غیر ملکی برانڈز کا بائیکاٹ اور پاکستانی برانڈز کا لالچ
چند دن پہلے ایک معروف پاکستانی برانڈ (رابی پیرزادہ) سے چند چیزوں کا آن لائن آرڈر کیا، مطلوبہ پروڈکٹ جب مجھے موصول ہوئیں تو میں نے کورئیر سروس کے نمائندے سے رقم کا پوچھا تو ہل کر رہ گیا۔ بالکل وہ ہی چیزیں مارکیٹ میں انٹرنیشنل برانڈڈ اس سے آدھی قیمت پہ دستیاب ہیں، مزید تشویش تب ہوئی جب پارسل کھول کر دیکھا تو اس میں کوئی بل نہیں تھا اور نا ہی اشیاء پہ قیمت درج تھی۔ بہر حال اب کوئی چارہ نہ تھا۔ مجھے تو زبردست دھچکا لگ چکا تھا اب عوام الناس کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے پروڈکٹ کو خریدنے، پروموٹ کرنے سے احتیاط کریں۔
یہ محترمہ ایک لیبل اور لگاتی ہیں کہ میں اپنی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بیوہ خواتین، یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہوں تو بہنا آپ اس کے لیے الگ سے فنڈنگ کریں ہمیں بھی علم ہو کہ ہم کہاں اور کس مد میں خرچ کر رہے ہیں لیکن یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آپ اپنی پروڈکٹ کے ذریعے عوام الناس کی جیب پہ ڈاکا مار کر خدمت کا لیبل لگا دیں۔
مندرجہ بالا برانڈ کے علاوہ بھی بائیکاٹ کے دوران چمکنے والے پاکستانی نامی گرامی برانڈز اپنے منافع اور کاروبار کو بڑھانے کے چکر میں غیر معیاری اشیاء مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ اگر آپ ڈرنکس کا حال ہی دیکھ لیں۔ پیپسی / کوک وغیرہ کا بائیکاٹ ضرور کریں لیکن یہ دیکھیں کہ آپ کے بائیکاٹ سے آپ سے کوئی ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہا۔ ایک سال سے کم عرصے کے دوران زمین سے آسمان پر پہنچنے والی گورمے اور نیکسٹ کولا بھی استعمال کرنا چھوڑ دیں کیوں کہ ان کی پروڈکٹ بھی غیر معیاری اور قیمت آسمان پہ پہنچ چکی۔
کیا کولڈرنک پینا ضروری ہے؟ سخت معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی ان لگژری اشیاء کا استعمال ترک کر دیجیے گرمی کے توڑ کے لیے ہمدرد، قرشی، اجمل کا روح افزاء، بزوری وغیرہ کا استعمال کیجیے، لیموں پانی استعمال کریں۔ لسی کا استعمال کریں یہ سب مشروبات کولڈرنک سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ جب آپ ان کو خریدنا چھوڑ دیں گے۔ تو خود ہی ان کی قیمت بھی مستحکم ہو جائے گی۔ اور مارکیٹ سے آئے روز جو یہ اپنی اشیاء ختم کر دیتے ہیں یہ ڈرامے بازی بھی ختم ہو جائے گی۔
کاروباری اور تاجر حضرات سے گزارش ہے کہ آپ بائیکاٹ مہم کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بجائے اس موقع پہ جب عوام بھی بھر پور ”میڈ ان پاکستان“ کا استعمال کرنا چاہتی ہے معیاری اشیاء، مناسب قیمت پر مارکیٹ میں متعارف کروائیں۔ مثال کے طور پر فوڈ انڈسٹری میں اس وقت ایک خلا ہے۔ فاسٹ فوڈ کے حوالے سے میکڈونلڈ اور ”کے ایف سی،“ معروف تھے کراچی کے شہریوں کو شاباش! انہوں نے فاسٹ فوڈ کھانا چھوڑ دیا لیکن ان کا ایسا بائیکاٹ کیا کہ ان کی کراچی سے درجن کے قریب برانچز بند ہو چکیں ہیں۔ اس موقع پر معیاری فاسٹ فوڈ بنانے والوں کو فائدہ بھی پہنچا ہے اور ان کے کاروبار میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی برانڈز اپنی کوالٹی اور معیار پہ توجہ دیں اگر آپ ایک چیز کے ایک ہزار روپے لے رہے ہیں تو وہ چیز ایک ہزار کے مطابق ہی ہونی چاہیے بلکہ اس کا معیار کسٹمرز کے ایک ہزار سے بھی بلند ہونا چاہیے۔ پھر وہ وقت دور نہیں کہ ”میڈ ان پاکستان“ کی مارکیٹ میں قدر و قیمت ہو گی لیکن اگر مندرجہ بالا ”رابی ہیر زادہ، اور نیکسٹ کولا وغیرہ“ جیسا وتیرہ رہا تو پھر کبھی بھی پاکستانی آپ پہ اعتماد نہیں کریں گے۔



بہترین تحریر و تجزیہ۔ بہت بہت شکریہ