اور قفل کھل گیا…


جب میں نے صابرہ جبران کو بطور لائبریرین، یونیورسٹی کی کشادہ لائبریری میں، کتابوں کے متلاشی طلبا کو خوش دلی اور مسکراتے لبوں کے ساتھ مدد کرتے دیکھا تو یقین مانیے مجھے لگا کہ جیسے وہ لائبریری کے کمرہ کی قید میں نہیں کسی جنگل کی آزاد فضا میں پر پھیلائے خوشی سے تھرکتی مورنی ہو یا پھر کسی اونچے درخت کی شاخ پہ چہچہاتی، آزادی کے گیت گاتی چڑیا ہو، جس کے قرب میں بہتی ندی میں بدمست اور شور مچاتا رواں شفاف پانی ہو۔ یوں مانو جیسے ساری فضا آزادی کے رومان سے سرشار ہو۔

دفعتا مجھے خیال آیا کہ صابرہ اب عدت گزار کے اپنی دو اولادوں کی گزر بسر کا سامان کرنے کے قابل بھی ہو گئی۔ اس کے شوہر پروفیسر جبران کے دل کے دورے کے بعد اچانک موت نے صابرہ کو یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے نوکری کی پیشکش ہوئی تھی۔ جو اس نے قبول کرلی تھی۔ گو اس نے شادی کے بعد کبھی کام نہیں کیا تھا لیکن وہ ایم اے پاس تھی اور شوہر کے بعد اب اپنے بچوں کی کفالت کا واحد سہارا۔ یونیورسٹی کے قاعدے اور قوانین کے مطابق دوران ملازمت اگر موت واقع ہو جائے تو ملازمت کے ترجیح مرحوم ملازم کے لواحقین کو دی جاتی ہے تاکہ اس گھرانے کی مالی پریشانیوں پہ بند باندھا جا سکے۔ شوہر کی زندگی میں صابرہ اتنی آزادی سے نوکری کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ مگر ان کی موت کے بعد وہ اپنے فیصلوں پہ قادر تھی۔

پروفیسر جبران سائنس کے کسی شعبہ میں گزشتہ بیس سال سے کام کر رہے تھے۔ گو اب میں اس شعبہ میں ان کی کولیگ تھی۔ مگر کبھی وہ میرے استاد بھی تھے۔ ان کی قابلیت، محنت اور تدریس کے انداز کے سب ہی معترف تھے۔ ہمیشہ سفید براق قمیض، کالا پینٹ اور چمچماتا کالا جوتا پہنے، بلیک بورڈ پہ نفاست سے سفید چاک سے لکھتے، لبوں پہ دھیمی مسکان اور نرم آواز میں وہ اس منظم انداز سے پڑھاتے کہ ہر بات کلاس میں ہی ذہن نشین ہوجاتی۔

مشکل سے مشکل فارمولا ہو یا کیمیائی تعاملات کی لمبی زنجیر بس ذہن میں ہر چیز اترتی چلی جاتی۔ امتحان کے وقت تو صرف دہرانا ہی باقی رہ جاتا تھا۔ لیکن ان کی بظاہر نرم اور دھیمی شخصیت کو یکلخت ایک تلخ اور سخت شخصیت بدلتے دیر نہ لگتی تھی۔ کچھ طلبا کا غیر سنجیدہ انداز اور اور جھوٹے حیلے بہانے وہ اپنی ہتک اور ذات پہ حملہ سمجھتے۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ ان کے عتاب کا شکار زیادہ تر لڑکیاں ہوتیں، جن پہ وہ طنز کے ایسے تیر برساتے کہ کمرے میں سانپ سونگھ جاتا اور تیروں کا شکار طالب علم سر جھکائے کمزور بے بس ویسا ہی چوہا بن جاتا جیسے کبھی خود وہ اپنی سوتیلی ماں اور باپ کے سامنے تھے۔ یہ بات بھی قابل غور تھی کہ شعبہ کے کم درجے کے ملازمین کے ساتھ ان کا رویہ حد درجہ مشفقانہ تھا۔ انہوں نے کبھی ان سے اونچی آواز میں بات نہ کی اور ان کی مالی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھ کے حل کیا۔

جب تک میں ان کی شاگرد تھی ان کی ذاتی زندگی میرے لیے کھلی نہ تھی۔ لیکن جب خود تدریسی اسٹاف کا حصہ بنی تو مجھ پہ ان کی شخصیت کی پراسراریت کے کچھ کچھ راز عیاں ہوئے۔ مثلاً مجھے پتہ چلا کہ ان کا بچپن شدید جذباتی ناآسودگی اور مالی کسمپرسی میں گزرا تھا۔ چھ سال کی عمر میں ماں کے مرنے کے بعد جس عورت سے ان کے والد نے شادی کی تھی وہ بہت حاسد اور ظالم تھی۔ اس نے روایتی سوتیلے پن کا ثبوت دیتے ہوئے ان کے ساتھ وہ کچھ کیا کہ جس نے انہیں ایک دن گھر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں رشتوں پہ یکسر اعتماد نہ رہا۔ لیکن بے گھری میں فٹ پاتھ پہ سوتے اور فاقے کرتے ہوئے بھی انہیں اس بات کا یقین تھا کہ تعلیم کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔ رشتے بھروسے کے لائق نہیں لیکن محنت سے حاصل ڈگری پہ اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کو عزت اور وقار دیتی ہے۔ لہٰذا انہوں نے تعلیم حاصل کرنے میں سخت محنت کی۔ محنت اور ذہانت کام آئی اور اس جادوئی ملاپ کی وجہ سے انہوں نے ایم ایس سی میں امتیازی نمبر حاصل کیے۔ اس شاندار کامیابی کے بعد انہیں اسی شعبہ میں بطور استاد ملازمت کی پیشکش ہو گئی۔

ان کا کوئی آگے تھا نہ پیچھے لہٰذا شعبہ کے سربراہ نے شفقت کا ہاتھ رکھا اور کوشش کر کے ایک پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کروا دی۔ نام صابرہ تھا۔ اس کی قسمت بھی کچھ جبران جیسی ہی تھی۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد بڑے بھائی نے ساتھ تو رکھا مگر بھابی کو کنواری نند کانٹے کی طرح چبھنے لگی۔ جیسے تیسے صابرہ جبران کے سر منڈھ دی گئیں۔ جن کا بھی نہ کوئی آگے تھا نہ پیچھے۔ بھابی نے بار بار اس بات کو جتاتے ہوئے کہا ”تم تو راج کرو گی راج، نہ ساس کا جھگڑا نہ نند کا ٹنٹا۔ میاں سر پہ چڑھا کے رکھے گا۔‘‘ زندگی میں آگے کیا ہو گا، صابرہ بھلا کیا جانتی تھی۔ لیکن اس نے یہ ضرور سوچ لیا تھا کہ اب کبھی پلٹ کے اس گھر میں رہنے نہ آئے گی۔ عید بقرعید کے علاوہ بھائی بھابھی نے کبھی نہ پوچھا۔“ میاں کیسا ہے۔ خوش تو ہو؟ ان سب باتوں کی ٹوہ تو مائیں لیتی ہیں۔ صابرہ نے مردہ ماں باپ کو یاد تو کیا مگر خود اپنے آپ سے بھی کبھی بھائی بھابھی کی بے اعتنائی کی شکایت نہ کی۔ بچوں کی پیدائش پہ بھی اپنے گھر ہی رہی۔

ناز اٹھانے والا میکہ نہ ہو تو سسرال کا قید خانہ بھی بھلا لگتا ہے۔ شادی کے پندرہ سال میں دو بچے ہوئے۔ ان تمام برسوں میں صابرہ کو بمشکل ہی کسی نے گھر سے باہر آتا جاتا دیکھا۔ کبھی کبھی کہیں نظر بھی آئی تو میاں کے ساتھ۔ چپ چاپ، میاں کے پیچھے دم سادھے۔ اسکوٹر کی پچھلی سیٹ پہ بیچ میں دو ننھے بچوں کو اس طرح دبائے جیسے کوئی بلی اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے دباتی ہے۔ کبھی کبھار کیمپس کے کسی فنکشن میں نظر بھی آئی تو ایک مسکراہٹ اور ہزاروں چپ کے ساتھ۔ خاموشی کیسے کیسے رازوں کو دفن کر سکتی ہے۔ یہ کون جانے۔

پروفیسر جبران کی اچانک موت کے بعد تک بھی کسی کو نہ پتا چلا کہ صابرہ نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے کیا کیا نہ جھیلا۔ جب پروفیسر جبران اچانک ہی دوسرے جہاں سدھارے تو وقت کچھ بہت کڑا تھا۔ اپنے اپنے تئیں پاس پڑوس والوں نے کچھ وقت کے لیے دکھ بانٹا اور بس۔ برے وقت میں عارضی طور پہ غمگساری بھی ایک سہارا ہوتی ہے۔ لیکن پھر سب اپنی اپنی راہوں پہ چل پڑتے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔

میرے بچے صابرہ کے بچوں کی عمر کے تھے لہٰذا میں نے آمد و رفت کو کم نہیں کیا۔ اپنی گاڑی پہ بیٹھا کے گھریلو ضروریات کے سامان کی خریداری کرانے لے جاتی۔ عدت کے زمانے میں بھی اچھی طرح چادر سے ڈھانک کے صابرہ اور بچوں کو اپنے گھر لے جاتی۔ اس کی دل جوئی کے لیے مجھے سب کچھ منظور تھا خواہ اس کے لیے مجھے کہنہ سال روایات کو توڑنا ہی کیوں نہ پڑے۔ اور یہی وقت تھا کہ مجھے پروفیسر جبران کے حوالے سے کئی باتیں پتہ چلیں۔ جو اب تک مکمل راز تھیں۔

صابرہ نے بتایا کہ پروفیسر جبران ایک بہت مشکل اور پیچیدہ نفسیات کے مالک تھے۔ پندرہ سال کی شادی میں وہ ہر روز گھر کے دروازے کو باہر سے تالا لگا کے کیمپس پڑھانے جاتے تھے۔ ان کی رہائش کا انتظام کیمپس میں ہی تھا۔ ملازمت کے بیچ میں وہ اپنی اسکوٹر پہ گھر کھانا کھانے اور بچوں کو اسکول سے چھٹی کے بعد گھر لے کر آتے۔ یہ ان کا معمول تھا۔ ”وہ ایک ذمہ دار باپ تھے اور بچوں سے بہت محبت تھے۔ لیکن مجھ سے ان کا رویہ بہت سخت تھا۔ مجھے اجازت نہیں تھی کہ کہیں جاؤں۔ میرے لیے گھر، گھر نہیں قید خانہ تھا۔‘‘ صابرہ نے بتایا۔ ’’میرا میکہ تو نہ ہونے کے برابر تھا۔ شادی کے شروع میں عید بقرعید اپنی اسکوٹر پہ بیٹھا کے بھیا کے گھر لے کے گئے۔ لیکن ذہین تھے۔ بھابی کے تیور اور بھیا کی بے اعتنائی سے گھر کے ماحول کا اندازہ کر لیا کہ میرا تو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اب وہ مکمل میرے مالک مختار تھے اور میں ان کی ان کا ہر حکم بجا لینے والی زرخرید باندی۔“

اس نے تلخ بات کو بھی مسکراتے ہوئے ادا کیا۔ میں نے پوچھا ’’ویسے لباس کی یکسانیت کا کیا معاملہ تھا؟“ وہ بولی سفید براق قمیض، کالا پینٹ اور چمکدار پالش کیے کالے جوتے بس پوری ملازمت کے دوران اس کے سوا انہوں نے کبھی کوئی لباس نہیں پہنا۔ میرا کام تھا کہ ان کی کل چار قمیضوں اور تین سیاہ پتلونوں کو نک سک سے تیار رکھوں۔ اگر سفید قمیض پہ معمولی سا بھی نشان دیکھ لیتے تو طعن و تشنیع سے میرا کلیجہ چھلنی کر دیتے۔

شاید انہیں لگتا تھا کہ ان کا ظاہری حلیہ ہی ان کی عزت کا بڑا سبب ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ وہ بچوں سے بہت محبت کرنے والے باپ تھے۔ ان کی ہر ضرورت کو پورا کرتے۔ ہمیشہ کہتے ’’یہ میری طرح کیوں بچپن گزاریں۔ بچوں کو اسکوٹر پہ بیٹھا کے آئسکریم کھلانے اور تفریح کرانے لے جاتے۔ لیکن مجھ پہ ان کی سخت اور کڑی نظر رہتی۔ حالانکہ میں نے کبھی ان کے اعتماد کو نہیں توڑا۔ بچوں کے اسکول جانے کے بعد میں گھر میں تنہا اور قید خانے کے احساس کے ساتھ مردہ دلی کے ساتھ رہتی۔ کیونکہ ہر روز وہ باہر سے تالا لگا کے چلے جاتے۔ لیکن بس ان کا بچوں سے پیار ہی مجھے زندہ رکھتا۔“ یہ سب کہتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

ایک بات پوچھوں میں نے بہت جھجکتے ہوئے سوال پوچھا۔ ”اب جبکہ تم ایک ذمہ دار ماں ہونے کے ساتھ وہ کام بھی کر رہی ہو جس کا تصور بھی تمھارے ذہن میں پروفیسر جبران کی زندگی میں نہ تھا۔ اتنی بڑی تبدیلی کیسی لگتی ہے؟“

اس نے کہا۔ ”یہ کہتے ہوئے عجیب تو لگتا ہے یہ کہتے ہوئے لیکن ان کی موت نے مجھے آزاد کر دیا۔ باہر سے لگا قفل کھلنے کے بعد جیسے مجھے زندان سے رہائی مل گئی۔ اور یہ آزادی ان کی موت کے بغیر ممکن نہ تھی۔ خدا کو مجھے اسی طرح رہا کرنا منظور تھا شاید۔ اس کے لیے میرے بچوں کو یتیم اور مجھے بیوگی اٹھانا پڑی۔ لیکن آزادی کی قیمت بھی تو چکانی پڑتی ہے۔“ یہ سب کہتے ہوئے وہ بلک بلک کے رونے لگی۔ اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ آنسو رہائی کی خوشی کے ہیں یا پندرہ سال تک گزاری قید کا غم۔

Facebook Comments HS