گلگت۔ بلتستان: تاریخی، لسانی، نسلی اور مذہبی پس منظر


گلگت۔ بلتستان جو پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع ہے اپنی مخصوص جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور تزویراتی لحاظ سے امتیازی مقام کا حامل رہا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ خطّہ مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ابتدائی دَور میں یہ علاقہ دردستان، قرون وسطیٰ میں بلورستان اور انیسویں صدی کے وسط سے بیسویں صدی کے ساتویں عشرے تک گلگت۔ بلتستان کے نام سے مشہور رہا۔ 1972ء میں اس وقت کی حکومتِ پاکستان نے انتظامی مقاصد کی خاطر اسے شمالی علاقہ جات ( (Northern Areasکا نام دیا۔ جبکہ 29 اگست 2009ء کو اس وقت کی وفاقی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس، جسے ”Gilgit۔ Baltistan Empowerment and Self Governance Ordinance 2009“ کا نام دیا، کی منطوری کے ذریعے اس کا نام شمالی علاقہ جات کے بجائے گلگت۔ بلتستان رکھا گیا۔

گلگت۔ بلتستان 27، 188 مربع میل رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہ خطّہ 32 تا 37 عرض بلد اور 71 تا 75 طول بلد کے درمیان واقع ہے۔ ان علاقوں میں آب و ہوا مختلف علاقوں اور مختلف موسموں میں مختلف ہوتا ہے۔ بالائی علاقوں میں سردیوں میں سخت سردی ہوتی ہے، اونچے پہاڑ ہمہ وقت برف کی سفید چادر اوڑھے رہتے ہیں اور گرمیوں میں ان بالائی علاقوں میں خوشگوار گرم موسم قابلِ دید ہوتا ہے۔ جبکہ نشیبی علاقوں میں گرمیوں میں سخت گرمی ہوتی ہے اور سردیوں میں سرد موسم بھی اپنی زور آزمائی کا مظاہرہ ضرور کرتا ہے۔ گلگت۔ بلتستان میں بارشیں معمول سے کم ہوتی ہیں اور اوسط بارش تقریباً چھ (6) انچ سالانہ ہے۔

گلگت۔ بلتستان کا یہ وسیع و عریض خطّہ دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہے جن میں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے سلسلے شامل ہیں۔ ان پہاڑی سلسلوں میں درجنوں سر بفلک برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں ایستادہ ہیں جن میں دنیا کی دوسری اور تیسری بلند ترین چوٹیوں، کے۔ ٹو (K 2 ) اور نانگا پربت سمیت راکا پوشی اور مشر بروم کی بلند ترین چوٹیاں زیادہ مشہور ہیں۔ اسی طرح قطبین سے باہر دنیا کے سب سے طویل برفانی گلیشر سیاچن (72 کلومیٹر) سمیت دیگر طویل گلیشرز، جیسے بیافو (62 کلومیٹر) ، ہسپر (61 کلومیٹر) ، بلتورو (58 کلومیٹر) ، بٹورہ (58 کلو میٹر) ، گشر بروم (38 کلو میٹر) اور چوگو لنگما (Chogo Lungma: 38 km) بھی اس خظہ زمین میں پھیلے ہوئے ہیں۔

نیز تاریخی درّے بابوسر، برزل، قمری، قراقرم، مستاغ، ہسپر، خنجراب، منتکہ، کلک، ارشاد، قرمبر، درکوت، بروغل اور شندور بھی اس سرزمین کو دوسری سرزمینوں سے ملاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کی خوبصورت جھیلیں، جیسے سد پارہ، کچورہ، دیوسائی، راما، نلتر، پھنڈر اور عطا آباد کی جھیلیں سیّاحوں کو دعوتِ نظّارہ دیتی ہیں۔ نیز یہاں کے مشہور دریاؤں کا ذکر بھی ضروری ہے جن کے نام یہ ہیں : دریائے سندھ، دریائے شیوک، دریائے شگر، دریائے ہنزہ اور دریائے گلگت وغیرہ۔

ان کے علاوہ دیگر چھوٹے چھوٹے دریا، بل کھاتی ندیاں، جھومتے اچھلتے نالے اور حُسن افروز اور دل نواز جھرنیں اور ان کے آس پاس سبزہ زار، گلعزار اور قطار اندر قطار ایستادہ درختانِ سبز اس سرزمین کے حُسن و زیبائی کو دو بالا کرتے ہیں۔ اگر کوئی باذوق سیّاح ان کا نظّارہ کرے گا تو فارسی کا یہ شعر ضرور گنگنائے گا ؂

اگر فردوس بر روئے زمین است ہمین است و ہمین است و ہمین است

جہاں تک گلگت۔ بلتستان کی تاریخ کا تعلّق ہے تو اس کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ آثارِ قدیمہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تاریخ ہزاریوں (millennia) پر مشتمل ہے۔ بلکہ رازول کوہستانی، جنہوں نے اس خطّۂ شمال کی تاریخ، ثقافت، لسانیات اور سماجیات پر عمدہ تحریریں سپردِ قلم کی ہیں، ارض شمال کی قدیم تاریخوں کا تعیّن کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”ارضیاتی ماہرین نے شمالی پاکستان کے قدیم ترین انسان کا دَور15000 سے 150000 سال قبل ٹھہرایا ہے جب وہ غاروں اور چٹانوں کی کھوہوں میں رہا کرتا تھا۔ بعد کے دَور کے انسان کا زمانہ قدیم طرز کی چٹانی اشکال کی بنیاد پر 3000 سے 6000 سال قرار دیا جاتا ہے جس کے شواہد مختلف قدیم چٹانی اشکال سے ثابت ہوتا ہے۔ ’‘ 1؂

تاہم، معلوم سیاسی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پانچویں اور ساتویں صدی عیسوی کے درمیان یہاں تبتیوں کی عملداری قائم تھی۔ پھر آٹھویں صدی عیسوی میں چینیوں کے ہاتھوں تبتیوں کی شکست کے بعد چینیوں ہی کی حمایت سے مقامی شین درد شاہی حکومت قائم ہوئی، یہاں تک کہ بارہویں صدی کے ربع اوّل میں تراخانوں نے درد شاہی حکومت کا خاتمہ کر کے اپنی خاندانی حکومت قائم کی۔ گلگت۔ بلتستان کے دیگر علاقوں میں بھی کم و بیش ایک درجن خاندانی حکومتیں قائم تھیں۔

پھر انیسویں صدی کے چوتھے عشرے میں پہلے پنجاب کے سکھوں (1842ء) اور پھر کشمیر کے ڈوگروں (1846ء) کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ تاہم، گلگت۔ بلتستان کی مقامی خاندانی ریاستیں بھی قائم رہیں۔ انیسویں صدی کے ساتویں عشرے کے اختتامی سالوں میں روسی پیش قدمی کو روکنے کے لئے برطانوی حکومتِ ہند نے گلگت میں برطانوی ایجنسی قائم کی اور 1876ء میں میجر جان بڈلف بحیثیت افسر سپیشل ڈیوٹی بغرض سفارت ہنزہ و نگر گلگت پہنچے۔ دوسرے سال یعنی 1877ء میں ان کو بطور برٹش ایجنٹ گلگت تعیّنات کر دیا گیا۔

1881ء میں انہیں گلگت سے واپس بلایا گیا اور ایجنسی تخفیف ہوئی۔ پھر 1889ء میں دوسری مرتبہ گلگت ایجنسی قائم ہوئی اور کرنل الجیرنن ڈیورینڈ (A۔ G۔ Durand) کو پولیٹکل ایجنٹ مقرّر کیا گیا۔ ڈیورینڈ ہی کی سرکردگی میں 1891ء میں ہنزہ و نگر کی تسخیر عمل میں آئی۔ 1893ء میں ہندو کُش میں افغانستان اور برطانوی ہند کے درمیان ایک حد بندی کا تعیّن کیا گیا جسے ڈیورینڈ لائن (Durand Line) کہا جاتا ہے۔ یہ لائن شمال میں پامیر میں سریقول کے سلسلۂ کوہ سے لے کر جنوب مغرب میں ایرانی سرحد تک 1200 میل کے طویل فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے۔

پھر1935ء میں ایک معاہدے کے تحت برطانوی ہند نے گلگت اور اس کا ملحقہ علاقہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ سے ساٹھ سال کے پٹّے پر لے لیا۔ اس کے نتیجے میں انتظامی امور اور عسکری معاملات مہاراجہ جموں و کشمیر کے ہاتھ سے نکل کر سرکارِ برطانیۂ ہند کے کنٹرول میں آ گئے۔ ازاں بعد پورے گلگت۔ بلتستان اور چترال میں انگریزوں کی عملداری قائم ہوئی۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد گلگت سکاؤٹس نے عوام کی مدد و تعاون سے اس خطّے کو ڈوگروں کے تسلّط سے آزاد کرا یا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا۔ اُس وقت سے اب تک یہاں پاکستان کی حکومت چلی آ رہی ہے۔ گورننس کی بہتری کے لئے جزوی طور پر کام ہوتا رہا اور اب ایک صوبائی سیٹ اپ بھی تشکیل دی گئی ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس انتظامی ڈھانچے میں آئین کی روح پھونکی جائے اور اسے مکمّل آئینی صوبہ بنا دیا جائے۔

گلگت۔ بلتستان کی نسلی تاریخ بھی اہمیت کی حامل ہے۔ گلگت۔ بلتستان میں شین، یشکن اور بلتی نسلی پس منظر رکھنے والی قومیں آباد ہیں۔ شین، جنہیں درد بھی کہا جاتا ہے، آریائی نسل سے تعلّق رکھتے ہیں جنہوں نے بروشو، جنہیں یشکن بھی کہا جاتا ہے، سے حکومت چھین لی اور انہیں مغلوب کیا۔ فاتح شینوں نے مفتوح بروشو کو یشکن کا نام دیا۔ لیکن وہ بروشو جو گلگت سے بھاگ کر ہنزہ، نگر اور یاسین میں آباد ہوئے بروشو ہی کہلائے اور اپنی زبان اور ثقافت کو زندہ رکھا۔

جہاں تک بلتیوں کے نسلی پس منظر کا تعلّق ہے تو وہ تبت اور منگول نسل سے تعلّق رکھتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ بلتی نسل و قومیت منگولوں، تبتیوں اور دردوں کے درمیان شادی بیاہ اور ان کے باہمی ثقافتی و نسلی ارتباط و اختلاط کے نتیجے میں تشکیل پائی ہے۔ اس طرح تاریخ کے مختلف ادوار میں چترالی، وخی، کشمیری، بدخشانی، کاشغری، ایرانی اور عرب نسل کے لوگ بھی یہاں آباد ہوتے رہے ہیں۔

ارضِ شمال نسل اور قومیت کے لحاظ سے بے حد گونا گونی اور تنوّع کا حامل ہے۔ مختلف نسلوں، قوموں اور قبیلوں کے ساتھ مختلف زبانیں بھی تشکیل پاتی گئیں۔ چنانچہ اس وقت گلگت۔ بلتستان میں درجن بھر مقامی و غیر مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مقامی زبانوں میں شینا، بلتی، بروشسکی، کھوار، وخی اور ڈوماکی زبانیں جبکہ غیر مقامی زبانوں میں کشمیری، گجری، کاشغری، پشتو اور فارسی بولی جاتی ہیں۔ اردو ہمارے ملک پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت سے یہاں کے سب لوگ سمجھتے ہیں اور ہمارے تعلیمی اداروں یعنی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو ذریعۂ تعلیم و تعلّم ہونے کی حیثیت سے ملک کی علمی زبان بھی ہے، اس لئے یہاں کے لوگ اردو میں پڑھتے اور لکھتے ہیں۔

پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اور خاص طور پر نئی نسل کی ایک کثیر تعداد انگریزی بھی سمجھتی، پڑھتی اور بولتی ہے۔ اب تو چینی زبان سیکھنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہاں چینی زبان کے مراکز بھی قائم ہوئے ہیں۔ تاہم، مقامی زبانوں میں شینا کو رابطے کی زبان یا مشترکہ زبان (lingua franca) کی حیثیت حاصل ہے۔

اب گلگت۔ بلتستان میں قبلِ اسلام کی مذہبی تاریخ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے کے مذاہب کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے بلکہ یہ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ یہاں کی انسانی تاریخ۔ یہاں کے قدیم مذاہب میں اوّلین مذہب بون مت تھا۔ جیسا کہ ایک پاکستانی مصنّفہ نادرہ زیدی اپنے مقالے ”بلتی ادب“ میں، جو ’تاریخِ ادبیاتِ مسلمانانِ پاکستان و ہند‘ میں شائع ہوا ہے، بلتستان کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ: ”اسلام سے پہلے بلتستان والے بدھ مت کے پیرو تھے۔

اس سے پہلے دیوی دیوتاؤں کو پوجتے تھے اور اس وقت کا مذہب بون چھوس [یعنی بون مت]کہلاتا تھا۔“ 2؂ جبکہ اردو میں لکھی ہوئی کتاب ’قدیم لداخ‘ کے مصنّف کاچو سکندر خان سکندر کے بقول، بون مت کا بانی ”شین رب میدو“ نامی شخص تھا جس کا تعلّق شین نسل سے تھا۔ 3؂ اس لحاظ سے بون مت کو شین دردوں کا مقامی مذہب گردانا جاتا ہے اور اس مذہب کا زاد بوم دردستان کا مرکز گلگت ٹھہرتا ہے۔ جبکہ تبت کا بھی ابتدائی مذہب بون مت بتا یا جاتا ہے ۔

چنانچہ ایک مغربی مصنّف اور مقالہ نگار ایل۔ اے۔ واڈل (L۔ A۔ Waddell) لکھتے ہیں کہ: ”The aboriginal pre۔ Buddhist religion of Tibet is called by the people Bon; and those who profess it are called Bon۔ pa، i۔ e۔ ’the Bons‘ ۔ 4 یعنی“ تبت کے بدھ مت سے پہلے کے آبائی مذہب کو لوگ بون کہتے ہیں، اور جو لوگ اس کے معتقد ہیں وہ بون پا کہلاتے ہیں، یعنی بون مت کے ماننے والے۔ ”

بادی النظر میں، اگرچہ، اس میں اختلاف نظر آتا ہے کہ بون مت کا اصل وطن گلگت ہے یا بلتستان (تبت خورد) یا لداخ (تبت کلاں ) ؟ لیکن تاریخ پر غائرانہ نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ بون مت شین دردوں کا ابتدائی مذہب تھا جس کا دعویٰ کاچو سکندر خان سکندر نے بھی کیا ہے۔ نیز اے۔ ایچ۔ فرینکے (A۔ H۔ Francke) کی کتاب A History of Ladakh کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے ابتدائی دَور میں جب دردوں نے گلگت سے تبت ہجرت کر لی تو وہ اپنے آبائی مذہب اپنے ساتھ تبت لے گئے اور وہاں بدھ مت کی آمد تک اسے رائج رکھا۔

5؂ اس سے یہ مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ بون مت شین دردوں کے ساتھ تبت کلاں (لداخ) پہنچا اور وہاں سے تبت خورد یعنی بلتستان میں بھی پھیلا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ابتدائی ادوار میں دردوں نے جہاں گلگت سے لداخ کی جانب ہجرت کی وہاں وہ گلگت سے بلتستان بھی گئے۔ انہوں نے اپنے ساتھ بون مت کے مذہبی عقائد بھی ساتھ لے گئے۔ جیسا کہ کرنل محمد ذاکر اپنی کتاب ’سیاچن گلیشیئر‘ میں لکھتے ہیں کہ ”تاریخی شواہد کے مطابق بلتستان میں انسانی آبادی کی ابتداء گوتم بدھ کی پیدائش سے قبل ان اقوام نے کی جو گلگت کی طرف سے براستہ دریائے سندھ وادی اسکردو میں یا براستہ ہنزہ / نگر وادی شوگر میں اور لداخ کی طرف سے وادی خپلو میں آباد ہوئے۔“ 6؂ اس کی تصدیق کرنل جون بڈلف کی کتاب ’ہندو کش کے قبائل‘ (Tribes of Hindukush) کے اندراجات سے بھی ہوتی ہے۔ پس ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ گلگت۔ بلتستان کا ابتدائی اور مقامی مذہب بون مت تھا اور اس کا زاد بوم گلگت تھا جہاں سے شین دردوں کے ذریعے تبت خورد و تبت کلاں میں اس کی ترویج و اشاعت ہوئی۔

نیز یہ کہ درد قبائل کی ابتدائی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جدید اثریاتی تحقیق اسے کانسی اور لوہے کے ادوار سے ملاتی ہے۔ چنانچہ محکمۂ آثارِ قدیمہ پاکستان کے ایک اسکالر جناب نذیر۔ اے۔ خان کی سربراہی میں ایک ٹیم نے 1994۔ 1995ء میں گلگت۔ بلتستان کے آثارِ قدیمہ کی ایک مفصّل رپورٹ تیار کی جس کے مطابق شمالی علاقہ جات کے ان علاقوں میں جہاں آج درد نسل کے لوگ آباد ہیں ایسی قبروں کا سراغ ملا ہے جن کا تعلّق کانسی اور لوہے کے زمانے سے ہے اور اس میں شبے کی کم گنجائش ہے کہ ان قبروں کی تعمیر دردوں کے اجداد نے کی تھی۔ 7؂ کانسی کا دَور تو کئی ہزاریوں پر مشتمل ہے جبکہ5پانچویں صدی قبل مسیح میں یورپ تک وسعت اختیار کر گیا۔ پس ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا درست ہو گا کہ دردوں کی تاریخ و مذہب کا سلسلہ قبل از مسیح کی نا معلوم تاریخ سے جا ملتا ہے۔

بون مت کے بعد اس خطّے میں بدھ مت کا پرچار ہوا۔ کیونکہ بدھ مت، بقولِ الیکیذینڈر کننگم (Alexander Cunningham) ، ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں تبت میں پھیلا۔ 8؂ اور یہاں سے اس کا پھیلاؤ گلگت۔ بلتستان میں بھی ہونے لگا۔ کیونکہ اُس زمانے میں یہ علاقے تبت کے کنٹرول میں تھے۔ اس کی توثیق جرمن محقّق ڈاکٹر کارل جٹمار کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ:

It is quite possible because the area had remained under Tibetan over lordship. 9
ترجمہ:۔ ”یہ عین ممکن ہے کیونکہ یہ علاقہ تبت کے زیر تسلّط رہا تھا۔“

اسی طرح گلگت میں برطانوی پولیٹکل ایجنٹ، کرنل الجیرنن ڈیورینڈاس خطّۂ دردستان میں بدھ مت کی عملداری کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”معلوم ہوتا ہے اس دَور میں بدھ مت کو بہت عروج حاصل ہوا ہو گا۔ جیسا کہ ہندوکش کے طول و عرض میں بہت لمبی لمبی قربان گاہیں اور دوسرے بدھ معابد کی کثرت سے عیاں ہے۔ چترال، پنیال، گلگت، نگر اور بلتستان میں بدھ مت کے اسٹوپا اور گوتم بدھ کے مجسّمے بڑی تعداد میں ملتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس مذہب نے صدیوں تک اس علاقے میں بہت فروغ پایا۔“ 10؂

خاص طور پر وادی ہنزہ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر بدھ مت کا مرکز رہا ہے جس کی شہادت تاریخ سے فراہم ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ایک پاکستانی محقّق اقبال ایم۔ شفیع لکھتے ہیں کہ:

”Before the advent of Islam towards the end of the eighth century، Hunza had been a strong hold of Buddhism، preceded by Hinduism۔“ 11

ترجمہ:۔ آٹھویں صدی کے آخر میں اسلام کی آمد سے پہلے، ہنزہ بدھ مت کی مضبوط گرفت میں رہا تھا، جسے ہندومت نے آگر بڑھایا۔

کیونکہ بدھ مت کے مرکز ٹیکسلا سے چین جانے کا راستہ ہنزہ سے ہو کر جاتا تھا۔ اسی راستے سے چینی زائرین بدھ مت کی تبلیغ و تعلیم کے لئے ٹیکسلا اور گندھارا آیا جایا کرتے تھے۔ جبکہ اُس زمانے میں بدھ مت چین میں بڑے پیمانے پر پھیل رہا تھا۔ چنانچہ اقبال ایم۔ شفیع لکھتے ہیں کہ: ”بدھ مت اسی راستے سے ہو کر چین جاتا تھا اور معروف ابتدائی سیّاح جیسے فاھیان ( 400 ء) اور ہیون سانگ (ساتویں صدی عیسوی) ٹیکسلا، چندھرا اور نرندامیں بدھ مت کے علمی مراکز کے اپنے دورے کے دوران ان علاقوں سے سفر کرتے تھے۔“ 12؂

بدھ مت کے بعد یہاں ہندومت کے عقائد بھی پھیلے۔ خاص طور پر شین دردوں کا مذہب ہندومت تھا۔ جیسا کہ جون بڈلف بعض شواہد کی بنیاد پر یہ رائے دیتے ہیں کہ: ”شِنوں نے اپنے عہدِ حکومت میں ہندو مت کو گلگت اور اس کے آس پاس کی وادیوں میں متعارف کرایا تھا۔“ 13؂ جبکہ ڈیورینڈ نے اس نقطۂ نظر کو قدرے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ : ”یہ بات کہ شِن قبائل کا مذہب ہندومت تھا، کسی تشریح یا ثبوت کا محتاج نہیں۔ ان کا گائے کو مقدّس جاننا، ان میں ذات پات کی سخت تمیز اور بدھ مت کے قدیم آثار کو محفوظ کرنے کے سلسلے میں ان کی لاپرواہی اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ شِن لوگ ہندو تھے۔“ 14؂

ان مذاہب کے علاوہ یہاں زرتُشتیت، مجوسیت اور شامانیت کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ نیز بُت پرستی، کثرت پرستی یا ہمہ پرستی کے نظریات کا بھی سراغ ملتا ہے۔ مؤرخین کے نزدیک عہدِ عتیق میں نہ صرف ایران بلکہ وسطی ایشیا، وخان، گلگت۔ بلتستان اور چترال تک کا پورا علاقہ کسی زمانے میں زرتشت مذہب کا گہوارہ رہا ہے۔ چنانچہ جون بڈلف لکھتے ہیں کہ: ”وادیٔ آمو زرتشتی مذہب کا گہوارہ رہا ہے، ہندوکش کے جنوب کی وادیوں کا اُس کی اثر سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔

واخان میں بہت سے ٹاورز اور ڈھانچے ایسے ہیں جو آگ کے پرستاروں سے منسوب ہیں، اور اس پرستش کی روایت یاسین میں بھی موجود ہے۔“ 15؂ بڈلف اپنی کتاب کے اسی صفحے پر گلگت کی دسمبر میں رسمِ تلینی (چراغاں یا مشعل بردار جلوس نوس) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ”نوس کے تہوار میں تلینی[کی رسم] کے حصّے میں ہم غالبا ان ملکوں میں مجوسی پرستش کے آثار دیکھتے ہیں۔“ جبکہ پروفیسر عثمان علی ان علاقوں میں مجوسیت اور زرتشتیت کے عہد کا تعیّن بھی کرتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ 500 ق۔ م کے نزدیک ہمارے علاقے مجوسیت کے لپیٹ میں آ گئے اور ساتھ ہی ساتھ زرتشتی تہذیب و تمدّن کا نفوز بھی ہوا۔ 16؂ اِن علاقوں میں مجوسیت اور زرتشتیت کی تاریخ کے تعیّن کے متعلّق پروفیسر موصوف کی مذکورہ رائے درست معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اسکندر یونانی کے حملے سے قبل پورے ہندوستان اور وسطی ایشیا پر بلکہ گلگت۔ بلتستان پر بھی ایران کے ہخامنشیوں، جن کا سرکاری مذہب زرتشتیت تھا، کی عملداری تھی۔ جیسا کہ معروف پاکستانی مؤرّخ و ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی لکھتے ہیں کہ:

This region of Gilgit was a territorial part of the Achaemenains۔ 17 یعنی ”گلگت کا یہ خطّہ ہخامنشیوں کے قلمرو کا حصّہ تھا۔“

گلگت۔ بلتستان اور اس کے گرد و نواح میں شامانی مسلک کا بھی غلبہ رہا ہے۔ کیونکہ یہاں سے منگولیائی خطّے تک کی سرزمین صدیوں بلکہ ہزاریوں سے شامانی افکار اور تہذیب و ثقافت کی امین رہی ہے۔ شامان کو اردو میں کاہن، شینا میں دھینل اور بروشسکی میں بِٹن کہا جاتا ہے۔ ماضی میں گلگت، ہنزہ، نگر اور دیگر ملحق علاقوں میں کاہنوں کا زور رہا ہے۔ مقامی روایات بتاتی ہیں کہ نانگا پربت اور راکھا پوشی جیسی عظیم برف پوش چوٹیوں پر پریوں کے محلّات بنے ہوئے ہیں جہاں سے پریاں آس پاس کی انسانی بستیوں کے پھیرے بھی کرتی رہتی ہیں اور آدم زادوں پر، خواہ مرد ہوں یا خواتین، اپنے اثرات ڈالتی ہیں جس کے سبب وہ انسان بتدریج کاہنوں کا روپ دھارنے لگتے ہیں اور ان پریوں کے توسط سے جنّات کی دنیا، جسے غیر مرئی دنیا بھی کہا جاسکتا ہے، سے خبریں لاتے ہیں یا ایک لحاظ سے روحانی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس خطّے کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور حتّیٰ کہ صحت و معیشت پر کاہنوں کا گہرا اثر رہا ہے۔ ماضی میں یہاں کے شامان یا کاہن لوگوں کی قسمت بلکہ موت و حیات کی خبر بھی دیتے تھے۔ راجے مہا راجے اور میران و مہتران بھی اپنی عسکری مہمّات کے لئے کاہنوں سے مشورہ لیتے تھے۔ اس خطّے میں کئی نامور کاہن ہو گزرے ہیں جن میں گلگت میں دھینل کِھمیٹو اور ہنزہ میں شون گُکُر (Shon Gukur) زیادہ مشہور ہیں۔ بزرگوں کے کہنے کے مطابق ان کی بہت سی پیشین گوئیاں سچ ثابت ہوئی ہیں۔

اسی طرح ان علاقوں میں کثرت پرستی، جسے ہمہ پرستی بھی کہنا چاہیے، بھی عام تھی۔ کہیں جانوروں کی پرستش کی جاتی تھی تو کہیں پتھروں اور درختوں کو پوجا جاتا تھا اور ان سے مرادیں مانگی جاتی تھیں۔ چنانچہ دیامر کی ہر وادی میں مختلف ناموں کے ساتھ دیوتا تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ بقولِ کارل جٹمار، گور میں تیبان (Taiban) اور چلاس میں ناران (Naron) دیوتا کی پوجا کی جاتی تھی۔ 18 ؂

وادیٔ ہنزہ میں بھی، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، دوسری وادیوں کی طرح بدھ مت کا غلبہ تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندو مت اور مظاہر پرستی کا سراغ بھی ملتا ہے۔ یہاں ایسی جگہوں کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے جہاں مُردوں کو جلا یا جاتا تھا۔ اہلِ ہنزہ جانوروں میں سے ایک خاص جانور کی پرستش کرتے تھے جس کو مقامی زبان میں ”بویو“ کہتے تھے۔ انہی جانوروں سے لوگ اپنی حاجتیں مانگتے تھے۔ یہ جانور شکل و شباہت میں کتُے کے پلّے کے مانند ہوتے تھے۔

ان کی پرتش کرنے والے مقرّرہ مقام پر گھی اور دودھ وغیرہ کی نذر و نیاز لے جاتے تھے، حاجت قبول ہونے کی علامت یہ ہوتی تھی کہ یہ جانور اس مقام سے نکل کر نیاز پیش کرنے والوں کی نیاز چاٹ لیتے تھے اور حاجت قبول نہ ہونے کی صورت میں یہ جانور اس مخصوص مقام سے باہر نہیں نکلتے تھے اور حاجت مندوں کی نیاز نہیں چاٹتے تھے۔ 19؂ مُلر کے بیان کے مطابق بویو ایک جونیپر، ایک صدا بہار خود رو درخت ہے [جسے شینا میں ”چِلِی“ اور بُروشسکی میں ”گَلْ“ کہا جاتا ہے ]، پتھروں کے نیچے سے نکلتا تھا۔

’ان صدا بہار درختوں کو‘ ’بویو جونیپر ” (“ boyo junipers ”) بھی کہا جاتا تھا۔ مُلر ہی کے بقول، ان درختوں کو کاٹنا نہایت بدشگونی سمجھی جاتی تھی۔ 20؂ اس روایت سے مترشح ہے کہ اس خطّے میں جانوروں کی پرستش کے ساتھ ساتھ شجر پرستی بھی رائج تھی۔ اس کی تصدیق بڈلف کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ وہ گلگت اور آس پاس کے درد علاقوں کے اعتقادات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:“ شِن لوگوں نے ہندومت کے ساتھ ساتھ درختوں کی پوجا کو بھی متعارف کرایا۔ ”21؂

نہ صرف گلگت اور ہنزہ کے علاقوں میں شجر پرستی کا رواج عام تھا بلکہ مجموعی طور پر ہمالیہ کے دیس میں یہ ریت و رسم مروّج تھی اور جونیپر کے درخت کو مقدّس تصوّر کیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ سدا بہار درخت پہاڑوں کی چوٹیوں پر اُگتا اور نشو و نما پاتا ہے۔ اسی طرح ایک مقامی پھول جسے ”مِر مخوتی“ کہا جاتا ہے، جو پہاڑوں کی کی بلند چوٹیوں پر اُگتا اور کِھلتا ہے، کو بھی مقدّس خیال کیا جاتا تھا۔ اس قدوسیت کے تناظر میں یہ راز مضمر ہے کہ بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں پر پریوں کی رہائش گاہ یعنی پرستان ہے اور ان پریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر مرئی مخلوق ہیں اور جسمانی آلائشوں اور ناپاکیوں سے دُور اور پاک و پاکیزہ اور مقدّس ہیں۔

ان کا مقدّس درخت جونیپئر اور پسندیدہ پھول ”مِر مَخوتی“ ہے۔ اس طرح اس پورے ہمالیائی خطّے میں درختوں اور پھولوں کی حُرمت و قدّوسیت مسلّم ہے۔ ایک یورپی سیّاح جی۔ ٹی۔ وائن (G۔ T۔ Vine) ، جس نے انیسویں صدی عیسوی کے نصفِ اوّل میں ان علاقوں کا دورہ کیا تھا، لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر روئیلے (Dr۔ Royle) نے ایک خاص قسم کے جونیپئر کو مقدّس جونیپئر (juniper religiosa) کا نام دیا ہے۔ چنانچہ عموماً ہمالیہ کے باشندے اسے مقدّس سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک انتہائی بلندی پر اُگتا اور نشو و نما پاتا ہے، جہاں ان مقامیوں کے تصوّرات کے مطابق جنّوں اور روحوں کی بستیاں آباد ہیں۔ 22؂

گلگت۔ بلتستان میں اسلام کی آمد کے ساتھ مذکورہ مذاہب، جو سب کے سب غیر الہامی مذاہب تھے، معدوم ہو گئے۔ اس وقت یہاں اسلام کے چار مذاہب رائج ہیں : اہلِ سُنّت و الجماعت، شیعہ اثنا عشری، شیعہ اسماعیلی اور شیعہ نور بخشیہ۔ ان چار مسلمان فرقوں کے مختصر احوال تاریخی ترتیب سے ایک اور مقالے میں بیان کیے جائیں گے۔

حوالہ جات

1۔ رازول کوہستانی۔ ”شمالی پاکستان کے آثارِ قدیمہ۔ ایک مختصر جائزہ“ ، ’سربلند‘ ، جلد:1، شمارہ نمبر:1، مدیر: زبیر توروالی، ادارہ بارائے تعلیم و ترقی، سوات، مارچ 2021ء، ص 29

2 نادرہ زیدی۔ ”بلتی ادب“ ، ’تاریخِ ادبیاتِ مسلمانانِ پاکستان و ہند‘ ، جلد 14، علاقائی ادبیات مغربی پاکستان، (جلد دوم) ، مدیر: سیّد فیّض محمود، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، ص 12؛ سیّد عالم استوری۔ ’شمالی علاقہ جات کا لسانی جائزہ‘ ، اسلام آباد، 1990ء، ص 32

3۔ کاچو سکندر خان سکندر۔ ’قدیم لداخ: تاریخ و تمدّن‘ ، کاچو پبلشرز، لیہ، لداخ، 1987ء، ص۔

4۔ L۔ A۔ Waddell۔ ”Tibet“ ، Encyclopaedia of Religion and Ethics، editted by James Hastings، volume xii، T & T۔ Clark، Edinburgh، second edition، 1934، p۔ 333

5۔ A۔ H۔ Francke۔ A History of Ladakh، Book Traders، Lahore، 1995، pp۔ 27۔ 38

6۔ محمّد ذاکر۔ ’سیاچن گلیشیئر‘ ، اسکردو، بلتستان، 1991ء، ص 29؛ جون بڈلف۔ ’ہندو کش کے قبائل‘ ، ترجمہ: جاوید شاہین، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 1991ء ص ص 67۔ 75

7۔ Ahmad Hasan Dani۔ History of Northern Areas of Pakistan، Sang۔ e۔ Meel Publications، Lahore، 2007، p۔ 422

8۔ Alexander Cunningham۔ Ladakh، London، 1954، pp۔ 356۔ 359
9۔ Karl Jettmar۔ Bolor and Dardistan، Islam Abad، 1980، p۔ 5

10۔ کرنل الجیرنن ڈیورینڈ۔ ’سرحدوں کی تلاش‘ ، مترجم: لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان، دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد، 2009ء، ص ص 209۔ 210

11۔ Iqbal M۔ Shafi۔ Silk Road to Snkiang، Lahore، 1988، p۔ 41
12۔ ایضاً، ص 42
13۔ جون بڈلف۔ ’ہندوکش کے قبائل‘ ، ص 147

14۔ ڈیورینڈ۔ ’سرحدوں کی تلاش‘ ، ، ص 210 ؛ جون بڈلف بھی اسی نقطۂ نظر کے قائل نظر آتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ: یہ باور کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ شِنوں کا مذہب ہندو نوعیت کا تھا۔ ” (جون بڈلف۔ ہندوکش کے قبائل ’، ترجمہ: جاوید شاہین، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 1991ء، ص 145)

15۔ J۔ Biddulph۔ Tribes of Hidukush، Karachi، reprint، 1977، originally published in 1880، P۔ 108۔ 109

16۔ عثمان علی۔ ’خطّۂ قراقرم: زبانیں اور معاشرہ‘ ، مقبول اکیڈمی، لاہور، 1996ء، ص 18

17۔ A۔ H۔ Dani۔ History of Northern Areas of Pakistan، Sang۔ e۔ Meel Publications، Lahore، reprinted 2007، p۔ 123

18۔ Karl Jettmar۔ Bolor and Dardistan، Islam Abad، 1980، p۔ 64 ؛ اس طرخ کا بیان بڈلف نے دیا ہے۔ دیکھئے : Biddulph۔ Tribes of Hidukush، p۔ 15

19۔ فداعلی ایثار۔ ’شمالی علاقہ جات میں اسماعیلی دعوت: ایک تاریخی جائزہ‘ ، اطرب، کراچی، 1991ء، ص 17؛ Muller۔ Hunza، p۔ 211

20۔ Muller۔ Hunza، p۔ 211
21۔ بڈلف۔ ’ہندوکش کے قبائل‘ ، ص 147

  1. G. T. Vigne. Travels in Kashmir, Ladakh, Iskardo, vol. 2, London, 1872. first published in 1845, pp. 222. 223

کتابیات
استوری، سیّد عالم۔ ’شمالی علاقہ جات کا لسانی جائزہ‘ ، اسلام آباد، 1990ء
ایثار، فداعلی۔ ’شمالی علاقہ جات میں اسماعیلی دعوت: ایک تاریخی جائزہ‘ ، اطرب، کراچی، 1991ء
بڈلف، جون۔ ہندوکش کے قبائل ’، ترجمہ: جاوید شاہین، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 1991ء
ذاکر، محمّد۔ ’سیاچن گلیشیئر‘ ، اسکرد و، ، بلتستان، 1991ء

ڈیورینڈ، کرنل الجیرنن۔ ’سرحدوں کی تلاش‘ ، مترجم: لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان، دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد، 2009ء

زیدی، نادرہ۔ ”بلتی ادب“ ، ’تاریخِ ادبیاتِ مسلمانانِ پاکستان و ہند‘ ، جلد 14، ’علاقائی ادبیات مغربی پاکستان‘ ، (جلد دوم) ، مدیر: سیّد فیّاض محمود، پنجاب یونیورسٹی، لاہور

سکندر، کاچو سکندر خان۔ ’قدیم لداخ: تاریخ وتمدّن‘ ، کاچو پبلشرز، لیہ، لداخ، 1987ء
علی، عثمان۔ ’خطّۂ قراقرم: زبانیں اور معاشرہ‘ ، مقبول اکیڈمی، لاہور، 1996ء

کوہستانی، رازول۔ ”شمالی پاکستان کے آثارِ قدیمہ۔ ایک مختصر جائزہ“ ، ’سربلند‘ ، جلد:1، شمارہ نمبر:1، مدیر: زبیر توروالی، ادارہ بارائے تعلیم و ترقی، سوات، مارچ 2021ء

Biddulph, J. Tribes of Hidukush, Karachi, reprint, 1977, originally published in 1880

Corbin, H. "Nasir-i-Khusrow and Iranian Ismailism” , Cambridge History of Iran. Vol. 4, Cambridge University Press, Cambridge, 1975

Cunningham, Alexander. Ladakh, London, 1954
Dani, A. H. History of Northern Areas of Pakistan, Sang-e- Meel Publications, Lahore,
reprinted 2007
Francke, A. H. A History of Ladakh, Book Traders, Lahore, 1995
Jettmar, Karl. Bolor and Dardistan, Islam Abad, 1980
Mullar, S. J. Hunza, Graz, 1979
Shafi, Iqbal M. Silk Road to Snkiang, Lahore, 1988
Vigne, G.T. Travels in Kashmir, Ladakh and Skardu, Vol. II., London, 1872. first published in 1845

Waddell, L. A. "Tibet” , Encyclopaedia of Religion and Ethics, editted by James Hastings, volume xii, T & T. Clark, Edinburgh, second edition, 1934

 

Facebook Comments HS