غنیمت ہے زندگی: تیرہ فروری


 سردیوں کے خشک اور سرد ترین دن تھے، لاڑکانہ میں سردی بھی شدید اور گرمیاں بھی شدید ہوتیں ہیں، وہ بھی ایک سرد ترین دن تھا، فروری کی تیرہ تاریخ تھی، تیرہ کا ہندسہ امریکہ کینیڈا میں منحوس سمجھا جاتا ہے یہ بات ہمیں بڑے ہو کر معلوم ہوئی بہر حال اب کچھ نہیں ہو سکتا شکر ہے تاریخ تیرہ تھی لیکن دن بدھ کا، یعنی بدھ ہر کام سدھ یہ بڑوں کا کہنا ہے۔

تو جناب صبح کا وقت تھا، ناشتہ کے تیاری ہو رہی تھی اور گھر میں گہما گہمی تھی، اسکول جانے والے بچے اسکول تیاری کر رہے تھے، امی ناشتے کی روٹیاں بنانے کے لیے توا رکھ چکیں تھیں، گرم روٹی پر اصلی گھی کی مہک کیا خوب ہوتی تھی۔

امی بھرے سسرال میں اپنے رشتے کے ماموں کے ہاں بیاہی تھیں، پورے نو مہینے ہوچکے تھے اور کسی بھی وقت ڈیلیوری ہو سکتی تھی، پچھلے سال انیس فروری کو ان کی شادی ہوئی تھی اور وہ کراچی شہر سے رخصت ہو کر لاڑکانہ جیسے چھوٹے مگر باغوں کے شہر میں آئی تھیں، کراچی سے دلھن آئی تھی اور دادی کے گھر میں دلھن دیکھنے والیوں کا رش، ارے اس کے بال دیکھو کتنے لمبے ہیں، کتنی پیاری من موہنی ہے محسن کی دلھن، دادی تو پھولے نہیں سما رہی تھیں نندیں واری صدقے، دیور چھیڑ خانی کرتے لیکن امی برا نہیں مناتی تھیں۔ یونہی ایک سال ہونے کو آیا امی اب تک میکے کا چکر نہیں لگا سکیں تھیں کیونکہ پہلے زمانے میں بھاگ بھاگ کر میکے جانے کا رواج نہیں تھا پھر یہاں تو ریل کا سفر ہی دن بھر کا تھا، ماں اور بھائی مطمئن تھے رشتے داروں میں اکلوتی بہن کو بیاہ کر۔

امی بھی گھر کے کاموں میں مصروف رہتی تھیں، امی اس وقت ناشتے کی روٹیاں بنا رہی تھی اور چھوٹی نند ان پر گھی لگا کر دوسرے بہن بھائیوں کو چائے روٹی دیتی جا رہی تھی آخر چار چھوٹے بہن بھائی تھے اس سے چھوٹے دونوں بھائی نویں میں اور ان کے بعد والا بھائی تیسری میں، چھوٹی بہنیں دوسری اور پہلی جماعت میں تھیں۔ بھائی جان اور دادا کو بچوں کو پڑھانے کا شوق تھا اس لیے وہ سب پڑھ رہے تھے جبکہ دونوں بھائی جو نویں میں تھے پڑھائی میں بہت آنا کانی کرتے، پتنگ بازی اور کبوتر بازی میں استاد تھے لیکن یہ کام چھپ کر تیسری منزل پر کرتے تھے۔

بھائی جان انجنئیر تھے اور سکھر میں پوسٹنگ تھی اس کے علاوہ وہ شاعری کرتے تھے، محسن بھوپالی لاڑکانہ کے اہم شاعروں میں جانے جاتے تھے، صمد رضوی ساز اور شوکت عابدی کے ساتھ خوب نبھتی تھی، مشاعروں کی ایک خوبصورت فضا تھی ان دنوں جو بڑے بڑے نام اب کتابوں کی زینت ہیں وہ حیات تھے اور کہکشاں کی طرح آسمان ادب پر جگمگا رہے تھے، لاڑکانہ ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔

ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ روٹی پکانے کے دوران ہم نے امی کے پیٹ میں ادھم مچا دیا کہ بس اب نہیں رہا جاتا ہم بھی دنیا کی رنگینی دیکھیں گے اور امی نے کچھ گیلا محسوس ہوتے ہی چھوٹی نند کو ساس کو بلانے کا کہا اور دادی نے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے ہی محسوس کر لیا کہ خوشخبری قریب ہے، جلدی سے امی کو لے کر اندھیری کوٹھری میں لے جاکر لٹایا، ایک بیٹے کو دائی کو لینے بھیجا، جبکہ دوسرے بیٹے کو شادی شدہ بہن کو لانے بھیج دیا، چولھے پر گرم پانی کا پتیلا رکھ دیا گیا کچھ جڑی بوٹیاں ڈال کر۔

اندھیری کوٹھری پڑھ کر بہت سے قارئین چونک گئے ہوں گے کہ ہسپتال کے بجائے کوٹھری میں جانے کی کیا تک تو جناب عرض ہے اس زمانے میں عام طور پر بچے گھر میں پیدا ہوتے تھے، دائیوں کے ہاتھوں میں، اندھیری کوٹری ایک تکونے کمرے کی طرح تھی جہاں ایک طرف گھر بھر کے صندوق سلیقے سے جمے تھے، دوسرے کونے میں گندم کی بوریاں رکھی ہوتیں تھیں کیونکہ آٹا چکی پر پسوا کر کھایا جاتا تھا، پسا پسایا نہیں ملتا تھا، وہیں ایک کھٹولے نما پلنگ ہوتا تھا جو وقت آنے پر ڈیلیوری ٹیبل کا کام دیتا تھا۔

امی کو درد عروج پر تھے اور وہ کسی بھی وقت ماں بننے کی معراج حاصل کر سکتی تھی، لیکن میں ہی شاید اڑیل تھی انھیں تکلیف دے رہی تھی آخر دائی نے بڑی مشکل سے نارمل ڈیلیوری کروا ہی لی، مسئلہ یہ تھا کہ میں پائل پیدا ہوئی تھی یعنی پیر پہلے دنیا میں آئے اور باقی وجود بعد میں، آج کل برچ کہتے ہیں۔ ہم تو ایک اہم خاصیت لے کر پیدا ہوئے تھے، جس کو کمر میں چک آجاتی ہم تین دن اس کی کمر پر اپنی لات لگاتے اس کی چک ٹھیک ہوجاتی تھی نا جانے کیسے یہ تو اس بڑھاپے میں بھی ہم نہیں جان پائے تھے۔

اب تو خیر سے ہمارا پوتا اور ایک نواسی پائل ہیں اور ہماری ذمہ داری سنبھال لی ہے لیکن آج کل کون مانتا ہے ان ٹونے ٹوٹکوں کو، یادوں کی لہریں کہاں سے کہاں بہا لے جاتی ہیں، خیر جناب خاندان کی پہلی پوتی نے دنیا میں آتے ہی نعرہ بلند کیا لو میں آ گئی سنبھالو، واقعی چچاؤں اور پھوپھیاں گود میں لینے کو تیار لیکن دادی نے صفائی کے بعد کپڑے میں لپیٹا اور دادا ابا کی گود میں اذان دینے کے لیے دے دیا، دادا نے کان میں اذان دی، اور پوتی کو غور سے دیکھا انھیں پیر بالکل مڑے ہوئے نظر آئے بس وہ فکر مند ہو کر کپڑے میں لپیٹ کر کھڑے ہوئے، دادی نے کہا بچی کو مجھے دیں اور آپ مٹھائی لے آئیں، دادا نے غصے سے کہا عجیب عورت ہو تمھیں مٹھائی کی پڑی ہے مجھے بچی کے پیروں کی اور کمبل میں لپیٹ کر محسن منزل سے نکلے، یہ محسن منزل دادا کو پاکستان آنے پر ملی تھی تین منزلہ بلڈنگ، لال اینٹوں کی بنی ہوئی گرمیوں میں سب اوپر کے فلور میں رہتے، گھر میں ہینڈ پمپ غسل خانے میں لگا تھا اس کی خاصیت تھی کہ سردیوں میں گرم پانی اور گرمیوں میں ٹھنڈا پانی آتا تھا، پینے اور کھانا بنانے کا پانی بہشتی رامو مشک سے ڈال کر جاتا، مٹکوں صراحیوں میں پانی ٹھنڈا رہتا تھا، اس زمانے میں دادو کی بنی ہوئی صراحیاں بہت مشہور تھی پانی بہت دیر تک ٹھنڈا رہتا تھا، ہاں تو میں کہہ رہی تھی دادا میرے مڑے پیر دیکھ کر پریشان ہو گئے دراصل دادی یہ قصہ اتنی بار سنا چکی تھیں کہ مجھے ازبر ہو گیا تھا، دادا نے فوراً سامنے والے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، ڈاکٹر صاحبہ دروازہ کھولیں، ڈاکٹر اشرف عباسی نے جلدی سے دروازہ کھلوایا ارے حاجی صاحب، اتنے سویرے، ڈاکٹر صاحب پوتی ہوئی ہے ذرا اسے چیک کر لیں خاص طور پر اس کے پیر، ڈاکٹر صاحبہ نے گود میں لیا اور گھر میں ہی کلینک تھا وہاں ٹیبل پر لٹا کر چیک اپ کیا، وزن کیا سب نارمل تھا، دادا کو سمجھایا سب نارمل ہے بس بچی چار پونڈ کی ہے، کم وزن کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے ورنہ ٹانگیں مضبوط ہیں، صحت پکڑے گی تو سب ٹھیک ہو گا، میں محسن کی بیوی کو دیکھنے بھی آؤں گی فیس لینے کے بجائے پانچ روپے ہماری مٹھی میں دے دیے۔

یہ وہی ڈاکٹر اشرف عباسی ہیں جو پاکستان کی قومی اسمبلی کی پہلی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئیں تھیں۔ واقعی ہم نو مہینے کے تھے کہ پاؤں پاؤں چلنے لگے تھے۔ ڈیڈی کو سکھر، اور بڑے ماموں کو کراچی تار دے کر خوشخبری دے دی گئی، ڈیڈی تو خوشی میں اگلے دن ہی چھٹی لے کر آ گئے۔ ہم بالکل اپنے ڈیڈی کی کاپی تھے رنگت بھی سانولی، بڑی بڑی آنکھیں پیاری مسکراہٹ جبکہ امی کافی خوبصورت تھیں لیکن پہلی اولاد ایک تمغے کی طرح ہوتی ہے جسے دیکھ کر ماں باپ کو فخر ہوتا ہے، اور ہم تو تھے بھی بھائی جان کی پہلی بیٹی خاندان بھر کی لاڈلی، پھوپھی اور چچاؤں نے بہت ناز نخرے اٹھائے بلکہ ایک چچا نے تو ہمارے نام کے ساتھ ہی ناز لگا دیا تھا شاہانہ ناز جو شادی کے بعد بدل کر شاہانہ جاوید ہو گیا، یادوں کی لہریں رواں ہیں لیکن باقی پڑھئیے بریک کے بعد ۔ جاری ہے

Facebook Comments HS