سیاحت اور ماحولیاتی آلودگی
سال دو ہزار میں نیٹ فلیکس پر ”انڈر پیرس“ کے نام سے سائنس فکشن تھرلر مووی آئی۔ جس کا تھیم شارکس کے بارے میں ہے اور اس کو ’زیوئیر جَینز‘ نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے شارک کی ایک خاص قسم کا ہیبیٹیٹ متاثر ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو عملِ تولید کے لئے جگہ نہیں ملتی تو پیرس شہر کے دریائے سین میں آ جاتی ہیں، مخصوص تبدیلیاں اختیار کر کے وہاں کے آب و ہوا سے سمجھوتہ کرنے کی وجہ سے ان کی آبادی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور شہر کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔
قدرت کے عطا کردہ ماحول پر جب انسانی اعمال بے جا اثر انداز ہوں گے تو منتج تباہی پر ہی ہو گا۔ دنیا بھر میں اس سے بچاؤ کے لئے کوششیں جاری ہیں مگر پاکستان میں حالت تشویش ناک ہے۔
ٹورزم انڈسٹری دنیا بھر میں جہاں پر لوکل آبادی کی معاشی حالت بہتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہے وہی پر اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ وہاں کی قدرتی آب و ہوا اور دلفریب مناظر بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔
جھیل سیف الملوک جو کبھی پرستان ہوا کرتی تھا آج کل پلاسٹک بیگز اور آلودگی سے بھر چکی ہے۔ یہی حالت قریب تر باقی قدرت کے حسین تحائف اور مناظر کی بھی ہے۔
پچھلے ہفتے میں گلگت بلتستان کے حسین ضلع استور کے سیاحتی مقام راما، فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لئے گیا۔ وہاں کی ایک چیز دل کو لگی، انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے بڑے بڑے بورڈز جہاں پر پلاسٹک بیگز اور شاپر کے استعمال سے منع کیا گیا ہے اور وارننگز دی گئی ہیں۔ اور ساتھ میں کوڑے دان بھی لگائے گئے ہیں۔
حکومت اور انتظامیہ کی اتنی ہی ذمے داری بنتی ہے باقی عمل کرنا ذمہ دار شہری کی سوک ذمہ داری بنتی ہے۔ اسے دیکھ جسم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر میرا بھرم تب ٹوٹا، جب ہم راستوں سے پیدل چل کر گلیشئیرز کے آغوش میں پناہ لیتی راما جھیل پہنچے۔ راستے سے اتر کر ایک ایسی جگہ اترے جہاں پر بہت کم سیاح اترتے ہیں۔ اکثر لوگ راستے سے ہوتے ہوئے وہی جاتے ہیں جہاں ایک دو ڈھابے اور ٹینٹ لگے ہیں۔
اس نیلگوں پانی کی حسین جھیل کی بل کھاتی لبوں پر مسکراہٹ ہونے کی بجائے فرائز، بسکٹس، ٹافیوں، جوسز، اور بیورجز کی بوتلوں کی موجودگی نے چونکا دیا۔ جہاں پر فطرت نے اپنی گوٹا کناری کی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، مگر ایسے مناظر دیکھ رنجیدہ ہوئے بنا نہیں رہا جاتا۔
چند حسین لمحات جو وہاں کی لطیف ہواؤں میں بیتے جا سکتے ہیں، کھانے پینے کی اشیاء سے مزہ دوبالا کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں، لیکن اپنے پھیلائے گئے کوڑا کرکٹ کو مناسب جگہ پر لاکر پر تلف کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
دوسرے کا پھیلایا گیا گند کوئی کتنا بھی صاف کرنے کی کوشش کرے، ماحول کو صاف نہیں رکھا جا سکتا جب تک اپنی استعمال کی اشیا کے بچنے والے مادے کو خود تلف نہ کیا جائے۔
بعید نہیں کہ کچھ سالوں بعد کوئی ایسی جگہ نہ بچی ہو جو مکمل قدرتی نظارہ پیش کرتی ہو۔ اور ہم اپنی نئی آنے والی نسلوں کو اپنے غیر ذمہ دار شہری کی حیثیت سے بیتی گئی زندگی کو چھپانے کے لئے جگہ ڈھونڈتے پھریں۔


