کالاشیوں کے دلفریب تہوار چلم جوشی کی تفصیلات
جب میں باہر جانے کے لیے جوتا پہن رہی تھی زار ولی خان چائے کی چھوٹی ٹرے کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔ ’’ارے میں جیسے مسرت کی پھوار میں نہا سی گئی۔ گھر سے باہر گھر جیسی عیاشی دیتے ہو جیتے رہو۔‘‘ میں نے اُس چائے کو خنکی سے لبریز اُس صبح کو چسکیاں لیتے ہوئے یونہی پیا تھا جیسے واڈکا، شیمپئن یا وسکی کا ایک شوقین ڈرنکر اپنے من پسند ڈرنک کو اس سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہوئے دھیرے دھیرے چھوٹی چھوٹی چسکیوں میں پیئے۔
وادی بتریک کے پون فرلانگ پر محیط اس ڈھلانی میدان میں ولی خان سے میں سُنتی تھی۔ موسم بہار کے چلم جوشی تہوار کا اکٹھ یہیں ہوتا ہے۔
سردیوں کے طویل بیزار کن اور کمروں میں بند دنوں کے بعد ڈھول کی دھما دھم کے ساتھ ڈھولچی کی شنگبھائے رسم ادا کرنے کے لیے پکار گویا حیات نو کے لیے ایک آواز ہے۔ وادی انگڑائی لیتی ہے۔ مرد و زن جنگلوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ بیشا کے زرد پھول اور اخروٹ کی سبز شاخیں لانے کے لیے پر اس احتیاط کے ساتھ کہ عورت پھولوں کو نہیں چھوتی اور مرد سبز شاخوں کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ پھر ان سے گھروں مویشی خانوں عبادت گاہوں اور گلیوں دکانوں کے چہرے مہرے سجتے ہیں ۔
اور شب کے دوسرے پہر گھر کے کسی چھوٹے بچے کو نہلا دُھلا کر پیالی میں بکری کے دودھ کا اسکی دو اُنگلیوں سے پھولوں اور شاخوں پر چھڑکاؤ کر کے گویا گھر سے جنوں کو دیس نکالا دے دیتے ہیں۔ گھی دودھ اور پنیر سے برتن بھرتے ہیں۔ پرانی شرابیں نکلتی ہیں۔ تب ایک اور دن طلوع ہوتا ہے ’’ شیشاؤک‘‘ گاؤں بھر کی نوجوان لڑکیاں نئے لباس حسن کی آرائشی اشیاء لیے ندی کنارے ایک لمبی قطار کی صورت میں تن پر جمی مہینوں کی میل پانیوں کو سونپتے ہوئے نئی سج دھج کے ساتھ گھنگھرو بجاتی دھرتی کے سینے پر غرور اور تمکنت سے چلتی واپس آتی ہیں۔ وادی پھولوں اور پھلوں کی خوشبو میں مہکتی اور سورج کی کرنوں میں مُسکراتی ہے اور یہ منظر دیکھتی ہے کہ کالاشی عورتوں کے جتھے توے پراتیں آٹے کی تھیلیاں اور خشک ایندھن پکڑے اخروٹ کے درختوں کی چھاؤں میں چپاتیاں پکاتی اور گھروں میں تقسیم کرتی ہیں کہ اس صدقے کے طفیل اُن کے بچے اور مویشی خنک ہواؤں اور اخروٹ کی ٹوٹتی شاخوں سے پناہ میں رہیں۔
وہ صبح بڑی نشاط انگیز ہوتی ہے جب ڈھول بجتا ہے۔ معمر لوگ لاٹھیاں ہاتھوں میں اُٹھائے کانوں میں اخروٹ کی سبز ٹہنیاں اُڑسے ناچتے گاتے تعاقب میں جوان لڑکیاں اور انکے عقب میں بوڑھی عورتیں رقص کرتے چلتے آتے ہیں۔ ایک وادی سے دوسری تیسری اور پھر رنگوں کی برسات میں نہایا یہ قافلہ بتریک کی اسی جگہ آ رُکتا ہے۔ یہ دن سیٹیوں اور ڈھول کی آوازوں میں لڑکے اور لڑکیوں کے مخلوط رقص سگریٹ اور مے نوشی اچھے کھانے اور دل پسند مردوں کے ساتھ فرار "بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست” کی تفسیر بن جاتے ہیں۔
دھوپ نے میدان میں جس سرعت سے پاؤں پسارے تھے اُس نے گفتگو میں میرے حد درجہ انہماک کے باوجود مجھے چونکا سا دیا۔ میں نے ولی خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جناح اور بہرام شاہ سے مجھے ملنا ہے۔ تم بتاؤ ان سے کہاں ملاقات ہو سکتی ہے؟
برون میں جناح کا ہوٹل ہے اور بہرام شاہ پہلواندہ میں رہتے ہیں۔ چلیے اب ناشتہ کریں۔ پھر برون چلیں گے۔ ایک کلو میٹر کا تو فاصلہ ہے۔ ناشتے میں شہد کے ساتھ اخروٹ کی گری کے آمیزے سے بنائی ہوئی روٹی تھی اور انڈے کا آملیٹ تھا جسے کھاتے ہوئے یقیناً لطف آیا تھا۔ شہد تازہ تھا گھر کا تھا۔جس کمرے میں اس وقت ہماری نشست تھی اسکی بیرونی دیوار کے ساتھ لکڑی کے بڑے سے جالیدار بکس میں شہد کی مکھیاں شہد بنانے میں تن دہی سے مصروف تھیں۔ یہ گھریلو صنعت کالاش کی تینوں وادیوں میں بہت عروج پر ہے۔ لیکن کالاشی عورت کے لیے اسکا چکھنا حتیٰ کہ چھونا تک مذہبی نگاہ سے ممنوع ہے۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق عورت نجس ہے اسکے کھانے کی صورت میں اُس گھر سے شہد مفقود ہو جاتا ہے۔ مرغی اور انڈہ دونوں کو کالاشیوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ اس عقیدے کے بارے میں دو آراء ہیں۔
پہلی خدا نے باقی جانوروں کے مقابلے میں اسے اُڑنے کی صلاحیت سے محروم کر رکھا ہے۔ یہ گندی مندی چیزیں کھاتی ہے۔ دوسری وجہ زمانوں پہلے کالاش کے ایک مذہبی رہنما کی چترال کے ایک بااثر آدمی سے دشمنی ہو گئی۔ چترالی اُسے جان سے مارنے کے لیے کالاش آیا۔ گھر نہیں پہچانتا تھا مگر اس بد ذات مرغ نے بانگ دے کر گھر کی نشان دہی کر دی۔ یوں مذہبی رہنما قتل ہو گیا۔ تب سے دونوں چیزیں حرام ہوئیں۔ پر نئی نسل دونوں چیزیں چھپ چھپا کر کھاتی ہے اور مزے اُڑاتی ہے۔
دو منزلہ جناح ہوٹل سبزے میں گھرا کالاش کی قدیم تہذیب کے بہت سے رنگوں کی نمائش کرتا تھا۔ جناح تو نہیں ملا ہاں زوئے سے ملاقات ہوئی۔ این سی اے کا گریجوایٹ زویا سمن آباد کا رہائشی جو آیا تو یہاں آرٹ اور کلچر کی سٹڈی کے لیے تھا پر جانے کیسے اس جادو نگری کا حصہ بن گیا۔ اور اب جشن پوڑ میں کالاش دوشیزہ کو اغوا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اور جب میں قربان گاہ جانے کے لیے چڑھائیاں چڑھتی اور ہانپتی کانپتی تھی اور یہ سوچتی تھی کہ انسان نے خود کو کائنات کی گنجل گھیریوں میں کیسے اُلجھا رکھا ہے۔ عقائد کی جھوٹی سچی رسموں کے گرد ساری زندگی کھو پے چڑھائے کولہو کے بیل کی طرح چک پھیریاں لیتا رہتا ہے۔ اور ایک دن دھڑام سے گر جاتا ہے۔ مجھے گائیڈ کرنے والا لڑکا بتاتا تھا۔ کالاشی چار دیوتاؤں کو مانتے ہیں۔ مہاندیو، ورن، پرابہ اور گریمون۔
’’ اب انکے کام بتانا مت شروع کر دینا۔‘‘ میں نے رُک کر درختوں کے جھنڈ تلے سستاتے ہوئے کہا۔
’’ آپ جانتی ہیں ۔‘‘ نور علی نے پوچھا۔
’’ ہاں تو اور کیا۔ حیاتی کے سارے کاموں کے سلجھاؤ کی پنڈیں کالاشیوں نے ان کے مونڈھوں پر تو رکھ دی ہیں۔ ارے کالاشیوں پر ہی کیا دنیا بھر کے لوگوں کا یہی چلن ہے‘‘


