افریقیات: (2)


چور کی حاضری

ایک مرتبہ صبح صبح جھیل کی قریبی بستی میں خوب چہل پہل اور رونق دیکھی۔ پوچھنے پر علم ہوا کہ اندرونِ جنگل، بستی کے ’اوم لینو‘ کے ہاں ضروری فیصلے ہو رہے ہیں جِس کی دعوتِ عام ہے۔ وسطی اور مشرقی افریقہ کی دور اُفتادہ بستیوں میں وہاں کے مقامی طبیب جِس کو عرفِ عام میں جادوگر ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔ مجھے خود ایسے طبیب کا کامیاب تجربہ تھا لہٰذا سوچا کہ کیوں نہ ہم سب بھی وہاں چلیں۔ مجھے یقین تھا کہ کوئی اور چلے نہ چلے کیمرہ مین ضرور چلے گا۔ لیکن تقریباً سارا ہی یونٹ چل پڑا۔

دِن کے دو بجے کے لگ بھگ ہم جھیل بستی کے بہت سے لوگوں کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ ایک میدان میں کارروائی جاری تھی۔

مقامی لوگ نہایت تنظیم کے ساتھ ایک نیم دائرے کی صورت بیٹھے تھے۔ چبوترے پر ایک پُر وقار، سنجیدہ اور اُدھیڑ عُمر شخص بیٹھا تھا۔ اِس کے قدموں میں سانپ، گیدڑ، مگر مچھ بیٹھے اور چلتے پھرتے نظر آئے۔

۔ ”ہَباری گانی“ ۔ ہم سب نے بلند آواز سے کہا جِس کا سواحیلی میں مطلب ہے ’کیا حال ہے؟ ‘
جواب مِلا : ”مُو زوری ثانا“ ۔ یعنی ’میں بہت اچھا ہوں‘ ۔

” کری بو بانا“ ۔ یعنی خوش آمدید جناب! یہ کہتے ہوئے اُس نے تمام آنے والوں کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ بیٹھنے کے بعد یونٹ کے ذمہ دار نے اِس کارروائی کو فِلم بند کرنے کی اجازت لے لی۔ وہاں پہلے ہی چند بیمار افراد علاج کے لئے آئے ہوئے تھے۔ عوام کی بھلا اِس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہو سکتی ہے۔ یہ یقیناً ایک بہت بڑا کام ہے جِس کا اکثر اوقات ہمارے ہاں تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ بعض افراد اپنے گُم شدہ جانوروں کی بابت پوچھنے لگے۔

دفعتاً ایک مقامی شخص روتا پیٹتا آ کر ’۔ طبیب‘ کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ معلوم ہوا کہ اُسی بستی میں چوری کی واردات ہوئی تھی۔ جو یہاں کے۔ ’اوم لینو‘ کو فوراً رِپورٹ کر دی گئی تھی۔ موقع پر کھوجی بھی بھیجے گئے تھے۔ آج ایک شخص خود چل کر حاضری لگانے آیا۔ جو تسلیم کر رہا تھا کہ اُسی نے وہ چوری کی تھی۔ کئی روز سے وہ سو نہیں سکا،

ایک پَل چین نہیں تھا۔ پورے جِسم پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لال چیونٹیاں ( آتشی چیونٹیاں ) رینگ رہی ہوں۔ جو جُملے وہ گڑ گڑا کر اوم لینو سے کہہ رہا تھا اُس کے معنی تھے کہ اب اُسے معاف کر دیا جائے۔ آئندہ وہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ اُس کے بد اثرات ختم کر دیے جائیں۔

لگتا تھا کہ اِس معاملے میں وہاں موجود افراد سے رائے پوچھی جا رہی تھی کہ اب اِس کا کیا کریں۔ تمام پہلووں پر بات کرنے کے بعد مُتاثرہ شخص ( جِس کی چوری کی گئی تھی) کی رضا معلوم کی گئی۔ اور ایک رنگین محلول مُلزم / مُجرم پر اُنڈیلا گیا۔ جِس نے بہت ہی جلد اپنا اثر بھی دِکھایا۔ وہ شخص جو پہلے اپنے جَسم کو کھجلا کھجلا کر پاگل ہوا جا رہا تھا اب پُر سکون ہو گیا۔ اِس معاملے کو جب کریدنے کی خاطر سوال کیا گیا تو ’طبیب‘ نے کہا کہ جب کھوجی نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے مطلوبہ شخص تک پہنچ جاتے ہیں تو اُسے مُلزم تصور کر کے ہم عمل کرتے ہیں اور اگر وہ واقعی مجرم ہوتا ہے تو چند گھنٹوں کے اندر وہ اپنے جِسم پر چیونٹیاں رینگنے کا رونا روتا ہوا آ جاتا ہے۔

جب پوچھا کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ تو کہنے لگا کہ یہ چیز اُس کے خاندان میں باپ دادا سے چلی آ رہی ہے اِس کا سمجھانا ممکن نہیں۔ لیکن اُس کا دعویٰ تھا کہ کبھی بے قصور ایسی حالت میں نہیں آتا۔ اِس عمل کو وہ ’حاضری‘ کہتے ہیں۔ اِس قصّہ کے مناظر ’کٹ اویز ’کے طور پر مگر مچھ والی فِلم میں لگے بھی تھے۔

پراسرار مصری مینار

ایک مرتبہ سینما والے عثمان بھائی سے میں نے پوچھا کہ کیا یہاں آس پاس کوئی تاریخی کھنڈرات یا مقامات ہیں؟ تو اُنہوں نے اپنے بڑے بیٹے غلام محمد سے کہا کہ وہ مجھے ’مصری ٹاور‘ لے جائیں۔ مجھے اِس ٹاور کی تفصیلات جاننے کا شوق پیدا ہوا تو اِس کے بارے میں مجھے یہ بتلایا گیا:

” 1960۔ 61 میں بوجومبورا کے مضافات میں جنگل کے کنارے بیلجیم کے رہنے والے ایک شخص نے قدیم مصری طرزِ تعمیر کی طرح کا ایک مکان تیار کروایا۔ اِس کی ایک جانب ایک ٹاور بھی تھا۔ اُس میں مختلف زاویوں سے ایسی جھِریاں رکھی گئی تھیں

جِن سے ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں تک اندر آتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اُس شخص کو پاگل پن کی حد تک قدیم مصری تہذیب اور مصریات سے لگاؤ تھا۔ کئی دفعہ مصر بھی جا چکا تھا۔ ایک مرتبہ تو چھ ماہ رہ آیا۔ تب واپس آ کر اُس نے ایک چھوٹی سی لکڑی کی کشتی تیار کروائی ”۔

” حیرت ہے! “ ۔ میں نے کہا۔

” اُس کی مصریات میں دلچسپی جب حد سے گزر گئی تو اُس کی بیوی بچے اُسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اب وہ اپنے چند نوکروں کے ساتھ وہاں رہتا تھا۔ اُس نے جانے کہاں کہاں سے قدیم مصر سے متعلق کتابیں جمع کر کے اپنی لائبریری بنا لی تھی۔ کھانا پینا بھی لائبریری میں ہوتا۔ عصر سے مغرب تک کا وقت ٹاور میں گزارتا اور اِس دوران وہ مُسلسل سورج کو تکتا رہتا۔ کئی مرتبہ اُس کے وفا دار ملازمین نے اُس کو ٹاور پر اِس حال میں دیکھا گویا وہ اوپر سے چھلانگ لگانے والا ہو۔

ہر مرتبہ وہ اُس کو پھرتی سے بچا لاتے۔ مگر ایک روز اُس نے وہاں سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کر ڈالی۔ اُس کی وصیت کے مطابق پہلے سے زیرِ زمین تیار شدہ ایک چھوٹے سے کمرے میں اُس کو تابوت میں بند کر کے اُس لکڑی کی کشتی میں رکھ کر باہر قفل لگا دیا گیا۔ اُس کی موت پر اُس کے بیوی بچوں کو اطلاع کی گئی مگر اُنہوں نے صرف اُس کی نقد رقم سے دلچسپی دکھائی۔ کوئی بھی قیمتی کتابوں، مکان کی ملکیت کے لئے آگے نہیں آیا اور نہ ہی تابوت کو لکڑی کی کشتی میں رکھنے کی آخری رسومات میں شریک ہوا ’‘ ۔

” اوہ! “ ۔ میں نے بے ساختہ کہا۔

” اِس کے بعد یہ مکان غیر آباد ہو گیا۔ مقامی لوگ تو پہلے ہی توہم پرست ہیں۔ وہ تو وہاں پھٹکتے بھی نہیں تھے۔ رفتہ رفتہ مکان دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا اور جنگلی جانوروں کا مسکن بنتا گیا۔ نہ جانے اِس کی مشہوری کیوں اور کیسے ہوئی کہ کچھ غیر ملکی اِس کو ڈھونڈتے ہوئے آئے اور یہاں کیمپ لگایا۔ اگلی شام اِن میں سے ایک اسی ٹاور سے کود کر خود کشی کر چکا تھا۔ پولیس میں لکھت پڑھت ہوئی۔ لیکن ہمارے ملک کی طرح رات گئی بات گئی! کچھ عرصہ بعد ایسی ہی ایک دو اور خود کشیاں ہوئیں۔ اِس کے بعد حکومت نے دخل اندازی کی۔ اب سرکار نے تین چار زبانوں میں واضح نوٹس لگا رکھا ہے کہ خبردار! اِس ٹاور پر چڑھنا منع ہے۔ اور

اپنی دانست میں خاردار تار لگا کر رکاوٹ کی گئی ہے مگر بھلا موت کِس سے رُکی؟ ”۔
” کیا اب بھی لوگ وہاں جاتے ہیں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” ہاں! اِس کے باوجود ایک دو اموات بھی سُننے میں آئی ہیں۔ اِس لئے حکمت یہی ہے کہ تم وہاں اکیلے نہ جاؤ۔ میرے دونوں بیٹے تم کو وہاں لے جائیں گے“ ۔ عثمان بھائی نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”یہاں بس یہی ایک تاریخی نشانی ہے“ ۔

اگلے روز ہم تینوں اُس مقام پر پہنچ گئے۔ اِس جاگیر کا چونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا لہٰذا عمارت کی دیکھ بھال نہ ہونے کہ وجہ سے دروازے کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ ہر طرف جھاڑ جھنکار۔ عبرت انگیز منظر تھا۔ میرے ساتھ عثمان بھائی کا بڑا بیٹا غلام محمد مکان میں داخل ہوا۔ جا بجا فرش پر جانوروں کا فضلہ بکھرا تھا۔ ظاہر ہے جب رات تو رات، دِن میں یہاں کوئی نہیں آتا تھا تو قریبی جنگل کے جانور یہاں آنے جانے لگے۔

نیچے کی منزل کا تو کچھ کہنا بیکار ہے البتہ اوپر کا حصّہ قدرے بہتر تھا۔ یہیں اُس شخص کی لائبریری دیکھی۔ 17 سال پہلے یہ مکان تعمیر ہوا۔ اُس کے دو سال بعد لائبریری بنائی گئی۔ پھر 1964 کے اوائل میں اُس شخص کی خودکشی کے بعد سے یہ لائبریری ویران پڑی تھی۔ سال خوردہ مٹی سے اٹی ہوئی مُجلّد کتابیں اب بھی شیلفوں میں رکھی ہوئی تھیں۔ دیکھنے سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ یقیناً قیمتی ہوں گی۔

اِسی دوران نیچے سے عثمان بھائی کے چھوٹے بیٹے تبسم نے بلایا۔ اُس نے زیرِ زمین کمرے میں جانے کا راستہ دیکھ لیا تھا۔

دروازہ اپنے قبضوں پر جھول رہا تھا۔ اندر کی فضا کثیف تھی۔ ہم لوگوں نے ربڑ کے جوتے پہن رکھے تھے لہٰذا حشرات کا خوف نہیں تھا۔ نیم تاریکی میں پہلو کے بل جھکی ہوئی لکڑی کی کشتی میں شاید کسی قیمتی لکڑی کا بنا ہوا تابوت رکھا ہوا تھا۔ تابوت کا ڈھکنا ڈھیلا تھا۔ ہم نے جھانک کر دیکھا۔ اِس کے پندرہ سال پرانے مکین کی حالت اچھی نہیں تھی۔ مجھے یقین ہے کہ تابوت کو مقامی لوگوں نے نہیں چھیڑا ہو گا۔ نہ ہی کسی جانور کو تابوت سے دلچسپی ہو سکتی ہے۔

” اتنا کچھ سُنا اور اب دیکھ بھی رہے ہیں۔ میرا بھی دِل چاہتا ہے کہ اُس ٹاور پر چڑھ کر معلوم کروں کہ ٹاور پر ڈوبتے سورج کی کرنوں میں ایسی کیا تاثیر ہے کہ کئی افراد اِس کی تاب نہ لاتے ہوئے وہاں سے کود گئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” ہاں! خیال تو اچھا ہے۔ چلو چلتے ہیں“ ۔ تبسم نے فوراً جواب دیا۔
” نہیں اِس فضولیات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں“ ۔ غلام محمد نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔

” دیکھیں ہم تین افراد ہیں ایک دوسرے کو باندھ لیتے ہیں جیسے تنزانیہ میں کلی منجارو پہاڑوں کو سر کرنے والے کرتے ہیں۔ اِس طرح ہم محفوظ رہیں گے“ ۔ تبسم نے رائے دی۔

اور تھوڑے سے بحث مباحثے کے بعد ٹاور پر جانا طے پا گیا۔ تبسم بھاگ کر گاڑی میں سے ایک موٹا رسّہ نکال لایا۔ ہم تینوں ٹاور کی جانب گئے۔ وہ کوئی قطب مینار یا مینارِ پاکستان جتنا بلند تو تھا نہیں شاید کراچی کے فلیٹوں کے حساب سے 6 منزلوں تک بلند ہو گا۔

ہم تینوں نے رسہ سے ایک دوسرے کو باندھ لیا۔ سب سے پہلے میں پھر تبسم اور آخر میں غلام محمد تھا۔ آدھا راستہ طے کرنے کے بعد ہمیں تین زبانوں میں دھات پر چھپے نو ٹِس نظر آئے ’اِس جگہ سے آگے جانا منع ہے‘ ۔ اور ساتھ ہی خاردار تاریں بھی نظر آئیں جِن سے کبھی سیڑھیوں کو بند کیا گیا ہو گا مگر ہمارے پیش رو لوگوں نے اِس میں سے راستہ نکال لیا تھا۔

اب بھی یاد کرتا ہوں تو خوف آتا ہے کہ اللہ جانے کیا بھید تھا کہ اِس مقام سے ایک قدم ہی آگے بڑھایا تو دِل بیٹھنے لگا۔ سر بھاری ہو گیا۔ ابھی کچھ سیڑھیاں باقی تھیں کہ باقاعدہ چکر آنے لگے اور ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی ہلکے ہلکے پیٹ میں گھونسے مار رہا ہو۔ ایمان داری کی بات ہے مجھے تو اب ڈر بھی لگنے لگا۔

” تبسم! تم کچھ محسوس کر رہے ہو؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” ہاں! چکر آ رہے ہیں۔ اب ذرا رُک کر اِن جھِریوں میں سے ڈوبتی کرنیں بھی تو دیکھو؟“ ۔ تبسم نے کہا۔

یقین کیجئے جیسے ہی میں نے اِن جھریوں میں سے باہر جھانکا ایک عجیب ہی منظر میرے سامنے تھا۔ ڈوبتے سورج کی کِرنیں درختوں کی شاخوں میں سے چھن چھن کر آ رہی تھیں جِس سے اِس نیم تاریک شاخوں کے لمبے لمبے سائے دائیں بائیں حرکت کر رہے تھے۔ ایک لمحہ میں مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ سائے ہیولوں کی شکل اختیار کرتے ہوئے مجھے اپنی طرف بُلا رہے ہیں۔ میرے پیٹ میں ایک زبردست مروڑ اُٹھا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ مجھے تبسم کی آواز سے ہوش آیا۔ میں سیڑھی پر بیٹھا تھا اور تبسم زور زور سے مجھے بُلا رہا تھا۔

ہوش میں آتے ہی میں نے قدم نیچے کی طرف بڑھائے۔ دونوں بھائیوں نے بھی میری پیروی کی۔ کھلی فضا میں آ کر ہم نے سُکھ کا سانس لیا اور اب مجھے خوب اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ لوگ چھلانگ کیوں لگاتے تھے۔

بھارتی فلموں کی تقسیم کاری

مگر مچھ کے پراجیکٹ کے بعد تین ماہ کا وقفہ تھا۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا کہ وسطی افریقہ میں خاکسار نے ’رام جی‘ گروپ کی سگریٹ ایجنسی میں بھی کام کیا۔ وہیں گجرات ( ہندوستان ) کے ایک عُثمان بھائی سے مُلاقات ہوئی جو پڑوسی ملک ’بورونڈی‘ کے دارالحکومت ’بو جومبورا‘ میں ایک سینما کے مالک تھے۔ وہ اپنے سینما میں بھارتی فلمیں لگایا کرتے تھے اور مزے کی بات یہ کہ

مقامی لوگ بہت شوق سے یہ فِلمیں دیکھنے آتے تھے۔ میں نے اُن سے اُن کے سینما کے پروجیکٹر میں فلمیں چلانا سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، جِس کی اُنہوں نے بخوشی اجازت دے دی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں! مجھے تو جنون کی حد تک اِس کام کا شوق تھا۔ میں نے اِس کام میں نہ دِن دیکھا نہ رات لہٰذا جلد ہی اِس کام میں مطلوبہ مہارت حاصل کر لی۔ عثمان بھائی نے خوش ہو کر پیش کش کی کہ اب میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے فِلم تقسیم کاروں سے نئی فِلمیں لایا کروں۔ پھر تو میری پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں تھا۔

پہلی فِلم جو میں نیروبی سے لایا وہ فلمساز و ہدایتکار پراکاش مہرہ کی فلم۔ ’زنجیر‘ ( 1973 ) تھی۔ اس کا منظر نامہ سلیم خان اور جاوید اختر کا مشترکہ تھا جب کہ کہانی سلیم خان کی تھی۔ کلیان جی آنند جی اس فلم کے موسیقار اور گیت نگار گلشن بانورا اور پراکاش مہرہ خود تھے۔ پھر فلمساز و ہدایتکار پراکاش مہرہ کی سُپر ہِٹ فلم ’مُقدّر کا سِکندر‘ ( 1978 ) ۔ گیت نگار انجان اور پراکاش مہرہ اور موسیقی کلیان جی آنند جی کی۔

میرا تیسرا پھیرا یادگار تھا کیوں کہ اب کی دفعہ فلم تقسیم کار کے دفتر میں امیتابھ بچن اپنی فلم ’نٹور لال‘ ( 1979 ) لے کر خود وہاں موجود تھے۔ نہایت اِنکساری سے مِلے۔ واضح رہے کہ جِس زمانے میں وہ فلم بمبئی میں نمائش کے لئے پیش ہوئی اُسی ہفتہ نیروبی کے تقسیم کار کے دفتر میں بھی موجود تھی۔ مزید علم ہوا کہ بمبئی کی فلموں میں افریقہ کے تقسیم کاروں کا پیسہ بھی روپے میں چار آنے

لگا ہوتا ہے۔ بہر حال سولہ یا سترہ سو فٹ کی یہ فلم ( غالباً ) 17 ریلوں کی تھی۔ اِس فلم نے کافی بزنس کیا۔

پاکستانی ہائی کمیشن نیروبی کا شرم ناک سلوک

” عثمان بھائی! کیوں نہ کسی پاکستانی فِلم کو نمائش کے لئے پیش کیا جائے؟“ ۔ میں نے عرصے سے دبی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

” شوق سے! مگر لاؤ گے کہاں سے؟ میری معلومات کے مطابق نیروبی میں ایک بھی تقسیم کار ادارہ پاکستانی فلموں کا کام نہیں کرتا۔ تم پاکستانی ہائی کمیشن نیروبی جا کر معلوم کرو ’‘ ۔

نیروبی کے پاکستانی ہائی کمیشن کا پہلے ہی مجھ کو بے حد تلخ تجربہ حاصل تھا لہٰذا بوجھل دِل کے ساتھ نیروبی کے اگلے پھیرے میں سب سے پہلے میں پاکستانی ہائی کمیشن گیا۔ وہاں کے ایک ذمّہ دار افسر تک رسائی ہوئی۔ رسمی دعا سلام کے بعد آمد کا مقصد بتایا۔ حضرت موصوف سے گفتگو کے چند جملے لکھنے اپنا فرض سمجھتا ہوں تا کہ وزارتِ خارجہ کچھ تو ہوش کے ناخن لے!

” جناب میں پاکستانی فلموں کی وسطی افریقہ میں نمائش کرنا چاہتا ہوں۔ نیروبی کے تمام تقسیم کار بھارتی فِلمیں تقسیم کرتے ہیں۔ مجھے اِس سلسلہ میں معلومات درکار ہیں کہ یہ فلمیں مجھے کہاں سے ملیں گی؟“ ۔

جواب ملا ”یہاں بھانڈ مراثیوں کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہ ہائی کمیشن ہے کوئی چنڈوخانہ نہیں“ ۔ اِس کے بعد جو کچھ کہا گیا وہ لکھا نہیں جا سکتا۔

فلم ’بہارو پھول برساؤ‘

کام رُکا نہیں کرتے۔ ڈھونڈ ڈھانڈ کے گولڈن جوبلی پاکستانی اُردو رنگین فلم ’بہارو پھول برساؤ‘ ہاتھ لگی جو 1972 میں پاکستان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکی تھی۔ اِس کے فِلم ساز اور ہدایت کار ایم صادق تھے۔ اِنہوں نے ہی فِلم کا منظر نامہ لکھا۔ آدھی فلم بنی تھی کہ وہ انتقال کر گئے باقی فِلم حسن طارق نے مکمل کی۔ موسیقار ناشاد، گیت نگار شیون رِضوی تھے۔ اداکاروں میں وحید مراد، رانی، منور ظریف، سنگیتا، اسلم پرویز، کمال ایرانی، الیاس کاشمیری اور تمنا تھے۔

مجھے جو پرنٹ مِلا وہ بہت مخدوش حالت میں تھا۔ پرنٹ میں لگے ’جوڑ‘ بہت کمزور تھے۔ کئی گھنٹے تو اُس کی درستی میں لگ گئے۔ اللہ نے بڑا کرم کیا۔ مقامی آبادی مار دھاڑ، ایکشن والی بھارتی فِلمیں دیکھنے کی عادی تھی۔ اب یہ اُن کے لئے نئی چیز تھی۔ خلافِ توقع یہ بے حد پسند کی گئی اور بزنس کے حساب سے بھارتی فلم ’نٹور لال‘ سے کم نہیں رہی۔

یہ ایک تجربہ ہی تگنی کا ناچ دکھا گیا۔ اِس فلم کے بعد میں نے پھر کسی اور پاکستانی فلم کی نمائش کے سلسلے میں کانوں کو ہاتھ لگا دیے۔

ہاتھی کا آخری وقت اور اُن کا قبرستان

اگلی مہم قدرے سنجیدہ اور خطرناک تھی۔ وہ اِس طرح کہ ہاتھیوں کے گروہ کا ایک ہاتھی قریب المرگ تھا اور پورا گروہ اُس کے ساتھ اپنے قبرستان جا رہا تھا۔ اِس غَم کے سفر میں ایک معمولی سی بات اُن کو سخت اشتعال دِلا سکتی تھی، خواہ وہ کیمرہ کے لینس کا اِنعکاس Reflectionہی کیوں نہ ہو۔ یہاں میں آپ کو جنگلی حیات کی عکس بندی کے مُختلف مراحل سے آگاہ کرتا چلوں۔

ہاتھیوں کی مِثال دیتا ہوں۔ آکاگیرا Akagera جنگل اِن کی آماجگاہ ہیں۔ نیشنل جیوگرافک فِلم سوسائٹی میں سب سے پہلے تو

لائبریریوں میں، پھر فیلڈ، یعنی خود اِس جنگل میں آ کر ’آکاگیرا‘ کے ہاتھیوں پر تحقیق کی گئی۔ اِن میں حیوانات کے ماہر اور ایک سینئر

لائٹنگ کیمرہ مین بھی تھا۔ اُس کی تحقیق یہ تھی کہ کِس مہینہ میں عکس بندی کرنے آنا ہو گا؟ اُس وقت کیا موسم ہو گا؟ قدرتی روشنی کا کیا انتظام

ہو گا؟ کلر ٹمپریچر lour temperature Co کیا ہو گا؟ جانوروں کے ماہرین کا کام اِن ہاتھیوں کے گروہ، اِن کے فضلہ اور عمومی موڈ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگا نا تھا کہ آیا کوئی ہاتھی بیمار ہے؟ پھر اِن ہاتھیوں کے قبرستان کا کھوج لگا نا۔ یہ سب تحقیق کا شعبہ ہے جو اس

کام کو مہینوں یا سال پہلے کرتا ہے۔ اب جب اِس تحقیق سے مسلح ہو کر کوئی یونِٹ یہ کام کرنے جائے گا تو اُس کو 200 فی صد علم ہوتا ہے کہ اُس نے کب کیا کرنا ہے۔ کوئی الل ٹپ کام یا ہوا میں تیر نہیں چلائے جاتے۔

جب کسی ہاتھی کا وقتِ آخر ہوتا ہے تو اکثر وہ خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک مخصوص دَلدلی علاقے کی طرف سفر کرتا ہے، جِس کو میں نے ہاتھیوں کا قبرستان لکھا ہے۔ دیکھا جائے تو حقیقتاً یہ اُن کا قبرستان ہی ہوتا ہے۔ یہاں آپ کو کیچڑ زدہ دَلدَل میں کئی ایک ہاتھیوں کی باقیات ملیں گی۔ بعض ایسے گویا ہڈیوں کا ایک بڑا ڈھانچہ۔ کچھ پُرانے، کچھ اُس سے بھی قدیم اور بعض پہلو کے بَل گِرے ہوئے۔

محققوں کی تحقیق کے حِساب سے اِس مخصوص گروہ کے ایک ہاتھی کا وقتِ آخر تھا اور اُنہوں نے دلدلی علاقے کی جانب سفر شروع کر رکھا تھا۔ فِلم یونٹ کا منصوبہ، ہاتھیوں کے اپنے قبرستان تک آنے کے راستہ میں دو منتخب جگہوں پر عکس بندی کرنے کا تھا۔ عام حالات میں ہاتھیوں پر دستاویزی فِلموں کی عکس اور صدا بندی میں کوئی بہت زیادہ دِقّت پیش نہیں آتی لیکن غَم و الم میں ڈوبے اِن ہاتھیوں کے بارے میں ماہرین کا کہنا تھا کہ جتنا ممکن ہو سکے اِن سے دور رہا جائے۔

لہٰذا ایک دِن قبل ہی پورے یونٹ نے تیاری کر لی۔ کیسی تیّاری؟ یہ کہ کسی بھی قِسم کا کوئی کیمیکل، خوشبو، شیونگ کریم، ٹوتھ پیسٹ، صابن، چائے کافی، مشروبات، چولہا یا آگ، تمباکو نوشی سب ممنوع قرار پائے۔ البتہ ایک مخصوص اسپرے ہر ایک فرد استعمال کرتا تھا جو اِنسانی بو کو ختم یا بہت کم کر دیتی تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو

چکا کہ یہ سب تدابیر عام طور پر ہاتھیوں کے لئے نہیں کی جاتیں، یہ صرف اِس لئے کی گئیں کہ کوئی معمولی سی بے احتیاطی سال بھر کی محنت پر پانی نہ پھیر دے۔

یونٹ کو بتلایا گیا تھا کہ زیادہ امکان اِس بات کا ہے کہ وہ مخصوص ہاتھی دلدلی علاقے تک پہنچ جائے گا۔ مگر عین ممکن تھا کہ راستہ ہی میں مُوت آن دبوچتی۔ ایسے میں یونٹ کا کام بے انتہا خطرناک ہوتا۔ تحقیق سے ثابت تھا کہ اگر راستہ میں ہاتھی مر جائے تو باقی ہاتھی اُس کو لاوارث چھوڑ کر کبھی نہیں جاتے بلکہ تھوڑا انتظار کرتے ہیں اور جب یقین ہو جائے کہ یہ مر گیا تو اُس کو دھکے مار مار کر اپنے دلدلی قبرستان میں لا کر ہی چھوڑتے ہیں خواہ اُس مُردہ ہاتھی کا کتنا ہی بُرا حشر کیوں نہ ہو جائے۔

دلدلی قبرستان تک وہ ہاتھی خیریت سے پہنچ گیا۔ اِس میں ہم سب کی بھی خیریت رہی۔ آج بھی جب وہ مناظر یاد آتے ہیں تو جِسم میں جھرجھری آ جاتی ہے۔

وہ ہاتھی چپ چاپ آگے بڑھ کر دلدل کے اندر کھڑا ہو گیا۔ باقی ہاتھی کچھ فاصلہ پر ٹھہر گئے۔ اُس گروہ میں اندازہً 30 عدد چھوٹے بڑے ہاتھی تھے۔ یہ سب گھنٹوں کھڑے رہے۔ پھر نسبتاً چھوٹے ہاتھی اور بڑی مادائیں وہاں سے کچھ آگے بڑھ گئیں جہاں اُنہوں نے کچھ پیٹ پوجا کی۔ باقی گروہ، ہاتھی کے ’انجام‘ کا مُنتظر رہا۔ پھر گروہ کے سردار نے ایک خاص آواز نکالی اور تمام ہاتھی خاموشی سے کچھ آگے بڑھ گئے جہاں پہلے ہی سے بعض ہتھنیاں اور چھوٹے ہاتھی موجود تھے۔ لیکن حیرت ناک بات یہ تھی کہ اُس ہاتھی کی ساتھی یعنی اس کی جوڑی دار ہتھنی وہیں بھوکی پیاسی موجود رہی۔ گروہ کے باقی ہاتھی اُس کے لئے آگے منتظر تھے۔ وہ غریب بھی خاصی دیر اکیلے قبرستان کے کنارے کھڑی رہی لیکن ابھی شاید ہاتھی کی زندگی باقی تھی۔ بالآخر وہ باقاعدہ آنکھوں میں آنسو لئے، ایک غمناک آواز نکال کر آہستہ آہستہ باقی گروہ سے آ مِلی۔

یہ جو چند مناظر آپ نے ابھی پڑھے انہوں نے اُس وقت مجھ پر بہت گہرا اثر چھوڑا۔ قدرت کا کیسا شاندار انتظام ہے۔

اِس دستاویزی فِلم کی تدوین Editing غالباً لندن میں کی گئی تھی اور اُسی سال نُمائش کے لئے پیش کر دی گئی تھی۔

لشکری چیونٹیاں army ants

چیونٹی دیکھنے میں تو ننھی مُنی سی ایک مخلوق ہے لیکن محاوروں اور ضرب الامثال میں ہاتھی کی برابری کرتی نظر آتی ہے۔ لشکری چیونٹیاں army ants وسطی اور مشرقی افریقہ میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی بدقِسمت انسان اِن کے ہتھے چڑھ جائے تو کم و بیش چار گھنٹوں کے بعد ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ فوج کے حملہ آور دستہ کی مانند یہ منظم طریقہ پر تقریباً 25 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔ سواحلی زبان میں چیونٹی کی اِس قسم کو سِیافو کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے ہاں کی چیونٹی سے خاصی بڑی ہوتی ہیں۔ جسامت کے مقابلے میں ان کا سر بڑا ہوتا ہے۔ اِن کے جبڑے سمندری کیکڑے کے زنبور کی طرح سے تلوار جیسے کاٹ رکھتے ہیں جن کے کاٹنے سے شدید تکلیف ہوتی ہے۔ جبڑوں کی مضبوطی کا یہ عالم ہے کہ اگر ان کو کھینچ کر الگ کیا جائے تو یہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں مگر اس کا سر کاٹنے والی جگہ میں ہی رہ جاتا ہے۔

ہمارے یونٹ کو ایک صبح مقامی افراد نے بتایا کہ فلاں مقام پر سِیافو کی جارحانہ حرکت دیکھی گئی ہے۔ اس پر یونٹ انچارج نے خبر لانے والے کو کچھ ضروری احکامات دے کر رخصت کیا اور تمام یونٹ کو تیار رہنے کو کہا۔ ہمارا اُس روز اپنا عکس بندی کا کام سہ پہر کو شروع ہونا تھا۔ ڈیڑھ دو گھنٹے بعد وہ شخص اِس اطلاع کے ساتھ واپس آیا کہ لشکری چیونٹیاں قریبی بستی سے آدھ میل کے فاصلہ پر خوراک کی تلاش میں ہیں۔

اب تک تو راقم لشکری چیونٹیوں کو تباہی کی مشین ہی سمجھتا تھا اب جو کچھ اُن سے کروایا جانے والا تھا وہ اُن کا ایک نہایت ہی قابلِ تعریف کام تھا:

ہوا یہ کہ اندرونِ جنگل ایک مختصر سی بستی کے مکین بڑی کوشش کے بعد دھوکہ اور لالچ کے ذریعہ اِن سِیافو چیونٹیوں کو اپنی بستی اور اُس سے ملحق تھوڑی سی کھیتی باڑی کی جانب لانے میں کامیاب ہونے والے تھے۔ بستی کے مکیں دو چار روز کے لئے اپنے کچے پکے گھروں سے نقل مکانی کر گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ یہ چیونٹیاں اپنے راستے میں حرکت کرنے والی ہر چیز چَٹ کر جاتی ہیں اور جنگل میں رہنے والوں کے لئے ابرِ رحمت ہوتی ہیں۔ کھیتی کو کو کچھ نہیں کہتیں جب کہ اُس کو نقصان پہنچانے والے حشرات کو رغبت سے کھاتی ہیں۔ لشکری چیونٹیوں کا اِن کی بستی میں آنا خوشگوار تاثرات چھوڑ جاتا ہے۔ وہ ایسے کہ مکڑیاں، بچھو، سانپ اور چوہے وغیرہ ایسے صاف کر جاتی ہیں جیسے شہروں میں سال چھ ماہ کی ضمانت دے کر نامور کیڑے مکوڑے کنٹرول کرنے والے ادویات کا چھڑکاؤ کر کے جاتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ کہ اِن گھروں میں رکھے ہوئے اناج سے وہ کوئی سروکار نہیں رکھتیں۔ افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ بستی کے گھروں میں موجود روشنی کے ناکافی ہونے کی وجہ سے اِس سرگرمی کی ریکارڈنگ اور عکس بندی نہیں ہو سکی۔ لیکن اِس کی کمی اُس منظر نے پوری کر دی جہاں اِن چیونٹیوں سے سرجری کا کام بطور سرجن کرایا گیا۔

وہ ایسے کہ بڑھتے ہوئے لشکر کے کسی انتہائی جانب ایک مریض کو رکھا گیا جِس کی ٹانگ میں گہرا گھاؤ آ گیا تھا۔ درد تو اُس غریب کو پہلے بھی ہو ہی رہا تھا اب وہ مزید بڑھ گیا۔ گھاؤ کی دونوں جانب لشکری چیونٹیاں اپنے جبڑے گاڑنے لگیں دیکھتے ہی دیکھتے زخم کے دونوں جانب چیونٹیاں ہی چیونٹیاں نظر آنے لگیں۔ اِس مرحلہ پر اُس شخص کو وہاں سے ہٹا کر کھلی جگہ لے آئے اور برق رفتاری سے زخم کے دونوں جانب چیونٹیوں کو نوچ نوچ کر اُتارا جانے لگا۔ عجیب ہی نظارہ تھا۔ وہ چیونٹیاں نوچنے پر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی تھیں۔ پیچھے

والا حصہ آسانی سے ٹوٹ کر آپ کے ہاتھ میں آ جاتا لیکن منہ! اللہ کی پناہ واقعی سمندری کیکڑے کی طرح اُس کا منہ مریض کے زخم میں پیوست رہ جاتا تھا۔ اب جو گھاؤ کو پانی میں بھگوئے ہوئے کپڑے سے صاف کیا تو اُس گہرے زخم کی جگہ واقعی صرف ایک لکیر نظر آئی جن کے دونوں جانب کالے کالے ٹانکوں کی صورت اُن چیونٹیوں کے سر رہ گئے تھے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا یہ ایک مرتبہ کی سرجری مریض کے لئے کافی رہے گی؟ تو اِس کا جواب دیا گیا کہ ان چیونٹیوں کی حرکات پر آدمی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر مزید ضرورت ہوئی تو ایک دفعہ اور یہ کارروائی کی جائے گی۔ مزے کی بات نفسیاتی طور پر وہ زخمی شخص اب مطمئن تھا اور ایک لکڑی کے سہارے چلنے بھی لگا۔

جنگل والوں کی ثقافت

اندرونِ جنگل یا اِن کی قریبی آبادیوں کے رہنے والوں کے اعتقادات زیادہ تر غیر الہامی تھے۔ لیکن اُن کے بھی ضابطے اور قوانین ہُوتے تھے۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ تہذیب اِن کو چھو کر نہیں گئی۔ اچھی یا بُری، اِن مقامی افریقیوں کی ایک تہذیب او ر با قاعدہ

ثقافت تھی۔ اِن کے ہاں بھی رنگا رنگ تہوار اور کھیل تماشے ہوتے تھے۔ ٹھیک ہے سجاوٹ اور خوبصورت نظر آنے کے پیمانے مختلف تھے مگر کیا مرد کیا عورتیں، تہواروں اور خوشی غمی کے موقع پر دِل کھول کر اِس قُدرتی جذبہ کا اِظہار کرتے تھے۔ رقص اور رِدھم Rythm تو اُن کی گٹھی میں پڑا ہوتا تھا۔ کئی ایک طرح کے ردھم آلات استعمال کرتے تھے مثلاً روایتی ’کانگو‘ ، کئی قِسم کے ڈھول، جِن پر مختلف اقسام کے جانوروں کی کھال منڈھی ہوئی ہوتی تھی۔

یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ یہ ہمیشہ اپنے مُخالف کی کھال کھنچوا کر ڈھولوں پر منڈھتے ہیں۔ میں نے اپنے قیام کے دوران، ایسی ایک بھی بات نہ سُنی نہ دیکھی۔ راقِم نے بھی بلوچی لوک گیت ’وشملے‘ کو اُن کے کانگو پر خود رِدھم دے اور گُنگنا کر سُنایا تو کئی ایک نوجوان دیوانہ وار رقص کرنے لگے۔ کمال کی بات یہ کہ اُن کا رِدھم اِس سے مِلتا جُلتا ہی تھا۔

زندگی زندہ دِلی کا نام ہے۔ کیا وسطی اور کیا مشرقی افریقہ، آپ کہیں چلے جائیں، جنگل اور اُس کے قریب رہنے والے اپنے حال میں مست اور ہر وقت خوش رہا کرتے تھے۔ معیارِ زندگی کیا بلا ہے؟ وہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ فرانک، پونڈ، ڈالر کی دوڑ اُس وقت شروع نہیں ہوئی تھی۔ غریب ہونا کوئی جُرم نہیں تھا۔ بچت اور کل کیا ہو گا؟ ہمارے بچوں کا کیا بنے گا؟ اِن سوالات کا اُس وقت دور دور

کوئی پتہ نہیں تھا۔ کوئی قناعت پسندی سی قناعت پسندی تھی! جب ہی تو جو جِس حال میں تھا خوش تھا۔

آج پورا چاند ہے، لیجیے زندگی سے بھر پور ہنگامہ تیار۔ جِس میں بستی کا سردار، مرد عورت، لڑکے لڑکیاں، جوان بوڑھے سب ذوق و شوق سے حصّہ دار۔ کسی کے ہاں ولادت ہوئی، لیجیے ایک اور رنگا رنگ تقریب۔ حتیٰ کہ موت اور سوگ پر بھی بعض بستیوں میں خوشی منائی جاتی تھی۔

دریائی بھینسا بھی کم خطرناک نہیں

رُوانڈا میں کئی ایک دریا اور جھیلیں ہیں جِن میں دریائی بھینسے Hippopotamus بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ جانور دِن بھر پانی میں رہنا پسند کرتا ہے اور شام کے بعد خشکی پر بھی آ جاتا ہے۔ چونکہ یہ ملک نسبتاً زیادہ بُلندی پر واقع ہے اِس لئے خطِ استوا پر واقع دیگر ممالک کے مُقابلے میں یہاں قدرے کم درجہ حرارت ہوتا ہے۔ سارا سال نہ سردی نہ گرمی اور تقریباً روزانہ ہی پھوار پڑتی ہے۔ لہٰذا یہاں کی جھیلوں اور دریاؤں میں رہنے والے دریائی بھینسے دِن میں بھی پانی سے باہر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ سواحلی زبان میں اِس جانور کو ’کی بَو کو‘ Kiboko کہتے ہیں۔

لاہور کے چڑیا گھر میں بھی ایک جوڑا موجود ہے۔ میں اِن کو بے ضرر مخلوق سمجھتا تھا مگر ایسا ہے نہیں۔ اب اِن کا بھی ایک واقعہ بتاتا چلوں۔ ہوا یوں کہ میں بورونڈی Burundi کے دارالحکومت بوجومبورا Bujumbura سے تنزانیہ کے شہر ’کیگوما‘ Kigoma کے لئے ایک فیری میں جھیل ٹانگانیکا LakeTanganyika میں سفر کر رہا تھا۔ بات سے بات نکل رہی ہے، یہ دنیا کی دوسری سب سے زیادہ گہری جھیل ہے اور اِس میں باقاعدہ بحری جہاز بھی چلتے تھے۔

اُس وقت اِن دو شہروں کے سفر کا دورانیہ تقریباً 14 گھنٹے کا تھا۔ شام 6 بجے سفر کا آغاز ہوا۔ سفر بمشکل شروع ہی ہوا تھا اور کنارا ابھی دِکھائی دے رہا تھا کہ کچھ مُسافر عرشے پر آ گئے۔ میرے ساتھ ایک جاپانی نوجوان سیّاح ہمسفر تھا، جِس کا ذکر پچھلے واقعات میں کیا جا چکا ہے۔ اُس نے اشارے سے نیچے جھیل کی سطح پر دیکھنے کو کہا۔ فیری کے بالکل ساتھ بہت سے دریائی بھینسے نظر آئے۔ اِس سے قبل میں نے اِن کو اپنی رہائش گاہ کے پاس رات کو اکثر دیکھا تھا۔ یہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ مگر یہاں جھیل میں، ہماری اُس فیری کے ساتھ یہ بہت بے چین اور قدرے غصّہ میں نظر آ رہے تھے۔ پھر تو گویا پانی کی سطح پر بھونچال سا آ گیا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ مگر مچھ اور اِن میں کوئی تنازعہ ہے۔ مگر مچھ کا سب سے بڑا ہتھیار تو خود اُس کی دُم ہوتی ہے جو کہ اِس لڑائی میں بخوبی استعمال بھی کی گئی۔ مگر حیرت کا پہلو یہ تھا کہ دریائی بھینسے بھی برابر کی چوٹ تھے۔ دو بدو لڑائی کا انجام تو خیر کوئی نہیں نکلا۔ البتہ عرشہ پر اِس لڑائی دیکھنے والوں کے شور و غُل سے ایک دو بھینسے مشتعل ہو گئے اور اپنی لڑائی چھوڑ کر فیری کو ضربیں لگانے لگے۔ اگر یہ کوئی چھوٹی موٹی کشتی یا لانچ ہوتی تو خاصا نقصان کر سکتے تھے۔

چلتے چلتے ذکر کرتا چلوں کہ جانوروں میں منہ سختی سے بند کرنے کی طاقت میں اِس جانور کا نمبر چوتھا ہے۔ جو 1800 پونڈ فی مربع انچ ہے۔

Facebook Comments HS