انسانی سماج کی تاریخ:  قسط نمبر 1


آج کے انسانی سماج کو جاننے کے لئے سماج کی تاریخ سے واقفیت لازم ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور سماجی علوم کے علماء کی تحقیق نے ثابت کیا ہے۔ زمین پر انسان تقریباً دو لاکھ سالوں سے موجود ہے۔ سماجی علماء نے انسانی سماج کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے

1۔ قدیم اشتراکی عہد :۔

کاربن ڈیٹڈ کے علم سے ثابت ہوا ہے کہ ایک وقت تھا جب انسان خالی ہاتھ تھا۔ اس کا شعور بہت پست تھا۔ یہ جنگلوں میں رہتا تھا۔ درختوں پر بسیرا کرتا تھا۔ درختوں کے پتے اور جنگلی پھل کھا کر گزارا کرتا تھا۔ ہاتھ کی مدد سے جس جانور کو پکڑ سکتا اس کو اپنی خوراک کا حصہ بنا لیتا۔ انسان مکمل طور پر فطرت کے رحم و کرم پر تھا۔ اس نے ڈنڈا اٹھایا، اس کی مدد سے درختوں سے پھل توڑے، مختلف جانوروں کا ڈنڈے سے شکار کیا اور اسی ڈنڈے نے اس کو مختلف جانوروں سے محفوظ بنایا۔

یہ سلسلہ ہزارواں سالوں تک چلتا رہا۔ جب بھی انسان جنگلوں میں اپنی خوراک کے لئے مار مار پھرتا تو جنگلی درندے اس کو اپنا شکار بنا لیتے یا بری طرح زخمی کر دیتے۔ زخموں میں کیڑے پڑ جاتے اور وہ سسک سسک کر دم توڑ دیتا۔ اس نے بار بار درندوں کے حملوں سے مشاہدہ کیا کہ وہ اپنے تیز نوکیلے دانتوں اور نوکیلے ناخنوں سے لمحوں میں ان کے ساتھیوں کو چیر پھاڑ دیتا ہے۔ بار بار کے مشاہدے سے اس نے پتھر اور لکڑی کو رگڑ کر نوکیلا بنا لیا اور ڈنڈے کے آگے لگا کر برچھا یا بھالا بنا لیا۔ جس سے اس کی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا ہو گئی۔ اب وہ برچھے کی مدد سے بڑے بڑے جانوروں کا شکار کرنے کے قابل ہو گیا۔

انسان نے فطرت میں آگ کے مختلف مظاہر کا مشاہدہ کیا۔ جنگل کے جنگل آگ میں جلتے دیکھے۔ پہلے انسان کچا گوشت کھاتا تھا۔ جب جنگلوں میں آگ لگی تو اس کو آگ میں بونے ہوئے گوشت کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا۔ اس نے پتھر کی رگڑ سے آگ جلتی دیکھی، آسمانی بجلی گرنے سے آگ لگتی دیکھی۔ اس نے آگ جلنے کا علم سیکھ لیا اور پھر اس کو محفوظ کرنے کا طریقہ بھی جان گیا۔

یہ سب ایک دم نہیں بلکہ سیکڑوں ہزاروں سالوں میں ہوا۔ جاننے اور سیکھنے کا عمل انتہائی سست روی سے جاری رہا۔ اب انسان نے غاروں میں رہنا شروع کر دیا جو آگ جلانے اور اسے محفوظ رکھنے کے علم سے پہلے ممکن نہ تھا۔ کیونکہ غار درندوں کا ٹھکانا تھا۔ اب وہ آگ سے ڈرتے تھے۔ غار میں آگ جل رہی تھی۔ اب وہ غار میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ انسان نے برچھے یا بھالے کو کمان سے زیادہ دور پھینکنا سیکھ لیا تھا۔ آہستہ آہستہ بھالے نے تیر کی شکل اختیار کر لی۔ جو زیادہ دور اور درست نشانے پر لگتا تھا۔ انسان کی خوراک کا حصول مزید آسان ہو گیا۔ انسان جب شکار کرتا اگر کوئی چھوٹا جانور زخمی ہوتا جیسے بکری وغیرہ تو وہ اس کو غار میں لے آتا۔ کیونکہ جو شکار مر جاتا اس کو وہ زیادہ دیر محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس لئے زندہ جانور غار میں لے آتا۔ بار بار کے عمل سے باضابطہ غلہ بانی کا آغاز ہوا۔ پھر مرد شکار کو جاتے اور خواتین غاروں میں ہی رہتی تھی۔ جنگل سے لائے پھلوں کے بیج غار کے باہر ہی پھینک دیے جاتے تھے۔ جو کچھ وقت کے بعد پودا بن جاتا بار بار کے اس عمل سے غار میں موجود عورت یہ سمجھ گئی۔ کہ یہ پودا بیج سے اگتا ہے اس نے بیج سے پودے اور اناج اگانے کا عمل سیکھ لیا۔ یہاں سے باضابطہ کاشت کاری کا آغاز ہوتا ہے۔ ہزاروں سال یہ عمل ایک ہی انداز سے جاری رہا۔ پھر انسان سمجھ گیا کہ جو بیج وہ زمین پر پھینکتا ہے۔ اس کی بڑی تعداد پرندے کھا جاتے ہیں۔ اس نے زمین کو ہموار کیا۔ بیج کو زمین میں بویا، اس کو سمجھ آئی کہ جب بارش ہوتی ہے۔ تو بیج اتنی جلدی پودے کی شکل میں زمین سے باہر نکل آتا ہے اور زیادہ اناج حاصل ہوتا ہے۔

انسان شکار کی غرض سے میدانی علاقوں میں جاتا رہتا تھا اس نے میدانی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے بیج بونا شروع کر دیا۔ اب فصل تو زیادہ ہوتی تھی۔ لیکن ایک نئے قضیے نے جنم لیا۔ بیج کوئی پھینک کر جاتا اور فصل کاٹ کے کوئی اور لے جاتا۔ لہذا حل پر سوچ بچار ہونے لگی۔ پہاڑوں میں تو انسان غار میں رہتا تھا۔ لیکن میدانی علاقوں میں نہ تو قدرتی غار موجود تھے اور نہ ہی میدان میں غار بنائے جا سکتے تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے انسان کو پرندوں کے گھونسلوں کا مشاہدہ کرنا پڑا۔ وہ کس طرح ایک ایک تنکے سے گھونسلہ تیار کرتے ہیں۔ انسان نے بھی درختوں کی شاخوں اور پتوں سے جھونپڑے بنائے۔ ان کے گرد باڑ لگائے

اگر ہم یہاں تک انسانی سماج کو عمیق گہرائیوں سے دیکھتے ہیں۔ تو اب تک انسان نے میرا، میں جیسے الفاظ نہیں سیکھے تھے۔ وہ جو بھی شکار کرتا، کاشت کرتا یا جو پالتو جانور اس کے پاس تھے۔ جو اوزار جس سے وہ روز مرہ زندگی میں مختلف کام کاج کرتا۔ سب اجتماعی مالکیت میں تھے۔ سماج کی دولت پر سب کی مشترکہ مالکیت تھی۔ انسان، انسان کا غلام نہ تھا۔ ایک کھربوں کا مالک ایک دو وقت کی روٹی سے محروم ایسا نہ تھا۔ سب برابر تھے۔ ایک مشترکہ ملکیت کا سماج، جس کو قدیم اشتراکی عہد بھی کہا جاتا ہے۔ جو تقریباً ڈیڑھ لاکھ سال تک اس زمین پر نافذ العمل رہا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS