ڈسٹوپین سسٹم کی جانب بڑھتی ہوئی دنیا


دنیا میں ڈسٹوپین ریاست کا کلچر عام ہوتا جا رہا ہے، ایک وہ ریاست جس کی جارج آرویل نے اپنے ناول ”1984“ میں منظر کشی کی تھی دنیا میں ہر جگہ اب وہ حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ ناول میں ایک ایسی ریاست کو بیان کیا گیا ہے جہاں اس کے شہری کو اتنی سنسرشپ کا سامنا ہوتا تھا کہ اسے اپنے خیالات کو بیان کرنے کے لئے کوڈ ورڈنگ استعمال کرنے پر بھی پابندی کا سامنا تھا۔ ناول میں ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا گیا جہاں ون پارٹی سسٹم ہوتا تھا اور کوئی بھی شخص پارٹی پالیسی کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا، یہ وہ ریاست تھی جہاں لوگوں کی نگرانی کے لئے ان کے گھروں میں کیمرے لگائے جاتے تھے، ان کی آواز ریکارڈز کی جاتی تھیں ان کے چہرے کے تصورات کا جائزہ لیا جاتا تھا کہ کہیں ان کے ذہنوں میں بغاوت تو نہیں پنپ رہی۔

یہ وہ ریاست تھی جہاں ایک لفظ کا دوسرا اور تیسرا مطلب ختم کر دیا گیا تھا اور بس وہی مطلب، سوچ اور نظریہ لوگوں کو دیے جاتے جو ریاستی پالیسی کے مطابق ہوں، جہاں تاریخ کو مسخ کر کے حکمران پارٹی اپنے مطلب کی تاریخ بناتی اور پڑھاتی تھی، جہاں ہر جھوٹ کو اس طریقے سے دکھایا جاتا کہ وہ سچ لگنے لگے۔ جو لوگ ریاستی سوچ کو سپورٹ کرتے ان کو مراعات سے نوازا جاتا، وہ اپنی زندگی بڑے بڑے محلات میں گزارتے، ملک کا نظام چلاتے جبکہ جو لوگ ریاستی سوچ کے خلاف جاتے ان پر تشدد کیا جاتا، ٹارچر کیا جاتا محض ان کی سوچ کو قید کر لیا جاتا۔

اگر ہم آج کی دنیا کو دیکھیں تو ہمیں ریاستوں میں ایسے کلچر عام ہوتے نظر آتے ہیں جہاں لوگوں کی آزادی قید کر دی گئی ہو، جہاں سوچ پر تالے اور سوال اٹھانا جرم تصور کیا جاتا ہو، جہاں بظاہر آزادی سے چلتے پھرتے لوگوں کی سوچ محکوم ہو اور ریاستی پالیسی کی غلام ہو۔

حال ہی میں پاکستان میں بھی حکومت نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے اس ناول کی یاد تازہ کردی ہے۔ کچھ روز پہلے وفاقی حکومت کی طرف سے ایک نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے جس کے مطابق اب حکومت نے اتھارٹیز کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ عام شہریوں کی فون کال ریکارڈز کریں اور ان کی گفتگو اور نقل و حرکت کی نگرانی کریں۔ بظاہر تو یہ حیرانی والی بات اس لئے نہیں کہ یہ وقتاً فوقتاً ہمیں ایسی خبریں سننے کو مل ہی جاتی ہیں جس سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نقطہ نظر مزید مضبوط ہوتا ہے۔

لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ایسا کرنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کی خلاف ورزی نہیں جو شہریوں کو پروٹیکشن اور لبرٹی دینے کا حکم دیتا ہے؟ کیا یہ اقدام آرٹیکل 14 اور 19 کی خلاف ورزی بھی نہیں جو لوگوں کی پرائیویسی کا احترام کرنے اور آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے؟ اگر یہ خلاف ورزی ہے تو کیوں حکومت ہمارے ووٹ سے پارلیمنٹ میں آ کر ہمارے لئے قانون سازی کرنے کے بجائے ہمارے خلاف ہی قانون سازی کر رہی ہے؟ جب سیاستدان ہی آئین کی خلاف ورزیوں کی راہ ہموار کریں گے تو کل یہی ٹول آج کے حکمرانوں کے خلاف بھی استعمال ہو گا لیکن افسوس ہے کہ حکومت جمہوری آزادی کو تقویت دینے کے بجائے آئین کی خلاف ورزیاں فرض سمجھ کر کر رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امن و امان کے قیام کے لئے لیا گیا ہے لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں فون ٹیپنگ کر کے لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے؟ حیرت کی بات ہے کہ جو سیاستدان کل اسی آڈیو لیک کا شکار ہو کر بلیک میل ہوئے وہی آج اس قانون کو سپورٹ کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کو ہر مسئلے کا حل لوگوں کی آزادی کو دبانے میں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ہی نظر آتا ہے تو یہ بھاری تنخواہیں اور مراعات لیتے ہوئے بیوروکریٹ اور حکومتی نمائندے کیا صرف عیاشی کے لئے اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں؟

جب عمران خان کی حکومت تھی تب وہ چائنہ اور شمالی کوریا جیسے پولیٹیکل ماڈل اپنانے کی بات کیا کرتے تھے جہاں ون پارٹی حکمرانی ہے، جہاں سوشل میڈیا پر پابندی سمیت سننے اور بولنے کی بنیادی آزادی سے بھی عوام کو محروم رکھا گیا۔ آج کی اتحادی حکومت کی سوچ بھی اس سے کوئی مختلف نہیں ہے، حکومتی وزرا کالے قوانین پر بے تکے لاجک دینے میں مصروف ہے۔ جب حکومت کی ٹوٹل سوچ ہی یہاں تک ختم ہو جائے گی کہ کس طرح لوگوں کو سیاسی شعور دینے سے روکنا ہے، کیسے لوگوں کی سوچ کو اتنا محدود کر دینا ہے کہ وہ کچھ بھی الگ نہ سوچ سکے تو ملک کی ڈائریکشن کیا ہوگی اس کا اندازہ آپ خود ہی لگا سکتے ہیں۔ پیکا قوانین کی منظوری ہو، پنجاب حکومت کا ہتک عزت کا بل ہو یا یہ موجودہ قانون سازی سب میں ہی اتھاریٹیرین کلچر کی بو آتی ہے۔ ملکی سالمیت کے نام پر لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کا ٹرینڈ اب پوری دنیا میں زور پکڑتا جا رہا ہے جو کہ آنے والے وقت کے لئے باعث تشویش ہے۔

Facebook Comments HS