کیا انصاف کا بول بالا ہو گیا


مخصوص نشستوں کے کیس میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے آٹھ پانچ کے تناسب سے اکثریتی فیصلہ دے کر ایک نئی تاریخ رقم کردی کہ جس جماعت نے کچھ مانگا ہی نہیں، اسے وہ سب کچھ دے دیا جس سے وہ دستبردار ہو چکی تھی۔ یہ فیصلہ بھی پاکستانی عدلیہ کے ماتھے کا جھومر بن کر بالکل اسی طرح چمکتا رہے گا جس طرح آج تک جسٹس منیر جسٹس مولوی مشتاق اور ان جیسے کئی انصاف پسند ججوں کے فیصلوں کی وجہ سے عدالت عظمیٰ انصاف کے معاملے پہ دنیا بھر میں رسوا ہے۔

مخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے کے بعد اس کے حق اور مخالفت میں بڑے زور و شور سے تجزیے دلائل جاری ہیں۔ جس کو جو فیصلہ پسند ہے وہ اس کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں لگا ہوا ہے اور اس فیصلے کے حق اپنی انٹر پٹیشن دینے میں مصروف ہے، لیکن یہاں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس فیصلے کے پاکستان کے موجودہ سیاسی تاپمان میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیا یہ فیصلہ قومی اسمبلی میں جاری دھینگا مشتی کو کم کرنے میں اہم ثابت ہو گا یا پھر ہنگامہ مزید بڑھانے کا سبب بنے گا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین میں اپنی مرضی کی تبدیلی کا فیصلہ دیا۔ جس کے خلاف چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ ”آئین میں اپنی مرضی کے الفاظ شامل کیے جا سکتے ہیں نہ ہی کسی جماعت کی سہولت کاری کی جا سکتی ہے، آئین میں مخصوص نشستوں اور آزاد اراکین کی کسی بھی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کا طریقہ کار درج ہے۔ جن 39 انتخابی امیدواروں نے تحریک انصاف سے وابستگی ظاہر کی تھی اور آخر تک اپنی وابستگی برقرار رکھی اس کی بنیاد پر تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں“

انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے اس وقت بھی اس آئینی مدت کے مطابق اپنی وابستگی ظاہر نہیں کی اور وقت مقررہ گزرنے کے بعد سنی اتحاد کونسل سے وابستگی کا سرٹیفیکیٹ جمع کرایا اور اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے مطابق انتخابات کے پانچ ماہ بعد منتخب اراکین کو ایک بار پھر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت دیا گیا ہے جو آئین کے مطابق انتخابات کے سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد تین دن ہے یعنی آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے یا آئین میں اپنی مرضی کے الفاظ شامل کرنے کے۔

سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ اپنے اندر اور بھی کئی ابہام اور تنازعات لیے ہوئے ہے جو کہ آئندہ دنوں میں بڑی شدت کے ساتھ ابھریں گے۔ اس فیصلے نے الیکشن کمیشن کی آزاد حیثیت کو بھی چیلنج کیا ہے اور یہ اداروں کے اختیارات میں مداخلت تصور کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن بھی اپنے کیے گئے تمام سابقہ فیصلوں پر ڈٹ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت پیش کی ہے جس میں اس نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے، اس سے انتخابی نشان واپس لینے کی بھی وضاحت شامل ہے، الیکشن کمیشن نے قبول کیا ہے کہ 39 انتخابی امیدواروں نے تحریک انصاف سے وابستگی ظاہر کی تھی مگر پارٹی ٹکٹ جمع نہیں کروایا تھا جس کی وجہ سے انہیں تحریک انصاف کا امیدوار قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح سے بھی واضح طور پہ انکار کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے واضح دو ٹوک موقف کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے میں نقائص مزید کھل کر سامنے آ گئے ہیں جس کی وجہ سے ملک مزید سیاسی ابتری کی جانب گامزن ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اس وقت پاکستان کا اہم مسئلہ مخصوص نشستوں اور اس کے لیے سیاسی جنگ نہیں بلکہ معیشت کی بحالی، مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ ہے۔ سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی۔ عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ مخصوص نشستیں کس کو ملتی ہیں کس کو نہیں۔ ان کو صرف بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیاء ضروریہ اور خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی سے مطلب ہے۔

عوام نے سیاسی جماعتوں کو اس لیے ووٹ دیے کہ وہ اقتدار میں آ کر اپنے اپنے انقلابی منشوروں میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے اقدامات کریں گی، ان کی زندگیوں کو آسان اور سہل بنانے کے اقدامات اٹھائیں گی۔ لیکن بدقسمتی سے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پہ سیاسی سبقت حاصل کرنے کی جنگ میں جُتی ہوئی ہیں۔ دراصل اس وقت پاکستان میں ذاتی، مالی، اختیاری مفادات اور اناؤں کی چو مُکھی لڑائی جاری ہے جس میں سیاسی جماعتیں، فوجی اور عدالتی اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں، عوام اور عوامی مسائل کہیں دھند میں نظروں سے اوجھل ہیں۔

سپریم کورٹ سمیت دیگر اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں کے فیصلوں سے ایک بات تو اظہر من الشمس ہے کہ ایک جماعت اور اس کی قیادت کے لیے انصاف کے تقاضے الگ اور دوسروں کے لیے الگ ہیں۔ حالانکہ ملک کے آئین میں واضح ہے کہ قانون و انصاف کے تقاضوں کے برخلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا مگر اسی آئین میں صدر مملکت، گورنرز اور بہت سی دیگر شخصیات کو دوران تعیناتی استثنا دیا گیا ہے جو کہ انصاف کے تقاضوں کے بالکل منافی ہے۔

سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ سنا دیا، اب اگر حکومت کو اس پہ اعتراض ہے تو اس فیصلے کی قانونی خامیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے یقیناً نظرثانی کی درخواست دائر کرنی چاہیے مگر اب اس سیاسی لڑائی کو ایک طرف رکھتے ہوئے حکومتی اتحادی جماعتوں کو اپنے اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل پہ بھی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ کوئی بھی حکومت عوامی حمایت اور پذیرائی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی جبکہ ملک کی عدالتوں کو بھی ایسے فیصلوں سے احتراز کرنا چاہیے جن سے کسی مخصوص جماعت یا گروہ کی سہولت کاری کا تاثر ابھرتا ہو تاکہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑوں کو، پارلیمانی نظام حکومت کو اور معیشت کو مضبوط و مستحکم کرنے میں مدد مل سکے۔

Facebook Comments HS