راشد عباسی: پہاڑی زبان و ادب کی ترویج کے لئے سرگرداں شخصیت

فیس بک پر بہت سے قریبی لوگ اجنبی سے محسوس ہوتے اور کچھ لوگ، جن سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہوتی پھر بھی وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ چند سال قبل راشد عباسی صاحب سے فیس بک پر تعلق جڑا تو تھوڑے دنوں بعد ہی اجنبیت اپنائیت میں بدل گئی۔ فیس کے بعد واٹس ایپ پر رابطہ ہوا تو قربت مزید بڑھ گئی۔
راشد عباسی صاحب پہاڑی زبان اور اردو کے نامور لکھاری ہیں۔ وہ دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں، افسانے اور کالم لکھتے ہیں۔ اردو تو ہمارے دور کی ایک ترقی یافتہ زبان ہے لیکن پہاڑی کا شمار پاکستان کی ان زبانوں میں ہوتا ہے، جن پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں وفاقی سطح پر ایسا کوئی ادارہ نہیں، جو ملک کی مادری زبانوں کی ترقی پر توجہ دے۔ ہاں رضاکارانہ طور پر ”انڈس کلچرل فورم“ ایک ایسا ادارہ ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے مادری زبانوں کی بقا اور فروغ کے لیے کوشاں ہے اور ہر سال فروری میں اسلام آباد میں مادری زبانوں کا تین روزہ ادبی میلہ منعقد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اکادمی ادبیات پاکستان کا مادری بولیوں کے حوالے سے کام قابل ستائش ہے۔ چاروں صوبائی زبانوں کے علاوہ اکادمی ادبیات نے دیگر مادری زبانوں کے ادب کے اردو اور انگریزی تراجم کا سلسلہ تو شروع کیا ہے۔ اکادمی کو اس کام پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
راشد عباسی صاحب حالانکہ اپنی مادری زبان پہاڑی کے ساتھ ساتھ مسلسل اردو میں بھی لکھتے رہتے ہیں لیکن پہاڑی زبان سے ان کی محبت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے ماں بولی کے لئے بظاہر گھاٹے کا سودا کرتے ہوئے اپنی لگی بندھی آمدنی کو ترک کر دیا۔ وہ دس بارہ سال تک ایک ملٹائی نیشنل (امریکن ٹیلی کام کمپنی) میں ریجنل منیجر ایڈمن کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے اچھی بھلی نوکری چھوڑ دی اور گزشتہ تین سال سے خود کو کل وقتی پہاڑی زبان کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ اب وہ دن رات پہاڑی زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔
راشد عباسی نے گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ مری، گورنمنٹ ڈگری کالج مری، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال، راولپنڈی، قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد اور پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ ایم اے اردو اور ایم ایس سی ہسٹری کی ڈگریاں حاصل کیں۔ کچھ روز قبل اسلام آباد میں راشد عباسی صاحب سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ علم و ادب اور مادری زبانوں کے موضوعات پر گفتگو ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ دنیا کی معدوم ہوتی زبانوں کی تاریخ سے بخوبی واقف ہیں، اس لئے نہ صرف وہ اپنی مادری زبان کی ترویج کے لئے سرگرداں ہیں بلکہ پاکستان کی دیگر مادری زبانوں کے لئے بھی ان کے دل میں محبت و اپنائیت کا گوشہ موجود ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ اب پاکستان کی ان مادری زبانوں کا ادب بھی شائع ہونے لگا ہے، جن زبانوں کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے اکادمی ادبیات پاکستان کا کردار تو قابل ذکر ہے لیکن کچھ شخصیات جذبے کی وجہ سے اپنی ذاتی کوششوں اور ذاتی سرمایہ سے بھی یہ علمی ادبی کام سرانجام دے رہی ہیں۔ اس سلسلے میں پہاڑی اور اردو زبان کے نامور لکھاری جناب راشد عباسی کی خدمات قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے پہاڑی زبان و ادب کے فروغ کے لئے راولپنڈی میں ”انجمن فروغ پہاڑی زبان“ کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے۔ اس ادارے کی جانب سے وقتاً فوقتاً نہ صرف پہاڑی زبان میں کتابیں شائع ہوتی ہیں بلکہ پہاڑی زبان کے پہلے ادبی کتابی سلسلے ”رنتن“ کا اجراء بھی کیا گیا ہے۔
میری ذاتی لائبریری میں پہاڑی زبان کے ادبی مجلہ ”رنتن“ کے شماروں کے علاوہ کچھ کتابیں بھی موجود ہیں، جن میں ان کی کتابیں ”سولی ٹنگی لَو“ (پہاڑی غزلیات) اور ”عشق اڈاری“ (پہاڑی نظمیں ) اور ”اقبال نیں شاہین“ (تعلیم کے حوالے سے مضامین) بھی شامل ہیں۔ پہاڑی ادب کی وہ کتابیں راشد عباسی صاحب مجھے تحائف کے طور پر بھیجتے رہے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار پہاڑی زبان میں بھیجا ہوا ان کا ادبی جریدہ ”رنتن“ پڑھا تھا تو مجھے خوشی ہوئی تھی کہ پہاڑی ادب پڑھتے ہوئے نہ صرف مجھے ابلاغ کا مسئلہ پیش نہیں آ رہا تھا بلکہ اپنی مٹی کی مہک ہی محسوس ہو رہی تھی۔ شاید اس لئے کہ پہاڑی زبان بھی ہماری اسی انڈس ویلی کی ہی ایک مادری زبان ہے۔ راشد عباسی کی پہاڑی شاعری کی کتاب ”عشق اڈاری“ کے بارے میں اردو کے نامور لکھاری سید ماجد شاہ نے کیا خوب لکھا ہے، ”پہاڑی نظموں کی خوبصورت کتاب ہے، جس میں پہاڑی زبان کی چاشنی کے ساتھ راشد عباسی نے ایسی مٹی کی مہک شامل کر دی ہے کہ قاری انھیں فضاؤں میں سانس لیتا ہوا محسوس کرتا ہے جس کا تجربہ صرف تخلیق کار کو ہے۔“
راشد عباسی صاحب کی زیر اشاعت کتابوں میں ”پہاڑی زبان کی ابتدائی لغت“ بھی شامل ہے۔ یہ لغت نہ صرف پہاڑی زبان میں ایک اہم اضافہ ہو گی بلکہ دیگر زبانیں بولنے والے ان لوگوں کے لئے بھی کارآمد ہوگی، جو پہاڑی زبان و ادب کو سمجھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو اور پہاڑی میں ان کی چار دیگر کتابیں بھی زیر اشاعت ہیں۔
راشد عباسی ہمہ جہت علمی ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی ایوارڈ تقریب میں میرا اسلام آباد جانا ہوا تو مجھے شرف ملاقات بخشنے کے لئے خاص طور پر تشریف لائے اور ساتھ میں پہاڑی اور اردو کتابوں کے تحائف سے بھی نوازا۔ ان سے سیر حاصل گفتگو میں میرے شاعر دوست ادل سومرو بھی شریک رہے۔ راشد عباسی صاحب سے پہلی ملاقات میں جو اپنائیت کا احساس ہوا، پہلی ملاقات میں ایسا احساس بہت کم لوگوں سے مل کر ہوتا ہے۔







