پچانوے فیصد عورتیں؟
ذاتی طور پر مجھے لفظ جاہل پسند ہے۔ جیسے یہ کسی کا پیار کا نام ہو۔ یا پھر اس میں ایک وعدہ چھپا ہو کہ اس اعتراف کے بعد سیکھنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا۔ ہمارے روزمرہ میں اس لفظ کا استعمال کسی کی لاعلمی کے تناظر میں کیا جاتا ہے ۔ ہم ہر وقت کسی نہ کسی شے سے لاعلم ہوسکتے ہیں اور علم کی مقدار اتنی زیادہ ہے ہے کہ اچھے خاصے لوگ بھی خود کو علم کے بحر بیکراں کے کنارے محض چند سنگریزوں سے کھیلتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ہر وہ جو سمجھتا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے وہ کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ اپنی لاعلمی کی حد سے واقفیت ہی اصل میں ہمارے مزید جاننے اور سیکھنے کا آغاز ہوتا ہے۔ یعنی ہم سب تھوڑے بہت جاہل ہیں؟
اور یہ ماننا آسان نہیں۔ اسی لیے شاید کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ آئے۔ وہ مجھ سے ان الفاظ کو واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیں۔ لیکن قصور میرا نہیں ہے۔ کہتے ہیں اپنی عقل اور دوسرے کی دولت ہمیشہ زیادہ لگتی ہے۔ اور یہ ذکر آج کا نہیں۔ پہلے دن سے۔ جہاں سب اپنی اپنی آسانیاں تلاش کر رہے تھے۔ ہم ایک ایسی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لائے جس سے دوسرے خائف تھے۔ بندہ کچھ تو سوچتا ہے کہ یار یہ کیسی بھاری امانت ہوگی کہ اتنا بڑا آسمان تک اس کو نہیں اٹھانا چاہتا تو ہم کون ہیں۔ لیکن نہیں۔ انسان کے ذہن میں اپنا سیلف امیج ہمیشہ سے ہی کچھ ڈسٹورٹڈ رہا ہے۔
”ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے۔ لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔“
الاحزاب : 72
کئی جگہوں پر عورتوں کو باقیوں سے زیادہ جاہل اور کم علم سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ عورتیں ایک زیادہ سوچنے والا دماغ اور نظری باریک بینی کی مالک ہیں۔ شاید ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ عورتوں کو یقیناً پہلے معاشرے میں دانائی کا منبع سمجھا جاتا تھا۔ ان کی کہانیاں ان کی قوم کی فکری راہنمائی کا سرچشمہ تھیں۔ ماؤں کی لوریاں بچوں میں ذہنوں میں کردار کی نشو و نما کے بیج بوتی تھیں اور ان کے طور طریقے پورے معاشرے کی تہذیب کے علم بردار تھے خواہ وہ غذائیت و خوراک سے متعلق ہو یا کے اخلاق و اقدار سے۔ اپنے اس کردار سے عورت بتدریج لاتعلقی کو اس کی لاعلمی تو تصور نہیں کر لیا گیا؟
کچھ عرصہ پہلے ایک اصطلاح ”پڑھے لکھے جاہل“ بہت عام تھی۔ یعنی وہ لوگ جو خواندہ تو ہیں لیکن ان میں وہی پرانی لاعلمی ابھی باقی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قوم نے علم اور جہالت کی ایک سی تعریف بھی ڈیفائن نہیں کی ہوئی۔ فارن کوالیفائڈ کے لیے لوکل ڈگری والا کم علم ہے۔ پرائیویٹ کالج کے لیے سرکاری، انگلش بولنے والوں کے لیے اردو میڈیم۔ ان کے لیے مدرسے سے فارغ التحصیل عالم کورس والے۔ ان کے لیے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دین کا علم رکھنے والے کو معاشرہ میں کچھ مخصوص مواقع کے علاوہ عالم لکھا اور سمجھا نہیں جاتا۔ اور وہ مواقع زیادہ تر طلاق، جنازے اور کبھی کبھی جائیداد کی تقسیم سے متعلق ہوتے ہیں۔ کہیں علم کی بنیادی تعریف میں تحریف اور متنوع دہرا معیار ہی عورتوں کی عمومی جہالت کی بنیادی وجہ تو نہیں؟
کچھ لوگوں کا خیال ہے عورتوں کے مسائل بشمول ان کی کم علمی ان کی لرنڈ ہیلپ لیس نیس کا نتیجہ ہیں۔ کچھ عورتیں کہتی ہیں ہو سکتا ہے وہ جاہل ہوں لیکن اس کی وجہ ان کے گھر والے ہیں۔ کچھ کہتی ہیں ان کی جہالت یہ ظالم مردوں کا قصور ہے۔ یا پھر معاشرے نے یہ جہالت ان پر تھوپی ہے۔ شاید ان کا اپنی باؤنڈریز کی حفاظت نہ کرنا ان کی غلطی تھی۔ شاید بتانے والا انہیں جاہل کہے بغیر جاہل کہتا تو وہ زیادہ سیکھتیں۔ شاید علم سے بھی زیادہ انہیں عزت کی ضرورت ہے۔ لیکن میری ایک آنٰٹی ہیں وہ کہتی ہیں اپنی عزت خود کروائی جاتی ہے۔ وہ ناراض ہیں۔ میں نے بس یہ پوچھا تھا : کیا میں جاہل ہوں؟ آخر آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟
ویسے تو شکر ہے یہ ڈیٹا یو۔ این کی رپورٹ میں پبلش نہیں ہوا۔ ورنہ اور مشکل ہوتی۔ ابھی تو وہ ہمیں کچھ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک طرف تو عورتوں کی خواندگی کی شرح انچاس فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں سٹنڈڈ گروتھ کا گراف بھی اوپر جا رہا ہے۔ جس کی وجہ مناسب غذائیت کی خوراک میں عدم موجودگی ہے۔ اس سے پرداخت کے دوسرے مسائل کے علاوہ دماغی صلاحیتوں میں کمی کا رجحان بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ مگر دنیا میں بیشتر معاشرتی جہالت کے شکار گھرانوں میں بچیوں کو جان بوجھ کر کم خوراک دینا عام ہے۔ کیا عورتوں کا بچیوں کو کم خوراک دینا ان کی جہالت کی وجوہات میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
ابھی میں پچانوے فیصد عورتوں کے جاہل ہونے پر مزید غور کر ہی رہی تھی کہ اچانک مجھے اس سروے پر شک ہونے لگا۔ سروے سیمپلز، لارج نمبر کی ترتیب و تشکیل کے بارے میں میرا علم واجبی ہے۔ کہ سکتے ہیں میں اس علم میں کچھ جاہل ہوں۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ پچانوے فیصد خواتین جاہل ہوں اور ہماری قوم کا یہ حال ہو کہ اسے دین تو کیا صفائی کے بنیادی اصولوں سے بھی واقفیت نہ ہو۔ بدنظمی کی حالت یہ ہو کہ چار لوگ سیدھی لائن میں کھڑے نہ ہو سکیں۔
یہ مثال اس لیے دی کہ سنا ہے خواتین طبعا صفائی، سلیقہ اور ترتیب کو پسند کرتی ہیں۔ خیر اس کا تعلق شاید جہالت اور علم سے نہیں بنتا۔ لیکن جاہل کا متضاد ہوتا ہے عالم اور میں اب اس بات پر حیران اور پریشان ہوں کہ ہمارے پاس ساٹھ لاکھ عالم خواتین موجود ہیں۔ عالم تو ویسے ایک ملک میں دس بیس بھی کافی ہوتے ہیں۔ مگر سوچیں ساٹھ لاکھ عالم خواتین۔ یعنی وہ جو علم رکھتی ہیں۔ وہ بھی دین کا ؟
اب معلوم نہیں آپ دین کے علم کا کیا مطلب لیتے ہیں۔ لیکن اگر دین کے علم کا مفہوم یہ ہے کہ ہم انسان کے اٹھائے گئے بار امانت کو سمجھنے اور اس ذمہ داری کو انصاف سے ادا کرنے کا طریقے کو عملی زندگی میں اپنے ارد گرد کسی نہ کسی طور لاگو کرنے کی کاوشوں میں مصروف عمل ہوں۔ تو سو میں سے پانچ عالم خواتین کے حساب سے ہر خاتون کے حصے انیس عورتیں آتی ہیں۔ اور میرا خیال ہے یہ ایک پر امید صورتحال ہے۔ لیکن اگر نتائج کہتے ہیں کہ پچانوے فیصد عورتیں تو مکمل جاہل ہیں اور باقی نیم خواندہ۔ توہم مشکل میں ہیں۔
پھر بھی ہم میں ساٹھ لاکھ نہ سہی ساٹھ ہزار۔ ساٹھ سو یا پھر صرف ساٹھ۔ ایسی عورتیں یقیناً موجود ہیں جو پرانی نایاب کتابیں بیچ کر نئے برتن نہیں خریدتیں۔ علم کو ڈگری اور پروفیشن کے مترادفات میں نہیں لیتیں۔ قرآن کو صرف وظیفے اور برکت کی کتاب نہیں سمجھتیں۔ جو جہل کو لاعلمی کے معانی میں لیتی ہیں۔ اور نظریات پر فکر کی عادی ہیں۔ جن کی عزت نفس ہمیشہ مجروح نہیں رہتی۔ جو اپنی اور دوسروں کی زندگی کو ایک بے کیف مسابقت اور ایک بے نام مبارزت سے مسخ نہیں کر رہیں۔ جو اپنے اپنے حلقے میں اس بکھرے ہوئے نوعمر گروہ کی فکری اور نظریاتی راہنمائی کی اہل ہیں۔ انہیں کہیں سے بلائیں۔ بڑا اندھیرا ہے۔

