تاریخ کی از سرِ نو ترتیب
تاریخ کو عموماً ماضی کا علم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ عربی الاصل لفظ ہے جس کے معانی کسی واقعے کے ظہور کا وقت، کسی امر عظیم کے تعین کا وقت، زمانے کا عرصہ اور وہ علم جس میں گزشتہ واقعات پر سیر حاصل بحث کی جاتی ہے۔ انگریزی میں اس کے لیے ہسٹری) (Historyکالفظ استعمال ہوتا ہے جو لاطینی لفظ ہسٹوریا (Historia) سے ماخوذ ہے جس سے مراد کسی واقعہ کی تحقیق و تفتیش ہے۔ عام طور پر تاریخ یا ہسٹری سے مراد کسی قوم، معاشرے یا ادارے کے وقائع خاص کا صحت کے ساتھ ترتیب وار تحریری ریکارڈ ہے۔ یعنی یہ بات درست ہے کہ تاریخ کے جھروکوں سے کسی قوم کا ماضی میں جھانکا جا سکتا ہے۔ بقول شاعر:
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی (مظفر رزمی)
تاریخ علم کا ایک انتہائی اہم شعبہ ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے ہی اقوام کی کامیابیوں، ناکامیوں، حسرتوں اور نا آسودگیوں کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جاسکتا ہے، جس کے حال کے ساتھ ساتھ مستقبل پر بھی مثبت اور صحت مند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاریخ ماضی، حال اور مستقبل کی ایک وحدت کا نام ہے۔ انسانی شعور اسی صورت میں پختہ تر ہو سکتا ہے جب وہ انسانی تاریخ اور تہذیب کی تاریخ اور ارتقا کو سمجھ سکے۔ ہر معاشرہ اور قوم اپنی تاریخ کو نصاب اور دیگر ذرائع سے اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرتی ہیں۔
ہمارے ہاں دیگر خرابیوں کے ساتھ ساتھ تاریخ کے مضمون کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے، یا جس انداز سے واقعات کو گھما پھرا کر، غیر مستند انداز میں پیش کیا گیا ہے اس سے نہ صرف تاریخی حقائق مسخ ہوئے ہیں بلکہ عوام اور طلبہ کی تاریخ کے مضمون سے دلچسپی اور لگاؤ کم ہو گیا ہے۔ یوں تاریخ کو ازسرنو دیکھنے یا ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔
ہمارے اداروں میں تاریخ عموماً مطالعہ پاکستان ”کے عنوان سے پڑھائی جاتی ہے۔ اس تاریخ میں کئی مسائل ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ واقعات کی زمانی ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا مثال کے طور پر تحریک خلافت پہلے ہے اور علی گڑھ تحریک بعد میں۔ قرار داد مقاصد سلیبس میں پہلے ہے جبکہ قیام پاکستان بعد میں۔ اسی طرح آئین پاکستان پہلے اور گول میز کانفرنسیں بعد میں۔ شاید واقعات کو یہ ترتیب تاریخی اہمیت کی وجہ سے دی گئی ہے۔
تاہم تاریخ نویسی کے نقطہ نظر سے یہ ترتیب قطعی غیر منطقی ہے۔ جس کی وجہ سے تاریخی حقائق مسخ ہو رہے ہیں۔ واقعات کی زمانی ترتیب اور تسلسل تاریخ نویسی کی روح ہے۔ عدم ترتیب کو تاریخ کی موت کے مترادف کہا جا سکتا ہے۔ جہاں تک تاریخ پاکستان کا تعلق ہے تو 1857 سے شروع کرنے کے بعد واقعات کو سال بہ سال یا زمانی ترتیب سے جیسے وہ رونما ہوئے ہیں، ویسے ہی درج کرنا مناسب ہے۔
تاریخ نویسی کا ایک اصول یہ بھی ہے مورخ کو واقعات کی مکمل تحقیق کرنی چاہیے۔ مختلف شہادتوں سے جانچنے اور پرکھنے کے بعد اسے واقعات کو بیان کرنے کی جانب آنا چاہیے۔
تاریخ کو کسی بھی قسم کے نسلی، مذہبی، سیاسی، ثقافتی تعصب سے ماورا ہو کر غیر جانبدار انداز میں لکھا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مورخ کا کام سچائی کی ترسیل اور اشاعت ہے چاہے وہ کس قدر تلخ ہی کیوں نہ ہو۔
تاریخ نویسوں کے ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ تاریخ قوم میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہے اس لیے قوم کو اس کی غلطیاں، احساس کمتری وغیرہ کو چھپا جا نا چاہیے جب کہ دوسرے گروہ جنہیں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بھی کہا جا سکتا ہے کا خیال ہے کہ تاریخ میں کسی قوم میں مصنوعی عظمت بیان کرنا انہیں مزید پستیوں میں دھکیلنے کے مترادف ہے اس کی بجائے اس قوم کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو ضرور تاریخ کا حصہ ہونا چاہیے تاکہ ان خامیوں کا تدارک کر کے صحیح معنوں میں حب الوطنی کو فروغ دیا جا سکے۔
تواریخ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو زیادہ تر تواریخ فاتحین، بادشاہوں اور اہل اقتدار کی لکھی ہوئی ہیں، اس وجہ سے وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ پروفیسر سر جان سیلے کا کہنا ہے کہ تاریخ ماضی کی سیاست ہے اور سیاست زمانہ حال کی تاریخ ہے۔ روایتی تاریخ کو سیاسی تاریخ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ عصر حاضر میں تاریخ کو حکمرانوں کے ایوانوں سے نکال کر عام انسانوں کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ روایتی تاریخ ہیرو یا عظیم افراد کی تاریخ کہا جا سکتا نے لے لی ہے۔
غلطیاں اور کوتاہیاں ضرور تاریخ کا حصہ ہونا چاہیے۔ نئی تاریخ باقاعدہ اصطلاح ہے جسے مشہور فرانسیسی مورخ ژاک لوگوف (Jacque Le Goff) نے اسی عنوان سے کتاب لکھ کر متعارف کرایا، اسے روایتی تاریخ کا ردعمل بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ تاریخ روایتی تاریخ کے برعکس انسانی سرگرمیوں کو بھی تاریخ کے دائرے میں شامل کرتی ہے۔ اب سیاسی تاریخ کی مقبولیت اور افادیت قصہ پارینہ بن چکی اس کی جگہ اب معاشی، سماجی اور ثقافتی تاریخ نے لے لی ہے اور ہمیں بھی اپنی نصابی تاریخ میں سیاسی یا عظیم افراد کی تاریخ کے دائرے کو وسعت دے کر معاشی، سماجی اور ثقافتی تاریخ کو بھی اپنی تاریخ کا حصہ بنانا ہے۔
قدیم اور روایتی تاریخ جو اپنی دلکشی اور جاذبیت کھو چکی ہے اسی صورت میں نئی زندگی پا سکتی ہے جب وہ دیگر سماجی علوم سے رہنمائی حاصل کرے۔
ان اصول و قوانین کو سامنے رکھ کر جب تاریخ کی ترتیب نو کی جائے گی تو اس سے کئی ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں :
یہ تاریخ زمانی ترتیب کی وجہ سے طلبہ آسانی سے سمجھ اور یاد رکھ سکیں گے۔ تو ریاستی، ثقافتی تعصب سے ماورا ہو کر لکھا جائے تو اس طرح سے ترتیب دی جائے والی تاریخ سے واقعات کی تاریخی حیثیت بھی برقرار رہے گی۔
تاریخ کے مضمون سے بچوں کو دلچسپی پیدا ہو گی دیگر شعبہ علم کی طرح تاریخ کی بقا بھی طلبا کی پسندیدگی اور دلچسپی سے ہی مشروط ہے۔
اس سے مستقبل میں تاریخ کے ایسے اساتذہ ملنے کا امکان ہے جنھوں نے تاریخ مجبوری میں نہیں شوق سے پڑھی ہو گی اس لیے وہ اس علم کو طلبہ تک بھی ذوق و شوق سے پہنچائیں گے اور اس مضمون کے ترویج کے لیے کوشش کریں گے۔


