عمران خان کی سیاست


میں نے زندگی میں عمران خان کی پارٹی کو سپورٹ نہیں کیا اور نہ ہی ان کی سیاست سے مجھے کوئی دلچسپی رہی ہے۔ مگر سیاسی طالب علم ہونے کے ناتے میں عمران کی سیاست کو 90 کی دہائی سے دیکھتا آ رہا ہوں۔ 1992 کے ورلڈ کپ جیتنے کے بعد جب عمران خان نے جنگ اخبار میں آرٹیکلز لکھنا شروع کیے تو نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب عمران خان سیاست میں آئے گا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد عمران خان کی تردید بھی آ جاتی تھی کہ مجھے سیاست کا کوئی شوق نہیں۔

مگر پتا نہیں کیا ہوا 1996 میں عمران خان نے اپنی سیاسی پارٹی تحریک انصاف کا اعلان کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں عمران خان نے بڑی محنت کی۔ اس نے ملک کا چپہ چپہ خود وزٹ کیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے 1997 میں وہ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں مرحوم خالد لغاری کے پاس آئے تھے۔ عمران خان بڑی انقلابی باتیں کرتے تھے اور ان کی ٹارگیٹ آڈینس ملک کے نوجوان تھے۔ 1999 میں ملک میں پرویز مشرف کا مارشل لا آ گیا تو اس کی عمران خان نے حمایت کر دی۔

پیپلز پارٹی نے بھی پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ اس وقت ملک کے حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے، نواز شریف جس کو ٹو تھرڈ والی اسمبلی کی سپورٹ ملی تھی اور وہ امیرالمومنین بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کا اظہار کچھ دن پہلے نواز شریف کے ساتھ رہنے والے رہنما شاہد خاقان عباسی نے بھی کیا ہے کہ نواز شریف میں بڑے مینڈیٹ کا غرور آ گیا تھا۔

بہرحال 2002 پرویز مشرف کا ریفرنڈم آ گیا اور اس کی بھی عمران خان نے حمایت کر دی۔ مگر عمران خان کی پرویز مشرف سے نہیں بن سکی جس کا اظہار پرویز مشرف نے بہت دفع کیا تھا۔ 2013 میں عمران خان کو یہ بات سمجھ آ گئی تھی کہ انقلابی بن کر مجھے اقتدار کبھی نہیں ملنا اس لیے اس نے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے سپورٹ مانگ لی اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ویلکم کیا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف ڈسمینٹل پروجیکٹ بھی آ گیا تھا اور ایسا ہی ہوا۔

نواز شریف کو 2013 کی حکومت کو ناک میں دم کر دیا گیا تھا اور 2014 میں عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا لگا دیا۔ چین کے صدر کا وزٹ بھی ملتوی ہو گیا۔ 126 دن اسلام آباد میں دھرنا چلا مگر 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں ای پی ایس اسکول میں سانحہ ہو گیا۔ دھرنا تو ختم کر دیا گیا مگر عمران خان ایک دن خاموش کر نہیں بیٹھے۔ 2016 میں پاناما لیکس آ گئی۔ جس میں نواز شریف ڈسمینٹل پراجیکٹ کامیاب ہو گیا۔ نواز شریف کو پاناما کا کیس بنا کر اقامہ کیس میں نا اہل قرار دی دیا گیا۔

2017 میں ملک کا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بن گئے۔ 2018 میں عمران خان کو جتوانے کے لیے مکمل بندوبست کیا گیا تھا۔ ابھی الیکشن میں ٹائم تھا اس وقت اسفند ولی خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ عمران خان کی حکومت آ رہی ہے، اس نے مزید کہا کہ یہ نہیں پتا وہ کیسے آ رہی ہے مگر پورا بندوبست کر دیا گیا ہے کہ عمران خان کو لایا جائے۔ 2018 کی الیکشن میں عمران خان کو سادی اکثریت حکومت بنانے کے لیے تو نہیں ملی تھی مگر انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ حکومت بنائیں گے۔

سادی اکثریت کے لیے آزاد ممبرز اور اسٹیبلشمنٹ کے اچھے بچے جس میں ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ قیو والوں نے پی ٹی آئی کے سپورٹ کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کی حکومت تو بن گئی مگر وہ بری طرح ناکام ہو گئی۔ ایک تو ان کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ اور اس میں اہم بات یہ تھی کہ پی ٹی آئی کے پاس سادی اکثریت نہیں تھی اور وہ ہر وقت اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرتے رہتے تھے۔ عمران خان ہر وقت حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے کی باتیں کرتا رہتا تھا اور جنرل باجوہ کی بڑی تعریفیں کرتا تھا۔

مگر جب رٹائرڈ جنرل باجوہ اور عمران کے درمیان اختلاف پیدا ہوا عمران خان کی حکومت کو گرا دیا گیا۔ نو کانفیڈنس آ گیا اور شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ اس وقت عمران خان ملک میں بڑے غیر مقبول ہو چکے تھے مگر اللہ بہلا کرے ہماری آج کل کے وزیراعظم شہباز شریف کا جس کی 18 مہینوں کی حکومت نے عمران خان کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے۔ مگر 2023 میں عمران خان ڈسمینٹل پروجیکٹ شروع ہو گیا تھا اور 2024 کی الیکشن میں عمران خان کی سارے راستے بند کر دیے گئے تھے۔

عمران خان کو جیل میں ڈالا گیا۔ پارٹی کے دوسری ساری لیڈرشپ کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ 9 مئی کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے لیے بڑی مشکلات آئی۔ کچھ پارٹی لیڈر پریس کانفرنس کر کہ پارٹی چھوڑ گئے کچھ ابھی تک جیلوں میں ہیں۔ 2024 کا الیکشن عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بڑا چیلنج تھا مگر عمران خان کے شیروں نے انہونی کو ہونی کر دیا۔ کی پی کے کو تو سویپ کر دیا۔ اور پنجاب میں پی ٹی آئی دعوی کرتی ہے کہ 80 فیصد سیٹیں پی ٹی آئی نے جیت لی ہیں۔ مگر حکومت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے مل کر بنا دی جبکہ پی پی ابھی تک حکومت کا حصا تو نہیں لیکن آئینی عہدے مسلم لیگ نون کی سپورٹ سے لے لیے ہیں۔

اس وقت پی ٹی آئی کا سب سے اہم کیس مخصوص سیٹوں کا ہے جو سپریم کورٹ میں لگا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے فیصلہ تو محفوظ کر لیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں مل جاتی ہیں تو پی ٹی آئی مضبوط ہو جائے گی جس کے امکان نظر آ رہے ہیں۔ اور اگر فیصلہ پی ٹی آئی کے فیور میں نہیں آتا تو ملک میں عدم استحکام بڑھ جائے گا اور عمران خان کی سیاست مزید کامیاب نظر آئے گی۔

Facebook Comments HS