لندن تا برمنگھم ( 8 ) برطانیہ: دور کے ڈھول سہانے


یادش بخیر! آکسفورڈ یونی ورسٹی میں روح پرور سرمن سننے کے بعد باہر نکلتے ہیں۔ سُندر شام کے سرمئی سائے کائنات پر چھانے کو پر تول رہے ہیں۔ مشرقی خطے میں طلوع اور مغرب میں غروب زندگی کی نوید دیتا ہے۔ شام ہونے کے انتظار میں سوکھ جانے والی تھکی ماندی مخلوقِ خدا کام کاج سے فارغ ہو کر جب باہر نکلتی ہے تو ان کے مرجھائے ہوئے چہروں پر تازگی کے آثار اُبھر آتے ہیں۔ شام، بلاشبہ ہر جگہ اور ہر موسم میں حسین ہوتی ہے لیکن آکسفورڈ کے سبزہ زاروں میں دل کش شام کا منظر کیسے ہوتا ہے؟ ہم آپ کو للچانا چاہتے ہیں۔ سورج کی آخری کرنیں مخلوقِ خدا کو خدا حافظ کہتے ہوئے ہلکی ہلکی سنہری روشنی میں تحلیل ہونے لگتی ہیں جس سے یہاں کے سبزہ زاروں کی شادابی ایک نئے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ آہستہ آہستہ معدوم ہو جاتی ہے اور ٹھنڈی ہوا کی نرم نرم سرسراہٹ انسان کو مسحور کر دیتی ہے۔

یونی ورسٹی کی قدیم عمارتیں سنہری روشنی میں بڑی پُرشکوہ دکھائی دیتی ہیں۔ طلباء و طالبات اور پروفیسرز کے گروپ جب علم و دانش کی باتیں کرتے ہوئے ان راستوں سے گُذرتے ہیں تو اس سے ایک منفرد ماحول جنم لیتا ہے۔ وسیع و عریض سبزہ زاروں میں بیٹھ کر بلکہ لیٹ کر، انسان کی ذات وقت کی قید سے ماورا ہوجاتی ہے۔ آنکھیں بند کر کے اِس ماحول میں کوئی ڈھل جاتا ہے تو لگتا ہے جیسے تاریخ کے اوراق آپ کے سامنے پلٹ رہے ہوں۔ شام کے اِس منظر میں اِس دانش گاہ کا جاہ و جلال اور حسن و جمال محسوس کرنے کو بڑا دِل گردہ چاہیے، آدمی چکرا جاتا ہے۔

ہر چیز ایک حسین خواب کی طرح نظر آتی ہے۔ یہ منظر صرف آنکھوں کی تسکین ہی نہیں بلکہ روح کی بھی غذا ہے۔ یہاں علم و آگہی کے جھروکوں میں ماضی، حال اور مستقبل کے ساتھ قدرت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ درختوں کے جُھنڈ اور لہلہاتے پھولوں کے دامن میں تنہا بیٹھا ایک شخص گٹار کے ساتھ چھیڑ خوانی میں مصروف ہے۔ ہم اُس کی ہمسائیگی میں بیٹھ کر چاپیر چل کے نظاروں میں مسحور کُن موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، کیرن آرمسٹرانگ کے سرمن کو ذہن کے دریچوں میں دوڑانے کی مشق کرتے ہیں تو نیلی چھتری والے کو رگِ گردن سے زیادہ نزدیک پاتے ہیں۔

بے حجابی ایسی کہ ہر ذرہ میں ہے جلوہ آشکار
اور حجاب ایسا کہ صورت آج تک دیکھا ہی نہیں

ساتھیوں کے پُرزور اصرار پر یہاں سے اُٹھ کر قریب واقع گروسری اسٹور میں داخل ہوتے ہیں۔ سوچا کہ دوسروں کے ساتھ ہم بھی برطانیہ میں اپنی جیب سے کچھ خریداری کر کے کیوں نہ تاریخ رقم کریں۔ ضرورت کی چند اشیاء خریدنے کے بعد خاتون کیشیئر کو کیش میں ادائیگی کے لئے پچاس پچاس پاؤنڈز کے دو نوٹ دیے تو وہ کافی دیر تک نوٹوں کی تفتیش کرتی رہی، پھر ایک اور خاتون کو اشارہ کر کے بلایا، اُس نے بڑی احتیاط کے ساتھ نوٹوں کو گھور گھور کے دیکھا، مخصوص پن نکال کر انھیں چیک کیا اور پوری تسلی کے بعد بقایا رقم ہمیں دینے سے پہلے اسے بار بار گنا، جب دونوں خواتین نے مشورہ کر کے یہ تسلی کرلی کہ نوٹ اصلی ہیں اور جو رقم وہ ہمیں واپس دے رہی ہیں، وہ درست ہے، تب کہیں جا کر حساب بے باق ہوا۔

یہ حال ہے برطانیہ میں بڑے کرنسی نوٹوں سے ناآشنائی کا۔ وجہ؟ یہی کہ ملک بھر میں ڈیجیٹل پے منٹس کا استعمال عام ہے، شہری کیش کی جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے۔ اب یہ ملک کیش لیس سوسائٹی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے فائدے بھی بے شمار ہیں، لیکن بزرگ شہریوں، ہم جیسے اناڑی سیاحوں اور ٹیکنالوجی سے نابلد لوگوں کے لئے مشکل ضرور ہے۔ ڈیبیٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کی عدم موجودگی میں بسا اوقات اس طرح کی پریشان کن صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پچاس کا نوٹ برطانیہ کا سب سے زیادہ مالیت کا نوٹ ہے جو لین دین میں شاذ و نادر استعمال ہوتا ہے، آپ نے اسے کسی جگہ خریداری کے لئے پیش کیا نہیں، کاؤنٹر پر موجود حضرتِ انسان چونکا نہیں اور نوٹ کی اصلیت کے بارے میں باقاعدہ تفتیش شروع کی نہیں۔

گروسری اسٹور سے نکل کر ہم کار پارکنگ کی طرف بڑھتے ہیں جہاں ایک نوٹس بورڈ آویزاں ہے، جس پر لکھا گیا ہے : ”پارکنگ فیس چار گھنٹے سے زیادہ بیس پاؤنڈز، ایک گھنٹہ دس پاؤنڈز، ٹکٹ مشین بقیہ رقم واپس نہیں کر سکتی، ٹکٹ کار اسکرین پر چسپاں نہ کرنے پر سو پاؤنڈز جرمانہ، تاخیر کرنے پر سو پاؤنڈز جرمانہ۔ معذور لوگ گاڑی مفت کھڑی کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں معذوروں کو ایک ڈس ایبل آئی کارڈ جاری کیا جاتا ہے جس کو کسی بھی جگہ پر گاڑی کھڑی کرنے کی صورت میں ڈیش بورڈ پر نمایاں رکھنا پڑتا ہے۔

برطانیہ کے کئی شہروں میں کار پارکنگ تلاش کرنا بھی ایک چیلنج ہوتا ہے۔ پارکنگ فیس بھی زیادہ اور پابندیاں بھی سخت۔ فیس پارکنگ میٹر کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔ یہ کام مہنگا بھی ہے اور پریشان کن بھی۔ الغرض یہاں گاڑی رکھنا بھی ایک عذاب ہے اور نہ رکھنا بھی۔ ہم لندن موٹر وے کے روبرو ہو جاتے ہیں۔ گاڑی فراٹے بھرتی ہے اور ہم آس پاس کے علاقوں کا نظارہ کرتے ہوئے اِس ملک کے متعلق سوچنے لگتے ہیں۔

کافی سارے مسائل کے باوجود برطانیہ ایک بے مثال ملک ہے، خوب صورتی میں بھی اور معاشی ترقی میں بھی۔ یہاں قانون کی حکم رانی ہے۔ امن و آشتی ہے۔ معاشرتی و ثقافتی تنوع ہے۔ گھومنے پھرنے کے لئے خوب صورت پارک ہیں۔ تاریخی مقامات ہیں۔ دنیاوی حور اور ان کے بے تابانہ ناز و نخرے، ’فسق و فجور‘ کی محفلیں، جا بہ جا قدرتی نظارے، خالص و خوش ذائقہ کھانے اور اس کے علاوہ ہر وہ سہولت اور آسانیاں جو ہماری سوچوں میں بھی نہیں، یہاں میسر ہیں۔

اسی وجہ سے پوری دنیا میں برطانیہ کا ایک نام و مقام ہے۔ پھر بھی اسے ’سویٹ پریزن‘ کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ پروٹوکولز میں قید زندگی، ٹیکسوں کی بھرمار، کیمروں کی جھپکتی آنکھ کی ہمہ وقت آپ پر نظر، ہر جگہ قطاروں کی ریل پیل، چاہے بینک ہو، بس اسٹینڈ ہو، ریل ہو، واش رومز یا پبلک پارکس ہوں، سرکاری دفاتر یا مارکیٹ ہو۔ کرنسی نوٹوں کی شکل دیکھنے کو انسان ترسے۔ بس ایک جادوئی بینک کارڈ ہر کسی کا اوڑھنا بچھونا ہے جس میں لاکھوں پاؤنڈز ہوں پھر بھی دل ہے کہ مانتا نہیں۔

گاڑی چلاتے ہوئے کوئی غلطی ہو جائے، سپیڈ میں معمولی سی ہیرا پھیری ہو، تب کیمرے نے آنکھ ماری نہیں اور اگلے لمحے بھاری جرمانہ ادا کرنے کا نوٹس آپ کو گھر پر پہنچا نہیں۔ جگہ جگہ سائن بورڈز پر لکھی ہدایات، ٹریفک اصول اپنانے کا انتباہ۔ آپ کہیں غیر ارادی طور پر متعین کردہ پیرامیٹرز سے ہٹے نہیں اور پولیس نے آپ کو جوتی کے نوک پر رکھا نہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس۔ بے چارے گوروں کی پوری زندگی بھی پانچ فرض عبادات کی ادائیگی سے عبارت ہے، جیسے : ایک، قانون اپنانا۔ دو، قطار بنانا۔ تین، سچ بولنا۔ چار، پاؤنڈز کمانا اور پانچ، ان پاؤنڈز کے کثیر حصے کو سرکار کی امانت جان کر ٹیکس کے نام پر سرکار ہی کو واپس دینا۔ چند دن اسی سویٹ پریزن میں گزار کر ہم تو اُکتا گئے ہیں، ہم جیسے نوارد لوگوں کے لئے یہاں کے سیولائزڈ معاشرے میں سانس لینا دشوار ہے۔

بس پہ ہر چا خپل وطن کشمیر دے۔ (ہر شخص کے لئے اپنا وطن کشمیر کی طرح خوب صورت ہے )

ہمیں تو وطن کی یاد ستانے لگی ہے۔ یہ گناہ گار آنکھیں وہاں کی بھیڑ بھاڑ، شور شرابا اور ’اندل غاؤ‘ دیکھنے کو ترس رہی ہیں۔ یہاں جھوٹ، دھوکہ اور مکر و فریب نہیں، گاڑیوں کے چیختے چنگھاڑتے پریشر ہارن، رکشوں کی ایکسیلیریٹرز کی قیامت خیز ٹرٹراہٹ اور سائلنسرز کی کالے دھویں کی گھٹائیں، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کی بھرمار نہیں تو ایسی زندگی جینے میں مزہ نہیں۔ اسی ماحول میں ہماری معاشرتی تربیت ہوئی تو اُس کا اثر تو ہو گا۔

معاشرے کا اثر حیوانات، نباتات اور جمادات سب پر یک ساں ہوتا ہے۔ اچھے معاشرے میں مثبت رجحانات غالب ہوتے ہیں۔ وہاں کی زمینیں بھی گھاس پھوس نہیں، سونا اگلتی ہیں۔ وہاں کا پانی ہمارے ہاں کی طرح بربادی نہیں، شادابی لاتی ہے۔ وہاں کا جنگلی حیات بھی سمجھتی ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ تو اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

ہم طرزِ معاشرت کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے تھے اور گاڑی بہ خیر و عافیت لندن پہنچ کر ایک کار واش سنٹر میں داخل ہوتی ہے۔ کئی جوان لڑکے گاڑیوں کی سروس میں مصروف تھے۔ اُن میں ایک پاکستانی بھی ملا۔ مغربی ممالک میں ظاہری رنگینیاں تو عام ہیں لیکن نئے لوگوں کے لئے سیٹل ہونے تک زندگی عذاب سے کم نہیں۔ تعلیم کے حصول کے لئے جتنے بھی جوان آتے ہیں، اُن کو سروس سٹیشنوں میں کار واش، واش رومز کی صفائی اور ریسٹورنٹس میں برتن دھونے جیسے کام کرنا پڑتے ہیں۔

یہاں پتہ چلا کہ زیادہ تر پاکستانی طلباء کو اول تو کام ملتا نہیں، کام مل بھی جائے تو انھیں بہت کم اُجرت دی جاتی ہے جس پر مشکل سے گزر بسر ہوتی ہے۔ یہاں ورک پرمٹ اور سٹوڈنٹ ویزوں پر آنے والوں کا شدید استحصال ہوتا ہے اور سیکڑوں افراد روزگار نہ ہونے کی وجہ سے در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جتنی ہم جیسے تھرڈ ورلڈ ملکوں کے معمولی معمولی واقعات پر نظر رکھتی ہیں، وہ ترقی یافتہ ممالک میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال پر گونگی بہری ہو جاتی ہیں۔ نوجوانوں کے لئے عرض ہے کہ یہاں کے صرف ڈھول ہی سہانے ہیں، آنا ہو تو سو بار سوچیں، لوگوں کی مبالغہ آمیز باتوں پر دھیان نہ دیں۔

لندن پہنچ کر اگلے روز عبدالحئی کاکڑ صاحب کے ساتھ طویل عرصے بعد خوش گوار ملاقات ہوتی ہے۔ وہ چیک ری پبلک میں مشال ریڈیو اور ٹی وی کے ساتھ وابستہ، پختون وطن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بدامنی کے دنوں میں وہ پشاور میں بی بی سی کے ساتھ منسلک تھے۔ انھوں نے پختون وطن میں عموماً اور وادیٔ سوات میں خصوصاً امن بہ حالی کی کوششوں میں مقدور بھر حصہ ڈالا۔ باتوں باتوں میں ہم نے ماضی کو کُریدا، حالات و واقعات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔

کہا گیا کہ پختون وطن میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ جہالت کی دَین ہے۔ اسی تناظر میں کاکڑ صاحب نے کہا کہ اب وقت ہے کہ بچوں کی بہترین تربیت کے لئے والدین کو پیرنٹنگ فلاسفی کی اہمیت سمجھنی ہوگی۔ والدین کو بچوں کے ساتھ تعلقات کے اسرار و رموز پر از سرِ نو غور کرنا ہو گا۔ ان کو معاشرتی، جذباتی، فکری اور جسمانی نشوونما میں مکمل رہنمائی اور مدد فراہم کرنا ہوگی اور جذباتی سہارا بھی دینا ہو گا۔ گھر میں دوستی جیسا ماحول پیدا کرنا ہو گا تاکہ بچے گھر کے اندر ہی وقت گزارنے میں آزادی اور خوشی محسوس کریں۔

کبھی عرش پر، کبھی فرش پر، کبھی اُن کے در، کبھی در بہ در
غمِ عاشقی تیرا شکریہ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا
کبھی راستوں میں تنہا، کبھی ہوں برودِ صحرا
میں جنون کا ہم سفر ہوں، میرا کوئی گھر نہیں ہے
(جاری ہے )

Facebook Comments HS