مہنگائی اور شرح مہنگائی میں فرق
ملک میں گزشتہ چند سالوں اور خصوصاً 2018 اور پھر 2022 سے مہنگائی کا ایک طوفان آیا جس سے عام آدمی کی زندگی عذاب بن گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت شرح مہنگائی میں کمی کے دعوے کرتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن عوام دو وقت کی روٹی کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی دعوے جھوٹے ہیں یا عوام حکومتی دعووں کے مطابق شرح مہنگائی میں کمی سے فائدہ نہیں اٹھا پاتی۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم مہنگائی اور شرح مہنگائی میں فرق جان سکیں۔
مہنگائی کو عوامی زبان میں ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ جب اشیائی ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مہنگائی ہو رہی پے۔ جب قیمتیں کم ہو رہی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے۔
معاشی اصطلاح میں مہنگائی کے لیے inflation یا افراط زر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے پاس دولت (پیسے ) بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور جب طلب میں رسد سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے تو قیمتیں بڑھتی ہے۔ یہ معاشی ترقی کا اشارہ ہوتا ہے کہ بہت لوگ اشیا خریدنے کے قابل بن جاتے ہیں اور پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے۔
دوسری جانب مہنگائی میں کمی کو deflation یا تفریط زر کہتے ہیں جس کا مطلب لوگوں کے پاس پیسے کی کمی کی وجہ سے قوت خرید میں کمی آتی ہے اور طلب کی کمی کی وجہ سے قیمتیں گرنے لگتی ہے۔
مثال کے طور پر ایک دکاندار کے پاس 1000 کلو چینی ہے جسے وہ 100 روپے کلو بیچ رہا ہے۔ اب اگر 1000 لوگ 5۔ 5 کلو چینی خریدنا چاہتے ہیں تو وہ دکاندار اپنے گاہکوں کو 5000 کلو چینی پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 4000 کلو مزید چینی مارکیٹ سے چینی خریدے گا۔ اس پر ٹرانسپورٹ وغیرہ کا خرچ بھی آئیگا اور یوں چینی کی فی کلو قیمت 5 روپے کے اضافے کے ساتھ 105 روپے ہو جائے گی۔
لیکن اگر اسی دکاندار کے 1000 کلو چینی کے 100 خریدار ہو اور ہر کسی کی ضرورت 1 کلو ہو دکاندار وہ بقایا 900 کلو چینی یا تو 100 روپے کلو سے کم پر بیچے گا تاکہ اس کا لگایا ہوا پیسہ واپس ہاتھ آ جائے یا وہ 100 روپے میں بیچے گا تو اس کی ایک دن کی فروخت ایک مہینے میں ہو جائے گی جس سے اسے کوئی خاص نفع نہیں ہو گا۔ اس کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا اور معیشت سست ہو جائے گی۔
لیکن یہ باتیں معیشت کے عام اصولوں کے مطابق تو درست ہیں لیکن پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال میں یہ باتیں مکمل غلط ثابت ہوتی ہیں۔
یہاں مہنگائی کا مطلب inflation نہیں ہے بلکہ صرف قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ Price hike ہے۔ یعنی قیمتیں بڑھنے کی وجہ لوگوں کی قوت خرید یا پیسے میں اضافہ نہیں ہے بلکہ اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن پیسہ کم ہوتا جا رہا پے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اجرت اور تنخواہیں کم ہو رہی ہیں۔ ظالمانہ ٹیکسز لگائے جاتے ہیں اور لوگ خریداری کم کر رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ افراط زر نہیں بلکہ تفریط زر کے ساتھ مہنگائی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے معیشت ڈوب رہی ہے اور عوام رل رہے ہیں۔
جب اصل صورت حال یہ ہے تو حکومت شرح مہنگائی میں کمی کے دعوے کیوں کر رہی ہے۔ تو اس لیے ضروری ہے کہ شرح مہنگائی پر تھوڑی روشنی ڈالی جائے۔
دیگر اعداد و شمار کے علاوہ مہنگائی کا تعین بھی پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس یعنی قومی ادارہ شماریات کے ذمے ہے اور اس کے لیے یہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے طریقہ کار کا استعمال کرتا ہے۔
اس کے لیے بنیادی ضروریات اور خوراک کی کئی چیزوں کی ایک تصوراتی باسکٹ یا ٹوکری بنائی جاتی ہے اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ پہلے ایک ہفتے، ماہ یا سال میں اس ٹوکری کو خریدنے کے لیے کتنے پیسوں کی ضرورت تھی اور اب کتنے کی ضرورت ہے۔
اس ٹوکری میں شامل اشیا میں خوراک کی مد میں چکن، گندم، چاول، آٹا، پیاز، دودھ، دالیں، دیگر سبزیاں اور پکانے کا تیل جیسی اشیا ہیں۔
اسی طرح کچھ چیزیں خوراک نہیں مگر بنیادی ضروریات ہیں مثلاً گھر کا کرایہ، بجلی، گھریلو آلات، ایندھن، ٹرانسپورٹ وغیرہ۔
مثال کے طور پر ایک سال پہلے یہ ٹوکری 1000 روپے میں ملتی تھی اور اس سال اس کی قیمت 1500 روپے ہو گئی تو شرح مہنگائی میں اضافہ 50 ٪ ہوگی۔ لیکن اگر اگلے سال یہی ٹوکری پھر بھی 1500 کی ملتی ہو تو شرح مہنگائی 0 ٪ ہوگی لیکن ٹوکری تو رہے گی پھر بھی مہنگی۔ یعنی وہ ٹوکری 1000 سے 1500 پر چلی گئی اور دوبارہ نہ ہزار پر آ گئی نہ ہزار سے کم ہوئی مگر شرح مہنگائی 50 ٪ سے 0 ٪ پر آ گئی۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شرح مہنگائی میں 50 ٪ کمی واقع ہوئی۔
لہذا شرح مہنگائی، سٹاک ایکسچینج میں تیزی ٹیکس ہدف کی حصولی وغیرہ محض الفاظ اور اعداد و شمار کی ہیرا پھیری ہے جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ عوام کو سہولت فراہم کرنی ہے تو یا تو روزگار کے مواقع بڑھا کر عوام کی قوت خرید میں اضافہ کیا جائے یا اشیا کی قیمتیں کم کی جائے تاکہ لوگ اپنی مالی استعداد کے مطابق اپنی روزی روٹی کا بندو بست کر سکیں۔


