ہیں تلخ بہت بندہ استاد کے اوقات


پاکستان اور دنیا بھر میں محنت کر کے عوض لینے والا مزدور کہلاتا ہے۔ اس لیے ہم استاد کو بھی مزدور ہی کہیں گے۔ حکومت پاکستان نے پاکستان میں مزدور کی کم سے کم اجرت 37000 روپے مقرر کردی ہے۔ لیکن اس پر عمل درآمد کہیں پر نہیں ہو رہا، یہاں تک کہ بیشتر سرکاری اداروں نے جو ڈیلی ویجز ملازمین رکھے ہیں ان کو اس کی نصف سے بھی کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں پرائیویٹ سکولوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے جن کی تعداد لاکھوں میں بنتی ہے۔

یہ پرائیویٹ سکولز ہر گلی اور محلے میں ہیں۔ ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو شرمناک حد تک کم اجرت دی جاتی ہے۔ گاؤں اور دیہی علاقوں اور شہر کے پسماندہ علاقوں میں تو ان کو دس ہزار سے بھی کم ماہانہ اجرت دی جاتی ہے جبکہ شہروں میں پندرہ سے بیس ہزار روپے تک دیے جا رہے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جن کے ذمہ ہم نے ملک و قوم کے بچوں کی تربیت کا کام لگایا ہے ان کو جو اجرت ہم دے رہے ہیں وہ حکومت کی مقرر کردہ شرح سے بھی کئی گنا کم ہے۔

یہ اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں قانون اور پالیسیاں بنانے والے لاکھوں میں تنخواہ، تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ مراعات اور کروڑوں روپے کی گاڑیاں اور لاکھوں روپے کا گاڑیوں کا ایندھن، سرکاری رہائش گاہیں اور لاتعداد سرکاری مراعات کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اور وہ جو قوانین بناتے ہیں یا جو پالیسیاں منظور کرتے ہیں ان پر عمل درآمد پر توجہ نہیں دیتے۔ نجی سکولوں کے یہ اساتذہ جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ یہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔

ان کو ملنے والی کم ترین تنخواہ میں ان کا کیسے گزارا ہو گا۔ اس ہوش رُبا مہنگائی میں جہاں ان کو ملنے والے پیسوں سے صرف مہینے کا آٹا اور گھی تک نہیں خریدا جاسکتا۔ کہتے ہیں جس ملک میں انصاف نہیں ہوتا وہاں زندگی گزارنا عملاً ممکن نہیں رہتا۔ حالیہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ جنیوا کی ایک مقامی عدالت نے انتہائی مالدار برطانوی خاندان ہندوجا کے متعدد ارکان کو جنیوا میں ایک کوٹھی میں اپنے ملازمین کے استحصال پر سزائے قید سنائی ہے۔

عدالتی فیصلے میں ہندوجا خاندان کے ارکان کو ’خود غرض‘ کہتے ہوئے چار چار اور ساڑھے چار چار برس کی سزائے قید سنا دی گئی۔ یہ خاندان ستر ارب ڈالرز کا مالک ہے۔ یہ سزا اس لیے دی گئی کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت مقرر کی ہے۔ اس ارب پتی ہندوستانی نژاد خاندان نے انڈیا سے ملازمین سوئٹزرلینڈ بلا کر ان سے انڈیا کی طرح کم اجرت پر کام لینا شروع کیا جس کی خبر حکومت کو ہو گئی۔ حکومت نے اس پر ایکشن لیا، عدالت میں وکیل بھی حکومت کا پیش ہوا اور فیصلہ بھی قانون کے مطابق آیا۔

اس لیے اس ملک میں چین و سکون ہے، وہاں ترقی ہو رہی ہے۔ اس طرح کم اجرت دینے پر دنیا کے تمام مہذب ممالک میں لوگوں کو قانونی کارروائی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں اس حوالے سے کبھی کسی عدالت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ یہ مزدور کس سے فریاد کریں کہاں مقدمہ درج کریں۔ حکومت نے پالیسی تو بنا دی ہے، اعلان بھی کر دیا ہے مگر اس پر عمل درآمد کے لیے فرشتوں کا انتظار ہے۔ یہ سب پڑھے لکھے اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے آپ تصور کریں کہ وہ مزدور جو آن پڑھ ہیں اور اپنے حقوق کا بنیادی علم بھی نہیں رکھتے ان کے ساتھ یہاں کیا سلوک ہوتا ہو گا یہ سب انتہائی قابل مذمت ہے۔

Sierra-Leone – 1990s

حیرت کا امر یہ ہے کہ پاکستان میں قانون پر عمل درآمد کرنے کے لیے جو محکمے بنائے گئے ہیں اور ان میں جو عملہ تعینات ہے ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کا کل انتظام چلانے والوں کی تعداد اتنی نہیں ہے۔ مگر اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود یہاں صورتحال یہ ہے۔ تعلیم اس ملک کا وہ مسئلہ ہے جس کو ترجیح دیے بغیر اس ملک کا چلنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن تعلیم کے حوالے سے حکومت، بیوروکریسی اور عدالتوں کا رویہ اور التفات نہ ہونے کے برابر ہے، اس ملک میں تعلیم پر دنیا میں سب سے کم خرچ ہو رہا ہے۔

تعلیم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اس شعبہ سے وابستہ لوگوں کی معاشی حالت بھی بہت زیادہ خراب ہے۔ ایسے میں ہم اس کو کیسے بہتر کر سکتے ہیں۔ سرالیون ایک افریقی ملک ہے۔ اس کے اور پاکستان کے حالات ایک ہی جیسے ہیں۔ یہ بھی برطانوی تسلط میں تھے اور 1961 میں آزاد ہوئے۔ سرالیون میں بھی کبھی شخصی، کبھی فوجی حکومتیں برسراقتدار رہیں، اس ملک میں بھی بدترین کرپشن ہوتی رہی۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہوئی جس میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے، اس پر حکومت کرنے والوں کے تخت بار بار چھینے گئے۔

کرونا کے بعد یہ ایبولا وائرس کی زد میں آیا جس سے اس کی کل آبادی کو جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ اس کے وسائل پر بھی مافیاز قابض رہے۔ لیکن آخر کار گزشتہ ایک دہائی سے یہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے۔ سب سے پہلا کام جو انہوں نے کیا ہے وہ تھا اپنی تعلیم پر سرمایہ کاری۔ اپنے بجٹ کا 22 فیصد تعلیم کے لیے مختص کر لیا۔ نظام تعلیم کو یکسر بدل ڈالا، اساتذہ کی تربیت کا انتظام کیا اور ان کی تنخواہیں معاشرے کے دیگر لوگوں سے کئی گنا بڑھا دیں۔

جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ اس شورش زدہ، عسکریت زدہ اور آفات زدہ ملک میں خوشحالی اور امن قائم ہو گیا اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہونے لگا۔ اب وہاں صورتحال یہ ہے کہ جرائم کا تناسب نوے فیصد کم ہو گیا ہے۔ صحت کی سہولیات کئی سو گنا بہتر ہو گئیں ہیں۔ کرپشن اسی فیصد کم ہو گئی ہے۔ تجارت میں بہتری آ رہی ہے۔ اور انصاف کا دور دورہ ہے۔ یہ سب صرف اور صرف تعلیم پر توجہ دینے کے سبب ہوا ہے۔ اس معاشرے میں استاد کو احترام اور سہولیات فراہم کی گئیں جس کے نتیجے میں استاد نے قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا شروع کی اور دس برس کے عرصے میں وہ ملک جو دنیا کا مقروض ترین ملک تھا، جہاں بندوق اور بوٹ کی حکمرانی تھی، جہاں لوگ رشوت دیے بغیر کسی بھی کام کا تصور تک نہیں کر سکتے تھے۔

Freetown-Sierra-Leone – today

جہاں بیس سے زیادہ مختلف النسل اقوام آپس میں دست و گریبان تھیں۔ وہاں امن قائم ہو گیا، لوگ مہذب ہو گئے، بندوق اور بوٹ والے بیرکوں میں چلے گئے۔ ترقی کے کام شروع ہو گئے۔ اور آج ان کی فی کس آمدنی 1700 امریکی ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ چار برس پہلے ان کی فی کس آمدنی چارسو امریکی ڈالر سے بھی کم تھی اور دس برس پہلے یہ ایک سو امریکی ڈالر سے کم تھی۔ گزشتہ دو برسوں سے سرا لیون تعلیم کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے۔

جس کی وجہ سے طلبا او اساتذہ کی سکولوں میں حاضری اور کارکردگی کئی گنا بہتر ہوئی ہے۔ سرا لیون کی حکومت نے تعلیم کے لیے سخت ترین قوانین بنائے اور اس پر عمل درآمد کے لیے خصوصی ٹیم تیار کی۔ یونیسیف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتنی شاندار ترقی ہے کہ دنیا بھر میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس لیے کہ جن مخدوش حالات میں اس ملک میں یہ کام کیا گیا اور اس کے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ حیران کن ہیں۔ وہاں اس وقت کم از کم کسی استاد کی تنخواہ نوے ہزار پاکستانی روپے مقرر کی گئی ہے۔

جو وہاں کسی بھی دوسرے شعبہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ اس لیے اس ملک کے قابل ترین لوگ سکولوں میں پڑھانے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ سرالیون کی عدالتیں اور حکومت تعلیم اور استاد کے مسائل سننے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر تیار رہتے ہیں۔ یہ ایک مثال نہیں ہے دنیا میں چلی، میکسیکو، برازیل، نیوزی لینڈ اور سوئٹزرلینڈ اور ایک لمبی فہرست ہے ممالک کی جو حالیہ برسوں میں تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ جن ممالک نے تعلیم پر سرمایہ کاری وہ آج بہتر معاشی و سماجی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ترقی کی بنیاد تعلیم ہے اور ترقی کی وجہ تعلیم پر زیادہ توجہ اور وسائل خرچ کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے۔ یہاں تعلیم پر سب سے کم خرچ کیا جا رہا ہے۔ اور استاد جس نے تعلیم دینی ہے اس کو اتنی کم اجرت دی جاتی ہے کہ وہ شوق سے اس پیشہ کا انتخاب ہی نہیں کرتا۔ ایسے میں اگر ہمارا یہ خیال ہے کہ ہم ترقی کریں گے اور دنیا کے دیگر ممالک کا مقابلہ کریں گے تو یہ ہماری خوش فہمی ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی تعلیم پر توجہ دی اور استاد کو اس کا جائز مقام دیا جس کی وجہ سے ان کی معاشی اور معاشرتی ترقی بھی اپنے عروج پر ہے۔

وہ بنگلہ دیش جو اپنی غربت کی وجہ سے مشہور تھا اب دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سب سے تیز اور مستحکم ترقی کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ ڈھاکہ جو دس برس پہلے کسی شمار و قطار میں نہیں تھا آج یہ شہر آمدنی کے حوالے سے دنیا کے بیس بڑے شہروں میں شامل ہو گیا ہے۔ کراچی جو کبھی اس فہرست میں ہوا کرتا تھا اس کا اب دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا۔ ڈھاکہ کی ترقی میں تعلیم پر سرمایہ کاری کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

Dhaka 1990s

گزشتہ ایک دہائی میں تعلیم پر خرچ کرنے کا پھل اگر کسی نے دیکھنا ہو تو ڈھاکہ کے دس برس پہلے کی تصاویر اور آج کی تصاویر نکال کر موازنہ کر لیں۔ وہ شہر جو دیکھنے کے لائق نہیں تھا اب دنیا کے چند بہترین شہروں میں شامل ہو گیا ہے۔ تعلیم سے دوری کا نتیجہ دیکھ لیں کہ ہمارے شہر جو کسی زمانے میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوا کرتے تھے آج گندگی، لاقانونیت اور بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ایوان اقتدار و انصاف میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا نام ان لوگوں میں لکھا جائے گا جنہوں نے اس ملک کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیلا اور اپنے پیٹ بھرتے رہے۔

ایسے لوگ تاریخ میں بہت برُے القابات سے یاد کیے جاتے ہیں۔ اس ملک میں قوانین کا مسئلہ نہیں ہے ہر کام کے لیے قوانین موجود ہیں، اصل مسئلہ ان قوانین پر عمل درآمد کروانے کا ہے۔ جس کا حصول ابھی تک ممکن نہیں بنایا جا سکا ہے۔ نجی سکولوں کے اساتذہ کو کم از کم تنخواہ دلانے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ کام اتنا مشکل نہیں ہے۔ حکومت ایک ای پورٹل کھول دے جس میں وہ اساتذہ اپنے شکایت درج کرسکیں جو ان نجی سکول مافیاز کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔

اور اس پورٹل کی شکایت پر عمل درآمد کرانے کا انتظام کرایا جائے تو یہ لاکھوں تعلیم یافتہ مزدور سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ اور اس پورٹل کو دیگر شعبوں کے ان مزدوروں کے لیے بھی استعمال کیا جائے جنہیں مقررہ حد سے کم اجرت دی جا رہی ہے۔ ہماری عدالتوں اور حکومتوں کو سوئٹزرلینڈ کی مقامی عدالت جتنی جرات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک یا پھر دس فیصلے اگر ضمن میں آ جائیں اور استحصال کرنے والے جیل کے سلاخوں کے پیچھے چلے جائیں پھر دیکھیں کون خلاف ورزی کرتا ہے۔

لیکن ہماری عدالتیں تو چند سیاست دانوں اور نادیدہ ہاتھوں کے ڈراموں میں شریک ہو کر روز ٹی وی کی سکرین پر اپنی عزت و قار کو جس طرح داؤ پر لگاتی ہیں۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ چند ایک عوامی مفاد کے کام بھی کریں تو شاید کہیں ان کی بخشش ہو جائے گی۔ سلطنت عثمانیہ کے سب سے مشہور سلطان سلیمان کا نام سلیمان قانونی اس وجہ سے پڑا تھا کہ وہ قانون کا نفاذ کرنے کوہی اصل انصاف سمجھتے تھے۔ 1526 عیسوی میں اس نے اجرت کم دینے پر درجنوں لوگوں کو سخت ترین سزائیں دیں۔ اس لیے استنبول کی بازاروں میں پھر صدیوں تک کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ کسی کی اجرت کم دے سکے۔

Dhaka Today

کاش ہماری عدالتوں میں بھی کوئی عبدالصمدالدیار بقری جیسا کوئی قاضی آ جائے جس کو پتہ ہو کہ انصاف کیا ہوتا ہے اور انصاف کیسے دیا جاتا ہے۔ ان کی قانون پر عمل درآمد نے آج تک ان کا نام تاریخ میں محفوظ رکھا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اس کام پر مامور لوگ سمجھتے ہیں کہ لمبی کار میں بیٹھ کر بڑے گھر میں رہائش رکھ کر صبح دفتر آ کر ڈیوٹی دیتے ہوئے وکیلوں کو سننے سے ہی ان کا فرض پورا ہوجاتا ہے۔

جبکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان سب لوگوں کو ان کا حق دلانے کے لیے اپنے کمفرٹ زون سے نکلیں اور کبھی کسی مظلوم کی داد رسی اپنے دفتروں سے باہر بھی جاکر کریں۔ اس لیے کہ ان کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے جو لاکھوں خرچ کرنے پڑتے ہیں وہ ان تمام مظلوموں کے پاس نہیں ہیں۔ اور جتنے برس ان کے سامنے پیشی کے لیے لگتے ہیں اتنی شاید اب ان کی عمر بھی باقی نہیں رہی۔ جس دن قانون کا نفاذ ہو گیا اور قانون کی حفاظت و انتظام کرنے والے متحرک ہو گئے اس دن سے یہ ملک بہتر ہونا شروع ہو گا۔ اور پھر ہمیں بھی سرالیون کی طرح انسانوں کی فکر کرنا ہوگی۔ اور انسانوں کی سب سے اہم ضرورت تعلیم ہے۔ ورنہ جو جہالت آپ کے اردگرد ڈیرہ ڈال رہی ہے۔ وہ کسی دن آپ کو ہی نگل لے گی۔

Facebook Comments HS