ادبی و پیشہ ورانہ زندگی کا رشتہ
خالد سہیل کا خط
! محترمی و مکرمی و معظمی حامد یزدانی صاحب
میں جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنی نوجوانی میں
میں ایک شاعر اور فلاسفر بننا چاہتا تھا
اور
میری والدہ مجھے ایک ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں
چنانچہ میں ایک ماہر نفسیات بن گیا جس میں ایک شاعر ’ڈاکٹر اور فلاسفر آپس میں بغل گیر ہو گئے۔
کینیڈا آنے سے پہلے مجھے وہ دن رات اب بھی یاد ہیں جب ایران کے شہر ہمدان میں ایک سال کے قیام کے دوران میں دن بھر بو علی سینا کے مزار کے سامنے ایک بچوں کے کلینک میں کام کرتا تھا اور شام کو مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں کو خطوط لکھتا تھا۔ ان دنوں ایروگرام ملا کرتے تھے جن پر پہلے سے ٹکٹ لگا ہوتا تھا۔ خط لکھ کر اسے تہہ کر کے لیٹر باکس میں ڈال آتا تھا۔
وہ ایک ہی خط تھا جو میں بار بار لکھتا تھا۔ اس خط کا مفہوم کچھ یوں تھا
میرا نام ڈاکٹر خالد سہیل ہے
میں خیبر میڈیکل کالج پشاور پاکستان کا گریجوئیٹ ہوں
اب میں آپ کی یونیورسٹی میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں
میں نے چھ ماہ میں سینکڑوں خطوط لکھے اور بھیجے۔ آخر مجھے تین ممالک کی تین یونیورسٹیوں سے قبولیت کے خط آئے، آئرلینڈ سے، نیوزی لینڈ سے اور کینیڈا کے صوبے نیوفن لینڈ سے۔ میں نے اپنی پروفیسر ڈاکٹر شمیم مجید سے رابطہ کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کینیڈا چلا جاؤں کیونکہ کینیڈا کی فیلوشپ باقی ممالک سے زیادہ معتبر و مستند ہے۔ چنانچہ میں نے اکتوبر 1978 میں میموریل یونیورسٹی نیوفن لینڈ میں داخلہ لے لیا۔
نیوفن لینڈ آنے کے بعد میری ملاقات اپنے یورپی پروفیسر ڈاکٹر جان ہونگ سے ہوئی۔ ایک شام ان کے گھر ڈنر کھاتے ہوئے میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے میرا انٹرویو لیے بغیر مجھے کس بنیاد پر داخلہ دیا تو فرمانے لگے
آپ کے تینوں پروفیسروں نے اپنے ریفرنس لیٹر میں لکھا تھا کہ آپ ایک اچھے شاعر ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر آپ ایک اچھے شاعر ہیں تو ایک اچھے ماہر نفسیات بھی بن جائیں گے۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ ڈاکٹر ہونگ کی بیگم بھی ایک آرٹسٹ تھیں اور ڈاکٹر ہونگ کے دوستوں میں بہت سے شاعر اور دانشور شامل تھے۔
میموریل یونیورسٹی میں چار سال کی تعلیم کے بعد میں نے امتحان پاس کیا اور FRCP کی ڈگری حاصل کر کے ماہر نفسیات بن گیا۔ پہلے میں نے چند سال نیوبرنزوک اور اونٹاریو کے نفسیاتی ہسپتالوں میں کام کیا اور پھر میں نے وھٹبی میں اپنا کلینک کھول لیا۔ میں نے اس کلینک کا نام CREATIVE PSYCHOTHERAPY CLINIC رکھا۔
میں نے وھٹبی اس لیے چنا تا کہ میں ٹورانٹو کے قریب رہ سکوں اور یہاں کے ادبی ماحول کا حصہ بن سکوں۔ میرے لیے ادیب ہونا اتنا ہی اہم تھا جتنا کہ ماہر نفسیات ہونا۔
ہمارے کلینک میں ایک سیکرٹری مارسیلینا ہے، ایک نرس بے ٹی ڈیوس ہے اور ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر سہیل ہے۔ میں ہر روز کلینک جاتا ہوں تو مجھے مارسیلینا اس دن کے دس مریضوں کی ایک لسٹ دیتی ہے۔ میں کسی مریض کو آدھ گھنٹہ اور کسی مریض کو ایک گھنٹہ دیکھتا ہوں۔
کل میری ایک نئی مریضہ نے جب مجھ سے پوچھا، ’ڈاکٹر سہیل آپ کا طریقہ علاج روایتی ماہرین نفسیات سے کیسے مختلف ہے؟‘۔
تو میں نے کہا، روایتی سائیکاٹرسٹ مریضوں کا ادویہ اور شاک تھیرپی سے علاج کرتے ہیں جبکہ میں ان کا علاج سائیکو تھراپی سے کرتا ہوں۔ ہمارے کلینک میں
انفرادی تھراپی
ازدواجی تھراپی
فیمیلی تھراپی اور
گروپ تھراپی
سے علاج ہوتا ہے۔
میں اپنے مریضوں کو اپنے مسائل کے بارے میں خطوط لکھنے کا بھی مشورہ دیتا ہوں اور ان کے خطوط کا جواب بھی دیتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ زبانی مکالمہ اور خطوط کا مکالمہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور مریض جلد صحتمند ہو جاتے ہیں۔
ہم اپنے کلینک میں گرین زون تھراپی بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک ’اپنی مدد آپ‘ کا پروگرام ہے جو ہمارے مریضوں میں بہت مقبول ہے۔
حامد یزدانی صاحب!
ویسے تو میں ایک سائیکاٹرسٹ ہوں لیکن میری پریکٹس ایک سائیکاٹرسٹ سے زیادہ ایک سوشل ورکر کی ہے۔ اس طرح ہماری دوستی کے دو حوالے ہیں، ادبی حوالہ اور کونسلنگ کا حوالہ۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ آپ نے کب اور کیسے فیصلہ کیا کہ آپ سوشل ورکر بنیں گے؟ آپ کا ایک لکھاری ہونا اور ایک سوشل ورکر ہونا۔ کیا وہ ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے یا ایک دوسرے کے کام میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے؟
! حامد یزدانی صاحب
میری خواہش ہے کہ ہم اگلے سال ایک دوسرے سے اپنی ادبی اور پیشہ ورانہ زندگیوں کے بارے میں خطوط لکھ کر تبادلہ خیال کریں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
آپ کا مداح
خالد سہیل
سال کا سب سے بڑا دن
اکیس جون دو ہزار چوبیس
*** ***
حامد یزدانی کا جواب
جناب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
آپ کا نوازش نامہ موصول ہوا۔ پڑھا اور قلبی طمانیت حاصل کی۔ مکتوبِ گرامی کے مندرجات کی تحسین و تائید سے پہلے سال کے طویل ترین دن، جس کی جانب آپ نے اشارہ بھی کیا ہے، کا واقعہ سُن لیجیے۔
کینیڈا میں تاریخ ساز موسمِ گرما کے باوجود اس روز یہاں ہیملٹن میں شام ہوتے ہوتے موسمی حدت میں کچھ کمی واقع ہونے لگی تھی۔ بلکہ ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو گئی تھی۔ اور ایسے میں دن بھر کی دفتری مصروفیات نمٹا کر جب میں شہر کے ڈاؤن ٹاؤن میں واقع ایک میڈی ٹرینئین ریستوران پہنچا جہاں مجھے میری سابقہ ہم۔ کار اور ایک فعال سماجی ادارہ سینٹ میتھوز ہاؤس کی سربراہ خاتون رینے ویٹسلر نے ڈنر پر مدعو کر رکھا تھا۔ موقع تھا آپ کے اشاعتی ادارے گرین زون کے تحت شائع ہونے والی میری نظموں کے انگریزی تراجم کی کتاب From One Loneliness to Another کی اشاعت پر مبارک دینے کا اور مدت بعد تجدیدِ ملاقات کا۔
موجودہ مصروفیت سے قبل ہم دونوں سماجی تحقیق کے ادارے سوشل پلاننگ اینڈ ریسرچ کونسل میں کئی برس اکٹھے کام کرچکے ہیں۔ سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فنونِ لطیفہ میں بھی تربیت یافتہ ہیں اور نہایت عمدہ پینٹر ہیں۔ خیر، کھانے پر ملاقات ہوئی تو جہاں تجدیدِ ملاقات میں تاخیر کے گِلے شکوے ہوئے وہاں انھوں نے میری دل جوئی کا بھی خوب ساماں کیا۔ کہنے لگیں
”لگتا ہے آپ اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے بہت مطمئن ہیں۔“
:میں نے قدرے حیرت سے اس خوش گوار قیاس کا خیرمقدم کیا اور کہا
”جی، بالکل درست۔ لیکن یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟“
:مسکرا کر کہنے لگیں
”آپ کے چہرے پر دمکتی بشاشت اور تروتازگی سے۔“
میں بے اختیار ہنس دیا۔
اس واقعہ کے بیان سے اپنی تعریف مقصود نہیں۔ بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی طرح میں بھی اپنی پیشہ ورانہ زندگی سے بہت مطمئن ہوں اور اس احساس کو رینے کی رائے نے تقویت دی۔ جیسا کہ آپ کے خط سے مترشح ہوتا ہے آپ ایک تخلیق کار اور فلاسفر بننا چاہتے تھے جب کہ آپ کی والدہ آپ کو ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں اور آپ نے اپنے خواب اور اپنی والدہ صاحبہ کی خواہش کو کام یابی سے یک جا کر دیا اور ایک شاعر، ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات اور فلاسفر بن گئے۔
ڈاکٹر صاحب
آپ کی زندگی پر نظر کرتا ہوں تو مجھے اپنے بِیتے لمحوں کی یاد آجاتی ہے۔
میں لاہور کی ایک قدیم بستی ”مزنگ“ کے ایک سرکاری پرائمری سکول کوٹ عبداللہ شاہ سے پرائمری اور پھر کمیونٹی ہائی سکول سے میٹرک درجہ اول میں پاس کر کے جب عظیم درس گاہ گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا تو مجھے صحیح معنوں میں زندگی کے معنی سمجھ آنا شروع ہوئے۔ ایک تو کتنے ہی ادبی مشاہیر کی یادوں کی خوشبو اس کالج کی فضا میں رچی بسی محسوس ہوتی تھی اور دوسرے مجھے وہاں جن اساتذہ سے کسبِ فیض کا موقع ملا وہ اپنے اپنے شعبے کے منتخب تھے اور انتہائی دیانت داری اور اخلاص سے اپنے تدریسی فرائض انجام دیتے تھے۔
میرے ایک چچا سید عبدالرحمٰن رضوانی صاحب اور چچی جان ثروت رضوانی کا شمار ان خوش نصیب طالب علموں میں ہوتا ہے جنھوں نے پہلے پہل سوشیالوجی میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ اور مزید تعلیم کے لیے امریکا اور کینیڈا کی یونی ورسٹیوں تک بھی پہنچے۔ اور پھر یونیورسٹی کی سطح پر سوشیالوجی پڑھانے پر بھی مامور رہے۔ بہرصورت جانے کب وہ میرے آئیڈیل بن گئے اور میں نے بھی کالج میں سال اول سے سوشیالوجی کے مضمون کو دل سے لگا لیا۔ بی اے میں بھی پڑھا اور پھر پہلا ایم اے بھی اسی مضمون میں کیا۔ اور پہلی ملازمت سوشیالوجی کی لیکچرر شپ ہی کی حاصل ہوئی۔
ساتھ ساتھ ادب لکھنے پڑھنے کا شوق تو پنپتا ہی رہا۔ ہاں براڈ کاسٹنگ، جسے ابتدائی طور پر، عارضی معاشی سہولت کے لیے اپنایا تھا وہ بھی دامن سے لپٹی رہی اور مجھے ریڈیو پاکستان لاہور سے جزوی وابستگی سے جرمن نشریاتی ادارے ریڈیو ڈوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کی اردو سروس میں باقاعدہ ملازمت تک لے گئی۔ اس ادارے سے میں یہاں کینیڈا آنے تک وابستہ رہا۔ پہلے جرمنی کے تاریخی شہر کولون میں اور پھر پاکستان کے دل لاہور میں بھی۔
آپ نے اپنی والدہ کی خواہش کا ذکر کیا کہ وہ آپ کو ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں تو عرض ہے کہ میری امی جان کی بھی یہی خواہش تھی۔ مگر مجھے ایک ٹیچر بننے کا شوق تھا جو میں ایم اے سوشیالوجی کرنے کے بعد کالج میں لیکچرار کی صورت میں پورا کیا۔ دوسرا شوق براڈکاسٹنگ کا تھا وہ بھی ریڈیو پاکستان لاہور اور وائس آف جرمنی کے ذریعے پورا ہو گیا اور تیسری دُھن مجھے دوسروں کی مدد کرنے کی تھی۔ لڑکپن میں مزنگ میں پاکستان یوتھ فورم سے منسلک رہا اور غیر رسمی طور پر دوست احباب اور بعد ازاں طلبا کو بھی اپنے تجربات اور ان کی دلچسپیوں کو مد نظر رکھ کر تعلیم اور مستقبل کے پیشے کے حوالہ سے مشورے دیا کرتا تھا۔
اس ضمن میں باقاعدہ رسمی تعلیم اور عملی تربیت البتہ یہاں کینیڈا آ کر حاصل ہوئی جب میں نے اپنی تعلیمی گاڑی کو سوشیالوجی کے ٹریک سے سوشل ورک کی پٹری پر ڈال دیا۔
سوشل ورک کی جانب خفی سا اشارہ میرے پرانے دوست اور مہربان ارشاد حسین صاحب نے بھی کیا تھا مگر اس شعبہ میں تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کی جانب جس شخصیت نے مائل کیا وہ ڈاکٹر نینسی فریمنڈ ہیں جو ولفرڈ لارئیے یونی ورسٹی واٹر لو میں پروفیسر ہیں۔ وہ جُزوقتی طور پر ایک مضمون پڑھانے موہاک کالج بھی آیا کرتی تھیں۔ وہاں میری ان سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے میری پہلی تحریری اسائنمنٹ دیکھ کر مجھے پاس بلایا اور حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ یونی ورسٹی میں داخل کا مشورہ دیا جس کے لیے میں اُس وقت تیار نہ تھا مگر انھوں نے ہمت نہ ہاری اور کلاس سے ہٹ کر بھی ملیں، میرے ادبی ذوق پر بات کی اور یہ کہنے کے بجائے کہ اس سے مجھے فائدہ ہو گا کہنے لگیں: ”اگر آپ اس شعبہ میں نہیں آئیں گے تو ہم ایک باصلاحیت پروفیشنل ورکر کے علم اور تجربہ سے استفادہ سے محروم رہیں گے۔“
یہ اُن کی دوستانہ شفقت کا ایک انداز تھا اور پھر ایک زور دار توصیفی خط لکھ کر یونی ورسٹی کے فیکلٹی آف سوشل ورک کے ڈِین اور رجسٹرار کو روانہ کر دیا۔ مختصر یہ کہ وہ مجھے یونی ورسٹی لے ہی گئیں۔ کانووکیشن پر بھی آئیں۔ اس کانووکیشن میں جہاں مجھے ماسٹر آف سوشل ورک کی ڈگری ملی وہاں پروفیسر نینسی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا۔ بہت سے لوگ ان کو مبارک باد دینے آئے ہوئے تھے مگر وہ زیادہ وقت میرے، میری بیگم اور بچوں کے ساتھ باتیں کرتی رہیں اور تصاویر بنواتی رہیں۔ انھوں نے ہر ہر قدم پر میری رہنمائی کی اور خوشی کی بات یہ کہ ہم اب بھی رابطے میں ہیں۔
خوش قسمتی سے مجھے سماجی شعبے میں جُزوقتی ملازمت تو طالب علمی کے دوران ہی مل گئی تھی جو ماسٹرز ڈگری مکمل ہونے پر مستقل ہو گئی۔ یہ فیملی اینڈ چلڈرنز سروسز کی ملازمت تھی۔ جس میں بچوں کے حقوق اور مناسب نشوونما کے اقدامات کو یقینی بنانا ہماری بنیادی ذمہ داری تھی۔ چند برس بعد میں نے کمیونٹی سروسز کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ پھر سوشل ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سے منسلک ہو گیا اور اب کینیڈا میں نو آباد کاروں کے ایک منصوبے سے منسلک ہوں جو وفاقی حکومت کی مالی اعانت سے سالہا سال سے سرگرمِ عمل ہے۔ اپنے موجودہ کام میں میں اور میرے ساتھی انفرادی طور پر بھی اور گروپ کی صورت میں بھی نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انھیں یہاں کی زندگی، ضروریات، سہولیات اور مشکلات سب سے آگاہ کرتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب
جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہاں سماجی خدمات کے شعبے میں کام کرنے والوں کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔ مرد، جانے کیوں، کم کم ہی اس طرف آتے ہیں۔ دفتری معمول آج کل یہ ہے کہ تین روز دفتر سے اور دو روز گھر سے کام کرتا ہوں۔ جو لوگ ملنے آتے ہیں مجھے ان کی خدمت کر کے خوشی بھی ہوتی ہے اور ایک طرح سے اپنی تکمیل کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ایک وقت تھا کہ میں بھی اس ملک میں نیا تھا اور اب اپنے جیسے نئے آنے والوں کی کچھ مدد کر سکتا ہوں۔ انھیں ضروری معلومات فراہم کر کے اور مرحلہ مرحلہ پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے کی تیاری کروا کے۔ اس سب میں میری اپنی زندگی کی مثالیں اور تعلیمی پس منظر میرے مددگار ہوتے ہیں۔
کام پر مختلف لوگوں سے اور ان کے خوابوں اور مشکلات سے آگاہی ہوتی ہے تو ایک تخلیق کار کے جذبے کو مہمیز ملتی ہے۔ کالم نگاری کے ذریعے حالاتِ حاضرہ سے لے کر ادبی شخصیات اور موضوعات اور سماجی مسئلوں پر بھی قلم اٹھا لیتا ہوں۔ کاونسلنگ کی تربیت دوست احباب اور حتیٰ کہ اہلِ خانہ خاص کر بچوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں موثر مشورے دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی بھی ہے اور میری لکھنے پڑھنے کی مصروفیات بھی۔ یہ بھی آپ جانتے ہی ہیں کہ میں ”ہم سب“ کے لیے کالم لکھتا ہوں۔ ادبی جرائد کے لیے ادبی مضامین قلم بند کرتا ہوں۔ شاعری اور تراجم کا شوق بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ کچھ وقت سوشل میڈیا بھی لے جاتا ہے۔
یہ مصروفیات بظاہر مختلف نوعیت کی دکھائی دیتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مل جُل کر میری شخصیت کا امیج مکمل کرتی ہیں اور ان متنوع ”دُھنوں“ کے تال میل سے میری زندگی کا نغمہ ترتیب پاتا ہے۔
لیجیے، باتوں باتوں میں میں نے آپ کو بھی شریکِ نغمہ کر لیا ہے۔ نہیں کیا؟
امید ہے یہ مکالمہ آگے چلے گا۔
نیک تمناؤں کے ساتھ


