نواز شریف کیا سوچ رہے؟
جس کے پاس پنجاب کی گدی ہوگی وفاق بھی اس کا ہو گا۔ جس کے ہاتھ سے پنجاب نکلا سمجھو وفاق بھی نکل گیا۔ پنجاب حکومت سازی اور طاقت کا مرکز ہے پاکستان کے مستقبل اور اگلی حکومت کے فیصلے بھی پنجاب ہی کرتا۔ 70 کی دہائی سے اب تک جس کے پاس پنجاب رہا وفاق بھی اسی کا ہوا۔ پیپلز پارٹی ہو مسلم لیگ نون ہو یا تحریک انصاف جو جماعت پنجاب میں حکومت بناتی ہے وفاق میں خود بخود حکومت سازی کے قابل ہو جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 16 سال سے سندھ میں اقتدار میں ہے لیکن اس دوران ان کو ایک بار ہی وفاق میں حکومت کرنا نصیب ہوئی وہ بھی مسلم لیگ نون کے ووٹوں سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئی۔
یہی صورتحال تحریک انصاف کی ہے تحریک انصاف بھی خیبر پختون خواہ میں مسلسل 11 سال سے حکومت میں ہے۔ تحریک انصاف کو وفاق میں حکومت کرنا تب ہی نصیب ہوئی جب ان کو پنجاب ملا۔ وفاق میں میں تحریک انصاف نے بھی متعدد اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ اس حوالے سے مسلم لیگ نون کافی خوش نصیب ہے اس کو دو بار ان 15 سالوں میں وفاق میں حکومت بنانے کا موقع ملا پہلے پنجاب میں گزشتہ 30 سالوں سے مسلم لیگ نون کا ہی مکمل ہولڈ تھا لیکن 2018 کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوئی۔
پنجاب میں مسلم لیگ نون کو کمزور کرنے کے لیے تحریک انصاف کو لانچ کیا گیا لیکن تحریک انصاف کی بد قسمتی ہے ان کو شہباز شریف کے مقابلے میں عثمان بزدار جیسا وزیراعلی ملا جس نے تحریک انصاف کو مضبوط کرنے کی بجائے مزید کمزور کر دیا۔ اس کا فائدہ مسلم لیگ نون کو ہی ہوا آج مسلم لیگ نون پنجاب کی سب سے بڑی جماعت پھر بن چکی ہے۔ آج پنجاب میں مسلم لیگ نون کا ڈنکا بج رہا ہے۔ 2024 کے الیکشن سے قبل پنجاب کے عوام مہنگائی کی وجہ سے نفرت، تقسیم اور غصے کا شکار تھے۔
لوہا گرم دیکھ کر عمران خان نے بھی ہتھوڑا مارا اور پنجاب جو ہمیشہ سے ہی نواز شریف اور فوج کا حامی رہا لیکن عمران خان کے جذباتی اور الفاظی فلسفوں کی زد میں آ گیا۔ پنجاب کے عوام نے کبھی بھی فوج سے نفرت کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن عمران خان نے اپنے سیاسی عزائم کے لیے پنجاب کے عوام میں بھی اور فوج مخالف نفرت بھر دی لیکن 2024 کے الیکشن کے بعد پنجاب میں صورتحال تبدیل ہو گئی اور پنجاب دوبارہ اپنے ٹریک پر واپس آ چکا ہے اس کا کریڈٹ میاں نواز شریف کو جاتا ہے۔
عمران خان کی پنجاب میں سپیس تب تک ہی تھی جب تک نواز شریف مائنس تھے جیسے ہی نواز شریف سیاست میں دوبارہ ان ہوئے عمران خان پنجاب سے مائنس ہو گیا اور پنجاب کے عوام میں دوبارہ سے فوج کی محبت بھی جاگ گئی۔ نواز شریف پنجاب کی پہلی ترجیح بن گئے ہیں۔ گو کہ الیکشن میں مسلم لیگ نون پنجاب میں اپنے اہداف کے مطابق سیٹیں نہیں نکال سکی لیکن پھر بھی مسلم لیگ نون پنجاب کی سب سے بڑی جماعت پھر بن کر سامنے آئی ہے۔ عمران خان کے نفرت اور جذباتی بیانیے کے باعث ہی پنجاب کا ووٹر تقسیم ہوا اور مسلم لیگ نون تنہا وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آ سکی جس کی وجہ سے نواز شریف وزیراعظم بھی نہ بن سکے۔
اب نواز شریف کیا سوچ رہے ہیں؟ یہ سب سے بڑا سوال ہے، نواز شریف کو معلوم ہے اگر وہ پنجاب سے عمران خان اور تحریک انصاف کا صفایا کرنا چاہتے ہیں تو مسلم لیگ نون کو ڈلیور کرنا پڑے گا اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کیونکہ نواز شریف عمران خان جیسی سوچ نہیں رکھتے کہ میرے علاوہ باقی سب جیلوں میں نا اہل ہوں اور میں اکیلا گراؤنڈ پر موجود ہوں۔ اس لیے اب نواز شریف نے مریم نواز کو ہدایات کی ہیں کہ آپ پنجاب کے عوام کی نبض کو پکڑیں اگر پنجاب کے عوام کو دوبارہ وہی سہولیات ملنا شروع ہو گئی جو 2017 تک ان کو میسر تھی تو پنجاب سے خود بخود ہی تحریک انصاف کا صفایا ہو جائے گا۔
اس لیے مریم نواز نے وزیراعلی بنتے ہی سب سے پہلے مہنگائی پر کنٹرول کیا۔ پنجاب میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ صرف تین ماہ میں آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 1600 روپے تک کی کمی ہوگی اور روٹی 14 روپے اور 12 روپے میں فروخت ہو نگی، جو سبزیاں 400 روپے سے 200 روپے کلو تک فروخت ہو رہی تھی آج وہی سبزیاں 40 روپے اور 60 روپے تک با آسانی میسر ہیں۔ مریم نواز نے صرف تین ماہ میں ثابت کر دیا ہے کہ وہ نواز شریف کے ویژن کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
مریم نواز کی اس وقت دو سب سے بڑی ترجیحات ہیں تعلیم اور صحت ان دو شعبوں میں مریم نواز خلاف توقع اور حیران کن طور پر ایسے اقدامات کر رہی ہیں جو ان سے قبل آنے والے تجربہ کار سیاستدان بھی نہیں کر سکے تھے مریم نواز پنجاب میں تعلیم اور صحت کے نظام کو اثر نو تشکیل دے رہی ہے۔ پنجاب میں نفرت اور تعصب کے جس بیانیے کو ہوا دی گئی تھی اس کو صرف مریم ختم کر سکتی تھی۔ مریم نواز کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ پروپیگنڈے کا جواب پروپیگنڈے سے دینے کی بجائے بالکل اپنے والد کی طرح کارکردگی سے مخالفین کو جواب دے رہی ہے۔
پاکستان کی 40 سالہ سیاسی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو نواز شریف ہر الیکشن میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگتے ہیں جبکہ نواز شریف کا ہر مخالف نواز شریف پر ہی الزامات لگا کر ووٹ مانگتا ہے یہی نواز شریف اور اس کے مخالفین میں فرق ہے۔ مریم نواز بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر ہی پنجاب کے عوام کو اپنا گرویدہ بنا رہی ہیں۔ مریم نواز جس گلی محلے یا شہر کا وزٹ کرتی ہیں بزرگ مرد، عورت نوجوان، لڑکیاں ہوں یا کم سن بچے ہر کوئی مریم نواز سے والہانہ محبت اور شفقت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ مریم نواز نے چند ماہ میں پنجاب میں سیاست کا نظریہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ خدمت کرو اور عوام کے دلوں میں جگہ بناؤ۔


