ایک کہانی کچھ نئی کچھ پرانی (4)


رفتہ رفتہ حلقے والوں کے حق میں بات کرنا تو درکنار ان کا نام لینا بھی شجرِ ممنوعہ بن گیا۔ رانا صاحب کے دیہانت کے بعد بہت سے راجہ آئے اور گئے۔ سماج کی بہت سی قدریں بدل گئیں۔ ”مانَوّ ادھیکار“ کی بحثیں جا بجا زور شور سے ہوتیں مگر نہ پنڈت کے اثر رسوخ میں کوئی کمی آئی اور نہ ”ملیچھ ادھنّیم“ کے اس قانون کا بال بیکا ہوا۔ اس بحث کو آگے بڑھنے سے وہ یہ کہہ کر روک دیتے کہ اس کا اطلاق حلقے والوں پر نہیں ہوتا، یہ تو سرے سے انسان ہی نہیں ہیں۔

یوں ”مانَوّ ادھیکار“ کٹھ بندھنوں کے بڑے بڑے جغادری بُدھی وان جب ان کی بات آتی تو منہ میں گھنگنیاں ڈال لیتے۔ مگر اس سب کے باوجود ایک سوال پھر بھی اٹھتا کہ آگر یہ انسان نہیں ہیں تو پھر کیا ہیں؟ اور یہ کہ پنچایت کو کس نے یہ اختیار دیا کہ وہ کسی کے انسان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے؟ یہ سوال اٹھانے والا اگرچہ کوئی نہ تھا پھر بھی دبے لفظوں میں کوئی پوچھ ہی بیٹھتا تو اس کا جواب دھرم کے نام لیواؤں کے پاس صرف یہ ہوتا کہ اس کا فیصلہ ہو چکا ہے اس لیے اب اس قضیے پر گفتگو چھیڑنا بھی پاپ ہے۔

کوئی سادہ لوح ڈرتے ڈرتے تعجب کا اظہار کر ڈالتا کہ یہ تو ہماری ہی طرح اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، بولتے چالتے اور چلتے پھرتے ہیں تو اسے مورکھ اور بے وقوف سمجھ کر ہنستے اور سمجھاتے کہ ”یہی تو مسئلہ ہے۔ جب یہ انسان ہی نہیں ہیں تو ان کو کیا حق حاصل ہے انسانوں جیسا ویوہار کرنے کا ؟ یہ انسانوں جیسا بن کر دوسرں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ریاست پوتر استھان کا قانون صاف صاف کہتا ہے کہ یہ انسان نہیں ہیں۔ یہ آخر اس قانون کی پابندی کیوں نہیں کرتے؟

یہیں بات ختم ہو جاتی۔ ”ملیچھ ادھنّیم“ کے حق میں بڑے بڑے اکٹھ ہوتے جن میں ملیچھوں پر مزید پابندیاں لگانے اور پہلے سے موجود قانون کا سو فی صد پالن کرنے جیسے مطالبات کی ایک طویل فہرست دوہرائی جاتی مگر بات ادھر تک ہی رہتی۔ کوئی منہ سے نہ پھوٹتا کہ اب آگے کیا کرنا ہے؟ البتہ پچھلے دو قوانین کا لازمی نتیجہ ایک تیسرے قانون کی شکل میں نکلتا دکھائی دے رہا تھا۔ کیونکہ جب ایک پنچایت نے حلقے والوں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ یہ سرِ عام تو انسانوں جیسا ویوہار نہیں کر سکتے مگر اپنے گھروں کے احاطے میں جس طرح رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں تو یہ بات بھی دھرم اچاریوں کو خوش نہ آئی اور انھوں نے ڈٹ کر اس کی مخالفت کی۔

ریاست کے طول و عرض میں بڑے بڑے اکٹھ ہوئے جن میں دھرم کے نام پر لوگوں کو جمع کیا گیا اور پنڈتوں نے ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا کہ ان ملیچھوں کو گھروں کے اندر بھی انسان بن کر رہنے کا کوئی حق نہیں اور اگر سرکار نے پنچایت کے فیصلے کی روشنی میں انھیں یہ رعایت دینے کی کوشش کی تو ہم دھرم واسی ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ان کے گھروں میں گھس کر قانون پر عمل کروائیں گے۔ اور یہ صرف کہنے کی بات نہیں تھی، وہ جب چاہتے سرکاری پیادوں کو آگے لگا کر کہیں بھی چڑھ دوڑتے۔

اس دوران ایک ایسی سرکار بھی آئی جس کا نیتا نیائے کے نام پر ایک لمبا کشٹ کاٹ کر راج سنگھاسن پر براجمان ہوا تھا۔ حلقے والوں کو امید بندھی کہ اب شاید ان کی بھی سنی جائے اور ان کے ساتھ ہونے والے انیائے کا مداوا ہو سکے۔ یہ امید اس وقت خاک میں مل گئی جب پہلے سے بڑھ کر ان پر حملے ہونے لگے۔ اب نوبت ان کے گھروں کے در و بام کی توڑ پھوڑ تک آ پہنچی کہ جب یہ انسان ہی نہیں ہیں تو پھر انسانوں جیسی بود و باش کیوں اختیار کریں، انسانوں جیسے گھروں میں کیوں رہیں مگر چونکہ یہ سب کچھ قانون کے نام پر ہو رہا تھا اور نیائے کا پرچارک نیتا خود کو قانون کا سب سے بڑا پالن ہار سمجھتا تھا اس لیے اس نے اس طرف سے نظریں چرائے رکھیں۔

اس کمزوری سے شہ پا کر دھرم اچاری کٹھ بندھنوں نے خوب اودھم مچایا۔ حلقہ بگوشوں کے گھروں پر حملے روز مرّہ کا معمول بن گئے اور جب امن و امان کا سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا تو بات پنچایت تک لانی ہی پڑی۔ پنچایت بے چاری کیا کر سکتی تھی؟ اور اگر کچھ کر بھی لیتی تو اس کی بات کس نے ماننی تھی، پھر بھی سر پنچ نے جو فیصلہ صادر کیا وہ کچھ کچھ حلقے والوں کے حق میں جاتا دکھائی دیا۔ پنچایت نے قرار دیا کہ ”قانون ملیچھ ادھنّیم“ سے پہلے کی تعمیرات از قسم مکان، مدرسہ، عبادت گاہ وغیرہ جو حلقہ بگوشان نے کر رکھی ہیں اس قانون کی زد میں نہیں آتیں البتہ قانون کی منظوری کے بعد کی گئی تعمیرات پر قانون کا اطلاق لازم ہے۔ دوسرے لفظوں میں قانون کے لاگو ہونے سے پہلے چونکہ وہ انسان تھے اس لیے وہ تعمیرات جائز تھیں۔ قانون کے نفاذ کے بعد کی تعمیرات البتہ نا جائز قرار پائی تھیں۔

Facebook Comments HS