الیکشن پیچھے رہ گئے، کپتان بہت آگے نکل گیا

پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر عام انتخابات بدترین تنازعات کا شکار رہے ہیں، شاید ہی کسی الیکشن کے بعد ایوانوں میں دھونس دھاندلی کا شور نہ مچایا گیا ہو۔ 8 فروری 2024 ء کے عام انتخابات میں بھی فارم 45 اور فارم 47 کے تضادات کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔ مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی واضح جیت کو مبینہ طور پر کس طرح شکست میں تبدیل کیا گیا، اس واردات سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں 8 فروری 2024 ء کے انتخابات بہت پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ کپتان بہت آگے نکل گیا ہے، عمران خان مسلسل جیت رہے ہیں۔
بظاہر تنہا عمران خان کا بیانیہ حکمران اتحاد کے مجموعی بیانیہ پر بھاری پڑ رہا ہے۔ عمران خان کی شخصیت اور سیاست پر عوام کا اعتماد آج بھی برقرار ہے، ان کا میڈیا ٹرائل کرنے والے آج خود عوام کے اعتماد سے محروم ہیں۔ 9 مئی کے نتیجہ میں سخت سیاسی انتقام کا سامنا کرنے کے باوجود پی ٹی آئی نے اپنے آپ کو سمیٹ لیا ہے۔ حکمران اتحادکی طرف سے عمران خان میں طرح طرح کی خامیاں بتائی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کے حامیوں کی تعداد میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سپیشل سیٹوں کا عوامی مقدمہ کئی دنوں تک عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت رہا جس پر نہ صرف پاکستانیوں بلکہ متعدد ملکوں اور عالمی رہنماؤں کی نظریں مرکوز تھیں۔ عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے اس مقدمہ کی طویل سماعت کی جس میں تمام دھڑوں کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کے لئے بھرپور وقت دیا گیا۔ اس عوامی مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی تھی اور عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔
عدالت عظمیٰ کے 13 ججوں کے فل کورٹ نے آٹھ، پانچ کی واضح اکثریت کے ساتھ فیصلہ صادر کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو دینے کے بجائے دوسری جماعتوں میں تقسیم کرنے کا الیکشن کمیشن کا مبینہ طور پر متنازع فیصلہ برقرار رکھنے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور یہ سپیشل سیٹیں بطور سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو الاٹ کرنے کا اصولی اور آئینی حکم صادر فرما دیا۔
عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کے نتیجہ میں اب پی ٹی آئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتی ارکان کی خصوصی سیٹیوں کے لئے اپنے نامزد امیدواروں کی فہرستیں پندرہ یوم کے اندر اندر الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گی۔ اس فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ سپیشل سیٹیں تحریک انصاف کا آئینی اور جمہوری حق ہیں جو پہلے بھی ایک رجسٹرڈ جماعت تھی اور آج بھی رجسٹرڈ جماعت ہے۔
آئینی اور سیاسی نوعیت کے اس انتہائی اہم کیس کا فیصلہ پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ 1973 ء کے آئین کے مطابق سپیشل سیٹیں متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت پارلیمانی پارٹیز میں تقسیم کی جاتی ہیں۔
پارلیمانی پارٹیاں منتخب ایوانوں میں جتنی سیٹیوں پر کامیابی حاصل کرتی ہیں اسی تناسب سے ان کو خواتین اور اقلیتوں کی سیٹیں الاٹ کر دی جاتی ہیں، یہ مسئلہ اس وقت بری طرح الجھا دیا گیا جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کو اس بنیاد پر ”بلے“ کا انتخابی نشان الاٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اس نے قوانین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد یقینی نہیں بنایا تھا۔
دنیا بھر میں ریاستی ادارے اور حکومت کے مختلف شعبہ جات عوام کی سہولت اور مدد و معاونت کے لئے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کا ایسا ملک ہے جس میں ریاستی ادارے اور حکومتی شعبہ جات عوام ہی کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ارکان اگر نیک نیت ہوتے تو وہ اے این پی کی طرح پاکستان تحریک انصاف کو بھی قوانین سے انحراف کرنے کی سزا کے طور پر مناسب جرمانہ کر دیتے اور اس مقبول سیاسی جماعت کو ان کے انتخابی نشان بلے سے محروم نہ کرتے۔
اس طرح جمہوری عمل خوش اسلوبی سے آگے چلتا رہتا اور خصوصی سیٹوں کا بحران پیدا نہ ہوتا۔ پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو ”بلے“ کا انتخابی نشان دینے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ اگر یہ آئینی معاملہ ابتدائی مرحلے پر حل کر لیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا لیکن عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو بحال کر دیا اور اس طرح انتخابات سے پہلے پاکستان کی سب سے بڑی اور ہردلعزیز سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف انتخابی نشان بلے سے ہی محروم ہو گئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان انتخابات سے قبل جیل میں تھے لہٰذا وہ مشاورت کے ساتھ سیاسی اور انتخابی فیصلے کرنے سے قاصر تھے۔ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ آئین کی رو سے ناگزیر تھا کہ آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے امیدوار تین روز کے اندر اندر کسی نہ کسی پارلیمانی جماعت میں باضابطہ شمولیت اختیار کرتے۔ عدالتی فیصلے سے انتقامی سیاست کا باب بند ہو گا جبکہ ریاست اور پارلیمانی سیاست کو تقویت ملے گی۔

