صحنِ نبوی میں لگژری گاڑیوں کا قافلہ


آج کل سوشل میڈیا پر ایک تصویر زیر گردش ہے، جس میں واضح دکھائی دے رہا ہے کہ کچھ لگژری گاڑیاں صحن نبوی میں داخل ہو رہی ہیں۔ پروٹوکول کے حساب سے ایسا لگتا ہے کہ کسی خاص مہمان کے لیے یہ سارا بندوبست کیا گیا ہے یا ممکن ہے رائل فیملی کے اعزاز میں ایسا کیا گیا ہو۔

اس مقدس دھرتی کے وارثین کے لیے تو یہ معمول کی بات ہوگی اور وی آئی پی موومنٹ میں کچھ مستثنیات بھی ہوا کرتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں کے مذہبی علماء کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ہمارے واعظین نے سعودی حکام کی اس حرکت پر ان کے خوب لتے لیے اور ان کو بتانے کی کوشش کی کہ یہ مقدس جگہ ہے اور ایسی جگہوں پر گاڑیوں کو داخل کرنا تقدس و حرمت کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء نے خوب مذمت کی اور انجینیئر محمد علی مرزا نے تو احادیث مبارکہ تک کے حوالے دے ڈالے تاکہ کسی طرح سے سعودی حکام سنبھل جائیں۔

ویسے کچھ عجیب سا نہیں لگتا کہ ہم ایسے عجمی جن کی مادری زبان بھی عربی نہیں ہے اہل زبان کو احادیث مبارکہ اور قرآن مجید کے ریفرنسز دے رہے ہوں اور انہیں یہ باور کروانا چاہ رہے ہوں کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ شرعی اصولوں کے عین مطابق نہیں ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس سرزمین پر اسلام کا جنم ہوا وہاں کے متعلقین اتنے بے خبر کیسے ہو سکتے ہیں؟

وہ فرمان نبوی ﷺ، احادیث مبارکہ یا قرآن کریم کی ان آیات سے لاعلم اور بے بہرہ کیسے ہو سکتے ہیں جس میں حرمت نبوی اور کعبہ کے احکام موجود ہیں؟

طاقت اور طاقتور کا سکہ تو ہر جگہ پر چلتا ہے، مائٹ از رائٹ کا اصول تو ازل سے چل رہا ہے اسی لیے تو خانہ کعبہ کا دروازہ ہر ایک کے لیے نہیں کھلتا صرف طاقتوروں کے لیے کھلتا ہے۔ کمزور و بے بس اور مفلس تو ڈھنگ سے عبادت کا لطف بھی نہیں اٹھا سکتے احتجاج، تبلیغ و تلقین تو بہت دور کی بات ہے۔ جذباتیت ایک طرح سے سطحی سا جذبہ ہوتا ہے جس کی آج کی دنیا میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، اسی لیے تو اس قسم کی پروڈکٹ پسماندہ اور غریب ممالک میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ایسی قومیں توہمات، جذباتیت اور اساطیری پہیلیوں میں غلطاں و پیچاں رہتی ہیں اور وہاں کے اہل دانش اپنے اپنے ہجوم یا عقیدت مند حلقے کو بے بنیاد اور عجیب و غریب مخمصوں میں الجھائے رکھتے ہیں جن کا حقائق سے دور دور تک کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

اس لیے ہمارا آج کی دنیا میں کوئی مقام نہیں ہے، ہمارے بڑوں نے ہمیں جذباتی ایندھن میں تبدیل کر دیا ہے جو اندھی عقیدت میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

ہم ایسے مہا عقیدت مندوں کو تو ایسی ایسی جگہوں پر مقدس شبیہیں دکھائی دینے لگتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور بندہ بے اختیار کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے، ” واہ کیا عالی دماغ پایا ہے“۔

ٹماٹر، کدو، آسمان اور مختلف جانوروں کے جسم کے حصوں پر مقدس نام دکھنے لگتے ہیں۔ حیرت ہے دنیا سچ اور حقیقت کو تجرباتی لیبارٹریز میں دوربین، خورد بین یا مختلف آلات کے نیچے رکھ کر میکرو یا مائیکرو لیول پر مشاہدہ کرنے کی کوششوں میں مگن ہے اور آئے روز نت نئے حقائق ان کی گرفت میں آرہے ہیں۔ جب کہ ہمیں ہمارے بڑوں نے عقیدت و عقیدہ اور تقدیس کی بھول بھلیوں میں الجھایا ہوا ہے۔

ہمیں اس تقدسی بندوبست سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، بس گزارش اتنی سی ہے کہ اس کا اطلاق انسانوں پر زبردستی نہیں ہونا چاہیے، خیالات اور رائے کے تنوع کا احترام ہونا چاہیے۔

عقیدت کے سائے تلے تحقیق و جستجو تو ممکن نہیں ہوتی البتہ گلہائے عقیدت کا تناسب ضرور بڑھ جاتا ہے، یعنی عقل عقیدے کے دامن میں ابدی پناہ ڈھونڈ لیتی ہے اور ایک طرح سے مطیع و تابع ہو جاتی ہے۔ مسلم ممالک خاص طور پر سعودی عرب جہاں خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ واقع ہے اور روحانی انوار و تجلیات کا مرکز ہے وہ بھی لمحہ موجود کے عین مطابق خود کو تبدیل کرنے کی طرف گامزن ہیں اور رسم و تکلفات سے نکل کر ٹھوس حقائق، انفرادیت اور تنوع کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے اہل جبہ و دستار ہمیں جذباتیت میں الجھائے ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS

9 thoughts on “صحنِ نبوی میں لگژری گاڑیوں کا قافلہ

  • 15/07/2024 at 9:00 شام
    Permalink

    پہلی بات تو یہ جگہ مسجد کے باہر ہے اندر نہیں۔ کیا فیصل مسجد یا بادشاہی مسجد کی پارکنگ دیوار سے کلومیٹر دور ہیں۔
    مختلف احادیث موجود ہیں جن کی رو سے اونٹ پر سواری کرتے ہوئے کعبہ کا طواف کیا گیا۔ تو۔۔۔۔
    اسی طرح اس زمانے میں مسافر یا مقامی اپنے گھوڑوں اونٹوں سانڈ یا خچر پر جب آتے تو وہاں باندھتے جو اب ریاض الجنہ سے چند میٹر پر ہوگی ۔

    • 16/07/2024 at 4:39 شام
      Permalink

      اور ان جانوروں کے پیچھے کوئی تھیلے نہیں لگے ہوتے تھے۔ وہاں حرم کعبہ کے اسی مطاف میں بعض اوقات بول و براز سے فارغ ہوجاتے تھے۔ جنہیں لوگ صاف کرلیتے تھے اور بس۔
      آج کل کعبہ میں ہوور بورڈ، الیکٹرک اسکوٹر اور الیکٹرک وہیل چیئر بھی استعمال ہوتی ہیں جن کے ذرہعے بیمار زائر طواف کرسکتا ہے۔ ہمارے یہاں سپاہی یا پولیس والا جوتے پہن کت مسجد میں چلا جائے تو لوگ قتل کردیں وہاں شرطہ خانہ کعبہ کی دیوار سے جوتا ٹکائے سوٹا ماررہا ہوتا ہے۔ وہ کتنے بدتہذیب یا گناہ گار ہوں انسانی جان کے سامنے کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتے۔

    • 18/07/2024 at 12:32 صبح
      Permalink

      ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی کو محض اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ مسجد میں جوتا پہن کر چلا گیا اور ویسے بھی جس کو وہ سوٹا مار رہے ہوتے ہیں (آپ کے بقول) وہ انسانی جان تھوڑی ہے جس کو وہ اہمیت دیں

    • 28/07/2024 at 2:53 شام
      Permalink

      سوٹا کا مطلب یہاں سگریٹ پینا ہے۔ اور جس کسی کو وہ کوڑے ماررہے ہوتے ہیں وہ لوگ بہرکیف گناہ گار ہوتے ہیں اور یہ سزا قاضی کے فیصلے کے بعد ہی دی جاتی ہے۔ سڑک پر کھڑے ہجوم یا مولوی کے محض الزام پر نہیں۔

    • 18/07/2024 at 12:20 صبح
      Permalink

      جو سواریاں ریاض الجنہ سے چند میٹر دوری پر آپ بتا رہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ جگہ اس وقت مسجد کا حصہ نہ ہو۔ یزیدی لشکر مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے تو طعن و تشنیع کا باعث بنے اور یہ جو مرضی کریں

    • 28/07/2024 at 2:55 شام
      Permalink

      وہ مثال میں نے اس لئے نہیں دی کیوں کہ وہ غلط کام آج کے کسی غلط کام کو جائز نہیں قرار دے سکتا۔
      مزید یہ کہ وہ مشہور زمانہ واقعہ یزید بن معاویہ کے دور کا نہیں ہے۔

    • 28/07/2024 at 2:59 شام
      Permalink

      لوگوں کو اس لئے گمان ہوتا ہے کہ گاڑیاں مسجد کے صحن میں ہیں کیوں کہ وہاں کی سڑک یا جگہ ٹائل یا سنگ مرمر سے مزین ہے۔ یہ ؐضبوط ٹائلیں اس لئے لگائی گئی تھیں کیوں کہ انتہائی رش کے دنوں میں یہاں بھی لوگ بہ آسانی صف بناکر نماز پڑھ سکیں۔

  • 15/07/2024 at 10:07 شام
    Permalink

    آپ نے لکھا:

     مائٹ از رائٹ کا اصول تو ازل سے چل رہا ہے اسی لیے تو خانہ کعبہ کا دروازہ ہر ایک کے لیے نہیں کھلتا صرف طاقتوروں کے لیے کھلتا ہے۔ کمزور و بے بس اور مفلس تو ڈھنگ سے عبادت کا لطف بھی نہیں اٹھا سکتے

    خانہ کعبہ کے حوالے سے اتفاق کی بات ہے کہ یہ بات ٹھیک بھی ہے اور نہیں بھی۔

    نبی کریم ﷺ کو نبوت ملنے سے چند سال پہلے تک کعبہ میں دو دروازے تھے۔ اور دونوں زمین کی سطح کے برابر۔ ایک سے لوگ داخل ہوتے اندر رکھے بت کو سلام کرتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے۔

    اس دوران کعبہ کی دیواریں بری طرح سے ٹوٹ بھوٹ کا شکار تھیں تو کفار مکہ نے اس کو زمین بوس کرکے اسکی دوبارہ تعمیر کی۔ اصل کمرہ کو نیچے رکھتے ہوئے اوپری منزل بنائی جہاں تک پہنچنے کے لئے ایک ہی دروازہ تھا۔ دوسرا ختم کردیا گیا۔ اور اس دروازے میں داخل ہونے کے لئے اب کعبہ کے متولی کا اختیار تھا کہ کون اندر جائے گا اور کون نہیں۔ اور یہی مائٹ از رائٹ کا اصول بیس سال بعد فتح مکہ کے بعد بھی لاگو رہا۔

    آج کے دور میں خود میں بھی اس بات کا قائل نہیں کہ تمام لوگوں کو کعبہ میں آنے کی اجازت دی جائے کیونکہ اسکا اسٹرکچر اتنا مضبوط نہیں کہ ایک کڑوڑ لوگوں کو سال بھر میں اس میں آنے کی اجازت دے۔ وگرنہ کعبہ جی ٹی روڈ بن جائے گا جس کی ہر وقت مینٹی نینس ہوتی نظر آئے گی۔

    ہر سال۔۔۔ دو مرتبہ تمام اسلامی ممالک کے سفارت خانوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے چند لوگ کعبے کے غسل کے وقت بھیج دیں اس میں امیر غریب کی کوئی تخصیص نہیں۔ اسی طرح دوسرے ممالک سے جو وفود آتے ہیں انہیں بھی اندر جانے کا موقع ملتا ہے جب کہ بعض اوقات وہاں موجود عام لوگوں کو بھی سال میں دو چار بار اندر جانے کا موقع دیا جاتا ہے۔

    یاد رہے کعبہ کے اندر جانا کسی بھی اسلامی عبادت کا حصہ نہیں ہے نا حج اور نا عمرہ۔ اس لئے کسی شکوہ شکایت کی ضرورت نہیں ویسے بھی اگر یہ اللہ کا گھر ہے اور ہم مانتے ہیں تو یہ اسی کا اختیار ہے وہ کسے اس میں اندر آنے کی دعوت دیتا ہے اور کس کو نہیں۔

    کیا ہمارے پاکستان میں آج داتا صاحب یا بابا فرید کی قبر پر ہر کس و ناکس ہر وقت پہنچ سکتا ہے؟ مائٹ از رائٹ یہاں آتا ہے۔

    • 16/07/2024 at 1:36 صبح
      Permalink

      آپ نے کہا کہ ہر کوئی کعبہ میں نہیں جاسکتا۔ کسی حد تک درست۔ اب ایک واقعہ۔
      2002 میں حج کے دوران میں پاکستان ایمبسی کے کارواں کے ساتھ بحیثیت امام یا معلم منی میں ایک رات خیمے میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم چھ مرد تھے۔

      ایک سفارت خانے میں تیسرے نمبر کا عہدیدار۔
      ایک پلے بوائے ٹائپ کا شخص جو صرف اس لئے حج میں ساتھ تھا کیوں کہ ان کی بیگم نے حج کرنا تھا اور وہ ایمبسی کے اسکول کی ہیڈ تھیں۔
      تیسرے صاحب خاکی فوج کے کپتان تھے۔
      چوتھے میرے والد صاحب اور چھٹا ایمبسی کے کسی فرد کا رشتے دار جو ریاض میں کسی اچھی پوزیشن پر تھا۔

      رات کے بارہ ایک بج رہے ہونگے تو چھٹے شخص نے پوچھا کہ رضی صاحب کعبہ کے اندر کیا ہے ؟ باقی لوگوں نے بھی اصرار کیا۔

      جناب میں نے ایک شاندار فی البدیہہ بھاشن دے دیا۔ دور ابراہیم علیہ سلام سے متعدد مرتبہ کعبہ کا تباہ ہونا اس میں جدید تعمیرات کا شامل ہونا۔ اور آج ممکنہ طور پر وہاں کیا حالات ہونگے۔ ساتھ بتادیا کہ نہ میں اندر گیا ہوں نہ کوئی تصویر دیکھی ہے۔

      دل چسپ بات اس کے بعد ہوئی۔

      ایمبسی میں تین نمبر کے شخص نے بتایا وہ دو سال پہلے اندر جاکر غسل کعبہ میں شامل رہا ہے۔
      پلے بوائے نے بتایا کہ وہ لندن میں پڑھتا تھا۔ نماز تک نہیں آتی تھی۔ پاکستان واپس آرہا تھا کوئی براہ راست فلائٹ نہیں ملی تو ٹریول ایجنٹ نے براستہ جدہ کراچی کی فلائٹ بل کروادی۔ یہ سن 80 کے آس پاس کی بات ہوگی۔
      جدہ پہنچ کر پتہ چلا 24 گھنٹے کا ہوتل اسٹے بھی ساتھ ہے۔ یار لوگوں نے کہا کہ چلو عمرہ کرآتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ کیا ہوتا ہے ؟ کہتے ہیں کوئی شوق نہیں تھا کسی نے میری دکھتی رگ پر یہ کہہ کر ہاتھ رکھا کہ دنیا بھر کی سیر کرتے ہو، اسے بھی سیر سپاٹا سمجھ کر گھوم آئو۔

      کسی نے احرام ادھار پر دیا اور میقات جاکر نماز غسل کروایا اور میں خانہ کعبہ میں تھا۔ بقول ان کے رش نہیں تھا اور میں غور سے ہر چیز کا معائنہ کررہا تھا خاص حجر اسود کا کہ یکایک ہٹو بچو کا شور مچا اور ایک ریلا آیا جس میں بہہ گیا۔ کہتے ہیں جب سنبھلا تو پتہ چلا میں کعبہ کے اندر کھڑا ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا۔
      میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔

      اتنے میں کعبہ میں موجود مطوع اور شرطہ چیخے یہ کون ہے اور یہاں کیسے آگیا۔
      کہنے لگے۔ میں ان سے دوگنی آواز میں انگریزی میں چیخا : یہ میرے اللہ کا گھر ہے اس نے مجھے یہاں بلایا ہے تم کون ہوتے ہو مجھے یہاں سے نکالنے والے۔

      وہ سب چپ ہوگئے۔ کہنے لگے یار لیکن سب سے مشکل مسئلہ یہ تھا کہ مجھے یہی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں یہاں کروں کیا کہ مجھے تو نماز بھی ٹھیک سے نہیں آتی تھی۔
      کہنے لگے مجھے آئیڈیا آیا اور میں ایک کونے میں جاکر سیدھا سجدے میں چلا گیا۔

      تیسرے والد صاحب کہتے ہیں۔ ہاں تم نے قدرے تھیک کہا۔۔ ساتھ کچھ مزید اضافہ کردیا۔ میں نے انہیں غور سے دیکھا اور پوچھا آپ نے پڑھا ہے یا کسی نے بتایا تو کہنے لگے میں بھی اندر جاچکا ہوں۔ میرا سر چکراگیا کہ میرے اپنے والدصاحب اندر گئے اور مجھے علم نہیں۔ بہت کریدا تو کہنے لگے دو ڈھائی سال پہلے جب آیا تو ایک دن فجر سے پہلے ہی مسجد میں آگیا تھا۔ وہاں خالی جگہ میں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے بہت پوچھا تو مضبوطی سے ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں چڑھاتا کعبہ کے اندر پہنچادیا اور بولا کسی سے مت کہنا۔ اور میں نے اس کی بات کا آج تک پاس رکھا تھا۔

      چوتھا کپتان کہنے لگا میں بھی دو سال پہلے اندر جاچکا ہوں۔ مشرف کے اے ڈی سی کی حیثیت سے۔

      اور اب دو ہی بچے تھے۔ ایک جس نے سوال کیا تھا اور دوسرا جس نے قابلیت جھاڑی تھی !

Comments are closed.