سوال کی توقیر
جس دور میں ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں یہ دور بہت مشکل، جدید ترین آلات سے لیس اور الجھاؤ سے بھرپور دور ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی controversies راتوں رات پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور بہت سے تنازعات سوشل میڈیا کے ذریعے 24 کروڑ عوام کو ایک ہیجان میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس قدر بڑے ہیجان میں کہ بعض اوقات کنٹرولنگ اداروں کو سوشل میڈیا ویب سائٹس بند کرنا پڑ جاتی ہیں۔ کہ یہ سوشل میڈیائی تنازع کہیں کسی بڑے فتنے یا فساد کا پیش خیمہ ثابت نا ہو۔
ہمارے یہاں معلومات کی بھرمار اور آسان رسائی کی وجہ سے کچھ مسائل نے جنم لیا ہے۔ مثلاً کیسے مسائل؟
پہلا یہ کہ معلومات یا خبر ہر شخص تک پہنچتی ہے مگر اس کو لے کر تجزیہ یا تحقیق کا مادہ لوگوں میں نا ہونے کے برابر ہے نا ہی اکثریت کا اتنا ذہنی لیول ہوتا ہے کہ وہ اس کا انجذاب کر سکیں۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ ہم لوگ فوری طور پر رد عمل دینا react کرنا شروع کر دیتے ہیں
تیسرا یہ کہ پاکستان میں بالعموم نوجوانوں اور بالخصوص پوری قوم کو جواب دینے یا لکھنے و بولنے کے لیے الفاظ کے چناؤ کا پتا نہیں۔
اب آ جاتے ہیں سوال کی توقیر کی طرف!
دنیا میں جس قدر سائنسی، ابلاغی، مواصلاتی یا کمپیوٹر کے میدان میں ترقی ہوئی ہے وہ ساری کی ساری سوالات کی مرہون منت ہے۔
•بیماریوں پر کیسے قابو پایا جائے؟
• کیا ہم اڑ سکتے ہیں؟
• آسمان کیا ہے؟
• سیارے کیا ہیں اور کیوں ہیں؟
•کھانے کو کیوں کر دیر تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟
• عالمی نظام اوقات کیا ہے؟
• زمین اگر گھومتی ہے تو گھومتی کیوں ہے؟
• کیا خدا کا وجود ہے؟ ہے تو کس شکل میں؟
وغیرہ وغیرہ
اب آ جاتے ہیں آج کے دور میں پاکستان کے نوجوانوں کی اس استعداد کے متعلق کہ سوال کیا ہے؟
سوال کیسے کیا جائے؟
سوال کیوں کیا جائے؟
سوال کہاں کیا جائے؟
اور سوال کس لیے کیا جائے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ سوال کر لینے کے بعد ہمیں جواب سننے کی نا تمیز ہے اور نا ہی ہم میں صلاحیت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ سوال کسی علمی، معلوماتی، وقتی یا نفسیاتی تشفی کے لیے کیا جاتا ہے۔ وہ تشفی ہونے سے قبل ہم جواب سننا بند کر دیتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ سوال کر لینے کے بعد ہم اپنی مرضی کا جواب سننا چاہتے ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ سماج سے ہوتا ہوا مقتدر حلقوں اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں تک جا پہنچا ہے۔
اور چوتھی بات یہ ہے کہ ہمارا سوال کرنے کا مقصد کسی علمی نکتے کی وضاحت کی بجائے شرارت کرنا یا مخصوص طبقے یا فرد کو ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔
آپ خاص طور پر ٹی وی پروگرامز کی مثال لیجیے۔ وہ پروگرام چاہے سیاسی ہو، مذہبی ہو یا علمی۔
ہر پروگرام میں ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جو چینل کے ایجنڈے کے مطابق ہوں نا کہ انفرادی علم کے مطابق سوال ہوتے ہیں۔ اور ان کے جوابات بھی پہلے سے رٹے رٹائے گھڑے گھڑائے موجود ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ نوجوان نسل تند مزاج، جذباتی اور طنزیہ سوال کرنا اور سوال کر کے اینکر کی طرف داد طلب اور حاضرین کی جانب سے تالی طلب نظروں سے دیکھنا فرض سمجھتی ہے۔
جیسے حال ہی میں ایک پروگرام میں ساحل عدیم اور خلیل الرحمٰن قمر کو پروگرام میں بٹھا کر یہ کیا گیا۔ اس سے قبل اسلام آباد کے ایک پروگرام میں سیاسی قائدین کو بلا کر طلبہ نے کچھ حدود سے متجاوز سوالات کیے۔ جو کہ ذاتیات پر مبنی تھے۔
تو پھر کیا سوال کیا ہی نا جائے؟
نہیں ایسا نہیں ہے!
» سوال کیا جائے کہ اس سے بہت سی معلومات اور کچھ علم حاصل کیا جا سکے
» سوال کیا جائے کہ بعضے ایسے سامعین کا بھی فائدہ ہو جو خود پوچھنے کا حوصلہ یا وسیلہ نہیں رکھتے
» سوال کیا جائے کہ جس سے مسائل کا حل طلب کیا جا سکے
» سوال کیا جائے کہ اس کے جواب میں مزید سوالات تلاش کر کے سبجیکٹ کو وسیع کیا جائے
» سوال کیا جائے اس کی تلاش کے دوران آپ کی ذہنی قابلیت اور مطالعہ کی صلاحیت میں مقدور بھر اضافہ ہو۔
تحمل احترام اور علمی حوالے کو معیار سمجھ لیا جائے تو اسلام آباد نشر ہونے والا ڈیجیٹل پروگرام ”بلیک ہول“ ایک ایسا مکالماتی پروگرام ہے کہ جس میں کوئی ہیجان، طوفانِ بدتمیزی موجود نا ہے اور ذاتیات سے بالا تر ہو کر خالص علمی یا موضوعاتی دائرے میں رہ کر سوالات کیے جاتے ہیں۔
آج پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے یہ لازمی امر ہے کہ ہمارے نوجوان جو کہ کل آبادی کا چونسٹھ فی صد ہیں وہ سوال کریں اور ان کے سوال کرنے کو سراہا جائے۔ نوجوان بھی سوال کسی اعلیٰ مقصد کے لیے اپنی اعلیٰ ترین تہذیبی اقدار کو سامنے رکھ کر کریں۔


