سفید پرندے کا نوحہ: جنگ اور موت کی نظمیں
تاریخ عالم کو دیکھیں تو طاقت اور سلطنت کی ہوس میں جنگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ادبیات عالم کا مطالعہ کریں تو دنیا کا بڑا اور معروف ادب رزمیہ شکل میں ملے گا۔ وہ گل گامش کے قصے ہوں، ہومر کی اوڈیسی ہو، عرب کی رجزیہ شاعری ہو، مہا بھارت یا رامائن ہو یا اصناف ادب مرثیہ ، شہر آشوب اور جنگیں۔ اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا انسان جنگ کو آئیڈیلائز کرتا ہے؟ کیا بہادری اور ہیرو کے تصور کو فاتح یا جنگجو کے ساتھ منسلک کردینے سے جنگی جنون کو فروغ تو نہیں مل رہا؟
کیا خطرناک اور مہلک ہتھیاروں کے لیے دنیا کی اکثریت کا جنون نوع انسانی کو تیزی سے صفحہ ہستی سے مٹانے کی جانب تو نہیں لے کر جا رہا؟ کیا ہمارے اہل علم اور وابستگان قلم کو ان حالات میں اپنے نظریات، عقائد اور سیاسی وابستگیوں کو ایک جانب رکھ کر امن کی حمایت نہیں کرنی چاہیے؟ ایٹمی ہتھیاروں کے مقابلے کی اس دوڑ میں سویڈن جیسی امن پسندی کی شدید ضرورت ہے جہاں کے عوام کی حمایت سے ایٹمی پروگرام کو بند کر دیا گیا۔
آج پابلو پکاسو کی "گورنیکا” جیسے جنگ مخالف شاہکار کی ضرورت ہے۔ آج پھر ژاں پال سارتر جیسے مفکر کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جن کی ساری زندگی جنگ کے خلاف مزاحمت کرتے اور لکھتےگزری یہاں تک کہ انہوں نے احتجاجاً نوبل پرائز لینے سے بھی انکار کر دیا۔ عصر حاضر میں ایسے تخلیق کاروں کی بے حد ضرورت ہے جو جنگ مخالف رویوں کو فروغ دیں۔
معاصر اردو ادب کو دیکھیں تو ہمیں ضمیر نیازی کی ” زمین کا نوحہ” نظر آئے گی جو ایٹمی جنگ کے خطرے اور تباہ کاری کے حوالے سے پہلا قابل ذکر ادبی انتخاب ہے جو شہرزاد کراچی سے 28 مئی 2000 کو شائع ہوا۔ یہ کتاب تین حصوں "جوہر اندیشہ”،” ہیروشیما سے پہلے ہیرو شیما کے بعد” اور” پوکھران اور چاغی”پر مشتمل جنگ مخالف نظم و نثر کا ایک عمدہ ا ور چشم کشا انتخاب ہے۔ امن کے پیامبر تخلیق کاروں کے حوالے سے ایک اہم نام ڈاکٹر جواز جعفری کا ہے ان کی جنگ مخالف نظموں کا مجموعہ” موت کا ہاتھ کلائی پر ہے” کے عنوان سے شائع ہوا۔
حال ہی میں ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کی نظموں کا مجموعہ ” جنگ اور اداسی کی نظمیں ” کے عنوان سے سنگ میل پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔ اسی خوبصورت روایت کا تسلسل نجمہ منصور کا شعری مجموعہ ” سفید پرندے کا نوحہ” ہے۔ انچاس نثری نظموں پر مشتمل یہ مجموعہ جنگ ،اس کی تباہ کاریوں، آخری محاذ پر فوجیوں کی مشکل اور تنہا زندگی، اس کے خاندان بالخصوص ماں، بیوی اور بچوں کے جذبات، جنگ میں خواتین اور بچوں پر ٹوٹنے والی قیامتوں، سسکیوں ، آہوں اور خون رنگ آنسووں پر مبنی ایک چیخ ہے ایک پُکار ہے جو امن کی آرزو میں لگائی گئی ہے۔
زخمی بچے ماؤں کی تلاش میں مٹی سے اٹے چہرے لیے
بلکتے سسکتے گھوم رہے ہیں
موت کی چادریں اوڑھے
مائیں عزتیں بچانے کے لیے اونچی عمارتوں سے کود رہی ہیں
بھوک گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی ہے
اور دکھ اور درد کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں( اخباری تراشوں سے بنی گئی ایک نظم)
کیا ایسا ممکن ہے کہ
جنگ کے بارے میں نظم لکھتے ہوئے
آدھے جلے چہروں والے بچے ، بوڑھے اور جوان
جنہیں اجتماعی قبروں میں ٹھکانے لگا دیا گیا تھا
جاگ جائیں
اور صف ماتم بچھا کر
اپنی اپنی بے گناہی کا حساب مانگیں( اگر ایسا ہو جائے تو !)
محاذ جنگ پر تنہائی بھی پھانسی لے لیتی ہے
اور جھیل کے پانی پر دائرے بننے کا عمل
آپ ہی آپ نہیں ہوتا
کوئی جوار بھاٹا ، کوئی کنکر
اس کی وجہ بنتا ہے (کبھی سوچا ہے کیوں؟)
تم راہبہ ہو
بدھا کے مجسمے کے سامنے بیٹھ کر
دل ہی دل میں
مجھے یاد کرنا
میں میدان جنگ سے
الٹے قدموں لوٹ آؤں گا
اور اگر ایسا نہ کر سکوں تو
اپنے خواب پرچم میں لپیٹ کر
تمھاری جانب روانہ کردوں گا( بدھا، راہبہ اور میدان ِ جنگ)
اپنے کاندھے پر لٹکے گولیوں کے تھیلے میں
اس کی نئی نویلی دلہن کے خواب بھی پڑے تھے
جو ابھی ادھورے تھے
جنھیں پورا کرنے کے لیے
اس کا محاذ جنگ سے زندہ واپس لوٹنا
بے حد ضروری تھا (منظر، پس منظر)
جنگ کے بعد اس خطے کے انسانوں کے لیے زندگی کی نبض چلائے رکھنا بھی جنگ جیسا مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔ جنگ کے بعد کئی دہائیوں تک حالات بہتر نہیں ہو پاتے، جنگ سکھ ، سکون اور خوشحالی کو بھی روند کر چلی جاتی ہے۔ جہاں جنگ میں موت رقص کرتی ہے وہاں جنگ کے بعد بھی بھوک،بیماری اور بیکاری حکومت کرتی ہے۔
جنگ کھیل ہے
تشدد کا ، بھوک کا ، بیماری و لاچاری کا
جو فتح کرتا ہے مظلوم انسانوں کو
جس میں جیتنے اور ہارنے والے
دونوں بھیگی سانسوں کے ساتھ
تباہی کے لنگر خانے سے
موت کے سالن کے ساتھ
دکھوں کی روٹی کھاتے ہیں(جنگ کھیل ہے!)
نجمہ منصور نوحہ کناں ہیں ، دورِ جدید کے انسان پر جس نے مہلک ترین ایٹمی ہتھیار تو ایجاد کر لیے ہیں جو پلک جھپکتے میں کرہ ارض کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں لیکن وہ محبتوں کو کہیں کھو بیٹھا ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے۔
انسان نے وہ ہتھیار تو ایجاد کر لیا جو
بہت دور تک مار کر کے
کرہ ارض کی آخری حدوں کو چھولے
لیکن اس دوران وہ۔ ۔ ۔
وہ محبتیں
کہیں رستے میں گم کر بیٹھا
جو دلوں کو چھولیتی تھیں( پینٹا گون اور بھٹکتی روحیں!)
وہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
یہ سکیورٹی اہل کار، یہ سپر طاقتیں
وہ بچے کھانیاں ہیں
جن کا کام صرف
انسانی خون پینا ہے
غٹاغٹ ، غٹاغٹ(بچے کھانیاں)
وہ امن کی خواہش رکھنے والے ان لوگوں کو بھی جھنجھوڑ کر جگانا چاہتی ہیں جو سارے منظر کے خاموش تماشائی ہیں۔ جنہیں جنگ اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانا اور مذمت کرنا تک منظور نہیں کہ وہ خود بظاہر اس آگ سے محفوظ ہیں۔
کیا تم دیکھ سکتے ہو؟
اس سہمے ہوئے جنگ زدہ بچے کی آنکھوں میں
تیرتی بے بسی
جس سے ایک نشریاتی ادارے کی رپورٹر
جب پوچھتی ہے
Do you miss your mom?
اور وہ کہتا ہے”No”
سوچو!
اگر تم بھی ایک ماں ہو
تو کیا اس ایک لمحے میں
اس کی ہنسی سے گرتے ٹپ ٹپ آنسو
تمھیں عمر بھر سونے دیں گے؟( کیا تم دیکھ سکتے ہو!)
ایسے ہی خاموش لوگوں سے وہ ایک اور نظم "امن کے لیے "میں مخاطب ہوتے ہوئے لکھتی ہیں:
وہ بولنا چاہتے تھے
امن کے لیے!
محبت کے لیے
مگر الفاظ ان کے حلق سے چپک گئے تھے
حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ
امن کی ، محبت کی آواز بلند کرنے والے
زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکتے
لیکن شاید وہ
جنگ، امن اور محبت کے درمیان
غیر مشروط معاہدہ کرتے ہوئے
سناٹے کی دستاویز پر
دستخط کر چکے ہیں
آخر میں وہ جنگ مسلط کرنے والے حکمرانوں کو”موت کے سوداگر” کہتے ہوئے لکھتی ہیں:
زندگی کی لینڈ سکیپ پر
بارودی سرنگیں بچھانے والے
موت کے سوداگروں کو ایک ساتھ
اجتماعی قبر میں اتنا گہرا دفن کریں کہ
ان کی بد روحیں
نقل مکانی کر کے
کسی نئی بستی جا کر
دوبارہ سے جنگ کا نقارہ نہ بجائیں(موت کے سودا گر)
نجمہ منصور کا یہ نظمیہ مجموعہ جنگ اور نسل کشی کے خلاف انتہائی موثر اور اہم آواز ہے۔ جنگ کے خلاف کسی بھی طرح مزاحمت کرنے والے ان کے ہیروز ہیں جن میں لیلیٰ خالد،محمود درویش،صدام حسین، کرنل قذافی جیسے بہادر لوگ شامل ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا کی خواہشمند ہیں جہاں امن ، محبت اور رواداری کا چلن ہو، جہاں جنگ اور اس کی حشر سامانیاں قصے کہانیوں میں بھی نہ ہو۔ وہ جنگ کے ہر امکان کو دفن کر دینا چاہتی ہیں۔ وہ کائنات کے اس جزیرے پر امن کے سفید پرندوں کی حکمرانی دیکھنے کی خواہاں ہیں۔


