خوشیوں کے تعاقب کی وبا (1)
زندگی میں کبھی ہم اتنے خوش بھی ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی خوشی ناجائز اور ناممکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ جیسے ہمیں ہمارے انسانی حق سے زیادہ خوشی مل گئی ہو۔ گویا ہمارے ذہن میں اس کی کوئی حد طے تھی۔ انتہائے خوشی کا پیمانہ بنانا یا اس کی حدبندی کرنا شاید اتنا آسان نہ ہو لیکن دورانیے کے لحاظ سے ایک خوشی ایک مفرد جذباتی کیفیت ہے اور اپنی ہاف لائف سے آگے جانا اس کے لیے ممکن نہیں۔
اس پر ہم سوچتے ہیں اگر ہم خوشیوں کی ایک مسلسل لڑی بنا لیں تو ایسا کوئی لمحہ ممکن نہیں ہو گا جب ہم ناخوش ہوں اور ہم اپنی تمام زندگی ایک عظیم خوشی کی کیفیت میں گزار سکیں گے۔ اور لاشعوری طور پر یہی سوچتے ہوئے شاید آپ نے بھی لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ خوش رہنے کی دلی دعا دی ہو۔ لیکن ممکن ہے یہاں یہ پڑھتے ہوئے آپ سوچیں :مسلسل خوشیوں کی ایک لڑی؟ آر یو سیریس؟
خوشیوں کے تسلسل کا فلسفہ نوعِ انسانی کے لیے نیا نہیں ہے۔ ہیڈونزم کا اخلاقی مفروضہ بہت پہلے کہ چکا ہے کہ انسانی زندگی کا اصل مقصد کامل ذاتی خوشی کا حصول ہے۔ خواہشات کی بے تکان تکمیل، لذت پرستی۔ نروان کی خواہش۔ زندگی کا مزہ صرف میٹھے میں دیکھنا۔ ہر قسم کی منشیات۔ اسی مفروضے کی اشکال ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں انسان مختلف طریقوں سے اس میں مصروف رہا ہے۔
مگر پھر بھی بحیثیتِ مجموعی خوشی معاشرے میں ہمارے دوسرے اعمال کی ایک سائڈ پروڈکٹ سمجھی جاتی تھی۔ انسانی زندگیوں میں لمحاتی خوشی کی بجائے دیرپا اطمینان کی اہمیت زیادہ تھی۔ مختلف مذاہب کسی نہ کسی طور درد کو نجات کے نظریے سے منسلک رکھتے تھے۔ اسی لیے خوشیوں کے حصول کو سائیڈ افیکٹ کی بجائے مقصد زندگی بنا دینے اور نظریاتی طور پر قومیانے سے انسانی آئیڈیلز میں ایک انقلابی انحطاط پیدا ہونا ضروری تھا۔
ھیڈونزم کا متضاد ایسی جذباتی صورتحال ہے جس میں انسان کسی بھی کام یا شے سے لذت کشید کرنے کی صلاحیت کے فقدان کا شکار ہوتا ہے۔ وہ خوشی کی پہچان کرنے، اسے کوئی مفہوم یا ذائقہ دینے سے بالکل قاصر ہوتا ہے یا ہو جاتا ہے اسے طبی زبان میں انہیڈونیا کہتے ہیں جو ایک بیماری ہے۔ لیکن اس کا ہم سے کیا تعلق ہے؟
اصل میں جب پاپولر میگزین اپنے سرورق پر جلی حروف میں خوشی بیچنا شروع کر دیں تو لگتا ہے شاید ہم سب کو یہ بیماری لگ چکی ہے۔ کیا ”زیادہ خوش رہیں“ خوشی کی سائنس کو سمجھیں ”“ خوش رہنے کے دس طریقے ”“ خوشیوں بھری نئی زندگی آج ہی شروع کریں ”۔ جیسے فقرے آپ کی نظر سے بھی گزر چکے ہیں؟
کوئی بھی شخص جس نے کریم والے بسکٹ کا پورا پیک ایک نشست میں کھانے کی کوشش کی ہوئی ہے وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہو گا کہ مسلسل میٹھا کھاتے کھاتے ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ زبان اس ذائقے کو محسوس کرنا چھوڑ دیتی ہے یا میٹھے کی بجائے زبان پر ایک کڑوا ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی زندگی میں خوشیوں کا تسلسل کرتا ہے۔ ہمیں خوشی کے لمحات و جذبات کی خوبصورتی نظر آنا بند ہوجاتی ہے۔ اسے ہم اپنی زندگی کا ایک معمول سمجھنا شروع کر دیتےہیں۔
اور کیا غموں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کیا ہم غم برداشت کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں؟ غم پیدا کرنے والے حالات کے بارے میں سوچنا احتجاج کرنا چھوڑ دیتے ہیں؟ لیکن یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ ابھی خوشیوں کے تعاقب کی کہانی پر غور کرتے ہوئے ایک فرضی مکالمہ ملاحظہ فرمائیں۔
(ونس اپون آ ٹائم۔ ان اے لینڈ فار فار اوئے )
1۔ مگر یہ کیا لکھا ہے؟
2۔ لائف، لبرٹی اور پرسیوٹ آف ہیپی نیس!
1۔ زندگی اور آزادی۔ ایک ہی بات تھی۔ بہرحال چلو۔ لیکن ہیپی نیس؟
2۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو اگلی نسلیں اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ جبری قوتوں کے پنجے سے نجات چاہتی ہیں۔ ہر جگہ لوگ اپنے حق کے لیے اٹھ رہے ہیں۔
1۔ تمہاری قریبا آدھی سے زیادہ آبادی باقی آبادی کے جبری قبضے میں ہے۔ وہ کیا کہیں گے؟ اور ان کے مالک کیا کہیں گے؟
2۔ مالکوں کو سمجھا دیں گے کہ ٹینشن نہ لیں۔ : باقیوں کو بتانا ابھی ضروری نہیں ہے۔
1۔ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کرنے کا حق سب کو ہونا چاہییے۔ یعنی اگر ہم مانتے ہیں کہ سب انسان برابر ہیں۔
2۔ انہیں یہ حق ہے۔ لیکن آزادی کے لیے خود کو حقدار ثابت کرنا پڑتا ہے۔
1۔ تمہیں اندازہ ہے نا کہ وقت کے ساتھ آخر کار یہ حق سب کو مل جائے گا۔
2۔ ہاں! ہم ہمیشہ کے لیے لوگوں پر کھلے عام قابض نہیں رہ سکتے۔ مستقبل میں ہمیں استبداد کو پردوں میں لپیٹنا پڑے گا۔
1۔ مگر یہاں زندگی اور آزادی کیا ہے؟ خوشی کیا ہے؟
2۔ یہ تمہارے مقاصد ہیں۔ تمہارے خواب ہیں : یہ کاٹن فیلڈز ہیں۔ یہ وائینریز ہیں۔ یہ وائیلڈ ویسٹ ہے۔ یہ گولڈ رش ہے۔ یہ نئی آباد کاریاں ہیں۔ یہ کم محصولات اور زیادہ منافع ہیں۔ یہ کوئلے کی کانیں ہیں۔ ہیرے جواہرات ہیں اور ریل روڈز ہیں۔ یہ کیسینوز ہیں۔ یہ باندیاں ہیں۔ یہ سائنسی ترقی ہے۔ یہ نئی نوکریاں ہیں۔ یہ کارخانے ہیں۔ یہ پروڈکشن لائنز ہیں۔ یہ میگا سٹورز ہیں۔ یہ بڑے جہاز ہیں۔ یہ نئے ہتھیار ہیں۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر ہے۔
بٹ موسٹلی۔ یہ دو وقت کی روٹی ہے۔ سر کی چھت اور تن کا کپڑا ہے :۔ یہ نئے برانڈز ہیں۔ یہ انشورنس پالیسیز ہیں۔ یہ فاسٹ فوڈ ہے۔ یہ بیوٹی انڈسٹری ہے۔ یہ کام کے چالیس گھنٹے ہیں۔ یہ اوور ٹائمز ہیں۔ یہ پب اور نائٹ کلب ہیں۔ یہ ہیپی آور ہے۔ یہ ویک اینڈ ہے۔ اپنا فرقہ اپنا چرچ ہے اپنا مصلّہ ہے۔
1۔ مگر یہ سب تو زندگی اور آزادی میں شامل ہے۔ تو پھر یہ پرسیوٹ آف ہیپی نیس کا ڈیزائینر فقرہ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی؟
2۔ ہاں ہم کہ سکتے تھے ”تمہاری آزادی اور تمہارے خواب“ ۔ لیکن خوشی ایک بیٹر ساؤنڈنگ لفظ ہے۔ خوشی سے انسان کا فطری ناتہ ہے۔ اور مکمل خوشی ناقابل حصول ہے۔ ٹرک کی بتی ہے۔ لوگوں کو مصروف کرنے کے لیے اس سے بہتر لفظ نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر انسان اپنا مقصد خوشی کو بنا لے تو وہ کبھی نہیں تھکے گا۔
1۔ لیکن وہ کبھی مطمئن بھی تو نہیں ہو گا۔ ہو سکتا ہے۔ وہ زیادہ ناخوش ہو جائے۔
2۔ وہ جتنا ناخوش ہو گا اتنی ہی تندہی سے خوشی تلاش کرے گا۔ وہ اتنا ہی موٹیویٹڈ رہے گا۔
1۔ اگر میں دو سو سال اور زندہ رہتا تو میں تمہیں بتا سکتا تھا کہ ایک لمحہ آتا ہے جب آزادی اور زندگی میں ٹھن جاتی ہے۔ بے لگام آزادی خود زندگی ہی کو کھا جاتی ہے۔ اور یہ کہ ناخوشی ایک جگہ پہنچ کر موٹیویشن کی بجائے ڈپریشن میں بدل جاتی ہے۔ اور یہ کہ میں نے تمہاری لسٹ میں وال سٹریٹ اور ڈوٹ کوم ببل کا اضافہ کر دیا ہے۔ اور میڈیسن انڈسٹری کا بھی۔ وہ تھکے ہوئے ناخوش لوگوں کو نیند۔ آرام اور سکون بیچ کر دو وقت کی روٹی کمانے پر اکساتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کو خوشی کے علاوہ اب اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔ نہ مقصد۔ نہ خواب اور نہ آزادی۔ زندگی بھی نہیں۔ (جاری ہے۔ )





