ٹی ٹی پی کا معما
ابھی حال ہی میں، پاکستانی حکام نے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے (خاص طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف) ۔ اس کے بعد پاکستان میں اس آپریشن کے خلاف بہت سخت عوامی رائے عامہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ خیبرپختونخوا (کے پی کے ) کے عوام اور سابق فاٹا کے وہ رہائشی جو اس سے پہلے اس طرح کے فوجی کارروائیوں سے متاثر رہ چکے ہیں، حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سابق فاٹا کے لوگ عسکریت پسند گروپوں کے حق میں ہیں، بلکہ وہ نقل مکانی اور دیگر مصائب سے خوفزدہ ہیں۔
تاریخی طور پر، ٹی ٹی پی 2007 میں قائم ہوئی، جب اس وقت کے پاکستانی حکام نے ان کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ پاک فوج نے امریکہ کی چھتری تلے ان کے خلاف کئی آپریشن کیے جن میں آپریشن ”راہ حق“ ، ”راہ نجات“ ، ”ضرب عضب“ اور ”ردالفساد“ شامل ہیں۔ لیکن، دہشت گرد آج تک پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہاں، ہم بحث کر سکتے ہیں کہ فوجی آپریشن اس مسئلے کا طویل مدتی یا مستقل حل نہیں ہیں۔ ٹی ٹی پی کے بیت اللہ محسود سے لے کر ملا فضل اللہ تک کی اہم قیادت مختلف حملوں میں ماری جا چکی ہے۔ ٹی ٹی پی کا سب سے مہلک حملہ اے پی ایس پشاور تھا جہاں انہوں نے 149 معصوم اسکول بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ جب مفتی نور ولی محسود ٹی ٹی پی کے نئے رہنما بنے تو انہوں نے حکمت عملی تبدیل کر کے صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا حکم دیا۔
بہرحال، جب اگست 2021 میں امریکہ نے افغانستان سے انخلا اور افغان طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کیے تو پاکستانی حکام نے توقع لگائی کہ اس سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی۔ یہ بھی اپنی جگہ پہ حقیقت ہے کہ پاکستان افغان طالبان کا خفیہ حامی رہا اور اس نے دوحہ معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں، پاکستانی حکام نے افغان طالبان کی درخواست پر ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی اور جون 2022 میں عسکریت پسند جنگ بندی پر رضامند ہوئے۔
پاکستانی حکام نے ٹی ٹی پی کے کچھ اعلیٰ کمانڈروں کو بھی رہا کیا۔ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو بھی سرحد پار کر کے پاکستان میں اپنے پرانے ٹھکانوں میں بسنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن، وہ نومبر 2022 میں یک طرفہ طور پر جنگ بندی کے معاہدے سے دستبردار ہو گئے، اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر نئے مہلک ترین دہشت گرد حملے شروع کر دیے۔
تاہم مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے اور پاکستان کی تمام توقعات غلط ثابت ہوئیں بلکہ اس اقدام نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب پاکستان نے پھر TTP کے عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے ”عزم استحکام“ آپریشن کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا فوجی آپریشن اس مسئلے کا حل ہے؟ پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں یہ پانچواں بڑا فوجی آپریشن ہو گا۔ پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز گزشتہ چار فوجی آپریشنز میں کالعدم ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو ختم نہیں کر سکیں۔
تاہم، یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ، کیا وہ اس آپریشن میں کالعدم تنظیموں کو ختم کر پائیں گے؟ اگر ہماری مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت جو موجودہ حکومت کی اہم اتحادی ہیں، یہ سوچتی ہیں کہ یہ فوجی آپریشن کام کرے گا اور کالعدم ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو کردے گا تو وہ غلط سمت میں ہیں۔ پاکستان کم از کم اس وقت اپنی پہاڑی مغربی سرحد پر گوریلا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
درحقیقت پاکستان کو پہلے ہی سخت معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندرونی انتشار اور سیاسی بے یقینی عروج پر ہے۔ روایتی حریف بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات تاریخ کے سب سے نچلے مقام پہ ہیں۔ چین ہم سے زیادہ خوش نہیں ہے کیونکہ، پاکستان میں ان کے شہریوں کے خلاف مہلک ترین دہشت گرد حملے ہوتے ہیں۔ سی پیک منصوبوں کی سست رفتار ان کے لیے ایک اور تشویش ہے۔ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران کے ساتھ مبہم تعلقات ہیں۔
پاکستان نے ابھی تک اس منصوبے پر عملی کام شروع نہیں کیا۔ حالانکہ، اس پر ایران پہلے ہی پاکستان کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں جانے کا اشارہ دے چکا ہے۔ سعودی عرب جیسے اسلامی برادر ممالک اب پاکستان کو اتنا بھاؤ نہیں دیتے جیسا کہ پہلے دیتے تھے۔ کیونکہ، ریاض اپنے علاقائی حریفوں جیسے ایران، شام اور یمن کے ساتھ مفاہمت کی طرف ہے۔ اس لیے ریاض کے لئے پاکستان اب اس طرح اہمیت نہیں رکھتا۔ مزید برآں، اس بات کے امکانات بھی کم ہیں، کہ امریکہ اس فوجی آپریشن میں عملی طور پر پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا سوائے زبانی حمایت کے۔
اس لیے پاکستان کو پختونخوا میں اپنی انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں۔ درحقیقت پاکستان کو قانونی یا غیر قانونی طریقوں سے افغان طالبان کو تخت سے ہٹانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری کے سامنے یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ افغان طالبان نے بندوق کے زور پر کابل پر قبضہ کیا۔ یہ جمہوری طور پر منتخب حکومت نہیں ہے۔ پاکستان ان کی مذمت کرے اور افغانستان میں جمہوری سیٹ اپ کی حوصلہ افزائی کرے۔ اگر افغان طالبان کمزور ہوتے ہیں تو یقیناً اس سے کالعدم ٹی ٹی پی کی طاقت متاثر ہوگی۔ لہٰذا، پاکستان کو افغانستان میں افغان طالبان کو نشانہ بنانے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے کیونکہ، وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے حقیقی نظریاتی آقا اور پاکستان میں امن کو خراب کرنے والے ہیں۔ ورنہ افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت ہوتے ہوئے پاکستان میں امن قائم نہیں ہو گا۔


