ادھورے قوانین اور ریاستی ذمہ داری
سماجی ماہرین کے مطابق جغرافیائی، سماجی ضروریات اور جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی ہی باقاعدہ ریاست اور ریاستی ذمہ داری کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ جس کے تحت ریاستی ذمہ داروں اور عوام نے رضاکارانہ طور پر کچھ شہری حقوق سے دستبرداری ہوئے اور کچھ ذمہ داریاں ریاستی منتظمین یا حکمرانو نے قبول کر لیں
دوسری طرف مظلوم کی داد رسی، ظالم کا محاسبہ، سزا، جان مال اور حقوق کا تحفظ اور شفافیت کے ساتھ دادرسی انصاف کی اولین اور بنیادی مقصد ہے۔
جبکہ اعلی ’عدالتیں تو اب تکرار سے فرما رہی ہیں کہ انصاف ایسا ہونا چاہیے جو دکھائی بھی دے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بنیادی طور پر دو بڑے قوانین ہیں۔ ایک فوجداری قانون دوسرا دیوانی قانون فوجداری (کریمینل) قانون مجرمان کو ان کے جرائم کی سزا دیتی ہے اور حقوق کی دادرسی نہیں کرتی ہے۔ جبکہ دیوانی (سول) قانون حقوق کی دادرسی کرتی ہے مگر کسی غلطی کی سزا نہیں دیتی۔ اس طرح بادی النظر میں یہ دونوں قوانین ادھورے ہی ہیں۔ اور اگر کسی بھی ایک قانون کے مطابق انصاف کیا بھی جائے وہ نا مکمل ہوتا ہے اور اعلی ’عدالت ہائے کے مطابق دکھائی نہیں دیتا۔
جتنے جتنے جرائم بڑھتے ہیں اور نئے نئے قسم کے جرائم جنم لیتے ہیں ویسے ویسے نئے نئے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں۔ اور مجرم اور قانون کی یہ آنکھ مچولی بلی چوہے کا کھیل بن کے رہ گیا ہے۔
مجرمان اور حرام خور ( بدعنوان/کرپٹ) لوگ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک حادثاتی اتفاقی طور پر ہوتے ہیں اور یا پھر مجبور ہوتے ہیں۔ دوسرے مجرمان عادی، تجربہ کار اور پیشہ ور ہوتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کے لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی اور تمام مثبت منفی پہلووں کا باقاعدہ تجزیہ کرتے ہیں، سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور قانون کے اس ادھورے پن کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
کہیں بھی کوئی بھی قتل ہو جاتا ہے۔ تمام تر قانونی کارروائی پولیس سٹیشن سے سپریم کورٹ تک کچھ ٹھیک ٹھاک ہوتی چلی جاتی ہے۔ ملزم قانونی موشگافیوں اور شک کی بنیاد پر بری ہو جاتا ہے۔ اور اگر ملزم بدقسمت ہو اور تمام تر قانونی ڈھیلے پن اور جھولوں کے باوجود بھی اسے کسی بھی قسم کی سزا ہو ہی جاتی ہے۔ اور اپیل پے اپیل ناکام ہوتے ہوئے سزا برقرار رہتی اور دے بھی دی جاتی ہے۔ تو اسے اپنے جرم ہی کی سزا مل جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں مقتول نہ تو واپس آتا ہے اور نہ ہی اس کے ورثاء کی کوئی داد رسی ہوتی ہے۔ مقتول بے چارہ مفت میں جان گنوا دیتا ہے۔ ایسے قیمتی جان کے ضائع ہو جانے
اور اس کے ازالے ( دیت یا خون بہاء) کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ اسلامی قوانین اور اصولوں کے مطابق ایسی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور وہی دیت کی ادائیگی کا پابند ہے۔ کیونکہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوئی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست کے باوجود ایسی ذمہ داری پوری کرنے سے تو ابھی تک رہی۔
غبن، بدعنوانی بلکہ حرام خوری بھی کیسی بھی کہیں بھی اور کسی بھی طریقے سے ہو۔ نقصان تو ہی جاتا ہے۔ اور اب تو خیر سے ایسے بڑے بڑے لوگ ایسے بڑے بڑے غبن اور بدعنوانیاں کرتے ہیں۔ جسے بجا طور پر ڈاکے ہی کہے جاتے ہیں۔ یہ ڈاکے خوا انفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے، خواہ نجی ہوں کہ سرکاری یا نیم سرکاری ہی ہو۔ وہی قانونی موشگافیوں حرام خوروں کا ساتھ دیتی ہے اور اکثریت باعزت بری ہی ہو جاتے ہیں اور اگر بوجوہ چند کوئی سزا یاب بھی ہوتا ہے۔
وہ سخت ترین قانون کے تحت بد ترین سزا بھی پاتا ہو تو وہ بھی محض قید ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں کرپشن کی سزا قید ہی ہے۔ اور پھر یہاں کے جھمیلوں کا نظام کا بھی سب ہی کو پتہ ہے۔ کوئی بھی اور کیسا ہو، دولت مند ہو یا با اثر ہو تو جیل بھی اس کے لیے جنت بنا دی جاتی ہے۔ اور تو اور کوئی بہت ہی بڑا اور خاص ہو تو اس کے لیے تو اس کا گھر، بنگلہ، فارم ہاؤس وغیرہ ہی کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے۔
اب یہاں پر بھی کوئی سزا یاب ہو جائے یا بری ہو جائے۔ غبن شدہ مال دولت کا کوئی پتہ نہیں چلتا اور غائب ہی ہو جاتا ہے۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھ کے اور فائدے اور نقصان کا تخمینہ لگا کے اب خیر سے بڑی بڑی کرپشن اور حرام خوری تو بڑے بڑے لوگوں کا پیشہ بن چکا ہے
اور یہی قانون کی وہ ڈھیل ہے اور یہی اس کا ادھورا پن ہے۔ جس کی وجہ سے انصاف ہو کے بھی دکھائی نہیں دیتا۔
نقصان اور ضیاع مالی ہو کہ جانی ہو اس کی ذمہ داری مطلقا ”ریاست پر ہی پڑتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے چاروں ستون اور تمام۔ متعلقین مل بیٹھ کے ایسے قوانین وضع کریں جو مکمل اور دکھائی دینے والے انصاف کے موجب ہوں۔ اور کرپشن کی سزا بھی سزائے موت تک بڑھا دی جائے۔ جیلوں اور تمام متعلقہ اداروں کو موثر اور با۔ قود۔ بنائیں اور جو بھی نقصان ہوتا ہو اس کی کمی پوری ضرور پوری ہو اور ہڑپ کردہ مال بھی واپس اپنی جگہ پہنچائی جائے۔


