قوم کے انہدام کا فسانہ


بحیثیت پاکستانی قوم ہماری شناخت قائم ہوئے لگ بھگ ستتر سال گزر چکے ہیں مگر بد قسمتی سے ان ستتر سالوں میں سے چار عشرے ہم آمریت کی اندھیر نگری میں خوف، لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے مہیب بادلوں کے سائے میں بے سدھ پڑے رہے اور باقی عرصہ جمہوری آدرشوں کا علم تھامے نا انصافی، ظلم اور مساواتی کتاب کا پاٹھ پڑتے ہوئے پر پیچ راستوں پر پیش قدمی کرتے رہے۔

مگر سفر ہنوز جاری است

ہمارا ماضی کسی شہزادی کے سر پر سجے تاج کا کوئی ہیرا نہیں جس کی روشنی سے محل کی عمارت روشن ہوتی ہو بلکہ ہماری تاریخ تو وہ فلم ہے جس میں دیہاڑی دار، سیاستدان اور طلباء کی کرلاتی آوازیں جبر کی عکس بندی کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔

ہماری دو نسلیں امن، محبت اور سکون کے خواب سجائے رخت سفر بنیں مگر بد قسمتی سے عصر حاضر میں نہ تو خواب کا یارا ہے نہ ہی تعبیر کا امکان۔ عجب قحط الرجال آن پڑا ہے۔ ماضی میں جب کبھی سیاسی افق پر تذبذب کی فضا بنتی تو باچا خان، نوابزادہ نصر اللہ خان ، جی ایم سید اور خیر بخش مری جیسی قد آور شخصیات مکالمے کے ذریعے سیاسی درجہء حرارت کو کم کرتیں۔

شاید اس وقت ہماری فہم و دانش کو پیسے اور شہرت کی دیمک نہیں لگی تھی اسی لیے ہمارے پاس انتظار حسین کا ادبی رچاؤ، فیض جیسا نظریاتی ادیب اور غلام عباس کی کہانیاں تھی جنہیں پڑھ کر ہم دل ہلکا کر لیتے تھے۔

اس وقت نظریاتی طور پر مخالف شخصیات کی گفتگو میں بھی سیکھنے کا لطف آتا تھا۔ مولانا مودودی، مولانا کوثر نیازی اور مفتی محمود شائستگی کی مجسم تصویر تھے۔

یہ وہ دور تھا جب اخبار پر کھنچی لائنیں بے وقعت نہیں ہوتی تھیں بلکہ آئی اے رحمن قرطاس پر معنویت کی روشنائی انڈیلتے تھے، لال خان درد کے ترجمان کے طور ہر مظلوم لوگوں کا مقدمہ خوش اسلوبی سے بیان کرتے تھے اور اقبال احمد جیسے دانشور ہماری بے ہنگم قوم کی نظریاتی، سیاسی اور عقلی صف بندی لفظوں کی امامت سے کرتے تھے۔

ہمارے پاس تھیٹر تھا جہاں مزاح پھکڑ پن اور غلاظت سے پاک اور سنجیدگی، کردار سازی سے لبریز تھی۔ اس وقت ہمارے پاس فقط پی ٹی وی کی سکرین تھی جہاں فقط ڈرامے انٹرٹینمٹ کے لیے نہیں بلکہ ہماری اصلاح کے لیے ہوتے تھے۔

بحر، سلاست، ترنم اور لفظوں کی ادائیگی کے لیے ضیاء محی الدین کی صدا کاری، میزبانی کی صورت میں طارق عزیز کی طلسماتی شخصیت اور معین اختر کی فنکارانہ جہیتں ناظرین پر آشکار ہوتی تھی تو وہ سحر انگیز کیفیت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔

ہماری حالت اس حویلی جیسی تھی جس پر اماوس کی رات اپنا آنچل پھیلائے بیٹھی ہو مگر اس وقت ہمارے پاس حویلی کی منڈیر پر بیٹھے کچھ پنچھی تھے جو فکر اور امید کے گیت گاتے تھے۔ ان کو دیکھ کر ہم پھر سے اماوس کی رات کے گزرنے کا انتظار کرنے لگتے تھے۔

مگر پھر ہمارے ساتھ سانحہ ہو گیا۔ وہ پنچھی جو کبھی ہماری ڈھارس بندھانے کے لیے گیت گاتے تھے اب وہ مراجعت کرنے لگے۔ ہماری آس کی ڈوری ٹوٹنے لگی ہے۔ اماوس کی رات اور گہری ہونے لگی۔

آج حالات مختلف ہیں۔

سیاست زبوں حالی کا شکار ہے اور سیاستدانوں نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔

ہماری دانش قلیل خمری اور اوریا مقبول جان جیسے بالشتیوں کے ہاتھوں یرغمال ہو گئی ہے۔ ہمارا مکالمہ ساحلِ طاغوت پر لنگر انداز ہو گیا اور ہماری شاعری چند پاپوش برداروں کے ہاتھوں رسوا ہو رہی ہے۔

سیاست اور مکالمے سے نفرت کرنے سے ہم نے ہر شے کی تعریف بدل دی۔ ہماری ہاں صحافی درباری راگ کی وجہ سے وظیفہ خوار بن گیا، سیاستدان کے گلے میں بد عنوان کا طوق آیا اور منصف انصاف کی بجائے "بندوقچیوں” کے دربان بن گئے۔

جب اس معصوم قوم نے منبر و محراب کی طرف رجوع کیا تو ملاؤں نے رہنمائی کی بجائے نفرت کی گردان رٹوائی۔ اور آخر کار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آرٹ سے روگردانی نے ہمارے اندر کے انسان کو مار دیا اور اب ہم گوشت پوست کی وہ مورتیں ہیں جن پر بحیثیت قوم ہمارا انہدام کا فسانہ کنندہ ہے۔

Facebook Comments HS