پاکستانی سرکار کی ختم شدہ بیٹریاں
”البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟“ اس ٹائیٹل کی انڈین آرٹ فلم دیکھ کے اس کا جواب ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ جہاں تک میرا معاملہ ہے تو مجھے غصہ مشکل سے ہی آتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ دیار غیر میں بیٹھ کر جب کبھی پاکستان کی کسی سہولت سے استفادہ کرنے کی ٹھانی ہے تو آ بیل مجھے مار کے مصداق غم و غصے کا بے ہنگم سیلاب میری جانب متوجہ ہوجاتا ہے۔
کئی برس پہلے کی بات ہے کہ اپنے، بیگم اور دو صاحبزادوں کے نئے پاکستانی شناختی کارڈ بنانے کا قصد کیا۔ برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے سے پہلے جب پاکستان میں سرکار کا ملازم تھا تو اس قسم کی حاجت کے وقت پہلا سوال یہ ہوا کرتا تھا کہ متعلقہ محکمے میں کوئی ہم سخن، کوئی شناسا افسر موجود ہے کہ نہیں تاکہ دفتر والے پلکیں بچھائے حاجت روائی کر دیں۔ برطانیہ میں زیادہ عرصہ رہنے سے ایسی مفید اور طاقت پرور عادتیں بری طرح متاثر ہو جاتی ہیں۔ اسی ضعف کا شکار ہو کر ہم نے لندن ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر جا کر خاموشی سے بکنگ کی اور دیگر پاکستانی ہم وطنوں کی طرح وقت مقررہ پر بیگم اور بچوں سمیت ہائی کمیشن جا پہنچے۔ یہ دفتر برطانیہ کے مہنگے ترین علاقے میں واقع ہے۔ اس کے منقش در و دیوار دیکھ کر بے اختیار ساحر لدھیانوی کا بیان ہونٹوں پر جاری ہو گیا کہ ”اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر۔ ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق“
دروازے سے اندر داخل ہوئے تو کچھ ترتیب کی موہوم سی کوشش اور کچھ بے ترتیبی کے مانوس ماحول سے ہوتے ہوئے ہم آخر کھڑکی والے صاحب تک جا پہنچے۔ ہم تو سر جھکائے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ ہر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے رہے لیکن جب بیگم کا نمبر آیا تو وہ خالص پاکستانی سوالوں سے کچھ نابلد نکلی۔ جب شوہر کا نام پوچھا گیا تو جوابی سوال کیا کہ کیا میرے شوہر سے یہی سوال کیا تھا؟ حقوق نسواں اور مرد و زن کی برابری کے مباحثوں سے ناواقف وہ کھڑکی والا ہکا بکا ہو کر سوال کی لا معنویت پر غور و خوض کرنے لگا۔ کچھ مختصر سی بحث کے بعد بالآخر یہ مرحلہ طے ہو گیا اور ہمیں تصویر کے لئے ایک دوسرے کمرہ میں جانے کو کہا گیا۔
جب وہاں پہنچے تو ایسا لگا جیسے ہم نوح کی کشتی کے آخری جانور ہوں۔ کمرہ مختصر اور اک ہجوم بیکراں ایک میز سے دوسری میز کی جانب امڈا جاتا تھا۔ صبر ایوب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم اس ہمت طلب مرحلے سے بھی سرخرو گزر گئے۔ بھاری بھرکم فیس وصول کرنے کے بعد ہمیں رسید تھما دی گئی کہ شناختی کارڈ ایک مہینے بعد بذریعہ کورئیر ہمارے گھر پہنچ جائیں گے۔ ”کڑا امتحان کامیابی سے جھیل گئے۔“ یہ سوچتے ہوئے ہم واپس گھر لوٹ آئے۔ کوئی مہینہ ہوا تو ڈی ایچ ایل کا پارسل آ گیا۔ میں نے بآواز بلند گھر والوں کے سامنے اعلان کیا کہ دیکھو پاکستان جدید دور میں داخل ہو گیا ہے۔ پارسل کھول کے بیگم اور دو بیٹوں کے شناختی کارڈ ان کو تھما دیے۔ پارسل کو اچھی طرح الٹ کر کھنگالا لیکن میرا شناختی کارڈ ندارد۔ خود کو تسلی دی کہ شاید میرا الگ سے آئے گا تو چند دن اور انتظار کر کے دیکھا جائے۔
جب ہفتہ گزر گیا تو سوچا کہ اب کچھ تفتیش ضروری ہے۔ ویب سائٹ پر دیے گئے نادرہ کے فون نمبر پر فون کیا لیکن یہ کوشش صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ گھنٹوں کال جائے لیکن کوئی اٹھانے کو تیار نہیں۔ جب دن کے مختلف ایام میں کئی دفعہ کوشش کر کے دیکھ لی تو سوچا چلو ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جائے۔ ایک تفصیلی ای میل ویب سائٹ پر دیے گئے ایڈریس پر ارسال کردی۔ کچھ عرصے میں منہ چڑاتا جواب آیا کہ مذکورہ ایمیل بکس پہلے سے بھرا ہوا ہے اس لیے میرا ای میل نہیں پہنچایا جاسکتا۔
جب مہذب معاشرے کے مہذبانہ طور طریقے بری طرح ناکام ہو گئے تو پسپائی اختیار کرتے ہوئے اسلحہ خانہ سے آزمودہ پاکستانی ہتھیار استعمال کرنے کی طرف راغب ہو گیا۔ میرا بیچ میٹ ڈاکٹر ظہور جو اب ایک یورپی ملک میں سفیر ہے اس وقت برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں اہم عہدے پر متعین تھا۔ انتہائی عالم و فاضل شخصیت اور شریف النفس انسان۔ اپنا دکھڑا اسے بیان کیا تو اس کا طلسماتی فون جیسے کھل جا سم سم بول پڑا تھا۔ تفتیش کے بعد مجھے بتایا گیا کہ سسٹم سے میرے شناختی کارڈ کی درخواست یکسر غائب ہے۔ یعنی حیرت در حیرت کہ میری وجہ سے میری فیملی کے کارڈ بن گئے لیکن مجھے سیٹی بجا کے غائب کر دیا گیا ہے۔ بہرحال میرے لئے ہنگامی طور پر دوبارہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دورے کا بندوبست کرایا گیا اور بالآخر میرا شناختی کارڈ مجھ تک پہنچ گیا۔
یہ تو بہت پہلے یعنی پینتیس پنکچروں والے اس زمانے کا قصہ ہے جب نئے پاکستان کی تحریک بذریعہ جنرل اسلام ظہیر زوروں پر تھی۔ ہم تو پورا واقعہ بھلا بیٹھے تھے۔ لیکن کوئی دو ماہ پہلے اچانک طبیعت مچلی کہ کیوں نہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف ) کی ممبرشپ لی جائے۔ ایک بار پھر مہذبانہ راستہ اختیار کیا۔ او پی ایف کی ویب سائٹ کھولی۔ کچھ ماتھا ٹھنکا کہ جگہ جگہ پاکستانی آئی ٹی والوں کی مخصوص انگریزی کا استعمال تھا۔ انگریز سامراج سے انتقام لیا جا رہا ہے اس لیے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ یوں بھی ہمارے افسران اہم جگہوں پر گاڑھی گاڑھی انگریزی بولنے میں مصروف ہوتے ہیں ان کے پاس اتنا وقت کہاں کہ ان ویب سائٹوں کا مطالعہ کرسکیں۔
زلفی بخاری برطانیہ سے اٹھا اور پاکستان میں وزارت کے مزے لے کر اتنے ہی مزے سے واپس برطانیہ جا چکا تھا لیکن او پی ایف کی ویب سائٹ اب بھی نئے پاکستان کے انقلابی فضائل کا اعلان کر رہی تھی۔ اسی میں عقل والوں کے لئے نشانیاں موجود تھیں لیکن میں نے اپنے مضبوط عقیدے پر حملہ آور شکوک و شبہات کا جری انداز میں مقابلہ کیا اور ممبرشپ کا فارم بھر کر مطلوبہ فیس بھی بذریعہ بینک ادا کردی۔ کچھ دن بعد جب صورتحال جانچنے کو ویب سائٹ پر ممبرشپ اکاؤنٹ لنک پر کلک کیا تو مذکورہ پیج ندارد۔ دن کے مختلف اوقات میں یہی عمل دہراتا رہا لیکن کچھوے سے کم رفتار پر چلتی ویب سائٹ کا مطلوبہ پیج جیسے صفحۂ ہستی سے غائب ہو گیا تھا۔
کچھ دن بعد چیک کیا تو لاٹری کے ٹکٹ کی مانند مذکورہ پیج نکل آیا جہاں لکھا تھا کہ درخواست موصول ہو چکی اور اب بینک ادائیگی چیک کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد مذکورہ پیج چھپن چھپائی کا کھیل کھیلنے لگا۔ کئی کئی دن غائب رہنے کے بعد اچانک کسی شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہو جاتا۔ لیکن کہانی وہی پر پھنسی ہوئی۔ دو ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن اب تک بینک ادائیگی چیک کی جا رہی ہے۔ جیسے میرے دیوار پر لگے وال کلاک میں جب اکلوتا سیل ختم ہو جائے تو سوئیاں حرکت چھوڑ دیتی ہیں اور وقت منجمد ہو جاتا ہے۔ شاید او پی ایف کی بھی بیٹری بدلنے کی ضرورت ہے۔
وزیر موصوف اور افسران بالا نے ویب سائٹوں پر اپنی بڑی بڑی تصاویر تو آویزاں کر رکھی ہیں۔ ان سے التماس ہے کہ کوئی فرصت کا لمحہ ملے تو ان ویب سائٹوں پر مہیا کی جانے والی سہولتوں کی بیٹریاں بھی گاہے بگاہے بدل دیا کریں۔ ہم ان کی عظمتوں کو مزید سلام کیا کریں گے۔

