سفید چمڑی اور گمشدگی


 

کرۂ ارض کے ہر اقلیم اور خطے کے عوام الناس مختلف رنگ اور خدو خال کے ساتھ منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ اکثر پیشتر آپ کی جائے پیدائشی آپ کے جلد کے رنگ کا عندیہ دیتی ہے لہٰذا برصغیر میں گندگی رنگ زیادہ نمایاں ہو گا۔ مگر سوختہ بختی کہ ہم لوگ کسی احساس کمتری یا فیشن کی دنیا میں سبقت لے جانے کے لیے اپنے قدرتی رنگ سے بیزار دکھائی دیتے ہیں۔ جلد کو نکھارنے میں اور گورا کرنے میں فرق ہے۔ تاریخی تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو البیرونی نے برصغیر پر لکھی اپنی کتاب ”تاریخ الہند“ میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ اہالیان ہندوستان کو کالے رنگ سے انسیت تھی جس کی وجہ سے مہا کالی جیسے مقدس بتوں کا رنگ کالا جبکہ شیطان بتوں کا رنگ سفید تھا۔

دور استعماریت میں انگریز اور اس کے اس سے قبل ٹھنڈے محلوں میں رہنے والے رئیسوں کی وجہ سے حالت یکسر بدل گئی۔ زینوسینٹزم اور کلرزم یعنی سفید رنگی جلد کو دیوتا کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ سفید چہرے سے اظہار محبت کا اندازہ ہم اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ صرف پاکستان میں پچاس فیصد سے زائد خواتین رنگ گورا کرنے کی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں علاوہ ازیں ذہنی پسماندگی کی وجہ سے ہم بناؤ سنگھار کی بجائے اپنی صحت سے دشمنی تک مول لیتے ہیں۔ صنف قوی میں ایسی کریموں کا استعمال کرنے والوں کی تعداد صنف لطیف سے قدر کم ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی صنعت کا حجم تقریباً آٹھ اعشاریہ نو ارب امریکی ڈالر ہے اور اس کے زیادہ تر صارفین ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سے ہیں۔

سفید رنگ حسن کی علامت ہے اور نہ سیاہ رنگ بد صورتی کی خالق کل نے ہمیں اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا ہے۔ دودھیا کفن خوف کی جبکہ سیاہ غلاف کعبہ محبت و عقیدت کی علامت ہے لہذا یہ ذہن سازی جو ہم کو اپنے رنگ سے کراہت اور گن محسوس کرواتی ہے اس کا حل فقط ذہنی ترقی ہے۔ اب تو مغرب بھی اس چیز کی تلقین کر رہا ہے بائیڈن نے تو یہاں تک کہا دیا سفید فام بالادستی زہر ہے۔ اس کے برعکس یہ بھی حقیقت ہے کہ سب سے مشکل کام ایک غلام کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ آزاد پیدا ہوا ہے اس گورا کلچر کے کئی اور نقصانات بھی ہیں جیسے صنفی کرداروں میں بدلاؤ آنے کی وجہ سے جہاں صنف نازک نے مردوں کے شانہ بشانہ مختلف امور زندگی میں حصہ لیا وہاں یہ رنگ پرستی بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے کام کاج کی جگہوں تک پہنچ گئی۔ ڈرامہ انڈسٹری میں فلم کے مرکزی کردار، ہوائی جہاز کے عملے اور موظف الاستقبال یہاں ان جگہوں پر کس رنگ کو فوقیت دی جاتی ہے آپ بہتر جانتے ہیں مگر ہم چاہ کر بھی کچھ کہہ نہیں پاتے چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ غلط العام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

زبیدہ آپا کا وائٹننگ سوپ جس میں وہ دعوے سے کہتی ہیں ”اب گورا ہو گا پاکستان“ یا پھر فائزہ بیوٹی کریم کے ایڈ میں عائزہ خان کہتی ہیں ”مجھے اور میری روایات کو اعتماد دیا فائزہ بیوٹی کریم نے“ ایسے اشتہاروں کی تشہیر ہر شخص کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گورا کرنے والی کریموں میں اکثر مرکری پایا جاتا ہے جو جلد میں سرایت ہونے کے بعد گردوں کے انفیکشن اور جلد کے کینسر تک کا باعث بنتا ہے۔ جدت اور بیسویں صدی کے بدلتے نظریات میں ہم نے اپنے ورثے اور تہذیب کو بھی بھلا دیا۔

پہلے اسلام بعد میں استعماریت دونوں کی کشمکش میں ہم نے اپنی ثقافت کو کھو دیا اور دو طبقوں مذہبی اور لبرل میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔ یہ خطہ جہاں سب اکٹھے رہتے تھے سوچ میں و صعت تھی یہاں شدت پسندی نے قدم جما لیے۔ یہ امر ہے کہ حاکم قوموں کا محکوم قوموں کے تہذیب و تمدن پر کافی غلبہ نظر آتا ہے مگر زندہ دل قومیں اپنے ورثے کو نہیں بھلاتیں۔ یہودی جو دو ہزار سال تک مارے مارے پھرتے رہے ان نے اپنی زبان کو نہ چھوڑا۔

ارض وطن میں کئی رنگ و نسل کے اشخاص مقیم ہیں جو مختلف نظریات و اشکال کے حامل ہیں مگر کار آفرین نے ان سب عناصر کو انسانیت کے بعد ٹھہرایا ہے اور انسانیت رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی کو مقدم نہیں ٹھہراتی۔ قصہ مختصر، ہمیں اپنے گندمی رنگ اور روایات کو حقیرانہ سمجھنے کی بجائے فخر کرنا چاہیے جبکہ دوسری جانب صورت کی بجائے سیرت کا کلیہ انسانیت اور معاشرے کے لیے موزوں ہے۔

Facebook Comments HS