کیا بھٹو نسل پرست تھے؟
ایم کیو ایم پاکستان کے چیرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے بھٹو کی نسل پرست پارٹی نے کوٹہ سسٹم متعارف کرا کہ تقسیم کی بنیاد ڈالی۔ خالد مقبول صدیقی کے ساتھ مصطفیٰ کمال بھی کھڑے تھے جس نے ایم کیو ایم پاکستان جوائن کرنے سے پہلے خالد مقبول صدیقی پر الزام لگایا تھا کہ وہ را کے ایجنٹ ہے اور اس نے انڈیا میں پاکستان کا پاسپورٹ سرینڈر کردیا تھا۔ آج وہ را کا ایجنٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو پر نسل پرستی کا الزام لگا رہے ہیں۔
تاریخی طور پر یہ الزام ہی غلط ہے کیوں کہ کوٹا سسٹم کو ملک میں سب سے پہلے لیاقت علی خان نے شروع کیا جس کا پاکستان میں اپنا کوئی الیکٹرول حلقہ نہیں تھا اس نے انڈیا سے آنے والے لوگوں اور کراچی میں رہنے والے بنگالیوں کے لیے کوٹہ سسٹم نافذ کیا۔ اگر کو ٹہ سسٹم لگانے سے کوئی نسل پرست ہوجاتا ہے تو وہ لیاقت علی خان ہو سکتا ہے۔ بھٹو شہید نے تو کبھی کوٹہ سسٹم نہیں لگایا۔ شہید بھٹو نے تو نصرت بھٹو کالونی بنا کر انڈیا سے آنے والے لوگوں آباد کیا تھا۔
اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے حیدرآباد، میرپور خاص میں انڈیا سے آنے والے مہاجروں کو آباد کیا۔ یہ سندھ کی تاریخ ہے کہ سندھ کے لوگوں نے مہاجروں کی خدمت کی اور اپنے گھر اور پلاٹس دے دیے۔ یہ مہاجر دنیا کی واحد کمیونٹی ہے جو کسی ملک سے سندھ میں آ کر سندھ میں رہنے والے سندھیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہ کبھی تاریخ میں نہیں ملتا کہ کوئی کسی ملک میں مہاجر ہو کر جائے اور ان ملک والوں کو اور ان کے کلچر کو تسلیم نہ کرے۔
سندھ سے جانے والے ہندو 1947 کے بعد جو انڈیا میں گئے ہیں انہوں نے تو انڈیا میں جا کر ایسی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی جو ان لوگوں نے سندھ میں آ کر کی ہے۔ انڈیا میں جانے والے ہندو سندھی آج انڈیا میں امیر ترین لوگ ہیں۔ اور ان کی عزت پورے ہندوستان کے لوگ کرتے ہیں۔ یہاں سندھ میں آنے والے مہاجر کہتے ہیں کراچی میں سندھی لوگوں کا حق نہیں جو سندھ کا کیپٹل اور تاریخی شہر ہے۔ ان مہاجر لوگوں نے کراچی میں رہنے والی ساری قوموں سے لڑائی کی ہے۔ جس میں پٹھان، پنجابی اور سندھی سر فہرست ہیں۔
ان لوگوں کو سندھ اور پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال بھی کیا گیا۔ 1984 میں جنرل ضیاالحق نے ایم کیو ایم کو بنایا۔ اس وقت الطاف حسین امریکہ میں ٹیکسی چلاتا تھا۔ اس کو واپس ملک بلایا گیا۔ اسٹیٹ نے اس پارٹی کو اربوں روپے کے فنڈ دیے۔ الطاف حسین اتنا مضبوط ہو گیا کہ ان کی ایک کال پر پورا کراچی بند ہو جاتا تھا۔ کراچی میں بوری بند لاشیں معمول بن چکا تھا۔ ایک ایک دن میں 50 لوگوں کو مارا جاتا تھا۔ 12 مئی 2007 جیسے واقعے ایم کیو ایم کی پہچان بن گئے۔ کراچی میں بھتا معمول تھا۔ کارخانے والوں کو آئے دن بھتے کی پرچیاں ملتی تھیں۔ بلدیہ فیکٹری میں 250 لوگوں کو زندہ اس لیے جلا دیا کہ مالکان نے بھتہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ کراچی کی فیکٹریاں پنجاب اور بنگلادیش میں ایم کیو ایم کی وجہ سے شفٹ ہو گئیں۔
2016 میں الطاف حسین نے ملک کے خلاف تقریر کر ڈالی، اور اس کے بعد اداروں نے سوچا اب بہت ہوگئی اور الطاف حسین اور ایم کیو ایم پروجیکٹ کو ڈسمینٹل کیا گیا۔
ایم کیو ایم ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ ایم کیو ایم پاکستان بن گئی لیکن ان کو کراچی کے لوگوں نے کبھی قبول نہیں کیا۔ کراچی میں رہنے والے اکثر مہاجروں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے لوگوں نے الطاف حسین کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اس لیے وہ ایم کیو ایم پاکستان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
2023 میں سارے ایم کیو ایم کے گروپوں کو کچھ طاقتوں نے اپنے فائدے کے لیے ملا دیا، لیکن ابھی تک ان لوگوں نے ایک دوسروں کو قبول نہیں کیا۔ کوئی کسی پر یقین نہیں کرتا۔ مصطفیٰ کمال جو اپنی پارٹی پاک سرزمین کو چھوڑ کر ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بنے ہیں اس نے پوری پارٹی کو ہائی جیک کر دیا ہے۔ مصطفیٰ کمال پر ویسے بھی بہت زیادہ انویسٹمینٹ ہوئی ہے اس لیے کوشش ہو رہی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کا ْچیئرمین ہی مصطفیٰ کمال کو بنا دیا جائے جو ایم کیو ایم لندن کا کراچی میں مقابلہ کر سکے۔
ابھی ایم کیو ایم پاکستان میں بہت زیادہ فرسٹریشن ہے۔ ان کو نہ کراچی کے لوگ تسلیم کرتے ہیں نہ ان کا کوئی کام ہوتا ہے۔ ان کے پاس صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹیں بھی ہیں مگر ان کو یقین نہیں کہ یہ سیٹیں ان کو کیسے مل گئی ہیں کیوں کہ وہ تو الیکشن کے میدان میں چوتھے نمبر پر تھے اور دوسرے دن وہ الیکشن جیت چکے تھے۔ اب ان کو پتا ہے جو مینڈیٹ ان کے پاس ہے وہ ان کا نہیں ہے۔ اس لیے وہ کراچی میں نفرت کی باتیں کر کے اپنے ہونے کا احساس دلا رہے ہیں۔
کچھ سندھ کے لوگ تو پیپلز پارٹی سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات مانتی ہے اور بدلے میں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے دغا کرتی ہے۔ ابھی ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ ن کا حصہ ہے ان سے پہلے وہ پی ٹی آئی کا حصہ تھی مگر انہوں نے ہمیشہ اچھے بچوں کی طرح کام کیا۔ مگر جب کبھی ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کا حصہ بنی تو وہ ہمیشہ پی پی پی حکومت کو بلیک میل کرتی تھی اور حکومت چھوڑنے کی دھمکی دیتی تھی اور ان کے مطالبات مانے جاتے تھے، مگر اب تو انکے مطالبات ماننے والا بھی کوئی نہیں اس لیے یہ پریشان ہیں اور اب ان کو بھٹو کی پارٹی نسل پرست نظر آتی ہے جس نے کراچی کا میئر اردو اسپیکنگ مرتضیٰ وہاب کو رکھا ہوا ہے جو پورے کراچی کے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔



بھٹو نسل پرست تھا یا نہیں لیکن آپ کی اس تحریر سے زبردست نفرت اور نسل پرستی کی بو اتی ہے۔
نصرت بھٹو کالونی 1974 کے بہت بعد میں بنی۔ وجہ 1947 کے بعد آنے والے مہاجرین نہیں تھے بلکہ شمالی علاقہ جات سے آنے والے لوگوں کو وہاں بساکر اپنا ووٹ بنک مضبوط کرنا تھا۔
اس وقت بھی بہانہ یہ بنایا گیا تھا کہ یہ آبادی مشرقی پاکستان سے آنے والے لوگوں کیلئے ہوگی۔ لیکن یہ 1947 والے مہاجرین کے لئے نہیں تھی۔
سندھ تو خود ایک زمانے تک بمبئی کا حصہ رہا تو کیا اس پر آج انڈیا کا تسلط مان لیا جائے۔
لیاقت علی خان ہوں یا شبیر احمد عثمانی یا سب سے بڑھ کر محمد علی جناح۔ یہ سب لوگ ان علاقوں سے ہجرت کرکے آئے تھے جو پاکستان میں شامل نہ ہوسکے تو وہ طنش جو لیاقت علی خان پر کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حلقہ نہیں تھا سراسر نفرت اور غلط بات ہے۔
یہ بھی بے سروپا بات ہے کہ سندھ یا پنجاب کے لوگوں نے اپنے پلاٹ یا گھر مہاجرین کو دے دیئے تھے۔ ممکن ہے ایک آدھ جگہ ایسا ہوا ہو لیکن یہ وہ زمینیں یا گھر تھے جو یہاں سے انڈیا جانے والوں نے خالی کئے تھے اور ان مہاجرین کو متبادل کے طور پر ملنے تھے۔ یہ مقامی سندھیوں کی جائیداد نہیں تھی۔ ہاں چونکہ متعدد پر انہوں نے قبضہ کرلیا تھا اس لئے وہ آج تک روتے ہیں۔
سن 1946 کے الیکشن بھی دیکھا جائے تو کوٹہ سسٹم کی ہی دین تھے کہ اسمبلیوں میں مسلمانوں اور سکھ وغیرہ کا الگ کوٹہ مقرر ہوگیا تھا۔ کوٹہ سسٹم کوئی بری یا غلط چیز نہیں۔ ظلم یہ ہے کہ 1973 میں سبھی صوبوں کے دیہی علاقون کے ساتھ زیادتی ہورہی تھی۔ بدنیتی صرف یہ تھی کہ بلوچستان یا جنوبی پنجاب یا صوبہ سرحد کے دیہی عوام کے لئے یہ کوٹہ مقرر نہیں کیا گیا اور صرف سندھ کے لئے رکھا گیا۔
اگر یہ صرف دس تک کے لئے رہتا تو بھی غنیمت تھا لیکن یہ ظلم آج 50 سال بعد بھی ہورہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت پچھلے 16 سال سے مسلسل سندھ میں ہے اور 50 سال میں کم از کم 30 سال انہی کی حکومت رہی لیکن یہ دیہی علاقوں کی قسمت نہ بدل سکے۔ بس قسمت بدلی تو زرداری، ناصر شاہ۔ خورشید شاہ، مراد علی شاہ اور ان جیسے لوگوں کی جن کا کل کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا مگر سیاست سے ارب پتی بن گئے۔
آپ نے لکھا
ان مہاجر لوگوں نے کراچی میں رہنے والی ساری قوموں سے لڑائی کی ہے۔ جس میں پٹھان، پنجابی اور سندھی سر فہرست ہیں۔
سبحان اللہ۔
کراچی کی تاریخ میں پہلا مذہبی یا فرقہ ورانہ نہیں (لسانی جھگڑا) ایوب خان کے بیٹے نے جنوری 1965 میں ان اردو بولنے والے لوگوں کی آبادیوں پر حملہ کرکے کیا جن ہوں نے فاطمہ جناح کو ووٹ ڈالے تھے۔ بادام کھائیں نفرت مت پھیلائیں۔
اسکے بعد کوٹہ سسٹم کے طفیل کراچی میں پیدا ہونے والی نوکریوں پر کراچی کے مقامی لوگوں کی بجائے پنجاب (50 فی صد کوٹہ) اور سندھ دیہی (کوٹہ 10 سے 15 فی صد) ان نوکریوں میں آتے رہے یہی نہیں یہاں کی یونیورسٹیوں میں اکثریت سیٹیں بھی غیر مقامی طالب علموں کی ہوتی تھیں۔ سول سروس کی تو بات ہی نہیں ہورہی بات ہے یہاں پیدا ہونے والی نوکریوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں نشستوں کی۔
اس سے محض یہاں غیر مقامیوں کے لئے نفرت بڑھی۔
1985 میں بشری زیدی اور لانڈھی پھاٹک حادثے کے بعد (جس میں پٹھان منی بس کے بدتمیز کنڈکٹر ملوث تھے) شہر میں آگ لگ گئی۔ مزید سہراب گوٹھ میں ریلیوں پر حملوں اور اس کے بعد اورنگی ٹائون میں پوری پوری مہاجر آبادی کو فاسفورس چھڑک کر آگ لگائی گئی۔ یہ کام سبھی جانتے ہیں منشیات کا دھندا کرنے والے کن لوگوں نے کیا تھا۔
ان ہی دنوں پیجابی پختون اتحاد کراچی میں بنی غلام سرور اعون کی قیادت میں اور یوں لرائیاں شروع ہوگئیں۔
یہی کھیل اب تک پیج پگارا کے چاہنے والے اور شاہی سید کے لوگ بھی کراچی میں کررہے ہیں لیکن شکر ہے پنجاب کے لوگوں کو عقل آچکی ہے۔
آزادی کے وقت کراچی سندھ کا حصہ بھی تھا اور اس کا صوبائی دارالحکومت بھی۔ کوئی شک نہیں۔
لیکن اس کو قائد اعظم نے سندھ سے الگ کرکے پاکستان کا دارالحکومت بنایا تھا۔ یعنی سندھ سے الگ کردیا تھا۔ تو جب کراچی 1974 تک سندھ کا حصہ ہی نہیں رہا تو کون سی ثقافت ہے جس پر زعم ہے۔
کراچی میں پارسی یہودی اینگلو گجراتی میمن ہر طرح کے لوگ آزادی کے وقت آباد تھے ۔ سندھ کے لوگ تو کم کم ہی تھے کیونکہ حیدرآباد اور دوسرے علاقے بھی کم ترقی یافتہ نہیں تھے
لیاقت علی خان یا حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں بننے والی نئی منسٹریوں اور نوکریوں میں بنگال اور اردو مہاجرین کے لئے کوٹہ مقرر کیا کیوں کہ یہ لوگ اپنی نوکریاں یا کاروبار چھوڑ کر پاکستان آئے تھے اور کراچی سندھ نہیں وفاق کا حصہ تھا۔ مقامی لوگ تو ظاہر ہے جو کچھ بھی کررہے تھے نوکری یا کاروبار ان کو تو نہ نئی نوکری کی اس طرح ضرورت تھی اور نہ گھر کی۔ لیکن ہجرت کرکے آنے والوں کے مسائل دوسرے تھے۔
آپ کی تحریر میں وہی پرانے گھسے پٹے الزامات ہیں جن کو جاننے والے عرصے سے مسترد کرتے آرہے ہیں۔
آپ بھٹو کو شہید کہتے نہیں تھکتے۔ آپ کی مرضی لیکن ایک قتل تو ہوا تھا اس کا قاتل کس نے گرفتار کرنا تھا۔ شہید پھر ان تمام جماعت اسلامی اور پی این اے کے کارکنان کو بھی کہیں جنہوں نے 1977 کے الیکشن کے وقت جانیں دیں۔
بھٹو نے سوشلزم کے نام پر پاکستان کی ترقی کا بیڑا غرق کردیا۔ اسلام میں ایک مسلمان کا مال اور عزت دوسرے پر حرام ہے۔ بھٹو نے کس قانون کے تحت لوگوں کے کاروبار فیکٹریاں اور تعلیمی اداروں کو سرکاری قبضے میں لے کر اپنے جیالوں کے حوالے کردیا کہ اس کو چلائیں یا بیڑا غرق کریں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
بے نظیر اور زرداری نے بھی یہی کیا۔ پی آئی اے اور اسٹیل ملز وغیرہ کے حکومتی شیئر اپنے جیالوں میں تقسیم کردیئے جب کہ یہ ان کی ذاتی پراپرٹی نہیں تھی قوم کے اثاثے تھے ان پر بلوچستان کے غریب کا بھی حصہ تھا اور گلگت چترال میں بسنے والوں کا بھی۔ یہ تو قیامت میں حساب ہوگا تو پتہ چلے گا۔