خیبر پختونخوا میں انجینئرنگ کی تعلیم کیوں زوال پذیر ہے؟


دنیا بھر میں ترقی کے لیے جس علم کا سہارا لیا جاتا ہے اسے ہم عرف عام میں انجینئرنگ کا نام دیتے ہیں۔ فطرت کے وسائل کو بنی نوع انسان کے استعمال میں لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تبدیل کرنے کے لیے جس سائنس کا اطلاق کیا جاتا ہے اسے یہ نام دیا جاتا ہے۔ یا پھر آسان الفاظ میں ریاضیاتی منصوبہ بندی کو عملی شکل پہنانے کا علم انجینئرنگ کہلاتا ہے۔ جدید زمانے میں کوئی بھی کام اس علم کے بغیر کرنا ممکن نہیں ہے۔ زمین سے لے کر خلا تک جو ترقی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے وہ اس علم کی بدولت ہے۔

صنعتی انقلاب سے لے کر معلوماتی انقلاب تک انجینئرنگ کا یہ شعبہ جدید تہذیب کی بنیاد ہے۔ انجینئرنگ تکنیکی ترقی کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں بھی اس علم کے حصول کے لیے یونیورسٹیاں اور ادارے موجود ہیں۔ جن میں سالانہ لاکھوں کے تعداد میں طلبا داخلہ لیتے ہیں۔ لیکن یہ شعبہ حقیقی معنوں میں پاکستان کی معیشت اور ترقی میں وہ کردار ادا نہ کر سکا جو دوسرے ممالک میں عمومی طور پر دیکھا گیا ہے۔ جنوبی کوریا، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، ڈنمارک، فن لینڈ، تائیوان، جرمنی، امریکہ، سویڈن، فرانس، چین اور دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کے پیچھے کلیدی کردار اسی ایک شعبہ کا ہے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ نوکریاں بھی اسی تعلیم کے سبب ملتی ہیں۔ اس وقت دنیا کی دس بڑی کمپنیاں ساٹھ فیصد انجینئرز کے سہارے چل رہی ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کا معیار ویسے ہی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے لیکن اس ملک میں انجینئرنگ کی تعلیم کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا ہے وہ بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے کہ موجودہ وقت میں پاکستان میں سب سے زیادہ بے روزگار افراد کا تعلق بھی اسی شعبہ سے ہے۔ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں طلبا اس میدان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر ان کو پاکستان میں روزگار کے مواقع نہیں ملتے اور نہ یہ انجینئرز بیرون ملک زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔

جبکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے انجنیئرز کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ اس کی وجوہات وہی ہیں جو دیگر علوم کی تعلیم و تحقیق کی خرابی میں مضمر ہیں۔ لیکن باقی شعبے کسی حد تک اپنی اس خرابی کو تھیوریٹیکل آڑ میں چھپا لیتی ہیں۔ لیکن انجینئرنگ کے شعبہ میں ایسا کرنا عملاً ممکن ہی نہیں ہے۔ اس شعبہ کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان میں تعمیراتی، مشینی، مواصلاتی، ترسیلاتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس شعبہ کو دو دہائی پہلے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دوسرے شعبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ فنڈز دیے اور اس میں بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کے بھی بہت سارے مواقع فراہم کیے۔

مگر ان فنڈز سے لاتعداد بلڈنگز تو بن گئیں مگر وہ ترقی جو مقصود تھی وہ حاصل نہ ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں جلوزئی نوشہرہ میں چھ ارب سے زیادہ خرچ کر کے ایک یو ای ٹی پشاور کے لیے ایک مکمل یونیورسٹی تعمیر کی گئی مگر اس میں تاحال انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور کو منتقل نہیں کیا گیا۔ صوبہ میں انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور جس کے چھ ذیلی کیمپس بھی ہیں۔ اس کے علاوہ تین نئی یونیورسٹیوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ نجی یونیورسٹیاں بھی اس شعبہ میں طلبا کو داخلہ دیتی ہیں۔

کسی زمانے میں انجینئرنگ میں داخلہ کسی بھی طالب علم کا خواب ہوا کرتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ ایٹا انجینئرنگ انٹری ٹیسٹ 2024 میں صرف 3895 طلباء نے شرکت کی۔ یہ انٹری ٹیسٹ امیدواروں کو خیبر پختونخوا صوبے میں انجینئرنگ کی پیشکش کرنے والی بڑی یونیورسٹیوں بشمول یو ای ٹی پشاور اور یو ای ٹی مردان میں داخلے کے لیے اہلیت فراہم کرتا ہے۔ چند سال پہلے یہ تعداد 20000 سے زیادہ تھی۔ یوں آپ انجینئرنگ کی ڈگریوں میں لوگوں کے اعتماد اور دلچسپی میں کمی دیکھ سکتے ہیں۔

ہماری آبادی میں اضافے کے پیش نظر یہ تعداد بڑھنی چاہیے تھی۔ ایٹا انٹری ٹیسٹ میں صرف 525 طلباء نے 50 فیصد (پاسنگ مارک) سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ یہ ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کی سطح اور معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صوبہ کے تمام بڑے کالجوں اور اداروں سے نوے اور پچانوے فیصد سے زیادہ نمبر لے کر پاس ہونے والوں میں سے صرف 13.5 فیصد بچے داخلہ لیول کا یہ امتحان پاس کر سکے ہیں۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں رٹا پر مبنی سیکھنے اور سکھانے کا جو طریقہ کار رائج ہے وہ ہماری آنے والی نسلوں کو خاموشی سے برباد کر رہا ہے۔

حکومتوں اور پالیسی سازوں کے پاس ان سکولوں اور کالجوں کے احتساب کا کوئی طریقہ کار ہی نہیں ہے۔ یہ سب سکول اور کالجز جن میں سرکاری اور نجی دونوں شامل ہیں تعلیمی اداروں کو اپنے خاندانی کاروبار کے طور پر چلاتے ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں اس کام کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی نان پروفیڈ آرگنائزیشن یعنی غیر منافع بخش ادارے جو تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور اس ملک میں لوگوں نے اس کو کاروبار بنا دیا ہے۔

اس بار ایٹا ٹسٹ پاس کرنے والے یہ 525 طلبا ( 13.5 %) صرف وہی ہیں جو انجینئرنگ پروگراموں میں داخلے کے مستحق ہیں۔ لیکن اب ہو گا یہ کہ نجی سطح پر اور سرکاری سطح پر یونیورسٹیاں اور کالجز کو اپنی سیٹیں پُر کرنی ہوں گی تو اس لیے ان تمام لوگوں کو داخلہ دیا جائے گا جو صرف ٹیسٹ میں بیٹھے تھے۔ یہ صرف پاکستان جیسے ممالک میں ہی ممکن ہے جہاں انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے طلباء کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی آئی ایس ایس بی ٹیسٹ پاس نہیں کرتا اور آپ اسے فوج میں بھرتی کرتے ہیں۔

یونیورسٹیوں میں چار سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ انجینئر نگ گریجویٹس ان مزید لاکھوں بے روز گار گریجویٹس میں اضافہ کا سبب بنیں گے جو ان سے پہلے ان اداروں سے ڈگریاں لے کر بے روزگار پھر رہے ہیں۔ پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم اس حد تک ناقص ہو چکی ہے کہ اب دنیا میں ہماری ڈگریوں کو قبول ہی نہیں کیا جا رہا یہاں تک کہ پہلے مشرقی وسطی میں پاکستانی انجینئروں کو نوکریاں ملتی تھیں اب وہ بھی خطے کے دیگر ممالک سے آئے انجینئرز کو ترجیح دے رہے ہیں پاکستان کا موازنہ ہندوستان سے کریں تو وہاں پر تمام پیشہ ورانہ ڈگریوں کے جیسے آئی آئی ٹی جیسی یونیورسٹیوں کے لیے جو داخلہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے اسے جوائنٹ انٹرنس ایگزامینیشن یعنی جی ای ای کہا جاتا ہے۔

یہ امتحان دو مراحل میں لیا جاتا ہے۔ پہلے بنیادی امتحان لیا جاتا ہے جس میں پاس ہونے والے ایک اور ٹسٹ دیتے ہیں جسے جی ای ای ایڈونسڈ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس امتحان میں ہر برس پندرہ لاکھ سے زیادہ طلبا شرکت کرتے ہیں۔ بنیادی ٹسٹ دو لاکھ سے زیادہ طالب علم پاس کرتے ہیں۔ ایڈونسڈ ٹسٹ وہاں چھے گھنٹے طویل ہوتا ہے جس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ہر حصہ کے لیے تین تین گھنٹے دیے جاتے ہیں۔ یہ امتحان پاس کرنے والوں میں سے میرٹ پر صرف سولہ سے سترہ ہزار طلباء کو وہاں کے نامور انجینئرنگ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جاتا ہے۔

یعنی وہاں کے قابل ترین طلبا میں سے صرف ایک فیصد کو بمشکل اس شعبہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یوں ان کے ادارے جیسے آئی آئی ٹی انہیں عالمی سطح کے گریجویٹ بنا دیتے ہیں۔ ان گریجویٹس کی وجہ سے ہندوستان ڈیڑھ سو ارب ڈالرز سے زیادہ کماتا ہے۔ آپ دنیا کی تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دیکھ لیں ان سب میں آپ کو انڈیا کے انجینئرنگ کریجویٹس ملیں گے۔ یہی صورتحال بنگلہ دیش کی بھی ہے۔ جہاں اپنے انجینئرنگ گریجویٹس پر گزشتہ دس برسوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے اور لاکھوں میں صرف چند ہزار کو ہی ان کے انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ ملتا ہے۔

صرف پانچ برسوں میں دنیا کے بڑی ٹیک کمپنیوں میں اب بنگلہ دیش کے گریجویٹس کی تعداد دس فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے انتخاب کسی بھی ملک میں بڑا سخت ہوتا ہے۔ چین اور امریکہ کی مثال لے جا سکتی ہے جہاں ان شعبوں میں اپلائی کرنے والوں اہل امیدواروں کی ایک فیصد سے بھی کم کو داخلہ ملتا ہے۔ چین میں جو امتحان دیا جاتا ہے اسے گاؤکاو کہا جاتا ہے اور اس کو دنیا کا مشکل ترین امتحان قرار دیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں یہ انحطاط کیسے آیا اس کی کہانی کچھ زیادہ طویل و مشکل نہیں ہے۔ یہاں حکومتوں نے تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی جگہ دوسروں کی جنگوں میں زیادہ دلچسپی لی اپنے بچوں کو قابل انجینئر بنانے کی جگہ ان کو امریکی ساختہ جہاد کے لیے تیار کرنے پر زیادہ توجہ اور وسائل صرف کیے گئے۔ جو ادارے انجینئرنگ کی تعلیم سے وابستہ تھے ان کو جدید بنانے کے بجائے وہاں سیاست، گروہ بندیوں اور مذہبی تعصب کو اتنا بڑھا دیا گیا کہ ان کا اصل کام ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہا۔

اقرباء پروری اور اور ترقی کے بنیادی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بے شمار قابل لوگ اس شعبہ کی تدریس کی طرف راغب ہی نہیں ہوئے۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ یو ای ٹی پشاور میں برسوں تک ایک ایسے شخص کو وائس چانسلر رکھا گیا جس کے پاس صرف بنیادی ڈگری تھی وہ اپنے فیلڈ میں پی ایچ ڈی ہی نہیں تھا۔ صرف خاندانی اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر اسے برسوں تک اس یونیورسٹی کا سربراہ رکھنا جہاں شاید وہ لیکچرر شپ کے لیے بھی موزوں امیدوار نہیں تھا۔

یہ ایک مثال ہے اس طرح کی پاکستان میں سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس ملک میں انجینئرنگ کی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہی نہیں کیا گیا۔ اسے صرف کلاس روم ٹیچنگ تک محدود کر کے اس کی حقیقی استعمال کو ترک کر کے اسے ایک ایسا مضمون بنا دیا گیا ہے جس کی مارکیٹ میں اب کوئی کھپت ہی نہیں ہے۔ اصولی طور ان تمام انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور کالجوں کو جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کی طرز پر ایک مکمل پریکٹیکل سکولز میں منتقل کر دینا چاہیے تھا۔

جس کے نتیجے میں اس سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس اس ملک کو بھی جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کی راہ پر گامزن کرتے۔ کیا حیرت کی بات نہیں ہے کہ پاکستان بھر میں جو جو منصوبہ بندی ہوتی ہے یا ترقیاتی کام ہوتے ہیں حکومت ان کے لیے کنسلٹنٹ باہر سے بلاتی ہے اور سالانہ ان یونیورسٹیوں پر اربوں خرچ کر کے بھی ان کے عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ ان میں موجود اس فیلڈ کے ماہرین کو بھی یہ کام سونپا جاسکتا ہے جیسے دوسرے ممالک میں ہوتا ہے کہ حکومت ان یونیورسٹیوں اور ان کے ماہر اساتذہ اور طالب علموں اور محققوں کی مدد سے اپنے اپنے بڑے بڑے منصوبہ بناتی ہے اور مکمل کرتی ہیں۔

اب ان انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو کبھی جاکر دیکھ لیں، ان کی عمارتیں اس بات کا چیخ چیخ کر ثبوت پیش کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو بنانے والوں نے ان کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ یعنی جو سیول انجینئرز اپنی یونیورسٹی کی عمارتیں بھی نجی کنسلٹنٹس سے بنوائیں اور ان کو اپنی عمارتوں میں صاف نظر آنے والی خامیاں نظر نہ آئیں ان پر دنیا کیسے اعتبار کر لے گی۔ یہ ساری انجینئرنگ یونیورسٹیاں اپنے موٹر پمپس، گاڑیاں، تمام مشنری بازار میں بیٹھے ہوئے میٹرک فیل مستریوں سے ٹھیک کرواتے ہیں۔

تو پھر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کے حاصل کرنے کے بعد آپ اس کے بنیادی استعمال پر ہی قدرت نہ رکھتے ہوں۔ اس ملک میں زوال ہر شعبہ پر آیا ہے اور یہ زوال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تعلیمی اداروں پر اگر توجہ دی جائے تو اس سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو مستقبل قریب میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیے کہ دنیا مسلسل ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہی ہے اور ہم دنیا کا ساتھ نہیں دے رہے۔ ایک دن آئے گا کہ دنیا ہم سے لاتعلق ہو جائے گی۔

خیبر پختونخوا زندگی کے ہر شعبے میں پست ترین معیار دیکھ رہا ہے۔ خواہ وہ معیشت ہو، مذہبی انتشار ہو، تحفظ ہو یا تعلیم۔ ہمیں یہاں تعلیمی ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ تعلیم ہی انتہاپسندی کا راستہ روک سکتی ہے۔ بندوق اور طاقت کے زور سے ہم اسے روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں اسے ختم نہیں کر سکتے، تعلیم اور روزگار ہی اس کا اصل اور پائیدار حل ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس ملک سے تھیوریٹکل تعلیم کو عملی تعلیم میں بدل دیا جائے جیسا دنیا کر رہی ہے۔ ورنہ ہمارے بچے صرف نوٹس رٹتے رہیں گے اور دنیا کے بچے دنیا کی ترقی کے مزے لیتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS