پاکستان کی آبادی اور موجود دستیاب وسائل


Sohail Ahmad usa

کسی بھی ملک کی آبادی یہ طے کرتی ہے کہ وہاں پر موجود دستیاب وسائل کتنی مدت تک زیر استعمال رہیں گے۔ پاکستان میں پہلی مردم شماری قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 ء میں کرائی گئی تھی اور اس کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی جس میں مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تھی اور آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے اور اپنی آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔ سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951 ء میں ہوئی تھی۔ 1951 ء سے اب تک ملک بھر میں صرف 6 بار مردم شماری ہوئی ہیں۔ ( 1961 ء، 1972 ء، 1981 ء، 1998 ء اور 2017 ء) ۔ 1972 ء والی مردم شماری اصل میں 1971 ء کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 ء کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 2017 ء میں کرائی گئی۔

یہ قومی سطح پر گھر گھر جا کر ہونے والی آخری مردم شماری تھی۔ اس کے بعد پاکستان کی 2023 ء کی مردم شماری پاکستانی آبادی کی تفصیلی گنتی اور ملک کی ساتویں قومی مردم شماری تھی۔ اس کا انعقاد ادارہ شماریات پاکستان نے کیا تھا۔ یہ پاکستان میں ہونے والی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری بھی تھی جسے جنوبی ایشیا کی تاریخ کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری بھی کہا جاتا ہے جسے قومی سلامتی کونسل نے منظور کر لیا تھا لیکن صوبوں اور بعض حلقوں خاص طور پر کراس جینڈر کمیونٹی کی جانب سے اس پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

پاکستان نے اپنی آبادی تو بڑھا لی لیکن اس بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب اس کے وسائل گھٹتے چلے گئے یا پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ حکمرانوں نے اس آبادی کو نہ کنٹرول کرنے پر توجہ دی اور نہ ہی وسائل کو بڑھانے کا سوچا۔ انہیں اپنے لیے پسماندہ طبقات درکار تھے جو ان کے لیے کٹ مر سکیں اگر حکومتیں اچھے شہریوں کے حوالے سے سوچتی تو آج آبادی اتنی زیادہ نہ بڑھتی۔ ہماری حکومتوں کو اوور یا بے تحاشا پاپولیشن اور تہذیب یافتہ شہریوں کے درمیان فرق کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دیکھیں ایک چھوٹی سی بات ہے جب ایک گھر میں ایک دو فرد رہتے ہیں تو ان کی ضروریات زندگی کم ہوتی ہیں جب دو سے تین ہوتے ہیں تو بڑھ جاتی ہیں اور پھر جب تین سے چار پانچ چھ سات یعنی ایک گھر میں جتنے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا اتنے وسائل کا استعمال زیادہ ہو گا اگر دستیاب وسائل میں اضافے کے لیے کوششیں نہ کی جائیں تو گھر کے سربراہ کے لیے وہی گھر عذاب بن جائے گا۔ یہی مثال اپ ریاستوں کے اوپر لاگو کر سکتے ہیں کہ جتنی آبادی ہو گی ریاست کے وسائل اتنے ہی خرچ ہوں گے جبکہ ریاستی معاملات میں بات صرف وسائل کی نہیں ہے بلکہ آبادی کے دیگر مسائل ہیں، ضروریات ہیں اس کو بھی پورا کرنا ہے، ہم صرف روٹی کپڑا مکان دیکھتے ہیں اور اسی کا نعرہ لگاتے ہیں۔

چھوٹے اور بڑے شہروں کے مسائل میں بھی فرق ہے جس کی طرف فوکس نہیں کیا جاتا، ریاستیں اگر بڑے شہروں کے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر کام کرتی ہیں تو اس کی بڑی وجوہات ہیں ایک تو یہ شہر ہمیشہ سے ہی اسی نمایاں حیثیت کے حامل رہے، جس وجہ سے ان شہروں کی طرف ہجرت کا رجحان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا وجہ معاشی آسودگی کا حصول، بہتر نظام تعلیم اور طرز زندگی۔ جس وجہ سے ان شہروں میں رش اور آبادی کے مسائل کا دباؤ دوسروں شہروں سے زیادہ ہے۔

پانی سے زیادہ انسان ہے بقول فقیر سائیں کہ کثرتِ آدم میں۔ پنہاں بیسیوں نقصان ہیں ہم نہیں سمجھیں گے ہم تو صاحبِ ایمان ہیں فرطِ آبادی کا۔ اندازہ کریں کہ نہر میں اُس قدر پانی نہیں ہے۔ جس قدر انسان ہیں پاکستان کے بڑے شہروں خاص طور پر کراچی اور لاہور کے اہم ترین مسائل میں سالٹ ویسٹ ایک اہم ایشو کے طور پر سامنے آیا ہے جو براہ راست ماحولیاتی آلودگیوں میں اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ حالیہ مردم شماری میں لاہور کی آبادی ایک کروڑ سترہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران لاہور کی آبادی میں 20 لاکھ 8 ہزار 387 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

یعنی ناصرف پنجاب کے دیگر شہروں بلکہ پاکستان کے تمام علاقوں سے لوگ بہتر تعلیم، روزگار اور اور ملازمت کے لیے لاہور کا رخ کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہی لاہور میں سوسائٹیز کا ایک جال بچھ چکا ہے۔ زیادہ آمدنی کے لالچ میں بھی لوگوں نے اپنے گھروں کے صحنوں میں کمرے بنا کر کرایہ پر چڑھا دیے ہیں۔ آبادی کے اس بڑھتے ہوئے دباؤ نے شہر کو شہر ہی نہیں رہنے دیا۔ دیکھیں جتنی آبادی ہوتی ہے اس کے مطابق اس کے ایشوز بھی ہوتے ہیں جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

آبادی ایک بہت بڑے حصے کو نہ صاف پانی میسر ہے نہ تین وقت کی روٹی اور نہ چھت۔ ملک میں مناسب مقدار میں ڈاکٹر نہیں ہے طبی سہولتیں نہیں ہیں یعنی ہر حوالے سے پاکستان آبادی کے بوجھ تلے دب چکا ہے، ضروریات زندگی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ریاست محتاج ہو چکی ہے قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چھ سالوں میں یومیہ ساڑھے 15 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

کسی نے ایک بڑے پتے کی بات کہی تھی کہ جو زیادہ بچوں کی پیدائش ہے وہ غربت کی انجوائمنٹ ہے تاہم سچ یہی ہے یہ بچے نہیں مزدور پیدا کرتے ہیں پھر ان سے لیبر کا کام لیا جاتا ہے۔ نہ پالے جاتے ہیں نہ سنبھالے جاتے ہیں نہ ریاست کے پاس وسائل ہیں نہ آپ کے پاس۔ تاہم اگر حکومت نے آج بھی یہ طے کر لے کہ اس نے اب سے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے اور ہر حال میں کرنا ہے تو شاید آنے والے برسوں میں کچھ بہتر صورتحال نظر آ جائے۔

تاہم ایک عام مشاہدہ ہے کہ اگرچہ جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے بہبود آبادی کے حوالے سے کچھ اقدامات اٹھائے اور کم بچے پیدا کرنے کی مہمات بھی چلائیں لیکن پاکستانی عوام نے اس کو ایک کان سے سن کر دوسرے کہاں سے نکال دیا۔ اگرچہ اس وقت جو نسل سامنے آئی ہے وہ کچھ سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن یہ صرف پڑھے لکھے لوگوں میں موجود ہے کہ وہ ایک سے دو بچے ہی پیدا کر رہے ہیں تاکہ ان کو مفید شہری بنا سکیں اور اپنی زندگی بھی جی سکیں۔ جبکہ کم پڑھے لکھے گھرانوں میں یا مکمل طور پر غربت کا شکار گھرانوں میں یہ شعور نہیں ہے وہاں جتنے زیادہ بچے اتنے زیادہ دیہاڑی دار مزدور اتنے زیادہ فقیر اتنی زیادہ لیبر تو جب تک اس سوچ کے اوپر قابو نہیں پایا جاتا پاکستان میں آبادی کے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

Facebook Comments HS