تاریخ ادب کا ایک نادر تخلیقی شاہکار
داؤد کی لے ہے کہ ملائک کی صدا ہے
اک اسم گرامی ہے کہ رس گھول رہا ہے
سید تابش الوری 19 مئی 1939 ء کو پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کا شمار پاکستان کے صف ِ اول کے معروف و مشہور شعرا و ادبا کی فہرست میں ہوتا ہے شاعری کے علاوہ وہ صحافت اور عملی سیاست سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ تادم تحریر اُن کے تین اہم شعری مجموعے اشاعت کے مراحل طے کر کے قارئین کی دسترس میں آچکے ہیں جن میں ”صغیر آتشیں“ ، ”رات ہوا چراغ“ اور پہلا غیر منقوط نعتیہ کلام بعنوان ِ ”سرکار دوعالم ﷺ“ شامل ہیں۔
اُن کی شاعرانہ عظمت کا ایک عالم معترف ہے اور اپنے کام کی بدولت ناقدین علم و فن سے بھی داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ شاعری میں منفرد حیثیت رکھنے والے سید تابش الوری ادب، صحافت اور سیاستی احساس، مشاہدے اور تجربات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر شاعرانہ منظرنامے کے ساتھ گُھل مل کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ان کی کتاب ”سرکار ِدو عالم ﷺ“ حضور دو جہاں، سروکونین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ان کی دلی محبت، عقیدت اور دین اسلام سے لگن کا ایک عملی اور مثالی نمونہ ہے۔ اس نعتیہ کلام کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی نقطہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک شاندار اور منفرد کارنامہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ اُردو ادب کا ایک نادر تخلیقی شاہکار بھی ہے۔
گوہر ملسیانی، ؔتابش الوریؔ اور ان کے غیرمنقوط نعتیہ کلام کا تعارف بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ذرا انداز بیان اور اسلوب کی چاشنی ملاحظہ کیجیے۔ ”تابش الوری جدید لہجے کا شاعر ہے، احساس کی دولت سے مالا مال، نکھری نکھری صبحوں کی طرح خیال کی طہارت اسے نعت کے پُر بہار چمنستان میں لے آئی، ثنا خوانِ مصطفیٰ ﷺ میں شامل ہوا اور اشعار میں نعت کی ضیا پاشیاں اور محبت ِ محسن انسانیت کی رنگینیاں بکھرنے لگا تو ادب کے لمحے جگمگا اٹھے، عشق ِ سرورِ کائنات کی جاوداں ساعتوں میں اس طرح گم ہوا کہ اس کے اسلوب کی انفرادیت شگفتہ موسموں کا اجالا بن گئی، لفظ مہکنے اور جذبے عطر بیز ہونے لگے، فن کی باریکیوں سے آشنا اور رحمت اللعالمین ﷺ کی عظمتوں سے آگاہ وہ اب نعت کی ایک ایسی غیر منقوط کتاب منصۂ شہود پر لے آیا ہے جو جلوہ حسن و جمال سے پُر بہار ہے، عنوان ہے“ سرکارِ دوعالم ﷺ ”۔ حکومت ِ پنجاب کی طرف سے 2005 ء میں منعقدہ کتب سیرت کے مقابلے میں سید تابش الوری کی لکھی ہوئی کتاب“ سرکار دو عالم ﷺ ”نے پہلا انعام اور امتیازی سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے شعر و ادب اور صحافت کے شعبوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا۔
سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذات گرامی کی اعلیٰ صفات و خصوصیات بیان کرنے کو شعری اصطلاح میں نعت کہا جاتا ہے۔ زمانہ رسول اللہ ﷺ میں بھی اکثر و بیشتر صحابہ اکرام آپ ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں اپنی دلی محبت اور عقیدت کو اشعار کی صورت میں بیان کرتے تھے ان صحابہ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ کسی تعارف کے محتاج نہیں جن کا نعتیہ کلام دیوان حسان کی صورت میں شائع بھی ہو چکا ہے۔ صحابہ کے بعد بھی تقریباً ہر دور میں نعت گوئی کی روایت کا سلسلہ تواتر کے ساتھ چلتا رہا اور عاشقانِ رسول ﷺ نے ہر دور میں اپنے محبوب نبی ﷺ کی مدح سرائی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی لیکن اس کے برعکس اگر ہم صنعت غیر منقوطہ میں ڈھلی ہوئی نعت کے بارے میں بات کریں تو ہمیں اس کے مثالیں مل تو جاتی ہیں مگر بہت ہی کم۔
جس کی بنیادی وجہ اس صنعت کی مشکلات ہیں اور الفاظ کا چناؤ اور انتخاب بہت سوچ سمجھ اور تلاش کے بعد ہی کرنا پڑتا ہے کیونکہ اُردو زبان میں غیر منقوطہ حروف کی تعداد منقوطہ حروف سے بہت کم ہے اور منقوطہ الفاظ اس کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ ان سے تحریر کو بچانا بہت مشکل اور جان جوکھوں والا کام ہے۔ صنعت غیر منقوطہ میں شعر اور نثر لکھنے والے کے پاس الفاظ کا وافر ذخیرہ اور تہذیبی مطالعہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ ان عناصر کی عدم موجودگی میں وہ اس صنعت کو برتنے میں انصاف سے کام نہیں لے سکے گا۔
اس سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمارے تہذیبی اور مذہبی الفاظ اور اصطلاحات اس قدر زیادہ ہیں کہ غیرمنقوطہ الفاظ کا استعمال کرنے کے لیے ذاتی ذوق و شوق ہی کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ آج تک نہ کوئی لغت بھی ایسے الفاظ کی مرتب نہیں کی گئی ہے جس سے کوئی مدد لی جا سکے۔ ڈاکٹر عاصی کرنالی صنعت غیر منقوطہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ صنعتِ غیر منقوط میں شعر کہنے یا نثر لکھنے کا رویہ کبھی روایت یا تحریک نہ بن سکا اور یہ روش چند افراد کے ذوقِ ایجاد تک محدود رہی جس کا سبب اس راہ کی دشواریاں، ناہمواریاں اور اشکالات و محالات ہیں۔
غیر منقوط نعت گوئی کی روایت کا جائزہ لیا جائے تو اس کے آثار انشاء اللہ خان انشاء کے دیوان میں یا پھر نثر میں فیضی کی تفسیر ِ بے نقاط میں بآسانی مل جاتے ہیں۔ اردو کی پہلی غیر منقوط سیرت رسول اللہ محمد ولی رازی نے ”ہادی عالم“ کے عنوان سے لکھی لیکن نعت میں اس سلسلے کی پہلی باقاعدہ کاوش حضرت راغب مُراد آبادی کے نعتیہ کلام میں نظر آتی ہے جو ”مدحِ رسول ﷺ“ کے عنوان سے 1983 ء میں شائع ہوا اس کے بعد جدید دور میں ہمارے سامنے تابش الوری کا خوبصورت اور جمال جہاں افروز نمونہ کلام ”سرکارِ دوعالم ﷺ“ موجود ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے اکتوبر 2018 ء میں خوبصورت اور دیدہ زیب تزئین و آرائش کے ساتھ شائع کیا اس سے پہلے اس مجموعے کو الحمد پبلی کیشنز نے 2004 ء میں بھی شائع کیا تھا۔ اس نعتیہ کلام میں تین حمدِ الہیٰ، چونتیس مدحِ رسول ﷺ میں کہی گئی نعتیں اور آخر میں درج نعتیہ قطعات کی تعداد چار ہے۔ نمونہ کلام ملاحظہ کیجیے :
عطا کی اک آس کے سہارے، ملول سارے، اداس سارے
کرم کی مولا سے لو لگائے، درود لائے، سلام لائے
اماں ملے گی اسی کے گھر سے، سکوں ملے گا اسی کے در سے
دعا کا کاسہ سدا اٹھائے، درود لائے، سلام لائے
اُداس لمحوں کے سائے سائے، ہم اہل ِ احساس لٹ کے آئے
ردائے درد و الم اٹھائے، درود لائے، سلام لائے
احمد ندیم قاسمی ان کی نعت گوئی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ دورِ حاضر میں شعرا نے نعت نگاری کی صنف کے امکانات کہیں سے کہیں پہنچا دیے ہیں مگر تابش الوری کو نعت نگاری میں یہ منفرد خصوصیت حاصل ہے کہ انھوں نے سب نعتیں کچھ اس اہتمام سے کہی ہیں اور پہلی نعت سے آخری نعت تک ایسے حروف و الفاظ کا انتخاب عمل میں آیا ہے جن میں نقطے کا وجود ہی نہیں ہے۔ یہ بہت جان جوکھوں کا کام ہے کہ نعت کا معیار بھی برقرار رکھا جائے اور اس میں کوئی ایسا لفظ بھی استعمال نہ کیا جائے جو نقطے کا محتاج ہو۔
تابش الوری کے نعتیہ کلام کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اس میں حیرت انگیز طور پر سلاست، روانی، شائستگی اور بے ساختہ پن نظر آتا ہے اور کچھ اشعار میں نثری سلاست کا گمان ہوتا ہے۔ دوران مطالعہ اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ کلام صنعت غیر منقوطہ کے نشیب و فراز میں ڈھلا ہوا ہے۔ وہ مدحتِ رسول اللہ ﷺ کو بڑے خوبصورت اور سیدھے سادے انداز میں بیان کرتے ہیں لیکن پڑھتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ہردم عشق محمد ﷺ میں ڈوب کر اپنے جذبات و عقیدت کے پھول درِ محمد ﷺ پر نچھاور کر رہے ہوں۔
ان کے ہاں موضوعات و مضامین میں تنوع اور رنگارنگی ہمیں جابجا نظر آتی ہے حالانکہ اس صنعت میں کلام کا دائرہ کچھ زیادہ وسیع نہیں ہوتا۔ خدا کی عظمت و بزرگی بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ کے اسم ِ گرامی، ذکر طیب اور سلام و درود کا کیف اور برکات و ثمرات، رحمت و شفاعت ِ رسول اللہ ﷺ ، سرچشمہ رشد و ہدایت، سیرت طیبہ، وجہ تخلیق ِ کونین و محور ِ کائنات، پیغمبرِ انسانیت، اطمینان ِ قلب اور امت ِ مسلمہ کا اجتماعی درد و غم جیسے موضوعات شامل ہیں۔ تکرارِ لفظی کے نمونے کلام میں مزید چاشنی اور شیرینی پیدا کرتے ہیں اور زبان ذکر الہیٰ اور ذکر محمد ﷺ کی تکرار میں محو رہتی ہے۔ بلا شبہ سید تابش الوریؔ کا نعتیہ مجموعہ ”سرکارِ دو عالم ﷺ“ فصاحت، بلاغت، سلاست اور دیگر ادبی محاسن کے ساتھ دور حاضر میں لکھا جانے والا تاریخ ادب کا نادر تخلیقی شاہکار ہے۔


