مہنگائی کی چکی میں پستے عوام


Dr Shahid M shahid

ہر دور میں مہنگائی کی اپنی داستان رہی ہے۔ اس کے اپنے اثرات و فتور ہیں۔ جمع و تفریق کا عمل ہے۔ اتار و چڑھاؤ ہے۔ کمر توڑ وزن ہے۔ ہر سو ذخیرہ اندوز مافیا ہے۔ موقع پرستوں کا ٹولا ہے۔ تڑپانے اور رولانے کے کئی خوابیدہ حربے ہیں۔ ماضی کے تاریک قصے و کہانیاں ہیں۔ حقائق و اثبات موجود ہیں۔ اس امر کے باوجود بھی ہر دور میں مہنگائی نے نہ رکنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ لیکن عصر حاضر میں آئی ایم ایف کے قرضوں نے عوام الناس کا جینا حرام کر دیا ہے۔ ہر چیز آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کاروباری لوگوں کو منافع خوری کا مرض لاحق ہو چکا ہے۔

خریدار بچارے حالات، بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور و پریشان ہیں۔ اگر کوئی چیز باقی رہ گئی ہے تو وہ ہاتھوں میں کشکول پکڑنا۔ بازار سے کوئی چیز بھی خریدنے جائیں تو ہر چیز پر ٹیکس کا ٹیگ لگا ہوا ملے گا۔ بنیادی ضروریات زندگی سے لے کر گھریلو اشیاء کے استعمال تک ٹیکس ہی ٹیکس لگا نظر آئے گا۔ حتی کہ پھل اور سبزیاں بھی اس قدر مہنگے ہو چکے ہیں کہ پوری تنخواہ انہی چیزوں کی نظر ہو جاتی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے دیگر اخراجات کہاں سے پورے کریں؟ کرائے کے مکانوں میں رہنے والے کہاں جائیں؟ بجلی کے نرخوں میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ معمولی آدمی بھی 10 سے 50 ہزار روپے تک بل ادا کر رہا ہے۔ دیگر بلوں میں ٹیلی فون، موبائل فون، لائن لینڈ نمبر اور گیس کے بل کہاں سے ادا کریں۔ بچوں کی فیسیں بھی الگ سا معاملہ ہے۔ اگر بائیک یا گاڑی رکھی ہے تو پٹرول کا خرچہ کہاں سے پورا کرنا ہے۔ اس مہنگائی میں مہمان نوازی بھی شامل کر لیں۔ کبھی کبھار ریسٹورنٹ میں بھی کھانا کھانے کو دل کرتا ہے۔ وہاں پر بھی ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنانا پڑتا ہے۔ الغرض گھر، مکان، ڈاک، ائر لائن، ٹرین، بس اسٹینڈ کسی بھی جگہ چلے جائیں۔ وہاں کرایوں میں اضافہ ہی ملے گا۔

انسان کی معاشی مجبوریوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ راہزنی جیسے واقعات بھی تواتر و تسلسل کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ ملاوٹ کا دھندا عروج پر ہے۔ کھانے کو اسپرے شدہ سبزیاں مل رہی ہیں۔ ہوٹلوں میں ناقص آئل کے باعث امراض معدہ اور کینسر جیسی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قوم کو صحت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی شوگر، ہیپاٹائٹس، فالج، دل کے امراض، کینسر، السر، نظام ہضم کی بیماریاں جیسے مسائل کا شکار ہو چکی ہے۔ شعور و آگاہی کے فقدان کے باعث زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ دیگر وجوہات میں ذخیرہ اندوزوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی بلکہ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ شاید لوگ مکافات عمل کو بھول چکے ہیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی مرضی کا مالک ہے۔ لوگوں کی ہٹ دھرمی بھی عروج پر ہے کہ پل بھر میں قانون و انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لے کر عدالتی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ منٹ میں حملہ کیا اور دوسرے جہان پہنچا دیا۔ معلوم نہیں یہ ہماری حالت زار ہے یا مارنے کا نشہ۔ لوگ سچ کا رونا تو روتے ہیں مگر سچ کا دامن نہیں پکڑتے۔ معاشرتی جرائم میں روز بروز اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ ہم عملی طور پر کتنے ناکارہ لوگ ہیں۔ شاید یہ کہنا غلط نا ہو گا کہ عصر حاضر کا انسان ضمیر فروش بن چکا ہے۔

عوام دماغی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جس کے باعث آنے والی نسلیں کمزور اور نحیف پیدا ہو رہی ہیں۔ ہر سو حرص و ہوس کا راج ہے۔ مفاد پرستی ہے۔ بے روزگاری کے باعث چوریوں، راہزنیوں اور ڈکیتیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پڑھا لکھا نوجوان نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہا ہے۔ نوجوانوں سے معاشی استحکام چھینا جا رہا ہے۔ ان کے گلوں میں بے روزگاری اور تنگدستی کا کشکول ڈالا جا رہا ہے۔ بد دیانتی بھی عروج پر ہے۔ ملازمین کی مراعات ختم کی جا رہی ہیں بلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں 2022 ء کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کو پینشن بھی نہیں ملے گی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے۔ ایسے موسم اور حالات میں غریبوں کا مسیحاء کون بنے گا؟ ان کے حالات کون معلوم کرے گا؟

سیاسی پارٹیاں تو اپنا اپنا ووٹ لے کر اقتدار میں آ چکی ہیں۔ وزارتوں پر فائز ہیں۔ عہدوں پر براجمان ہیں۔ سب اپنے اپنے مفاد کی خاطر ایک دوسرے کو برا کہتی ہیں۔ سب سسٹم کو برا کہتے ہیں۔ کوئی اس سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ غریبوں کی الگ سے بستیاں ہیں جبکہ امیروں کی الگ سے سوسائٹیاں ہیں۔ دونوں کے رہن سہن، اقدار و روایات، تہذیب و تمدن، تعلیم و تربیت اور افکار و نظریات میں آسمان زمین کا فرق ہے۔

Facebook Comments HS