ایبنارمل سے نارمل کا سفر
دریچے کے پار سسکیاں گونج رہی ہیں اور باہر آسمان پر کھڑا چاند شرمندگی سے آنکھیں موندے کالے بادلوں کی آغوش میں اس سارے تماشے سے گویا خود کو چھپائے ہوئے ہے۔ آہ و بکا کرتی دیواریں اور نوحہ کناں ہوائیں بے چینی سے رات کی سیاہ چادر میں ایک اور خواب کو جذب ہوتا دیکھ رہی ہیں اور ان سب سے لاپروا ایک گڑیا دسمبر کی ساری سردی اپنی آنکھوں میں سجائے ساکت کھڑی اپنی ایبنارمل سے نارمل ہونے کی تلقین کرنے والی ماں کو اپنے سراپے سے نگاہیں چرائے سسکتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ اور ماضی کی کتاب کے کچھ پنے کھل کر سامنے آ گئے تھے۔
”مما! ہم ماموں کے گھر کب جائیں گے؟“ دس سالہ گڑیا نے اشتیاق بھرے لہجے میں ماں سے پوچھا تھا
”بیٹا ابھی پچھلے ہفتے تو آئے ہیں وہاں سے۔ “
”مما! آپ کو پتہ نہ مجھے ماموں بہت زیادہ پسند ہیں۔ وہ دنیا کے سب سے اچھے ماموں ہیں۔ کل چھٹی ہے تو ہم بس ان کی طرف جائیں گے۔“ گڑیا نے ضد کرتے ہوئے کہا تھا۔
”آپ کو تو پسند ہونے ہی ہیں ماموں۔ آخر چاکلیٹس اور کھلونے جو لے کر دیتے ہیں“ اس نے گڑیا کے بال سہلاتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔ اور اگلے دن اس کا کزن خود گڑیا کو لینے آ گیا تھا۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ گڑیا کو جانے کیا ہو گیا تھا وہ کسی کے آنے پر بھی کمرے میں چھپنے لگ گئی تھی اور ایک دن چھٹیوں میں ماموں کے گھر جانے کا جب اس نے گڑیا سے کہا تو تیرہ سالہ گڑیا نے بجائے خوش ہونے کہ کچھ جھجکتے ہوئے ماں کو کہا تھا:
”مما! مجھے کہیں جانا اب اچھا نہیں لگتا۔ مجھے بس گھر رہنا ہے۔“
”گڑیا یہ ڈرامہ بازی نہ پھر کبھی کر لینا۔ پہلے تو آپ کو سارا دن وہیں رہنا ہوتا تھا۔ جب سے آپ کی پھپھو آئی ہے تب سے انہوں نے آپ کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ اب جب بات میرے گھر والوں کی آتی ہے آپ کو بھی اپنے باپ کی طرح ڈرامے یاد آ جاتے ہیں۔ ایک ہی میرا کزن ہے جس سے میرا میکہ آباد ہے اور اب باپ کی طرح تم بھی چاہتی وہ ختم ہو جائے۔“ اس نے غصے سے جواب دیا تھا۔
”ماما میں آپ کے اور پاپا کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔ ہم ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔ ویسے بھی ماموں تو مصروف ہوں گے آفس میں۔ ان کے پاس ہمارے لیے کہاں ٹائم ہو گا؟“ گڑیا نے ماں کو منانے کے لیے ایک اور عذر تراشا تھا۔
”ایک تو وہ بیچارہ تمہیں اتنا پیار کرتا ہے، کھلونے اور چاکلیٹس لا کر دیتا ہے۔ سارا دن تمہارے ساتھ کھیلتا ہے اور تم کہہ رہی ہو وقت نہیں ہونا۔“ اس نے غصے سے کہتے ہوئے آخر میں پیار سے سمجھایا تھا۔
”اب جلدی کرو۔ ماموں آنے والے ہیں۔“ اور گڑیا آنکھوں میں آنسو لیے تیار ہونے لگ گئی تھی۔
”سارے جہاں کے ایبنارمل میرے ہی گھر میں ہیں“ اس نے غصے سے کہتے ہوئے سامان سمیٹنا شروع کر دیا تھا۔ اس بات پر دھیان دیے بغیر کہ کوئی اور بھی خود کو اندر ہی اندر سمیٹ چکا ہے۔
پھر ماموں کے ساتھ کھیلتے اور گھومتے ہوئے جانے کیوں اس کی آنکھیں ویران ہونے لگ گئی تھیں۔ اور ایک دن ماموں نے لاڈ سے کہا تھا آج تو گڑیا میرے ساتھ میرے کمرے میں سوئے گی۔ کل ماموں کی پری نے چلی جانا ہے اور اس نے ایک آخری آس کے طور پر ماں کا دوپٹہ پکڑا تھا جس پہ ماں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے گھورتے ہوئے ماموں کو اجازت دے دی تھی اور ماموں کے نکلتے ہی چیختے ہوئے کہا تھا
”رہی نہ ایبنارمل کی ایبنارمل۔ ماموں محبت میں اپنی سگی بیٹی کی طرح چاہ رہا ہے اور تمہیں کوئی قدر نہیں۔ “
”مجھے پیار کرنے کو پاپا ہیں۔ میں نے وہاں نہیں سونا۔ میں پاپا کو بتاؤں گی جا کر۔“ اس نے اذیت سے دھمکی آمیز لیجے میں کہا تھا مگر میکے کی محبت کی پٹی کو آنکھوں پر باندھی ہوئی عورت کو اس کی ٹوٹتی ہوئی ذات نظر نہیں آئی تھی صرف باغیانہ لہجہ محسوس ہوا تھا۔
”باپ کو ایک لفظ بھی بتایا نہ تو پاگل خانے چھوڑ آؤں گی۔“ اس نے اس کے پھول سے رخساروں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہا تھا اور تب ہی عزیز از جان ماموں اس کے دفاع کو وہاں آن پہنچے تھے۔
” باجی اتنی پیاری گڑیا کو کون مارتا ہے؟ میں اسے اپنے پاس لے کر جا رہا ہوں بس۔ یہ میری بیٹی ہے اب سے۔ “
اور بیٹی کو تھپڑ مار کر وہ جو کچھ نرم پڑ کر اس کی بات سننے والی تھی ایک بار پھر بھائیوں جیسے کزن کی شکرگزار ہو گئی تھی اور مسکراتے ہوئے بیٹی کو لے جانے دیا تھا۔ اور پھر گزرتی رات کے ساتھ گڑیا ”نارمل“ ہو گئی تھی۔
گھر واپسی پر گڑیا کے کتنے دن سے بیمار رہنے کے بعد جب وہ ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تو وہاں ملنے والی رپورٹس نے اس کی آنکھیں بے نور کر دی تھیں اور انہی بے نور آنکھوں نے اسے اپنی بیٹی کے چہرے پر کھنڈی زردی دکھائی تھی۔ مستقبل کسی عفریت کی طرح اس کے دماغ سے چمٹ گیا تھا مگر اس کے سب سوالوں کے جواب میں گڑیا نے برف سی ٹھنڈک اپنے لہجے میں سموتے ہوئے کہا تھا
”ماما آپ ہی تو کہتی تھیں کے سارے ایبنارمل آپ کو ہی مل گئے ہیں تو لیں دیکھیں میں نارمل ہو گئی ہوں۔ اب تو آپ خوش ہوجائیں۔ اب میں چپ رہوں گی۔ ماموں کہتے ہیں نارمل لوگ چپ رہتے ہیں۔ ماما میں نارمل ہوں نا؟ اور ماں کو چپ دیکھ کر وہ اپنے مہکتے خوابوں کی پتیاں سمیٹے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکان کے ساتھ دہرا رہی تھی
”مما اب میں بھی نارمل ہوں۔ ہاں میں نارمل ہوں۔ آپ مجھے پاگل خانے نہیں بھیجیں گی نہ۔ گڑیا نارمل ہو گئی ہے“


