کزن میرج: معاشرے کے لیے تباہی


سائیکولوجی کے مطابق اگر ہم کسی فضول ترین بات کو روایت کا نام دے کر سو سال اس پر محنت کر لیں تو لوگ اس کو سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور اسے سچ یا حقیقت مان لیتے ہیں، بالکل یہی روایت پاکستان میں صدیوں سے موجود ہے جس کو کزن میرج کا نام دے دیا جاتا ہے۔ دنیا میں بہت ساری روایات ایسی ہیں جو کہ اب بوسیدہ اور فرسودہ ہو چکی ہیں لیکن پاکستان میں سب الٹ ہی چلتا ہے یہاں روایات اور توہمات کو وقت کے ساتھ زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے اور ان پر مزید جوش و خروش سے عمل کیا جاتا ہے۔

ساری زندگی لڑکی اپنے بڑے کزن کو بھائی کہتی ہے اور پھر ایک دم سے بھائی کا ٹھپا اتار کر خاوند کا لگا دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 60 سے 70 فی صد لوگ کزن میرج کر چکے ہیں جہاں دوسرے ممالک کزن میرج پر پابندی عائد کر رہے ہیں، بلکہ امریکا میں تو 35 ریاستوں نے کزن میرج پر پابندی عائد کر رکھی ہے، وہی پاکستان میں یہ کام پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے بغیر جانے کہ اس کے نقصانات کیا ہیں؟ اور آنے والی نسل کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں بہت سے خاندان ذات کے دائرے میں ایسے قید ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی ذات سے باہر کوئی اور خاندان دکھائی ہی نہیں دیتا بلکہ وہ تو ہٹلر کی منطق کو مانے ہوئے ہیں ہٹلر بھی یہی کہتا تھا کہ سوشل ڈارکنیسم ہی بہتر ہے یعنی وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہماری نسل اور آریان خون سب سے بہتر ہے یہی حال پاکستان میں ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جو فرسٹ کزن ہوتے ہیں ان میں جینز کی مماثلت جو ہے وہ 12.5 ہوتی ہے اگر اس 12.5 میں کوئی ایسا جین آ جاتا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی بیماری ہوتی ہے تو کزن میرج کرنے سے آنے والی نسل میں بیماری منتقل ہونے کے مواقع بہت زیادہ ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بچے ایک سال ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور پاکستان دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے اور کئی سال تک تو پاکستان دوسرے اور تیسرے نمبر پر آتا رہا ہے، جب ہم بار بار اپنے ہی خاندان کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان یا دوسری ذات میں شادی سے کتراتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ذات اور ہمارا خون ہی سب سے اعلی ہے تو یہ ایک سائیکل بن جاتا ہے اور اس سائیکل میں آ کر پیدا ہونے والی نسل بغیر کسی تگ و دو کے ایسے موذی مرض میں پڑ جاتی ہے جس کا خمیازہ نہ صرف بچے بلکہ والدین بھی ساری عمر ادا کرتے رہتے ہیں، برطانیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 60 فیصد پاکستانی مقیم ہیں جنہوں نے کزن میرج کی ہوئی ہے ویسے تو ان کی تعداد 3 فیصد بنتی ہے لیکن وہ پاکستانی آبادی کا 1 / 3 ایسے بچے پیدا کرتے ہیں جو کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے کزن میرج۔

اس کے علاوہ وہاں ہر سال انگنت بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی پیدائشی بیماری موجود ہوتی ہے، اس طرح ہم نہ صرف اپنی زندگی بلکہ آنے والی نسل کو بھی خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔ لیکن ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے چاچو کا بیٹا یا ہمارے ماموں کی بیٹی بھی کزن میرج کی پیداوار ہیں ان کو تو کوئی بیماری بیماری بھی لاحق نہیں ہوئی، ان کی یہ منطق کا مطلب یہ ہوا کہ ایک شخص سارا دن ریل گاڑی کی پٹڑی پر لیٹا رہے جب وہ بچ جائے تو شام کو شہر میں جا کے شور مچا دے کہ ریل کی پٹڑی سونے کے لیے صحیح ہے اور کوئی نقصان وقوع پذیر نہیں ہوا۔

اگر کزن میرج کرنی ہی ہے تو ہر خاندان کو چاہیے ہے کہ جینیٹک کاونسلنگ کروا لیں لیکن اس معاملے میں بھی مرد حضرات اپنی مردانگی کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، یہاں تک کہ سوشل سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق جن ممالک یا معاشروں میں کزن میرج کا رجحان زیادہ ہوتا ہے وہاں جمہوریت نہیں آ سکتی کیوں جس کی زندہ مثال پاکستان ہے جہاں چند ایک خاندان ملک کے اوپر قابض ہیں کیونکہ کہ ساری طاقت ہی ان چند ایک حکمرانوں کے پاس ہے اور وہ اپنے خاندان کو ہی نوازتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے ہے کہ ہم سائنس کی بات سنیں، تحقیق کریں اور اس پر عمل کریں تاکہ ایک روشن اور اچھا مستقبل نظر آ سکے ورنہ ایک وقت آئے گا ہر گھر میں بونے اور اپاہج ہی نظر آئیں گے اور ایسے لوگوں کی معاشرے میں جو عزت اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے اس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کزن میرج: معاشرے کے لیے تباہی”

  • 11/07/2024 at 12:08 صبح
    Permalink

    ایک حساس موضوع جس کو طنز اور مزاح کے ساتھ پیش کرکے اس کا بیڑا غرق کردیا گیا۔

    شروع میں ایسا لکھا جیسے کزن میرج ایک گالی یا گناہ ہے۔

    دوسری طرف آخر میں خود ہی لکھ دیا کہ کزن حضرات شادی سے پہلے جین کونسلنگ کرالیں۔

    پہلے تو طے کرلیں یہ عمل ٹھیک ہے یا نہیں۔

    کزن میرج کا ایک بہت بڑا تعلق مذہب سے بھی ہے۔

    میرے خیال میں عیسائیت میں یہ مکمل ممنوع ہے اسی لئے متعدد یورپی ممالک یا امریکی ریاستوں میں اسے گالی اور گناہ ہی سمجھا جاتا ہے کیوں کہ کزن ایک دوسرے کیلئے محرم ہوتے ہیں۔ ہرجا کے مختلف فرقے کے لوگ ابھی بھی فرسٹ یا سیکند کزن سے شادی کرلیتے ہیں۔

    دوسری طرف ہندو مذہب میں متعدد جگہوں پر یہ حرام ہے اور کہیں پھوپھی یا چچا کے بچوں سے جائز۔ بعض مقامات پر تو اتنی سختی ہے کہ گاؤں یا خاندان میں ہی شادی جائز نہیں۔

    کزن میرج صرف پاکستان ہی نہیں ہر وہ مسلم ملک جہاں قبائلیت زور پر رہی وہاں یہ شرح زیادہ ہے۔ عرب ممالک اور افغانستان میں یہ شرح 45 سے 50 فی صد تک متصور کی جاسکتی ہے۔ اسی لئے وہاں بچوں میں خون کی بیماریاں یا معذوریاں زیادہ ہیں۔

    پاکستان میں بھی پختوں خواہ، سابقہ فاٹا یا بلوچستان میں یہ شرح زیادہ ہوگی لیکن حد سے حد 45 اور سندھ اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں زیادہ ہوگی شاید 35 سے 40 فی صد۔

    لیکن شہری علاقوں میں یہ نسبت اتنی نہیں جتنا دعوی کیا گیا یعنی 60 سے 70 فی صد سے زیادہ۔

    یہ پورے پاکستان میں آج بھی بمشکل 20 سے 25 فی صد مجموعی ہوگی۔

    کزن میرج کے نقصانات وہاں زیادہ نظر آتے ہیں جہاں یہ جملہ سننے کو ملے ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے۔ ظاہر ہے یہ رویہ اور رجحان مسائل کی جڑ ہے۔

    فرسٹ کزن سے میرج صرف اسلام میں ہی جائز ہے اور یہ ایک نعمت اور سہولت ہے نہ کہ زحمت۔

    اسے زحمت انسانوں نے اس وقت اپنے لئے بنالیا جب انہوں نے یہ گردان شروع کی کہ ہم بیٹیاں خاندان سے باہر نہیں دیتے۔ اور بیٹے بھی کم از کم ایک شادی خاندان میں کریں گے۔ اس بات کا ظاہر ہے اسلام سے تعلق نہیں۔

    برطانیہ اور امریکہ میں جو مسائل کزن میرج سے آرہے ہیں وہ پاکستانیوں کا درد سر نہیں۔ بعض ترقی یافتہ ممالک میں تو بہن بھائی کے تعلقات عام ہیں اور قانوناً جائز بھی تو ؟

    اگر دو خاندان کزن میرج کرنا چاہیں اور جین کونسلنگ نہیں کرانا چاہتے تو ایک سادہ سا معاملہ دیکھ لیں۔ لڑکے کے نانا دادا اور لڑکی کے نانا دادا نانی دادی اگر یہ 8 لوگ آپس میں سگے بھائی یا کزن رہے ہیں۔ تو شادی میں خطرے کے امکانات اتنے زیادہ ہیں۔ اگر ان میں سے محض دو یا تین لوگ سگے بہن بھائی یا کزن رہے ہیں تو اتنا خطرہ نہیں۔

    اسی طرح اگر لڑکا لڑکی کے خاندان میں کسی بچے کا انتقال خون کی بیماری سے ہوا ہو یا کوئی خون کی بیماری یا پیدائشی جسمانی معذوری کا شکار ہو تو لرکا لڑکی خود سوچیں کہ ایسی شادی کی صورت میں ان کو ایسے بچے پالنے پڑے تو کیا وہ برداشت کرسکیں ؟ پھر بھی چاہیں تو جین کونسلنگ ضرور کرالیں بالخصوص تھیلسیمیا کے ٹیسٹ۔

Comments are closed.