سلطان راہی: پاکستان کے کلنٹ ایسٹ ووڈ
24 جون 1938 کو سہارن پور کا موسم گرم ہے لیکن میجر صوبیدار عبدالمجید کے گھر بہار ہے۔ یوں ایک بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ نام رکھا جاتا ہے۔ سلطان محمد، کس کو علم تھا کہ فوجی گھرانے کا یہ چشم و چراغ زندگی میں آگے چل کر پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ایسا نام روشن کرے گا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور جسے پاکستان کا کلائنٹ ایسٹ وڈ کہا گیا۔ سہارن پور کے ماحول کا اثر یہ ہوا کہ سلطان نے بچپن ہی میں قرآن مجید تفسیر سے پڑھ لیا، پڑھائی لکھائی کے ساتھ ساتھ سلطان کو فلموں میں کام کرنے کا خاصہ شوق تھا۔ وہ اس وقت کے مشہور اداکاروں کو کاپی کرنے کی کوشش کرتا اور خوب پذیرائی حاصل کرتا اس وقت کے ہر مشہور اداکار کے شو کی پہلی ٹکٹ سلطان کی جیب میں ہوتی۔
آخر کار 1947 کی تقسیم کی گھڑی پہنچی اور سلطان والدین کے ہمراہ اس وقت کے دارالحکومت کراچی میں آ گئے اور پھر وہاں سے راولپنڈی منتقل ہو گئے چونکہ سلطان کو فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا۔ اس لیے والدین کے روکنے کے باوجود وہ اپنی قابلیت کا لوہا منوانے لاہور آ گئے اور یہاں آ کے وہ زینت بنے زندہ دلانے لاہور کے تھیٹر کی۔ ان کا پہلا تھیٹر میں ادا کیا گیا ڈرامہ تھا۔ شبنم روتی رہی جس میں انہوں نے لیڈنگ رول ادا کیا اپنے بہترین تلفظ اور فی البدی ڈائیلاگ ڈلیوری سے نہ صرف پروڈیوسرز بلکہ لکھاریوں کو بھی خاصہ حیران کیا تھیٹر کی قابلیت کو مند نظر رکھتے ہوئے سلطان محمد کو فلموں میں کام ملنا شروع ہو گیا جس میں 1956 میں بننے والی پہلی فلم باغی شامل ہے۔
1971 میں بننے والی فلم بابل میں سلطان نے ایک غنڈے کا کردار ادا کیا جس میں ساونت نے لیڈنگ رول ادا کیا لیکن بابل جیسی بہترین فلم دینے کے بعد بھی سلطان راہی ایک سے ڈیڑھ سال تک کسی بھی فلم میں نظر نہیں آئے 1972 میں ایک بار پھر قسمت کی دیوی سلطان رائے پر مہربان ہوئی اور اسلم ڈار نے انہیں بشیرا کے لیے کاسٹ کر لیا ہم ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ بشیرا ہی وہ فلم تھی جس کے بعد سلطان راہی کا کلائنٹ ایسٹ وڈ بننے کا خواب پورا ہو اب وقت آ رہا ہے۔
وحشی جٹ اور مولا جٹ جیسی کبھی نہ زوال پذیر ہونے والی فلموں کا دراصل 1970 میں ڈائریکٹر حسن عسکری نے اردو کے مشہور ناول نگار ؛شاعر اور ادیب احمد ندیم قاسمی کے ناول گنڈا سہ سے متاثر ہو کر فلم بنانے کی ٹھانی اس سے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر اسی طرز پر ایک ڈرامہ بن چکا تھا جس میں اداکار منور سعید نے لیڈنگ رول ادا کیا۔
وحشی جٹ کے بعد کس کو علم تھا کہ بہترین تلفظ کے ساتھ اردو بولنے والا جوان گولیاں اگلتی بندوقوں اور گنڈا سو میں ایسا پڑے گا کہ پنجابی زبان کا بہترین اداکار ہو گا۔ وحشی جٹ اور مولا جٹ ایسی کامیاب ہوئی کہ خاص و عام کی زبان پر ایک ہی جملہ سننے کو ملتا تھا۔ مولا نو مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا: مولا جٹ اور وحشی جٹ کو تنقید کا بھی بہت سامنا کرنا پڑا جس میں مولا جٹ کو بھٹو اور نوری نت کو ضیاء سے تشبیہ دی جانے لگی باوجود پابندی کے وحشی جٹ اور مولا جٹ مختلف سینما گھروں کی زینت بنی رہی اور ایک اندازے کے مطابق دو سال تک مختلف سینا گھروں میں مسلسل چلتی رہی ساری زندگی گنڈا سا برسانے والے سلطان محمد رائی کے دل میں یہ امنگ اٹھی کہ کنڈاسے سے ڈسنے والے خون کا کلنک دھونے کے لیے انہیں مین سٹریم میں آنا پڑے گا جس کے لیے انہوں نے خود سے پیسہ لگا کر ایک فلم بنائی جس کا نام تقدیر کہاں لے آئی رکھا گیا لیکن یہ اتنی بری طرح ناکام ہوئی جس سے سلطان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ پھر کبھی پروڈکشن کی طرف نہیں آئے لا تعداد فلموں میں اپنے ہنر کے جوہر جوہر دکھانے والے سلطان رائی انتہائی عاجز اور رحم دل انسان تھے۔
تقریباً 786 فلموں میں اپنے اونر کا جوڑ دکھانے والے سلطان رائے کو ایک دفعہ کسی نے جی تقریب میں آصف علی زرداری نے مشورہ دیا کہ اپ سکیورٹی گارڈ رکھ لیں لیکن سلطان رائے نے جواب دیا زرداری صاحب مولا نو مولانا مارے تے مولا نہیں مردا اخر کار مالک نے مولا کو بلا لیا اور 9 جنوری 1996 کو مولا جٹ کو نامعلوم افراد نے گجرانوالہ میں قتل کر دیا اور ان کو شاہ شمس کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا ان کی قبر پر کھڑے ہو کر ان کے ہم پلہ اداکار مصطفی قریشی نے تاریخی الفاظ کہے کہ آج مولا جٹ مر گیا اور نوری تنہا ہو گیا۔
مجموعی طور پر ان کی فلموں کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ 158 اردو، 544 پنجابی؛ 58 ڈبل ورژن؛ 2 پشتو؛ 1 سندھی۔
یاد کرے گی۔ دنیا سانوں۔
منیا فنکار بڑے نے۔


