علامہ اقبال کا پورٹریٹ


گھر کے سامان سے لدا ہوا ٹرک ایک قدرے خاموش گلی میں آ کر رکا۔ ہم مزدوروں کے شانہ بشانہ سامان چار منزلہ عمارت میں واقع ایک فلیٹ میں منتقل کرنے لگے۔ میرے ماموں نے کچھ عرصہ قبل اس شہر میں نیا کلینک شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی فیملی کو بھی وہاں شفٹ کر لیا۔ اور میں میٹرک کی چھٹیاں گزارنے ان کے ساتھ چلا آیا تھا۔

وہ تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ گلی کی طرف ایک بیٹھک نما کمرہ تھا۔ جہاں ہم قالین پر گاؤ تکیہ لگائے ٹی وی دیکھتے تھے۔ درمیان والا کمرہ ماموں کا تھا۔ اس میں ان کے مطب کا ساز و سامان اور چنیدہ کتابیں پڑیں تھیں۔ آخری کمرے میں ایک کمپیوٹر رکھا ہوا تھا۔ اور کتابوں کی ایک بڑی شیلف تھی۔

اس شہر میں ہمارے لیے سب کچھ نیا تھا۔ نئے راستے، نئے بازار اور نئے لوگ۔ ہم انجان گلیوں سے ہوتے ہوئے ماموں کے کلینک تک جاتے تھے۔ اطراف کی دکانوں میں بہت سا ساز و سامان ہماری نظروں سے اوجھل پڑا ہوا تھا۔ اور پس منظر کے وہ سب کردار، عوام و خواص، زندگی کے سٹیج پر نت نئے کھیل رچائے بیٹھے تھے۔

اس گھر میں میری دلچسپی کا سارا سامان موجود تھا۔ بیٹھک میں قالین پر دراز میں اپنی رنگین ڈائریوں میں آزاد نظمیں لکھتا تھا۔ ماموں کے کمرے سے مجھے کچھ انتہائی اہمیت کی حامل کتب مطالعہ کے لیے مل گئیں۔ جیسے ”تائیس“ از اناطول فرانس اور نوبل ادب پر مبنی امبربیل کا خصوصی شمارہ۔ اس کمرے سے آپ علم کی ندی سے چند گھونٹ بھر سکتے تھے۔ باقی تخیل و دانش کے دریا میں ٹھیک سے غوطہ زن ہونے کے لیے آخری کمرے سے رجوع کرنا پڑتا۔

میں و اٹر کلر اور ڈرائنگ پیڈ اپنے ساتھ ہی لایا تھا۔ سو میں نے اس پر مصورانہ خطاطی کے تجربات شروع کر دیے۔ کمپیوٹر پر ہم کزن وڈیو گیمز کھیلتے۔ بیک گراؤنڈ میں کمار سانو کے گانے چل رہے ہوتے تھے۔ ایک روز ہم ماموں کے ساتھ میرے کزن کا داخلہ کرانے پاس ہی ایک سکول میں چلے گئے۔ ہم دھوپ میں تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک گیٹ سے سکول میں داخل ہوئے۔ داخلے کے مراحل سے گزر کر ہم پرنسپل کے دفتر میں انٹرویو کے لیے آ گئے۔

وہاں ماموں نے میرے تعارف میں پرنسپل کو بتایا کہ میں مصوری بھی کرتا ہوں۔ یہ ان کی پرانی عادت تھی۔ پرنسپل نے مجھے تحسین آمیز انداز سے دیکھا۔ میں شرما رہا تھا۔ یہی نہیں ماموں مزید بولے۔ یہ آپ کے سکول کے لیے ایک پورٹریٹ بھی بنا کر دے گا۔ آپ شخصیت کا نام تجویز کریں۔ تھوڑی سوچ بچار کے بعد علامہ اقبال کا نام فائنل ہوا۔ واپسی پر میں کافی نروس محسوس کر رہا تھا۔ کیا میں وہ کام کر پاؤں گا؟ یہ گھبراہٹ مجھے ہر تصویر بنانے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔

میرے روز مرہ کے معمولات یکسر تبدیل ہو گئے۔ بے فکری اور آزادی کی جگہ یکسوئی اور ڈسپلن نے لے لی۔ میرا ذہن فقط ایک نقطے پر مرکوز ہو گیا علامہ اقبال کا پورٹریٹ۔ سب سے پہلے سامان کا بندوبست کرنا تھا۔ میں نے پنسل سکیچ بنانے کا فیصلہ کیا۔ رنگ میرے پاس موجود تھے۔ ڈرائنگ شیٹ میں بازار سے لے آیا۔ بڑے سائز کا پورٹریٹ میں نے پہلے نہیں بنایا تھا۔

کیا میں وہ سکیچ بنا پاؤں گا؟ میں ہنوز تذبذب کا شکار تھا۔ سکیچ بنانے کی میری صلاحیت اور مطلوبہ سکیچ میں خاصا بعد تھا۔ وہ سکیچ جو سکول کی دیوار پر لگنا تھا۔ جسے روز کئی طلباء اور اساتذہ نے دیکھنا تھا۔ وہ ایک مثالی سکیچ ہونا چاہیے۔ یہ ماموں نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا تھا؟ کچھ روز لگے مجھے سمجھ آنے میں کہ مجھے فائنل پروڈکٹ سے زیادہ پروسس پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ یہ میری تحسین و نمائش سے زیادہ میری تخلیقی نشوونما کا معاملہ تھا۔ مطلوبہ سکیچ نے میری جھولی میں نہیں آ گرنا تھا۔ بلکہ مجھے کڑی محنت اور کمال توجہ سے اس تک پہنچنا تھا۔

پورٹریٹ مکمل ہونے میں کئی روز لگ گئے۔ تیار ہونے کے بعد ہم اسے سکول والوں کے حوالے کر آئے۔ انہوں نے اسے اسمبلی ہال کی دیوار پر آویزاں کر دیا۔ کچھ روز بعد میرے کزن نے بتایا کہ اس سکیچ کی وجہ سے وہ سکول میں خاصا مقبول ہو چکا تھا۔ ہر کوئی اسے یہی کہتا، دیکھو وہ فلاں آرٹسٹ کا کزن ہے۔ جس نے اسمبلی ہال والا علامہ اقبال کا پورٹریٹ بنایا تھا۔ اس روز مجھے سمجھ آئی کہ آرٹ پی آر بنانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔

میں پھر اپنی بے فکری اور آزاد خیالی پر اتر آیا۔ شاید پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔ کیونکہ اب ایک کارگزاری کا احساس بھی شامل ہو چکا تھا۔ پھر وہی آزاد نظمیں، کتابیں، وڈیو گیمز اور موسیقی۔ میں اپنے کزن کے ساتھ شام کے وقت لمبی واک پر نکل جاتا اور ہمارے کانوں میں کمار سانو کے گانے گونج رہے ہوتے۔
اور میری واپسی کی گھڑی آن پہنچی۔ میں ستاروں پر کمندیں ڈال کر اپنے گھر آ گیا۔ کچھ ماہ بعد ماموں نے اپنا کلینک کسی اور شہر منتقل کر لیا۔ ان کی فیملی اپنے پرانے گھر واپس آ گئی۔ کزن کو بھی وہ سکول چھوڑنا پڑا۔ اس نئے شہر میں ہم میں سے کوئی بھی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ سوائے علامہ اقبال کے اس پورٹریٹ کے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا اب بھی وہ پورٹریٹ سکول کی دیوار پر آویزاں ہو گا؟ اور اسے دیکھ کر طلباء اس کے بنانے والے کو یاد کرتے ہوں گے؟ شہر نے ہمیں تو رخصت کر دیا۔ لیکن اس پورٹریٹ کے ذریعے ہماری یاد کو ایک مدت کے لیے خود سے منسلک کر لیا۔

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid