ایاز مورس: فرد سے شخصیت تک کا سفر
کامیابی بظاہر ہر انسان کو پسند ہے اور اس دُنیا میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، لیکن اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لیے کسی انسان کو کن کن مشکلات، مصیبتوں، حالات اور چیلنجز سے لڑنا پڑتا ہے یہ بہت کم لوگ عملی طور پر کر پاتے ہیں۔
جو شخص ان مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرتا اور مشکلات کے سامنے کھڑا رہتا ہے اور اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتا ہے، کامیابی ایک دن اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
آج میں اپنے دوستوں کے لیے ایک ایسی ہی موٹیویشن اور انسپائرنگ سٹوری شیئر کرنے لگا ہوں، جو میری زندگی میں کسی رول ماڈل سے کم نہیں ہے، جس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ وہ نہ صرف میرے بڑے بھائی ہیں، بلک ایک اچھے دوست، استاد اور ان سب سے بھی بڑھ کر ایک بہترین انسان ہیں۔ میں بات کر رہا ہوں ایاز مورس کی۔
جو اس دور حاضر میں اپنا ایک منفرد مقام اور عمدہ شناخت رکھتے ہیں۔ اُن کا شمار پاکستان کے نامور ٹرینرمیں ہو تا ہے۔
جنہوں بچپن ہی سے مشکل حالات، جسمانی بیماری، مالی حالات اور فیملی سپورٹ نہ ہونے کے باوجود چیلنجز کا بخوبی سامنا کیا اور اپنے مقصد میں ڈٹے رہے۔
وہ ہمیشہ اپنی زندگی اور خاندان میں روایتی سوچ سے نکل کر کچھ بڑا کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن، ہمت، اور استقامت سے اپنے مقصد کو حاصل کیا ہے۔
ان کی زندگی کی کہانی بڑی دلچسپ اور منفرد ہے۔ جنہوں نے گراس روٹ لیول سے نکل کر پاکستان کی ٹریننگ اینڈ کنسلٹنسی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ اب جناب ایاز مورس کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ وہ معروف موٹیویشنل سپیکر، ٹرینر، رائٹر اور میڈیا پرسن بن چکے ہیں۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں ان کی اس کامیابی کے پیچھے ان کی انتھک محنت، مسلسل جدوجہد، اور مستقل مزاجی نمایاں ہے۔
ایاز مورس پانچ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں لوریتو چک نمبر 270 ٹی ڈی اے لیہ سے حاصل کی۔ 2002 میں فیملی کے کراچی شفٹ ہونے پر خاندان کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو جاری رکھنا ان کے لئے بڑا مشکل امر تھا، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے سکول کی ہفتے اور اتوار کو چھٹی کے دن، محنت و مزدوری کرنے کے لیے جاتے تاکہ اپنے تعلیمی اخراجات کو خود برداشت کر سکیں۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ان کا مزید آگے پڑھنا اور تعلیم کو جاری رکھنا بہت مشکل تھا کیونکہ خاندان مالی طور پر تعلیمی اخراجات کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور گورنمنٹ کالج کورنگی ڈھائی میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا جہاں وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ دکان چلاتے تھے، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کچھ نیا اور بڑا کر دکھانے کی جستجو رکھتے تھے۔
سب سے بڑی مشکل ان کی زندگی میں اُس وقت آئی جب انہوں نے اپنی مرضی سے اپنے پروفیشن کا انتخاب کیا اور 10 سال ایک ادارے کے ساتھ منسلک رہے۔ جب انہوں نے اس جاب کو چھوڑا تو یہ ان کی زندگی میں ایک بہت بڑا فیصلہ تھا، جہاں خاندان کی سپورٹ بھی نہ تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور یہ ٹھان لیا کہ میں نے اب جاب نہیں کرنی بلکہ اپنے خوابوں کو سچ کر دکھانے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ جس کے لئے انہوں نے انتھک محنت کی۔ اور آج کے اس دور میں نوجوانوں کے لئے ایک مثال قائم کی کہ جب آپ کے ارادے پختہ ہوں تو منزل کتنی ہی دشوار کیوں نہ ہو، انسان اُسے حاصل کر سکتا ہے۔
بابا نجمی کا شعر یاد آ گیا ہے۔
بے ہمتے نے جیٹرے بھے کے شکوہ کرن مقداراں دا
عام طور پر لوگوں کو زندگی بھر لگ جاتی ہے، اپنی منفرد پہچان اور اپنے کام کو متعارف کروانے میں، لیکن ایاز مورس اس لحاظ سے بڑے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنے کام اور نام کی وجہ سے منفرد پہچان ملی ہے۔ انہوں نے اس پہچان کو اس کم عمری میں بھی اپنے سر پر سوار ہونے نہیں دیا بلکہ انتہائی عاجزی اور سادگی کے ساتھ اپنے کام اور مشن کو جاری رکھا ہے۔ ایاز مورس جس مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ وہ عالمی سطح پر اپنے خاندان، کمیونٹی اور ملک کا نام روشن کرنے کے لیے ایک بہترین حوالہ بن چکے ہیں۔ ایاز مورس نے جس مقام جس جگہ، جس سوچ اور پس منظر سے نکلے ہیں وہاں سے یہاں تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
ان کی کامیابی نئی نسل کے لیے ایک موٹیویشن ہے۔ کہ اگر آپ زندگی میں اپنی پہچان اور منفرد مقام بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ کس رنگ، نسل، مذہب یا، جگہ سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ آپ کا مقصد، قابلیت، فوکس اور مستقل مزاجی ہی آپ کی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔


