حکومتی بجٹ اور عوام الناس


یکم جولائی کو نیا مالی سال شروع ہوا تو عوام الناس کے لیے نئے بجٹ کے ذریعے مہنگائی کا نیا طوفان شروع ہو گیا۔ شہباز شریف کی کابینہ اور اس کے اتحادیوں نے فنانس بل صدر مملکت صدر آصف علی زرداری کے پاس بھیجا۔ اور صدر مملکت نے فنانس بل پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مطلب حکومت نے جو عوام پر اس بجٹ میں 200 ارب روپے سے زائد کے جو ٹیکسز لگائے ہیں وہ یکم جولائی سے لاگو ہو گئے ہیں، جس میں کھانے پینے کی اشیاء، دودھ، موبائل فونز، میک اپ کا سامان اور اسٹیشنری مزید مہنگی ہو گئی۔

بل سے تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں اضافہ ہو گا، آٹے کی قیمت میں 18 فیصد سیلز ٹیکس، موبائل کی قیمتوں، گھریلو آلات اور کاغذ پر استثنا ختم ہو گیا۔ نئے بجٹ سے مہنگائی کا نیا طوفان آنا شروع ہو چکا ہے، یکم جولائی سے پیکڈ شدہ غذائی اشیاء آٹا، چاول، دالیں، مصالحے، درآمدی سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور دودھ مزید مہنگے ہوجائیں گے، ان اشیاء پر اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس نافذ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ مرغی کے گوشت، بیف اور مٹن کے دام بھی مزید بڑھیں گے، کیونکہ پولٹری فیڈ اور مویشیوں کی خوراک پر دس فیصد سیلز ٹیکس لگ چکا ہے۔

جب کہ کتابیں کاپیاں مہنگی ہو گئی ہیں۔ اسٹیشنری پر بھی دس فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے، اس لیے اب سے کلر پنسل کے سیٹ، مختلف اِنکس، اریزر، پنسل، شارپنرز، بال پین، مارکرز بھی مہنگے ملیں گے جس کا مطلب ہے نا تو بچے دودھ پی سکتے ہیں۔ نا عوام الناس کھانے پینے کی اشیاء سستے داموں خرید سکتے ہیں نا ہی قوم کے بچے کتابیں، کاپیاں خرید کر علم حاصل کر سکتے ہیں، پہلے ہی ہمارے دیس میں شعبہ تعلیم کا جو حال ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔

اس کے علاوہ ایک کروڑ روپے سالانہ آمدن پر دس فیصد سرچارج بھی عائد کیا گیا ہے، جب کہ تعمیراتی شعبے پر بھی ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ فضائی سفر بھی مہنگا ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ فنانس بل میں ابتدائی طور پر پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم اب 80 کے بجائے یہ حد 70 روپے ہوگی۔ مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل اور ای ٹین پیٹرول پر لیوی کی حد 50 روپے رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیا سال شروع ہوتے ہی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ بھی کر دیا ہے۔

حکومت وقت نے کوئی ایسا شعبہ باقی نہیں چھوڑا جس سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے ہر طرح سے مڈل کلاس، اور لوئر مڈل کلاس، تنخواہ دار طبقے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے جب کہ دوسری طرف اشرافیہ کو مراعات دی جا رہی ہیں۔ حکومت وقت کے سامنے کوئی تگڑی اپوزیشن بھی نہیں ہے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جیل میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے یکم جولائی کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ”ملک میں اس وقت شدید بحران ہے۔

بجلی کے بلوں نے سب کو تڑپنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لوگ اپنے زیورات بیچ کر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔ کل گیس اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ قوم کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ 12 جولائی کو مہنگائی اور بھاری ٹیکسز کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ ملک گیر ہڑتال پر غور کر رہے ہیں۔ حکومت کو ظالمانہ ٹیکس ختم کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ پیٹرول و گیس کی قیمت میں اضافہ کیا پھر آئی ایم ایف کے ٹیکسز لائے جا رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فری پیٹرول و بجلی لینے والے جرنیل فوجی افسران ججز کہتے کہ ہم مراعات نہیں لیں گے۔ محدود طبقہ ترقی کر رہا ہے اور مڈل کلاس فارغ ہو گئی ہے۔ دو، تین لاکھ روپے والا تنخواہ دار طبقہ سخت پریشان ہے اگر اس کا ٹیکس کٹے گا تو وہ کیسے پورا کرے گا۔ یہ عوام کو مزید ٹیکسوں کے نیچے دبانا چاہتے ہیں۔ جاگیر داروں سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جا رہا۔ بڑے لوگ مزے کر رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں جو ٹیکس ہے پیٹرول پر جو لیوی لگی ان کا پیٹ بھریں گے جو پہلے ہی اربوں روپے کھا گئے ہیں۔ حکومت کو کوئی شرمندگی ہے۔ وزیراعظم فخر سے کہتے ہیں آئی ایم ایف سے مل کر بجٹ بنایا ہے۔ حکومت ذہنی پسماندگی اور غلامی میں مبتلا ہو چکی ہے۔“

حافظ نعیم الرحمن یا کوئی بھی اپوزیشن لیڈر دھرنے یا احتجاج سے حکومت کے ظالمانہ ٹیکس یا بجلی و گیس سے کوئی ریلیف دلوا دیتے ہیں تو یہ اُن کا اس قوم پہ احسان عظیم ہو گا۔ اور مذہبی جماعتوں میں سے کوئی جماعت حکومت کے خلاف ڈٹ گئی تو یقیناً کچھ مطالبات تو منوا کر ہی پیچھے ہٹے گی۔ اس وقت جو لیڈر بھی ظالمانہ ٹیکس کے خلاف، عوام الناس تاجروں اور صنعت کاروں کا ساتھ دے گا وہ ہی عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا۔ اور سب کی آنکھوں کا تارا بنے گا۔

Facebook Comments HS