ترجیحات بدلنا ہو گی


تاریخ بڑی ظالم ہے انسان جس قدر بھی اس سے بچاؤ کی کوشش کرے یہ اس کی حقیقت اور سچائی ضرور اس کے منہ پر مارتی ہے۔ میں آپ کو زیادہ دور نہیں لے کر جاؤں گا۔ 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رجیم چینج آپریشن سے ختم کی گئی تو پاکستان مسلم لیگ کی دو شخصیات نے ٹی وی چینل پر بیٹھ کر ایسے بیان دیے جس سے پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک گیا، ویسے اگر دیکھا جائے تو یہ بیان حقیقت پر مبنی تھے۔ یہ دو شخصیات میاں محمد شہباز شریف اور خواجہ محمد آصف ہیں۔

میاں محمد شہباز شریف نے اپنے بیان کہا کہ ”بھکاری کی اپنی کوئی چوائس نہیں ہوتی ہے“ الفاظ اگرچہ انگریزی میں تھے مگر ان کا مفہوم کچھ یوں ہی تھا۔ ہمارے موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے یہ الفاظ اس قوم کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے اس قوم کو بھکاری بنانے میں اولین کردار ادا کیا ہے۔ بے نظیر پروگرام کے تحت تین ہزار امداد سے لے کر احساس پروگرام، صحت کارڈ، کسان کارڈ، تعلیم کارڈ الغرض کارڈ ہی کارڈ کا ایک ایسا ڈرامہ رچایا ہوا ہے کہ ہر نسان غریبی کا رونا رو کر مفت کی امداد کا حقدار بن جاتا ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے اخبار ہر اشتہار دیکھا جس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سندھ میں ایجوکیشن اور مزدور کارڈ کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے چار سو پچاس ( 450 ) ارب مختص کیے جاتے ہیں اور پھر جگہ جگہ لائنوں میں لگا کر بھکاریوں کی طرح بھیک دی جاتی ہے۔ اس قوم کو مفت خوری اور بھیک کی اس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ اس احساس پروگرام یا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اپنا اندراج کے لیے تمام سیاسی اثر و رسوخ کے علاوہ منفی ہتھکنڈوں کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کا نام مفت خوری میں آ سکے۔

حکومت اگر اس مختص رقم سے اس قوم کو روزگار مہیا کرنے میں کردار ادا کرے تو اس قوم میں محنت سے رزق حلال کی عادت بیدار ہو گی اور ملکی زرمبادلہ میں اضافہ ہو گا۔ اس قوم کے شعور کو بیداری سے روکنے کے لیے جہاں اس قوم کو مفت خوری کی عادت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہاں دوسری طرف سرکاری سکولز میں تعلیم کے ذریعے شعور بیدار ہو رہا تھا تو غریب عوام کے بچوں سے یہ حق بھی چھینا جا رہا ہے۔ سکولز کو پرائیویٹ کر کے آہستہ آہستہ اس عوام کو اس حق سے محروم کر دیا جائے گا۔

اصل میں پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ جن میں اس قوم کو بھکاری بنانا اور تعلیم سے محروم رکھنا ہے۔ سرکاری سکولز کو پرائیویٹ کرتے ہوئے اربوں کی بچت کا شور مچایا جا رہا ہے وہاں پر ایم اے اور ایم فل اساتذہ کو محض پانچ سے دس ہزار میں تعینات کر کے اس قوم کی نسل کو تعلیم سے باغی بنایا جا رہا ہے۔ لاکھوں سرکاری آسامیوں کو ختم کر کے تعلیم کی اہمیت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ تعلیم حاصل کرتے ہوئے سرکاری نوکری کی خواہش ایک فطری بات ہے۔

پنجاب حکومت نے کم از کم چھتیس ( 36 ) ہزار اجرت مقرر کی ہے مگر یہاں اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ستر ( 70 ) فیصد تنخواہ دار طبقہ کو حکومتی اعلان کے باوجود بھی کم تنخواہ دی جا رہی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ غریب اور مڈل طبقہ بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے لوٹ مار اور اندورنی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے لیے فوج کا بجٹ بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ بجٹ میں اس کا اضافہ بھی کیا گیا۔

اس لیے پاکستان کے حکمرانوں کو ترجیحات بدلنا ہو گی۔ قوم کو مفت خوری اور بھکاری بنانے کی بجائے محنت کرنے کی عادت ڈالنی ہو گی۔ روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہو گئے۔ اس کے لیے صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کو استعمال کرتے ہوئے کروڑوں لوگوں کو روزگار مہیا کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ بھی حق حلال کی روزی کما سکے۔ بجٹ میں کم از کم تنخواہ کے اعلان پر عملدرآمد کے لیے انتظامیہ کو سخت نوٹس لینا ہو گا۔ پرائیویٹ سکولز اور گورنمنٹ آفٹر نون سکولز میں اساتذہ کو بجٹ میں اعلان کردہ کم از کم تنخواہ کے برابر تنخواہ دی جائے۔

سکولز کی نجکاری کے بجائے اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جائے تاکہ آئین کے آرٹیکل نمبر 25 پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت ہر شہری کو مفت تعلیم دینے میں کامیاب ہو سکے۔ ترجیحات بدلنا ہو گا مگر موجودہ حکومت کی ترجیحات بجٹ سے واضح ہیں۔ ترجیحات اگر نہ بدلی گی تو ہماری قوم کی تباہی ان کا مقدر بنے گی۔ آنے والے چند ماہ میں بجلی کے بل نے ہر کسر کو پوری کر دینا ہے۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ ترجیحات بدل دی جائے یہی عقلمندی اور دانشمندی کی نشانی ہے۔

Facebook Comments HS