کے سامنے والے بمپر پر رنگین کپڑوں کے ٹکڑے باندھ دئیے۔ وین کو لئے ابھی 16واں دِن تھا، میں دواؤں کی ڈیلیوری دے کر واپس فارمیسی آ رہا تھا کہ سامنے روڈ پر آگے جانے والے ایک فارم ٹرک نے اچانک بریک لگائی۔ میں نے بھی بریک لگائی لیکن میری وین کا اگلا حصہ ٹرک سے جا ٹکرایا۔ اسٹیئرنگ وہیل اور ڈیش بورڈ کے ائیر بیگ نکل آئے۔ انجن میں کوئی ایسی ٹوٹ پھوٹ ہوئی کہ وین اسٹارٹ نہ ہو سکی۔ انشورنس کے منظور شدہ گیراج والوں نے کہا کہ ایک نیا مرکزی کمپیوٹر کارڈ لگے گا جو پڑوس کے ملک کولمبیا میں بنتا ہے۔ یہ چھ ماہ سے قبل نہیں آ سکتا لہٰذا اب یہ وین اُس مدت کے بعد ہی مِل سکے گی۔ نیز یہ کہ معاہدے کی رو سے میں اپنی وین سے ملتی جلتی وین زیادہ سے زیادہ صرف 3 ماہ کے لئے کمپنی کے کھاتے میں استعمال کر سکتا ہوں۔ اُس کے بعد مجھے اپنا انتظام خود کرنا ہو گا۔ تین ماہ بعد کا کڑا وقت بھی ﷲ کے فضل سے گزر گیا اور میری ڈاج وین تیار ہو گئی۔
ایک اچھی خبر
راوی چین ہی چین لِکھ رہا تھا کہ ایک دِن صبح وین اسٹارٹ کرنے پر ایک آواز آنے لگی جو پہلے نہیں سُنائی دی تھی۔ میں کھانے کے وقفے میں وین کو فارمیسی کے پڑوس کے گیراج میں لے گیا۔ میری بات سُن کر آئرا نے خود وین چلا کر ایک راؤنڈ لیا۔
’’ مبارک ہو ! ‘‘۔ آئرا نے خوش ہو کر کہا۔
’’ کِس چیز کی؟ ‘‘۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا۔ کیوں کہ میں تو کوئی منفی خبر سننے کو تیار تھا۔
’’ گاڑی میں مینو فیکچرنگ فالٹ ہے۔ اب تمہاری لاٹری نکل آئی سمجھو ‘‘۔
میرے تاثرات سے عاری چہرے پر اُس نے مسکراتی ہوئی نگاہ ڈالتے ہوئے اپنی بیوی باربرا کو آواز دے کر بلوایا۔ اور گاڑی میں خرابی کی تحریری رپورٹ دکھلائی۔ فرطِ مسرت سے باربرا کا بھی چہرہ دمک اُٹھا۔
’’ مسٹر لطیف ! ‘‘ باربرا نے کہنا شروع کیا۔ ’’ آئرا نے تحریراً مینو فیکچرنگ فالٹ کی رپورٹ دے دی ہے۔ ہم لوگ چونکہ ڈاج کمپنی کے منظور کردہ سروس اور ریپیئر والے ہیں لہٰذا اس کی بنیاد پر تمہارے حق میں کچھ بہتر ہونے والا ہے۔ تم اسی وقت اُسی ڈیلر کے پاس وین لے جاؤ جہاں سے گاڑی لی تھی ‘‘۔
میں خوشی خوشی تقریباََ ساڑھے تین سو میل دور پڑوس کی ریاست میری لینڈمیں وہٹَن Wheaton نام کے قصبے میں
Fitzgerald Auto Mall Wheaton ڈاج والوں کے پاس پہنچ گیا۔ باربرا نے وہاں فون پر میری وین کی خرابی کا پہلے ہی بتلا دیا تھا۔ یہاں پہنچتے ہی اُن لوگوں نے رسماً وین کو چلایا اور فوراً ہی مجھے زبردست پیشکش کی۔ میری پہلے والی 4 سلینڈر، اسٹینڈرڈ ڈاج کاروان وین، 23 فی صد سود پر ملی تھی۔ اب بلا سود 6 سلینڈر والی فُل لوڈڈ، گرانڈ کاروان اسپورٹس، جو اسٹینڈرڈ وین سے ایک فٹ لمبی اور ایک فٹ چوڑی تھی، مِل رہی تھی۔ پھر یہ کہ اِس کے ساتھ ایک سال کے لئے پٹرول بالکل مُفت !
اِس لکھت پڑھت کے بعد کہ میں نے یہ پیشکش اپنی رضامندی سے ، بغیر کسی دباؤ کے قبول کی ، مجھے یہ نئی وین مِل گئی۔ یوں میں تھکن وکن سب بھول کر گھر کے لئے روانہ ہو گیا۔
اگلی شام فارمیسی بند کر کے میں سیدھا نَورا کے ہاں گیا۔ وہ سب باتوں سے خوش ہوئی لیکن میری نئی وین میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔
’’ آخر تم نے مسلسل یہ تیسری نئی گاڑی سِلور رنگ ہی کی کیوں لی ہے؟ ‘‘نورا نے عجب سوال کر دیا۔
’’ پتا نہیں کیوں؟ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا تو تھا کہ کیا رنگ پسند ہے میں نے کہا کہ جو رنگ سب سے کم بِکتا ہو ‘‘۔
اِس جواب کے بعد وہ خاموش ہو گئی اور میں جانے کے لئے اُٹھ گیا۔ ویسے بھی رات ہو رہی تھی اور میں نے اگلی صبح 9بجے فارمیسی کھولنا تھی۔
میں اِس نئی وین میں نیو جرسی، نیو یارک اور ا ٹلانٹا ہو آیا اور 15 دِن گزر گئے۔ اب پھر 16 واں دِن تھا۔ شاید یہ میرا وہم ہی تھا جس نے حقیقت کا روپ دھار لیا۔ شام کے 6 بجے ایک اور ڈاج وین والے نے میری وین کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ ڈاج کے پچھلے اور اگلے بمپر جاپانی گاڑیوں کی طرح پلاسٹک کے نہیں بلکہ لوہے کے ہوتے تھے۔ میری گردن میں جھٹکا اور گاڑی میں پیچھے خفیف سا ڈینٹ آیا۔ اُس کی وین کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا۔ وین چلانے والا کوئی گورا تھا۔ کہنے لگا کہ پولیس کو اطلاع نہ کرنا۔
ڈیل یہ ہوئی کہ وہ اپنی جیب سے میری وین کا کام کروائے گا اور میں پولیس اور انشورنس کے چکر میں نہیں پڑوں گا۔ یہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 16 کے چکر سے ایک اور واسطہ پڑ گیا۔ مزاحیہ بات یہ ہوئی کہ ڈینٹر پنیٹر نے مجھے بڑی عزت دی اور اپنے سرپرست گاہک کا درجہ دے دیا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ سر پرست کی حیثیت سے میں آئے دِن گاڑیاں مار کے اُس سے مرمت کروانے آتا رہوں۔
دیوالیہ پن کا چیپٹر 7 فائل کرنا
حالات بتدریج بدلنے لگے۔ اور بقول ثاقبؔ لکھنوی :
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
ْ قصہ مختصر یہ کہ حالات میں چڑھاؤ جاتا رہا اور اُتار آنے لگا۔ اگر میرا میوزک کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید سب ٹھیک نہ ہوتا۔ میں نے اِس دوران روزانہ 5سے6 گھنٹے کی بورڈ کی خوب مشق کی۔ جب تک ممکن ہوا اِس کو کیش بھی کرایا۔ میرے زیادہ تر موسیقی کے پروگرام سنیچر کی رات اپنی ریاست سے باہر ہوا کرتے تھے۔ جب اس کام کا تسلسل ٹوٹا تو مجھے مجبور ہو کر دیوالیہ پن چیپٹر7 کا آٹومیٹک اسٹے لینا پڑا۔ (اُس وقت یہ آسان تھا۔ اب ایسا کرنا مشکل ہے )۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دیوالیہ پن کے قوانین کے مطابق یہ حکمِ امتناعی فی الفور نافذ ہو جاتا ہے جِس کی رو سے آپ کو قرض دینے والے، کریڈٹ کارڈ والے، گاڑی کی اقساط والے، کسی بھی قسم کے قرض خواہ اس چیپٹر کو فائل کرنے والے سے ایک سینٹ کا تقاضا نہیں کر سکتے۔ اِس کا فیصلہ بینک رَپسی (دیوالیہ پن) کی عدالت میں ایک ہی نشست میں کر دیا جاتا ہے۔ ﷲ کا شکر کہ وہ میرے حق میں ہو گیا۔ ڈاج موٹر کمپنی، کریڈٹ کارڈ، کار انشورنس کمپنی کے نمائندوں نے عدالت میں اپنے موقف کے لئے کوئی وکیل یا نمائندہ سرے سے بھیجا ہی نہیں۔
شکریہ امریکہ !!
دیوالیہ ہونے کے بعد پھر صفر سے کیسے شروع کیا ؟ یہ کہانی پھر سہی!!!





