فنون، مسلم سماج، اور مہا بیانیہ
اگر 100 علما کو بٹھا کر یہ سوال رکھا جائے کہ کیا موسیقی دین میں حرام ہے، تو انتہائی مارجن رکھ کر ممکنہ مثبت جواب 95 بمقابلہ 5 سامنے آئے گا۔ موسیقی میں پھر بھی ’بے حیائی اور لہو و لعب‘ کا اتنا امکان نہیں ہے، جتنا فلم سازی کے شعبے میں ہے۔ ہیرو ہیروئن جس طرح رقص و سرود کے ساتھ اسکرین پر پورٹرے ہوتے ہیں، وہ تو ایک طرف، فلم ریلیز پر ’بے حیائی‘ کے ان مناظر کی تشہیر ایک اور بڑی ’قباحت‘ کو پیدا کرتے ہیں۔ سماج میں ’بے حیائی‘ کا پھیلاؤ۔
ان باتوں سے نہ صرف اس ملک کا ایک عام ریڑھی بان اور فیکٹری ورکر واقف ہے، بلکہ یہ باتیں ان موسیقاروں، گلوکاروں، اداکاروں، رقاصوں نے بھی سن رکھی ہیں۔
سماجی صورت حال یہ ہے کہ فلم کے اداکاروں اور گلوکاروں کو اسکرین اور اسٹیج پر دیکھا تو شوق سے جاتا ہے لیکن جب ان کی اخلاقی حیثیت کی بات آتی ہے تو سو میں سے بانوے ترانوے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انھیں ’سماجی اور اخلاقی‘ لحاظ سے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ان کی آمدن کو بھی کوئی کھلے دل سے ’حلال‘ کہنے کی جرات نہیں کر پاتا۔
ملک کی آبادی جس شرح سے بڑھی ہے، انٹرٹینمنٹ کے شعبے نے (کچھ نجی کمپنیوں کے پروجیکٹس کی لائی ہوئی تبدیلی کے باوجود) اس شرح سے ترقی نہیں کی۔ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری موجود ہے، تو یہ جملہ ایک اچھی خاصی شرمندگی کو جنم دے سکتا ہے۔
فلم سازی اور گلوکاری سے کہیں بڑھ کر فنون لطیفہ کے ایسے شعبے بھی ہیں جو مسلم سماج کے لیے ناپسندیدہ اور ناقابل قبول ہیں۔ یہ شعبے ہیں مجسمہ سازی اور پینٹنگ کے۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ پرفارمنگ آرٹس کی طرح ملک میں یہ فنون لطیفہ پڑھانے کے لیے بھی نجی اسکولز کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکول بھی موجود ہیں، لیکن دوسری طرف ہمارا سماج ہی ایک ایسا مسلم سماج ہے جس میں ان فنون لطیفہ کے لیے جگہ ہی موجود نہیں۔ اس سے یہاں ذہنی طور پر ایک دو لخت مسلم سماج تشکیل پا رہا ہے، جس سے نظریات پر آپس میں ٹکراؤ کا افق مزید وسیع ہو رہا ہے۔
اس سب کے باوجود ایک امر بہت حیرت انگیز ہے۔
فنون لطیفہ اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد نے ان باتوں کا کوئی عملی اثر نہیں لیا۔ ماضی میں جنید جمشید جیسی اکا دکا مثالیں بھی موجود ہیں، تاہم اس پیشے سے وابستہ سیکڑوں مسلم خواتین و حضرات نے آج بھی اس کے ’حرام‘ اور ’ذریعہ بے حیائی‘ ہونے کے فتوؤں سے خود کو متاثر نہیں ہونے دیا۔
کیا یہ حیرت انگیز امر نہیں ہے کہ تقریباً پورا مسلم سماج اس کے ’حرام‘ اور ’ذریعہ بے حیائی‘ ہونے پر متفق ہے، اسے بطور پیشہ اپنانے کے حوالے سے اگر عام لوگوں میں سروے کیا جائے تو شاید 90 فی صد سے زیادہ لوگ اس پر آمادہ نہ ہوں، اس سے کراہت کا اظہار کرتے پائے جائیں۔ لیکن مجسمہ سازی، پینٹنگ، رقص، موسیقی اور ادکاری سے وابستہ کارکن اور طلبہ کسی مذہبی اور اخلاقی خدشے کے بغیر اپنی محنت اور لگن کو ’جائز‘ اور ’رزق حلال‘ کے طور پر دیکھتے اور سراہتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟
اس سوال کا کوئی ایک جواب ممکن نہیں ہے۔ اس کے کئی پہلوؤں پر بات ہو سکتی ہے۔
دیکھا جائے تو اصولی طور پر یہ شعبہ سماج کے عقیدے کے بالکل مخالف سمت میں کھڑا ہوا ہے۔ یہ کہ ایک مسلم سماج میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے، اور یہ سخت گناہ گاروں کا شعبہ ہے جو مسلم سماج میں ’بے حیائی‘ کا زہر پھیلا رہا ہے۔ مختصر طور پر کہا جائے تو مسلم سماج نے اسے اپنے وجود سے کاٹ کر علیحدہ کر رکھا ہے۔
اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایک دینی سماج میں فنون لطیفہ ہی کے لیے کچھ زیادہ جگہ میسر نہیں ہے۔ ان سے لہو و لعب، وقت کا ضیاع، خدا اور آخرت سے غفلت جیسے تصورات جوڑے گئے ہیں۔ لیکن سب سے اہم اور عملی نکتہ یہ ہے کہ فنون لطیفہ انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ سوال اٹھانے کا اہم ترین کام بھی کرتے ہیں، اور یہ عمل اس کی ’فطرت‘ میں شامل ہے۔ اسے ہونے دیں گے تو یہ مروجہ اقدار اور روایات اور ان سے جنم لینے والی صورت حال پر سوال کی صورت میں گستاخی پر ضرور اتریں گے۔
فلم اور موسیقی کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کے ہر شعبے کی ایک اہم ترین خوبی ہے ؛ یہ خوبی ہے از سرِ نو تخلیق پر ایمان رکھنا۔ یعنی جو تخلیق کیا جا چکا ہے، وہ کافی نہیں ہے یا وہ نامکمل ہے۔ اور جس طرح ایک اداکار اپنے اندر اپنی سخت محنت سے ایک اور طرح کی شخصیت ایک اور طرح کے انسان کو تخلیق کرتا ہے، ایک گلوکار اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ سے فطرت کی خوب صورتی کی ایک اور لہر کو جنم دینے کی کوشش کرتا ہے، ایک مجسمہ ساز مٹی ہی سے ایک نیا انسان تراش لیتا ہے، رقاص بدن کی ان خوب صورتیوں کو منکشف کر دیتا ہے جو صفحہ ہستی پر پہلے سے نہیں لکھی گئیں ؛ فنون لطیفہ کا ہر شعبہ اسی طرح انسانی جذبات کے نامکمل منطقوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔
جس طرح مسلم سماج کے تخیّل کی حد، اعمال کی بنیاد پر جنت کی خوب صورتی اور جہنم کی دہشت ناکی تک محدود رکھی گئی ہے، اُس کے برعکس فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی کُل کائنات ہی امیجینشن پر مبنی ہوتی ہے۔ تخیل کی ایک ایسی صلاحیت جو اپنی نہاد میں حدود کی پابندی ہی کو اپنے لیے موت سمجھتی ہے۔ اس تخیل میں ایک ایسی للک پائی جاتی ہے جو ایک طرف تو نت نئی جنتوں کی تعمیر کرنا چاہتی ہے، ساتھ ساتھ یہ جہنم کی ضرورت کو بھی ختم کرنے کے درپے ہوتی ہے۔ تخیل کے اڑان کی یہ آزادی ایک مسلم سماج کے لیے اسے ناقابل برداشت بنانے کے لیے کافی ہے۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں ایک اداکار یا گلوکار اور فنون لطیفہ سے وابستہ کسی بھی فرد کے اپنے شعبے سے وابستگی پر ’اطمینان‘ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ اطمینان مسلم سماج کے ’اضطراب‘ کے متوازی چل رہا ہے۔ مسلم سماج کبھی بھی ایک مجسمہ ساز، ایک رقاص یا رقاصہ کے عمل کو ’اطمینان‘ بھری نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ سماج کے اندر ایک اور متوازی سماج کی اس تشکیل سے اعتقادات میں پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئی ہیں، اگر ایک کی نظر میں کوئی چیز غلط ہے تو دوسرے کی نظر میں وہ بالکل درست ہے۔ غط اور درست کے ان تصورات کا ٹکراؤ ہمارے مسلم سماج میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک قدیم روایتی سماج کے اندر مابعد جدید سماج کے خد و خال تیزی سے ابھر رہے ہیں، جس کی بنیادی قدر ہی یہی ہے کہ جس قدر کو عقیدے کی سطح پر حتمی سمجھا جا رہا تھا، وہ انسانی عمل کی سطح پر آ کر آخر کار تغیر آشنا ہو جاتا ہے، اور فنون کے صفحے پر مہا بیانیے ڈی کنسٹرکٹ ہو جاتے ہیں۔


