راوی دا راٹھ رائے احمد خان کھرل (1857۔ 1785)


راوی دا راٹھ رائے احمد خان کھرل ( 1857۔ 1785 ) ، دھرم سنگھ گورائیہ صاحب کی 1857 کے حالات و واقعات اور رائے احمد خان کی زندگی و مزاحمت پر لکھی گئی ایک نایاب کتاب ہے۔ اس کتاب کے اندر اس وقت کے پنجاب کے علاقے گوگیرہ اور جھامرہ میں ہونے والی مزاحمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی اور ثانوی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ہوئے اس مزاحمت کو بڑے احسن انداز بیان کیا ہے۔ انھوں نے گوگیرہ، جھامرہ اور اوکاڑہ کے کئی دوسرے علاقوں کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے بیانیے کو بھی قلمبند کیا جو اس کتاب کی اہمیت کو چار چاند لگاتا ہے۔

گورائیہ صاحب نے یہ کتاب پنجابی کے گورمکھی رسم الخط میں لکھی ہے جس کا شاہ مکھی میں ترجمہ محمد عاصف رضا صاحب نے کیا ہے جو 21 ستمبر 2023 کو سانجھا ورثہ لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب جدید دور کے تاریخی تناظر کے عین مطابق لکھی گئی ہے، جس کو اٹھارہ ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ایک حصہ اپنے اندر ایک جامع موضوع و معنی رکھتا ہے۔ اگر ان تمام حصوں کا تجزیہ ایک مضمون کی شکل میں پیش کیا جائے تو یہ بہت طویل ہو جائے گا۔ ذیل میں مختصراً ان مضامین کا مرکزی خیال بیان کیا گیا ہے۔

اس کتاب کے پہلے حصے میں پنجاب کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں داخلے سے لے کر مستحکم ہونے تک کے حالات کو مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے، ساتھ میں پنجاب کے جغرافیائی خدوخال، موسموں، فصلوں، لوگوں، پنجابی زبان کے لہجوں، باروں، اور پنجاب پر سکھ راج کی بنیاد کو ایک احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ سکھوں کی بارہ مسلوں، ان کے علاقوں اور ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے ساتھ ہی 1853 میں نیویارک ٹربیون میں کارل مارکس کے آرٹیکل کا حوالہ بھی پیش کیا گیا جو تاریخی طور پر اس کتاب کی افادیت کو مزید تقویت فراہم کرتا ہے۔

اس کے بعد پنجاب میں سکھ حکومت کے خاتمے کو بیان کیا گیا اور اس حصہ میں بابا گرو نانک کی زندگی کے حالات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ پنجاب پر احمد شاہ ابدالی کے نو حملوں اور اس کے خلاف اہل پنجاب کی جد و جہد کو بھی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ رنجیت سنگھ کے عروج اور اس کی موت کے بعد سکھ عہد کے زوال کو بھی بیان کیا گیا ہے اضافی طور پر تراب الحسن سرگانہ کی کتاب (پنجاب اینڈ وار آف انڈیپینڈنس) کا حوالہ دے کر پنجاب میں سکھ عہد اور اسی دوران حکومت برطانیہ اور سکھ حکومت کے درمیان ہونے والی چپقلشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد اگلے حصے میں پنجاب پر برطانوی قبضے اور پنجاب میں مشنری سرگرمیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ 29 مارچ 1848 میں جب مہاراجہ دلیپ سنگھ اور لارڈ ڈلہوزی کے درمیان ہونے والے معاہدے کا تذکرہ کیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب براہ راست حکومت برطانیہ کے زیر انتظام چلا جاتا ہے اور ساتھ ہی دلیپ سنگھ کی جلا وطنی کا حال بھی بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد چوتھے باب ( راوی دا راٹھ) سے کتاب کا اصل متن شروع ہوتا ہے اس حصہ میں مصنف ایک حقیقت کو قلمبند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ تاریخ میں 1857 کی شورش میں پنجاب کو بہت کمتر دکھایا جاتا ہے، اور پنجاب کے سورماؤں کو بطور شدت سند ظافر کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنف ساندل بار کے متعلق سرکاری دستاویزات سے بھی نالاں نظر آتے ہیں۔ وہ کھرل قبیلے کے۔ تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اس دور میں ان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وہ رائے احمد خان کھرل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ جھامرہ میں رائے نتھو خان کھرل کے گھر 1785 میں پیدا ہوئے ساتھ ہی وہ پروفیسر پورن سنگھ کی شاعری کے ذریعے کھرل قبیلے کی بہادری کو بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مصنف نے رائے احمد خان کھرل کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بڑی وضاحت سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے بچپن ہی میں گھڑ سواری، تلوار بازی اور نیزہ بازی میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی۔ رائے احمد خان کے سردار بننے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ اور دوسرے سرداروں سے تعلقات کے بارے میں بھی کافی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

مئی 1857 میں دلی اور میرٹھ میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے پنجاب کی فوج پر کڑی نظر رکھی گئی۔ تھی اور بعض رجمنٹس سے ہتھیار بھی لے لیے گئے تھے۔ مگر پھر بھی بعض علاقوں میں سپاہیوں نے کافی شورش کی۔ جھانسی کی رانی کی حکومت برطانیہ سے خط و کتابت اور بغاوت ( 1885۔ 1828 ) کا بھی بخوبی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 1849 میں جن ہندوستانی سپاہیوں نے انگریزوں کی مدد کی تھی وہ 1857 کی بغاوت میں باغیوں کے حامی تھے۔ یہ بغاوت لدھیانہ، خان گڑھ، حصار اور گوگیرہ میں واقع ہوئی تھی مگر مورخین نے اس بغاوت کو جان بوجھ کر دبا دیا ہے۔

اس کے بعد مصنف نے ساندل بار کے علاقے جھامرہ میں بغاوت کے فوری سدباب کا تذکرہ کیا ہے کہ لارڈ برکلے نے رائے احمد خان سے گھوڑے اور افرادی قوت کا مطالبہ کیا جس پر احمد خان نے تاریخی جواب دیا کہ ہم اپنی زمین، عورتیں اور گھوڑے کسی کو نہیں دیتے۔ اس غیر متوقع جواب سے برکلے آگ بگولا ہو گیا اور رائے احمد خان کو اپنے راستے سے ہٹانے کے منصوب بنانے لگا۔ راجا سرور اور ظہیر حسن کے مطابق پیر فتح شاہ ( چنیوٹ ضلع جھنگ کا رہائشی تھا) کے پاس ایک اعلیٰ نسل گھوڑی تھی جو ڈپٹی کمشنر گوگیرہ کو بہت پسند تھی وہ گھوڑی فتح شاہ نے رائے احمد خان کے پاس بطور امانت بھیج دی جیسے انگریز حکام چاہتے تھے مگر رائے نے یہ گھوڑی دینے سے انکار کر دیا، جو کہ ان کے درمیان چپقلش کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اسی حصہ میں مصنف اسی علاقے کی مختلف جگہوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں یہ بغاوت واقع ہوئی تھی ان میں ساہیوال ( منٹگمری) ، گوگیرہ اور کمالیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس کے بعد مصنف رائے احمد خان اور فریڈرک برکلے کے درمیان ہونے والی جنگ کا ذکر کرتے ہیں اس میں اول تو وہ برکلے کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہیں اس کا ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر گوگیرہ کے۔ عہدہ تک پہنچنے کا سفر مختصراً بیان کرتے ہیں

اللہ دتہ اعجاز (اے ڈی اعجاز ) کے مطابق رائے احمد خان کے جوئیہ خاندان کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔ رائے احمد خان نے ہی جوئیہ خاندان کے اسیر افراد کو جیل سے رہا کروایا تھا۔ مگر ابھی تک کچھ افراد جیل میں ہی تھے ان کے لیے رائے احمد خان نے 26 جولائی، 1857 کو جیل پر حملہ کر کے باقی دوستوں کو بھی آزاد کروا لیا۔ اس حملے کے نتیجے میں انگریز سرار نے دردائک راوی کے دونوں اطراف بزرگوں، عورتوں اور بچوں کو قید کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی انھوں نے اعلان کروا دیا کہ اگر رائے احمد خان اپنے خاندان کو زندہ دیکھنا چاہتا ہے تو اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دے۔

اس بات پر رائے احمد خان نے برکلے کے سامنے گرفتاری دے دی۔ جب راوی کے لوگوں کو احمد خان کی گرفتاری کی خبر ہوئی تو وہ آگ بگولا ہو گئے۔ اور پھر دوبارہ بغاوت کا خدشہ ظاہر ہونے لگا۔ جب یہ خبر انگریزی افسروں تک پہنچی تو انھوں نے کچھ شرائط پر رائے احمد خان کو رہا کر دیا۔ رام موہن داس کی کتاب پنجاب کے مطابق لاہور کے شمالی اور ملتان کے جنوبی علاقے میں گوگیرہ بغاوت ہوئی جس میں ہڑپہ اور پاکپتن کے علاقے بھی شامل تھے۔ اس کا سردار رائے احمد خان کھرل تھا۔ 16 ستمبر 1857 کے دن سرفراز خان کھرل نے ناہن سنگھ بیدی ماچھی سنگھ اورڑا کلیانا اور گلاب سنگھ چشتی کے ساتھی مل کر اس بغاوت کی مخبری کر دی۔ اس کتاب کے اسی حصہ۔ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے اس بغاوت کو اجاگر کیا ہے۔

اس سے اگلے حصے میں مصنف نے مختلف قبیلوں کے سرداروں کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے۔ ستمبر 1857 میں رائے احمد خان اور مراد کے کاٹھیے کے سرداروں کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ مراد فتیانے اور ترہانا خاندان کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے علاوہ سروآنے، کاٹھیے، بگھیلے، وٹو، لک اور نول قبائل کے معزز لوگوں کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں۔

اس کے بعد مصنف نے اس جنگ کے نامور سورماؤں کا ذکر کیا ہے جس کا مختصر خلاصہ کچھ یوں ہے۔ مراد فتیانا سیال قوم کا ایک بہادر جنگجو تھا۔ انھوں نے رائے احمد خان کھرل کی موت کے بعد برکلے کو مار کر ان کا بدلہ لیا تھا اس کے بعد مراد کو گرفتار کر کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کالے پانی کی سزا دے دی گئی تھی جس کا ذکر زبانی تاریخ میں موجود ہے۔ سارنگ بھی رائے احمد خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ان کا تعلق بھی کھرل قبیلے سے تھا۔ انھوں نے 21 ستمبر 1857 کو انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

ولی داد مردانا نے انگریز سرکار کے قاصدوں کے لیے وبال جان تھا۔ انھوں نے بھی 1857 کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بعد میں گرفتار ہو گئے اور بحری جہاز سے فرار ہو کر واپس آ گئے پھر دوبارہ قید ہو گئے اور اسیری کی حالت میں ہی گنٹھیا کی مرض کی وجہ سے وفات پا گئے۔ مامد اور نتھو کاٹھیا ساہیوال کے گاؤں مراد کے کاٹھیے کے دو مشہور جنگجو تھے۔ انھوں نے کئی بار انھوں نے ہڑپہ پر قبضہ کیا اور بعد میں مفرور قرار پائے۔ مامد بعد میں گرفتار ہو گیا اور نتھو کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔

سوجھا بھدروں بھی اس جنگ کا ایک ہیرو تھا۔ وہ گوریلا جنگ کا بڑا کاریگر تھا۔ جب مراد فتیانے نے برکلے پر حملہ کیا تھا تو سوجھے بھدروں نے ہی لاٹھی مار کر برکلے کا کام تمام کیا تھا۔ اس کے علاوہ حضرت بابا نگاہی شاہ چنیوٹی، امانت علی چشتی، جلا ترہانا وغیرہ نے اس جنگ میں انگریزوں کے خلاف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

اس کتاب یہ خوبصورتی ہے کہ مصنف نے میں جہاں 1857 کی جنگ کے مجاہدان کا ذکر کیا ہے وہیں انھوں نے انگریز سرکار کے وفادار کا ذکر بھی کیا ہے جن میں سرفراز خان کھرل، صادق محمد خان، جیوے خان، گلاب علی چشتی، مہر سنگھ، ڈانگی سنگھ۔ کنہیا رام، ماچھی سنگھ اروڑا اور سمپورن سنگھ بیدی وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام افراد نے انگریز سرکار کی ہر ممکنا مدد کی تھی۔

مصنف نے برکلے کی موت کے واقعے اور مراد فتیانے کی جنگی چالوں کو بھی زبانی تاریخ کا سہارا لیتے ہوئے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ برکلے کی موت کے بعد ارد گرد کے علاقوں پر ہونے والے مظالم کو بھی بیان کیا ہے۔

اس کتاب کا یہ امتیاز ہے کہ اس میں سرکاری دستاویزات کو بھی بیان کیا گیا ہے جن میں ایک لیفٹیننٹ این دبلیو الفیسن ڈپٹی کمشنر گوگیرہ کی ایک رپورٹ ہے جس میں رائے احمد خان کی مختلف مقامات پر موجودگی کے بارے میں ملنے والی خبروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سر لارنس چیف کمشنر پنجاب کے لارڈ برکلے کو بھیجے گئے خطوط کا ذکر بھی کیا گیا ہے، ساتھ ہی دوسرے افسران کی خط و کتابت کا ذکر بھی ملتا ہے۔

کتاب کے آخری حصہ میں مصنف نے آزادی کی جدوجہد کے جلد خاتمے کے محرکات کا ذکر کیا ہے۔ اور ساتھ ہی انگریز سرکار کے مددگاروں کو ملنے والے انعامات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

مختصراً اس کتاب میں 1857 کی جدوجہد میں گوگیرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں مجاہدین اور عام لوگوں کی دورانِ جنگی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ الغرض یہ کتاب جنگ آزادی کو گوگیرہ مومنٹ کے تناظر میں دیکھنے کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔

Facebook Comments HS