ووٹ کو عزت دے کر بھی دیکھ لیں


حکومت ملک میں جمہوریت کا پرچار کرتی ہے لیکن ہر آنے والے دن کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے جمہوری نظام کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ میڈیا تو پہلے ہی ’نظربند‘ اور حکام کے چشم ابرو کا محتاج ہے، اب ایک حکم نامے کے ذریعے آئی ایس آئی کو شہریوں کی فون کالز سننے اور ریکارڈ کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ عدالتوں میں پہلے سے شہریوں کی نجی زندگی کو متاثر کرنے والے اقدامات پر سوال اٹھائے جا رہے تھے لیکن حکومتی اعلان نے واضح کیا ہے کہ وہ ملک کو کس سمت لے کر جانا چاہتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کابینہ میں منظور کیے گئے اس حکم کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے اور اس کے نتیجے میں ججوں کے ریمارکس کی صورت میں ایسے خیالات سننے میں آئیں جو حکومت کے مزاج نازک پر بھی ناگوار گزریں اور جن کی وجہ سے اداروں کے درمیان ’تصادم‘ کا تاثر مستحکم ہو۔ 8 فروری کے انتخابات کے بارے میں متفقہ طور سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ یہ دھاندلی شدہ تھے۔ اس وقت حکومت میں شامل جماعتوں کے سوا شاید کوئی بھی سیاسی پارٹی ان انتخابات کی صحت کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔

روایتی طور سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حلیف رہنے والے مولانا فضل الرحمان مسلسل دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ انتخابات اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر منعقد ہوئے تھے اور موجودہ حکومت (بلکہ پارلیمنٹ) عوام نے منتخب نہیں کی بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے چنی ہے۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے دو سابق رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے اپنی نئی سیاسی جماعت ’عوام پاکستان پارٹی‘ کا اعلان کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے بھی تحریک انصاف کی طرح موجودہ حکومت کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیا۔

فارم 45 اور 47 کی بحث درحقیقت پاکستان تحریک انصاف نے شروع کی تھی۔ اس کے منتخب ارکان نے اسمبلیوں کے حلف اٹھانے کے باوجود موجودہ حکومتوں کو جعلی قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب جب بھی موقع ملتا ہے وہ شہباز شریف کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ واضح رہے فارم 45 پر ہر پولنگ اسٹیشن میں تمام امیدواروں کے نمائندے اور پریزائیڈنگ افسر دستخط کرتا ہے اور سب امیدواروں کے پاس اس فارم کی نقل ہوتی ہے۔ جبکہ علاقے کا ریٹرننگ افسر اپنے زیر انتظام تمام حلقوں کے فارم 45 جمع ہونے کی بنیاد پر فارم 47 مکمل کرتا ہے جس میں کسی حلقے سے ناکام یا کامیاب ہونے والے امیدواروں کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دی جاتی ہے۔ فارم 47 ایک سرکاری افسر اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے مکمل کرتا ہے۔ اس لیے اس موقع پر امیدواروں کے نمائندے موجود نہیں ہوتے۔ البتہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ ریٹرننگ افسر وہی اطلاعات فارم 47 میں شامل کرے گا جو فارم 45 کی صورت میں اسے پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہوتی ہیں۔ ان اندراجات میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف نشاندہی کرتی رہی ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی غرض سے فارم 47 میں جعل سازی کی گئی اور فارم 45 کو نظر انداز کیا گیا۔ چونکہ الیکشن کمیشن ابھی تک تمام حلقوں کے تمام فارم 45 عام اسکروٹنی کے لیے پبلک کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے اس بارے میں مسلسل ابہام موجود ہے۔ تحریک انصاف کے نزدیک الیکشن کمیشن دھاندلی میں آلہ کار بنا ہے جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ البتہ جب کسی انتخاب کے بارے میں اس قدر شدید اعتراضات سامنے آئیں اور اختلاف موجود ہوں تو اقتدار سنبھالنے والی پارٹیوں کو جمہوریت، نظام کی سالمیت اور حقائق سامنے لانے کے لیے خود بھی شفافیت کا تقاضا کرنا چاہیے۔

اس کے برعکس دیکھا جا رہا ہے کہ حکومت میں شامل پارٹیاں ان اعتراضات پر یا تو خاموش تماشائی ہیں اور مسلم لیگ (ن) جو اس وقت اقتدار میں سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے تحریک انصاف کے الزامات کو جھوٹ کا پلندا قرار دے رہی ہے۔ البتہ کوئی حکومتی نمائندہ یہ بتانے میں کامیاب نہیں ہوا کہ اگر تحریک انصاف جھوٹے الزامات لگا رہی ہے تو حکومت ان کا راز فاش کرنے کے لیے کیوں ٹھوس اقدام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ یا وہ الیکشن کمیشن کی ’سرپرست‘ بننے کی بجائے خود بھی الیکشن کمیشن سے کیوں یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ اگر بعض سیاسی پارٹیاں انتخابات پر اعتراضات اٹھا رہی ہیں تو ان کا جواب دیا جائے اور دستاویزی شواہد کے ساتھ ان الزامات کو غلط ثابت کیا جائے۔

یہ ڈیجیٹل دور ہے۔ اگر حکومت بھی انتخابی شفافیت کے سوال پر الیکشن کمیشن کے طریقے کو درست قرار دینے کی بجائے، اس سے مطالبہ کرتی کہ تمام حلقوں کے فارم 45 اور فارم 47 صحافیوں، ماہرین، سیاسی کارکنوں اور عوام کے مشاہدے کے لیے عام کیے جائیں تو انہیں الیکشن کمیشن کی سائٹ پر اپلوڈ کیا جاسکتا تھا۔ اس طریقہ سے کم از کم یہ ابہام ختم ہو سکتا تھا کہ فارم 45 اور 47 کے اندراجات میں کوئی فرق ہے اور الیکشن کمیشن نے جو نتائج مرتب کیے ہیں، وہ واقعی ان معلومات کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے جو فارم 45 میں درج تھیں اور جن پر ہر امیدوار کے نمائندے نے دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی اختلاف ہوتا تو اسے الیکشن ٹریبونلز یا عدالتوں کے ذریعے رفع کیا جاسکتا تھا۔

الیکشن کمیشن کی طرح حکومت نے بھی یہ معلومات عام کرنے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ یوں اندراجات میں تضاد کا بظاہر ایک معمولی تنازعہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا اور انتخابات کی شفافیت اور موجودہ حکومت کے جواز پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے۔ امریکی کانگرس نے خواہ کسی لابی کے زیر اثر اس بارے میں قرار داد منظور کی ہو لیکن جب دنیا کی واحد سپر پاور کا ایک منتخب ادارہ بھاری اکثریت سے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتا ہے تو انہیں وزارت خارجہ کے ایک بیان یا اپوزیشن کی حب الوطنی پر سوالات اٹھا کر دور نہیں کیا جاسکتا۔

بدقسمتی سے شہباز شریف کی حکومت نے انتخابی دھاندلی کے بارے میں سوالات کا جواب دینے اور شبہات دور کرنے کی بجائے ایسے اقدامات کیے جو حکومتی نیک نیتی پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ خاص طور سے الیکشن ٹریبونلز کے حوالے سے ریٹائرڈ ججوں کو ان میں شامل کرنے اور اور الیکشن کمیشن کو ہائی کورٹس سے مشاورت کے بغیر از خود ٹریبونلز کے ارکان مقرر کرنے کے فیصلہ کے بارے میں یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت انتخابی شکایات کے فیصلے اپنی مرضی کے مطابق لینا چاہتی ہے۔ 2023 کے دوران میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے الیکشن کمیشن کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت سے ہائی کورٹ ججوں میں سے انتخابی ٹریبونل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم اس طریقے کو مئی کے آخر میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کے جاری ہونے والی آرڈی ننس کے ذریعے تبدیل کیا گیا اور ریٹائرڈ ججوں الیکشن ٹریبونلز میں شامل کرنے کا حکم جاری ہوا۔ اب اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروا لیا گیا ہے۔ گزشتہ شب صدر آصف علی زرداری نے آئینی شق 75 کے تحت اس بل پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دی ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کے درمیان انتخابی ٹریبونلز مقرر کرنے کے معاملہ پر اختلاف کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے 29 مئی کو قرار دیا تھا کہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس خود الیکشن ٹریبونل مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے 8 ٹریبونلز تشکیل بھی دیے تھے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ٹریبونل مقرر کرنے کا آئینی اختیار اس کے پاس ہے اور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس یہ اقدام نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اس معاملے پر الیکشن کمشنر اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت سے کسی نتیجہ پر پہنچیں۔

اس کھینچا تانی میں انتخابی اعتراضات دور کرنے کا عمل مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس بارے میں عجلت کرنی چاہیے تھی لیکن اس کی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ وہ اس معاملہ میں وضاحت کی حاجت محسوس نہیں کرتی۔ وہ اس پر خوش ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں اسے اقتدار مل چکا ہے۔ موجودہ لیڈر ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ اس حکومتی طرز عمل کی وجہ سے اپوزیشن کے اعتراضات میں شدت آئے گی اور انتخابات کی شفافیت کے بارے میں مسلسل سوالات سامنے آتے رہیں گے۔ حکومت ان اعتراضات کو دور کرنے کے لیے متوازن رویہ اختیار کر کے فریقین کی رضامندی سے کسی فیصلہ تک پہنچ سکتی تھی۔ یا اپوزیشن کی تجویز کے مطابق عدالتی تحقیقات کا اہتمام کر سکتی تھی۔ لیکن شہباز حکومت ایسے مفاہمانہ اقدامات پر تیار نہیں ہے حالانکہ وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت پر زور دیتے رہتے ہیں۔

اس کے برعکس حکومت انتظامی اقدامات اور قانون سازی کے ذریعے اپوزیشن کے لیے جمہوری راستے بند کرنے کا اہتمام کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کو عوامی رابطہ مہم سے روکا جا رہا ہے، میڈیا پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے، ایکس پر بندش کو قومی سلامتی سے منسلک کہہ کر قائم رکھنے کا اعلان کیا جا رہا ہے اور اب مرضی کے الیکشن ٹریبونلز قائم کرنے کا راستہ ہموار کر کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدالتی حکم پر 2017 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ’مجھے کیوں نکالا‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں۔ بعد میں اس نعرے نے ’ووٹ کو عزت دو‘ میں تبدیل کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی خود مختاری اور عوامی حاکمیت کا مطالبہ کیا جاتا رہا تھا۔ اب مسلم لیگ (ن) ہی کی حکومت ووٹ کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کی بجائے ابہام پیدا کر کے اس نعرے کے برعکس سیاسی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ جس اسٹیبلشمنٹ کو مسترد کر کے عوام کو حق انتخاب دینے کا نعرہ لگایا گیا تھا، اب اسی اسٹیبلشمنٹ کو توانا کر کے عوامی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔

شہباز شریف سمیت سب لیڈر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملک اس وقت شدید بحران کا شکا ر ہے۔ بظاہر اس بحران سے نمٹنے کے لیے فسطائی ہتھکنڈے اختیار کر کے سیاسی مخالفین اور عوام کو ہراساں کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ بحران حل ہو نہیں پا رہا۔ بہتر ہو گا کہ اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر عملی طور سے ایک بار ’ووٹ کو عزت‘ دینے کا اقدام کرے۔ اس طریقے سے ہی موجودہ سیاسی تناؤ اور بے یقینی ختم کی جا سکتی ہے۔ مسلم لیگ اقتدار میں نہ بھی رہے تو کم از کم عوام کے حق انتخاب کا احترام کر کے وہ ملکی تاریخ میں خود کو سرخرو کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali