پانچ محرابوں والی مسجد: عید گاہ
پانچ محرابوں والی مسجد، سننے میں کافی عجیب محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ راقم نے جتنی بھی مساجد دیکھی تھیں وہ سب کی سب ایک محراب والی ہی تھی۔ مگر ایک ایسی مسجد بھی نظر سے گزری جس کے پانچ محراب تھے۔ یہ کافی پر تجسس بات تھی۔
یہ مسجد ہڑپہ کے کھنڈرات میں موجود ہے جو کہ اپنی انتم سانسیں لیتے ہوئے ایک عہد گزشتہ کی کہانی سنا رہی ہے۔ اس مسجد کا اصل مقام ٹیلا اے بی سے آگے موجود ہے۔ مسجد کی مغربی طرف ایک دربار بھی موجود ہے جس میں نو گز کی قبر ہے جس کے بارے میں کئی افواہیں اور توہمات موجود ہیں۔
موجودہ دور میں اس مسجد کی مغربی دیوار موجود ہے جس میں ایک ہی سائز کی پانچ محرابیں موجود ہیں۔ جس کی تعمیر میں پڑھائی تہذیب کی اینٹوں کو دوبارہ استعمال کیا گیا۔ اب یہ مسجد آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی زیر نگرانی ہے جسے اچھے طریقے سے محفوظ کیا گیا ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک بورڈ آویزاں کیا گیا ہے جس پر مسجد کے بارے میں کچھ محدود معلومات درج ہے۔ بورڈ پر لکھا ہے کہ یہ مسجد مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی، یہ وادی سندھ کے اے بی ٹیلا کے حفاظتی دیوار کے اوپر تعمیر کی گئی۔
کھدائی کے دوران اس کی چھت کا کوئی آثار دریافت نہیں ہوا۔ البتہ چار دیواری اور مغربی دیوار موجود تھی اس میں وادی سندھ کی اینٹوں کو دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کی رائے کے مطابق یہ مسجد عید گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے البتہ اس کے مغربی سمت میں موجود دربار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید یہ مسجد اس مزار پر قرآن قانونی یا دوسری مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بنائی گئی ہوگی۔ اس بورڈ پر درج معلومات کے مطابق اس مسجد کی لمبائی شمالاً جنوباً 12 میٹر ہے اور یہ ایک مستطیل شکل کی مسجد تھی اس طرح کی دوسری مساجد قبرستانوں اور دوسری عید گاہوں کے طور پر ہندوستان کے مختلف حصوں میں بنائی جاتی تھی۔
میرے محدود علم کے مطابق یہ مسجد بھی کسی دور میں یہاں مقیم لوگوں نے اس دربار پر قرآن خوانی اور دوسری مذہبی رسومات کے لیے بنائی گئی ہوگی۔




