بارڈر سیکورٹی سے فوڈ سیکورٹی تک


سید سجاد مہدی

syedsajjadmehdii@gmail.com

حالیہ برسوں میں، متعدد پیچیدہ بحرانوں کی وجہ سے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سرحد کی حفاظت سے زیادہ ضروری خوراک کی حفاظت ہو گئی ہے۔ خوراک کی حفاظت نے سرحدی سلامتی پر تیزی سے ترجیح حاصل کی ہے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، COVID۔ 19 وبائی بیماری، اور جغرافیائی سیاسی تنازعات نے خوراک کی پیداوار اور سپلائی میں خلل ڈالا ہے۔ جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر خوراک کی قلت اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ان چیلنجوں نے خاص طور پر کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں بھوک اور غذائی قلت کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

کئی عوامل عالمی غذائی تحفظ کے حصول میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ جن میں موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی عدم استحکام و تنازعات اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔ دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کی کمی بھی تیزی سے ہو رہی ہے۔ ناکافی زرعی بنیادی ڈھانچہ، آبادی میں اضافہ، اور سماجی عدم مساوات بھی شامل ہیں جو خوراک تک رسائی کو محدود کرتی ہیں۔ جس سے 820 ملین سے زائد افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ اُن متاثرہ افراد میں بچوں کی بڑی تعداد بھوک اور غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں فوڈ سیکورٹی پہلے نمبر پر آ گئی ہے اور بارڈر سیکورٹی دوسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔ زرعی زمین کو رہائشی علاقوں میں تبدیل کرنے سے اہم خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ جن میں خوراک کی پیداوار کے لیے ضروری قابل کاشت مٹی سرفہرست ہے۔ اس تبدیلی سے غذائی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کو بھی خطرہ لاحق ہے کیونکہ ان کی قدرتی رہائش گاہیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ یہ ماحولیاتی انحطاط اور کاربن کے اخراج میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔

دیگر ترقی پذیر ممالک میں قابل کاشت زمین کو ہاؤسنگ اسکیموں میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے۔ 1947 سے اب تک لاہور کی زرعی اراضی کا ایک اہم حصہ رہائشی علاقوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق خاص طور پر لاہور ضلع میں زرعی اراضی کی بات کریں تو 1972 سے 2009 تک 54 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد ہو گیا ہے۔ یہ رجحان کھیتی باڑی کی قیمت پر تیزی سے شہر سازی، رہائشی اور تجارتی زونوں کی توسیع کو نمایاں کرتا ہے۔ جس سے خوراک کی حفاظت اور ماحولیاتی پائیداری کے بارے میں خدشات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ زرعی پیداوار کو بہتر بنایا جائے۔ خوراک کی تقسیم کے نظام کو بڑھانے اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی جائیں۔ فوڈ سیکیورٹی کے مسائل ہوں یا موسمیاتی تبدیلی کے ان سب مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اسکولوں، کالجوں، مدرسوں اور جامعات میں ان مسائل سے آگاہی اور ان کے حل سے متعلق مضامین کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بخوبی ان مسائل کو سمجھتی بھی ہوں اور اس کے حل سے واقف بھی ہوں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی آگاہی سے متعلق بہترین مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

Facebook Comments HS