ایتھوپیا کیوں مسلسل ترقی کر رہا ہے


ایتھوپیا افریقہ کا اس وقت سب سے قدیم آزاد ملک ہے۔ جسے پرانے وقتوں میں حبشہ بھی کہا جاتا تھا۔ جس کی آبادی اس وقت تیرہ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ ایتھوپیا نائیجیریا کے بعد افریقہ کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، اور اس خطے میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ دو دہائی پہلے یہ ملک دنیا کا غریب ترین ملک تھا۔ اس میں قحط سالی سے لاکھوں لوگ مر گئے تھے۔ اس کے بعد خانہ جنگیوں نے اس کی رہی سہی کسر بھی پوری کرلی تھی۔

اس میں نہ سڑکیں تھیں اور نہ ہی مواصلات کے دیگر ذرائع تھے۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ نوے فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی نچلی ترین سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ اس ملک میں چالیس فیصد سے زیادہ بچے غذائی قلت کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ وبائی امراض سے مرنے والوں کی تعداد بھی اس ملک میں بہت زیادہ تھی، صحت کی بنیادی سہولیات بھی نوے فیصد آبادی کو حاصل نہیں تھیں۔ یہ ملک قدیم زمانے سے ہاتھی دانت، کچھوے کے خول، گینڈے کے سینگ، سونا، چاندی اور غلاموں کی تجارت کے لیے مشہور تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد کمیونسٹ اور کیپٹلسٹوں کے سرد جنگ اور مقابلے نے اس ملک کو بار بار بھوک غربت اور جنگوں میں جھونک دیا تھا۔ اپنے اطراف کے افریقی قبائل سے اس ملک کے باشندوں نے اتنی جنگیں لڑی ہیں کہ اس کا حساب رکھنا بھی مشکل ہے۔ یہ صومالیہ تک میں داخل اندازی کرتے تھے۔ پھر اٴریٹیریا کا مسئلہ ان کو درپیش رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے اور اس ملک سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اریٹیریا نے اس کی واحد بندرگاہ بھی چھین لی، یوں یہ ملک لینڈ لاک ہو گیا۔

مگر پھر وہ کرشمہ ہوا کہ جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس ملک کے سیاسی اور انتظامی لوگوں نے ایک فیصلہ کیا کہ یہ سب کا ملک ہے، یہاں اب کے بعد جو بھی ہو گا وہ اس ملک کے فائدے کے لیے ہو گا۔ سیاست کو خدمت بنا دیا گیا، فوج کو دفاع کے علاوہ تمام کاموں سے بے دخل کر دیا گیا، معدنیات اور دیگر ذرائع پیداوار کو ملکی منڈیوں میں مسابقت کے عملی اصولوں کے مطابق تجارت کے لیے پیش کیا گیا۔ بنکوں کے ساہوکاروں کو لگام ڈالی گئی اور شرح سود کو ساڑھے پانچ فیصد تک رکھنے کا انتظام کیا گیا، سرکاری اور فوجی مراعات کا یکسر خاتمہ کر دیا گیا۔

تنخواہوں اور اجرت کا یکساں نظام رائج کیا گیا، انصاف کی فراہمی کو آسان بنا یا گیا، اور اطراف کے ملکوں سے چھیڑ چھاڑ بند کردی گئی، مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی اور اس ملک کو حقیقی جمہوری ملک بنانے کا عہد کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بغیر کسی سمندری حدود و بندرگاہ کے ایتھوپیا کی معیشت مسلسل دس فیصد سے زیادہ کے نمو کے ساتھ ترقی کرنے لگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دنیا میں صرف پانچ ہی ممالک ہیں جن کی شرح نمو دس فیصد سے زیادہ رہی ہے، قطر، ترکمانستان، آذربائجان، ایتھوپیا اور چین۔

ایتھوپیا کو چھوڑ کر باقی ممالک کبھی بھی کسی قحط کا شکار نہیں ہوئے۔ ان باقی چار ممالک میں غربت کی شرح کبھی بھی نہیں بڑھی۔ اور ان دیگر ممالک میں اقتصادی، مواصلاتی، تجارتی اور سرمایہ کاری کا ڈھانچہ ہمیشہ سے بہتر رہا ہے۔ ایتھوپیا کو ترقی کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور بنیادی انسانی سہولیات بھی فراہم کرنے کا چیلنج درپیش تھا۔ ان کی اس کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے ہیں۔ لیکن اصل وجہ بندوق چھوڑ کر قلم اٹھانا ہے۔

ایتھوپیا میں بھی پاکستان کی طرح لاتعداد مذہبی گروہ تھے جو مذہب کو اپنے فائدے اور مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے اور دیگر قوتیں بھی ان کا استعمال کرتی تھیں۔ ترقی کے دور سے پہلے اس ملک کے سیاست دان اور فوجی امر اپنی دولت فرانس اور دیگر ممالک میں رکھتے تھے۔ وہ صرف حکومت کرنے یا دولت جمع کرنے اس ملک میں آتے تھے اور جب وہ حکومت اور طاقت میں نہیں رہتے تو اس ملک سے دور کسی دوسرے یورپی ملک میں عیاشی کر رہے ہوتے تھے۔

ان لوگوں نے معدنیات اور ہر منافع بخش کام کو آپس میں بانٹ رکھا تھا۔ یہ لوگ زرعی اجناس تک کو کسانوں سے اونے پونے خرید کر پچاس گنا مہنگا کر کے فروخت کرتے تھے۔ سمگلنگ کا کاروبار باقاعدہ ایک حق کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور صرف طاقتور ہی سمگلنگ کے حقدار تھے، عام لوگوں سے بیگار لینے کا رواج عام تھا۔ یہ ملک آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض ترین ملک تھا۔ مگر نظام کو درست کر کے ہی اس نے سب سے پہلے اپنے آپ کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی چنگل سے نکالا۔

اور ان کے سارے قرضے ادا کر دیے اور ان کے نمائندوں کو جو اس کے بنکوں کے نظام کو کنٹرول کرتے تھے ان کو ملک سے بے دخل کیا اور اپنی بنکنگ کے نظام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ ملک جس کو خدا نے زرخیز زمین دی ہے۔ اور اس کا زیادہ دارو مدار اس کی زراعت پر ہے۔ اس نے اس پر توجہ دینا شروع کردی اور چند ہی برسوں میں زرعی پیداوار کا حصہ اس کی جی ڈی پی میں پچاس فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ یوں یہ ملک جو کسی زمانے میں قحط سالی کا شکار تھا اور اس کی نصف سے زیادہ آبادی کو خوراک میسر ہی نہیں تھی، خوراک میں نہ صرف خود کفیل ہو گیا بلکہ یہ سعودی عرب کو زرعی اجناس فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی بن گیا۔

زراعت کے ساتھ ساتھ مال مویشی پالنا بھی اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے آیا۔ جنگوں اور خانہ جنگی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان مال مویشی پالنے والوں کا ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے ملک میں غربت کی سطح مسلسل بڑھ رہی تھی۔ مگر امن کے دنوں میں مال مویشیوں کی افزائش کو اتنا بہتر کر دیا گیا کہ اس ملک میں بسنے والے تیرہ کروڑ لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کر کے یہ مال مویشی دیگر ملکوں کو برآمد بھی کرتے ہیں اور اس سے کثیر سرمایہ بھی کماتے ہیں۔

گندم، مکئی، اور دالوں کے ساتھ ساتھ اس ملک میں کافی کی پیداوار بھی بہت زیادہ ہے۔ اس وقت یہ ملک دنیا کے کافی برآمد کرنے والے ملکوں کی پہلی صف میں شامل ہے۔ اس ملک میں ماہرین نے پہلے اس کے ان وسائل کا جائزہ لیا جس سے اس کی مالی قدریں بہتر کی جا سکیں اور زراعت و مال مویشیوں پر توجہ دینے اور اس میں کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے سے وہ اس میں کامیاب ہوئے۔ اس ملک میں چھوٹے کسانوں کی تعداد کل کسانوں کا پچانوے فیصد ہے جو زمینوں سے فصل اُگا کر مارکیٹوں میں بیچتے ہیں اور خود بھی کماتے ہیں اور ملک کی معیشت کو بھی سہارا دے رہے ہیں۔

فصلوں کے سیزن میں کسی بھی طرح کی بلیک مارکیٹنگ کی اجازت نہیں دی جاتی اور فائدے کو کسانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسان اگلے برس زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اسی طرح ماہی گیری کی صنعت بھی مجموعی قومی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ہے۔ یہ تمام ماہی گیری دریاؤں اور مصنوعی تالابوں میں کی جاتی ہے اور اس صنعت سے انہیں کثیر غیر ملکی سرمایہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہ ملک اپنے قدرتی وسائل کا استعمال کرتا ہے اور بجلی پانی کے بہاؤ سے پیدا کرتا ہے جس پر لاگت بہت ہی کم ہے۔

اس ملک میں بہت زیادہ تعداد میں دریا ہیں جن کے پانی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے اور اس سے ان کو تیل کی بچت ہوتی ہے جو ایتھوپیا دوسرے قریبی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ یہ سستی بجلی تمام صنعتوں کو فراہم کی جاتی ہے جس سے ان کی پیداواری لاگت بہت ہی کم آتی ہے جس سے ان کی معیشت پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑتا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بڑے بڑے دریا ہیں اور پانی سے بجلی کی پیدا کرنے کے لاتعداد مواقع ہیں وہاں اسی فیصد بجلی درآمدی تیل اور کوئلے سے بنائی جاتی ہے جس کی قیمت پانی سے بننے والی بجلی سے اسی گنا زیادہ ہے۔

یوں پاکستان سالانہ ہزاروں ارب روپے ان مافیاز کو دیتا ہے۔ ایتھوپیا میں اس مد میں ایک روپیہ بھی کسی کو نہیں دیا جاتا اور اپنی بجلی سے یہ اتنا کماتے ہیں کہ ان کی جی ڈی پی کا چار فیصد اس سے ان کو حاصل ہوتا ہے۔ ایتھوپیا نے مینوفیکچرنگ پر توجہ دی ہے اور اس سلسلے کو مسلسل ترقی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے جی ڈی پی کا اس وقت دس فیصد اس سے انہیں مل رہا ہے۔ سعودی عرب، نیدرلینڈ، امریکہ، امارات، جاپان، جرمنی، اٹلی اور کئی دیگر ممالک کو یہ ملک اپنی زرعی پیداوار، جانور، کھالیں اور دیگر اشیاء برآمد کرتے ہیں اور کثیر زرمبادلہ کماتے ہیں۔

برآمد کرنے کے لیے حکومت نے یک دفتری سہولت مہیا کی ہے یعنی انہیں انتظامی طور پر کسی بھی جگہ تنگ نہیں کیا جاتا۔ اس ملک نے سیاحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ایتھوپیا میں سیاحوں کی دلچسپی کے بہت سارے سامان موجود ہیں جس کا وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس ملک میں سیاحت ہر برس توقع سے زیادہ بڑھ رہی ہے جس کہ وجہ سے اس شعبہ سے وابستہ افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ملک میں ٹیکس لینے کی شرح بہت ہی بہتر اور سب کے لیے یکساں ہے۔

سرکاری ملازمین کے علاوہ سب لوگ سیاست اور یونین سازی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن کسی بھی قومی یا اجتماعی عمل اور کام کو بند یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ترقی سڑکوں اور ریل کی پٹڑی پر سفر کر کے آتی ہے۔ اس کا ادراک اس ملک نے کیا ہے اور اس میں گزشتہ ایک دہائی میں شاندار ترقی کی ہے، سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے اور ریلوے کی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے آمد و رفت اور اشیاء کی ترسیل کو نہایت ہی آسان بنا دیا گیا ہے۔

افریقی ممالک میں ایتھوپیا کی اس شعبہ میں مثال ملنا مشکل ہے۔ سڑکوں اور ریل کی سہولیات کی تعمیر میں بد عنوانی کو روکا گیا اور نہایت ہی شفاف اور پائیدار کام کروایا گیا ہے۔ اس اس سلسلے کو حکومت نے جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔ اس ملک نے ہوائی نقل و حرکت میں مثالی کامیابی حاصل کی ہے، سرکاری اور نجی دونوں سطح پر اس شعبہ نے ایسی ترقی کی ہے کہ اسے دیکھ کر یقین نہیں آتا۔ اندرون ملک اور بیرون ملک پروازوں اور سہولیات کے حوالے سے یہ ملک دوسرے افریقی ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ پروفیشنل طریقہ سے اس صنعت کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ صنعت اس ملک کے فائدہ مند صنعتوں میں سے ایک ہے۔ جس کی ریٹنگ بھی بہت بہتر ہے۔ پاکستان اور ایتھوپیا کا سیاسی نظام بالکل ایک جیسا ہے، طاقتور وزیر اعظم، ایون زیریں ایون بالا، پانچ برس کی مدت، الیکشن کا طریقہ کار، صدر کا انتخاب و اختیارات۔ مگر ایتھوپیا میں حقیقی جمہوریت ہے۔ اس کے انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوتی اور حکومت وہاں کا وزیر اعظم اور اس کی ٹیم چلاتی ہے اور ان سب کو کوئی اضافہ مراعات حاصل نہیں ہیں۔

فوج اور عدلیہ کا حکومت کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ قانون کے دائرہ سے انحراف کرنے کا سلسلہ اب وہاں بند ہو چکا ہے۔ وہاں کی عدالتیں بالکل غیر سیاسی ہیں۔ بس یہ فرق ہے کہ وہاں مقامی حکومتیں انتہائی فعال ہیں اور اپنے تمام امور خود نمٹاتی ہیں اور اپنے اپنے علاقوں کے لیے منصوبہ بندی کرنے اور کام کرنے میں خود مختار ہیں۔ نظام انصاف مثالی ہے۔ وہاں بھی ایک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس اور ذیلی عدالتیں موجود ہیں۔

مگر ان کا نظام تاریخ پر تاریخ نہیں دیتا۔ چار سے چھ ماہ میں ہر کیس کا فیصلہ کر دیتا ہے اور حکومت ہر صورت میں اس پر عمل درآمد کرتی ہے۔ اس ملک کی فوج افریقہ کے بڑے فوجوں میں سے ایک ہے۔ لیکن فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں حصہ لینے تک محدود ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس ملک کو اب مسائل درپیش نہیں ہیں 2020 سے 2022 تک اس میں پھر خانہ جنگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے تیس ہزار کے قریب لوگ بے گھر ہوئے۔

املاک کو نقصان پہنچا اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی مگر اس مسئلہ کا حل انہوں نے آپس میں بیٹھ کر نکالا۔ ایڈز اس ملک کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے جسے کم کرنے اور روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس ملک کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے گزشتہ دس پندرہ برسوں سے حکومتی اخراجات حد سے زیادہ کم کر دیے ہیں اور بابو شاہی کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ اشرافیہ کو اس ملک میں کوئی اضافی سہولت حاصل نہیں ہے۔

اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے یہ مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ اس ملک میں سرکاری سطح پر کام کرنے والے کو صرف تنخواہ دی جاتی ہے۔ وہ شخص چاہے کسی بھی عہدے پر ہو سرکار کے وسائل اپنے اور پنے خاندان کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ ہر کام میں شفافیت لائی گئی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر ہمارے ملک میں بھی حکومت اشرافیہ کے مراعات ختم کردے، عدالتیں سہولیات اور مراعات کی جگہ انصاف پر توجہ مرکوز کریں۔ بجلی کا حصول پانی، ہوا اور سورج کی روشنی سے کیا جائے۔

مواصلات کا نظام درست کیا جائے۔ زراعت پر توجہ دی جائے اور اس کا فائدہ براہ راست کسانوں کو پہنچے۔ نجی طور پر کاروبار کرنے والوں کو تحفظ دے کر قانون کے مطابق ان سے مکمل ٹیکس وصول کیا جائے۔ سیاحت کے لیے ماحول بنایا جائے اور یہاں امن و امان کا مسئلہ حل کیا جائے تو ہم بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے پاس سمندروں تک رسائی بھی ہے۔ چا ر موسم اور زرخیز زمین بھی ہے اور معدنیات کا اور صاف پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے ہمارے پاس ہے کہ آس پاس کے ممالک اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

کیا یہ ظلم نہیں ہے اس خطے کے لوگوں پر کہ جہاں قدرت نے سب کچھ دے رکھا ہے وہاں کی معیشت سانس نہیں لے پا رہی اور جہاں دہائیوں تک جنگیں، خانہ جنگی اور وبائی امراض و خشک سالی نے مسلسل تباہی مچائی وہاں پر ترقی ہو رہی ہے اور بے مثال ترقی ہو رہی ہے۔ سیلابوں سے متاثرہ ملک بنگلہ دیش بھی ترقی کر گیا ہے اور خودکفیل ہو گیا ہے۔ کیا ہم بھی خانہ جنگیوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ اس کے بعد اپنے ملک کو ٹھیک کریں گے۔ یا ہم عقل کا استعمال کر کے ان ممالک کے تجربات اور اقدامات کو دیکھ کر ابھی سے کچھ کریں گے۔

Facebook Comments HS